Nam Aankhain novel 20th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 20th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
بیسویں قسط۔۔۔
آفندی ہاوس پر یہ صبح خاصی روشن اور البیلی طلوع ہوئی تھی۔۔۔ آج چھٹی کا دن تھا تو معمولات میں بھی روزمرہ سے زرا ہٹ کر تھے۔۔۔
سب نے لیٹ ہی ناشتہ کیا تھا اور اب لاوئنج میں محفل جمی تھی۔۔۔
بالوں کی غذا تیل ہوتا ہے۔۔۔ جتنے روکھی پھیکی تمہاری پڑھائی ہے اتنے ہی روکھے پھیکے تمہارے بال ہیں زرا جو ان پر توجہ دیتی ہو تم۔۔۔ شازمہ بیگم صوفے پر بیٹھیں اپنے سامنے زمین پر بیٹھی بیا کے بالوں میں تیل لگاتیں تاسف سے کہہ رہی تھیں۔۔۔
وہ رف سے حلیے میں خفیف سی مسکراتی ان سے تیل لگوا رہی تھی۔۔۔
جی جی ممی سمجھائیں زرا اسے یہ کتابی کیڑا تو کتابوں سے سر اٹھاتی ہی نہیں۔۔۔ سامنے سنگل صوفے پر ریلیکس سے انداز میں بیٹھے شہروز نے موبائل ہر سکرولنگ کرتے اسکی گلاس لگی دیکھ شرارتی انداز میں اپنا حصہ ڈالا۔۔۔ وہ ماں کو جب جو دل چاہتا موڈ کے مطابق ماں امی ممی مام۔۔۔ سب کہتا تھا اسکی ماں اسکا موڈ اس کے اصول۔۔۔ سب اسکی حرکتوں پر مسکرا دیتے تھے۔۔۔
بیا نے شکوں کناں نظر اس پر ڈالی تو وہ مسکرا کر کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔۔
دونوں بچے قریب ہی پرام میں سو رہے تھے۔۔۔ دفعتاً شزا رائل بلو ایمبرائڈری شارٹ شرٹ اور بلیک پلازو میں بلو ہی آرگنزا کا آنچل شانوں پر پھیلائے بالوں کی ٹیل پونی بنائے ہلکے سے میک آپ میں معمول سے ہٹ کر خاصی جازب نظر لگ رہی تھی۔۔۔۔
کدھر کی تیاری ہے بھئ۔۔۔ وہ آ کر ماں کیساتھ ہی صوفے پر دھپ سے بیٹھی تو شہروز نے موبائل سے نگاہیں اٹھاتے اسے شرارتی انداز سے آنکھیں اچکا کر پوچھا۔۔۔۔
تمہارے کل کے فنگشن کے لئے شاپنگ کرنے جا رہی ہوں المیر کیساتھ۔۔ بیا تم بھی چلو تم نے بھی تو کل کے لئے ڈریس خریدنا ہے نا۔۔۔ شہروز سے کہتی وہ یکدم ہی یاد آنے پر اپنے تیل لگے بالوں کا جوڑا بناتی بیا سے مخاطب ہوئی۔۔۔
کل شہروز نے اپنا میڈیکل کلیئر ہونے کی خوشی میں پارٹی دی تھی۔۔ وہ کب سے المیر کے انتظار میں اپنا یہ فنگشن ملتوی کر رہا تھا مگر اب اسکے آتے ہی اسنے کل کا دن فکس کیا تھا۔۔۔۔
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہے شزا۔۔۔ مجھے بھی کچھ شاپنگ کرنی ہے میں بھی کر لوں گا اور تم اپنے لئے ڈریس خرید لینا۔۔۔ وہ شزا کے کہنے پر چونک کر بیا کی جانب متوجہ ہوتا حتمی انداز میں گویا ہوا اپنی شاپنک کا ارادہ اسنے فلفور بیا کے لئے ہی بنایا تھا کیونکہ جانتا تھا ورنہ وہ شزا اور المیر کے ساتھ جانے کے لئے کبھی نا مانتی۔۔ اسکے پاس ہر دم ایک سو ایک بہانوں کا سٹاک تیار پڑا ہوتا تھا۔۔
میں لیکن ۔۔۔ میں کیسے۔۔۔ وہ یکدم ان دنوں بہن بھائیوں کے انکشاف سے بوکھلا کر کھڑی ہوئی۔۔۔ ایک نظر ان دونوں کے حتمی چہروں کو دیکھا اور دوسری نظر اپنے حلیے کو اور شدت سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
کیا نہیں۔۔۔ چلو ہمارے ساتھ۔۔۔ دفعتاً باہر سے المیر کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو شہروز نے اسکی ناں ناں کی گردان کو نظرانداز کرتے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما۔۔
اسنے مدد طلب نگاہوں سے شازمہ بیگم کو دیکھا۔۔
بیٹا ٹھیک کہہ رہا ہے وہ تم بھی انکے ساتھ جا کر کل کی مناسبت سے اپنی شاپنگ کر لو پھر تم نے سپیشل کہاں جانا ہے کچھ خریدنے ۔۔۔ اب تو لگے ہاتھوں یہ کارخیر بھی انجام پا جائے گا۔۔۔ شازمہ بیگم نے بھی انکی ہاں میں ہاں ملائی تو وہ مزید جھنجھلا گئ۔۔۔ خالہ میں کچھ بھی پہن لوں گی نا۔۔۔
ایسے کیسے کچھ بھی پہن لو گئ۔۔۔ میرا اتنا اہم فنگشن اور تم کچھ بھی پہن لو گئ تمہیں اچھا سا تیار ہونا ہے۔۔۔ شہروز اسے اپنی بات سے ٹس سے مس نا ہوتا دیکھ اسکی بازو کھینچ کر اسے لئے لاوئنج سے باہر نکلا۔۔۔۔ میری حالت تو دیکھیں شہروز۔۔۔ وہ اپنی حالت کے پیش نظر اچھا خاصا جھنجھلا رہی تھی۔۔۔ کیا ہے تمہاری حالت کو۔۔۔ اچھی خاصی تو لگ رہی ہو۔۔ اور ویسے بھی ہم شاپنگ کرنے جا رہے تم ۔۔ تمہیں بر دکھلانے نہیں۔۔۔ اسنے چلتے چلتے ایک ٹیرھی نظر اسکے جھنجھلائے ہوئے سراپے پر ڈالی اور پھر سے اپنے ازلی لاپرواہ انداز میں گویا ہوا۔۔
شہروز۔۔۔ اسنے دانت پیستے سامنے گاڑی کے پاس کھڑے شزا اور المیر کو بات کرتے دیکھ اسکے ہاتھ پر زور سے چٹکی کاٹی۔۔ کبھی کبھار اسکی یہ بے باک باتیں اسے یونہی خفت کا شکار کر جاتی تھیں۔۔
سسس۔۔۔ جنگلی بلی۔۔۔ شہروز نے گاڑی کے قریب پہنچتے اسے گھور کر اسکا ہاتھ چھوڑا اور اپنا ہاتھ سہلانے لگا۔۔ ۔
شزا پہلے ہی ہارن کی آواز سن کر ہی باہر آ چکی تھی۔ بیا اپنے حلیے کے باعث خاصی جھنجھلائی ہوئی تھی مگر شہروز کو َٹلتا نا دیکھ اسنے آنچل پھیلا کر خود پر اوڑھا۔۔۔
شہروز یار ایک بات تو بتاو۔۔۔ ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے المیر نے اپنے پاس کھڑی شزا کو نظروں کے حصار میں لئے شہروز کو مخاطب کیا۔۔۔
جی جی پوچھیے۔۔۔ وہ بھی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتا تابعداری سے گویا ہوا۔۔۔ جیسے دونوں ہی ایک دوسرے کے مزاج آشنا ہوں۔۔۔ اور ایک دوسرے کی رگ ظرافت پھرکنے سے باخوبی آگاہ ہوں۔۔۔
بیا اور شزا پچھلی سیٹ پر بیٹھیں تو المیر نے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالتے اگنیشن میں چابی گھمائی تو گاڑی کے انجن میں زندگی کی لہر دور گئ۔۔۔
یہ تمہاری بہن جب بھی مجھ سے ملتی ہے تو چہرے پر کبھی مٹی تو کبھی آتا کیوں مل لیتی ہے۔
وہ بیک مرر سے اسکے کھلے کھلے سے سراپے کو نگاہوں کے حصار میں لیے شریر سے انداز میں گویا ہوا۔۔
المیر کے بات پر شہروز کا قہقہ ابل پڑا۔۔۔ پتہ نہیں یار اپنا کونسا کمپلیکس چھپانے کی کوشیش کرتی ہیں۔۔۔ شہروز نے خط لیتے المیر کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔۔
بات شزا کی سمجھ میں آئی تو آنکھوں میں حیرت اترنے کیساتھ ساتھ اسکا منہ بھی حیرت سے کھل گیا ۔۔
المیر گدھے۔۔۔ تمہاری تو۔۔۔ اسنے بھرپور غصے سے آگے کو جھکتے ہاتھ میں تھاما کلچ پے در پے اسکی بازو پر مارنا شروع کیا۔۔۔
آہ۔۔۔آہ کوئی بچاو مجھے اس جنگلی بلی سے۔۔۔ اسکی دوہائیاں عروج پر تھی۔۔۔ شہروز ہس ہس کر دوہرا ہو رہا تھا۔۔۔
شزا کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔ سیدھی ہو جاو۔۔۔ بیا نے بوکھلا کر اسے کمر سے تھامتے اسے اپنی جانب کھینچا جبکہ وہ غصیلی نگاہوں سے المیر کو دیکھتی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتی لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔
اف انکی نازک مزاجی۔۔۔ اسے ہانپتے دیکھ کر مسکراتے ہوئے المیر کی زبان پھر سے پھسلی۔۔
شزا نے کچھ کہنے کو منہ کھولا لیکن اپنے بازو پر بیا کے ہاتھ کا بڑھتا دباو محسوس کر کے اور اسے خود کو گھورتا پا کر خاموش ہوگئ۔۔۔
تلخ ہے مگر حقیقت ہے۔۔۔ اب کیا کیا جاسکتا ہے۔۔۔ شہروز نے تاسف سے کہتے چنگاری ہر پٹرول چھڑکا۔۔
جبکہ شزا پیچھے بیٹھی آج المیر کو اچھے سے سبق سیکھانے کا تہہ کر چکی تھی۔۔۔ شہروز سے تو گھر جا کر بھی نبٹ لیٹی۔۔۔
********
کمرے میں نیم تاریکی کا راج تھا۔۔۔۔ باہر دوپہر سر پر پہنچ چکی تھی مگر اندر اس دوپہر کے کوئی آثار نا تھے۔۔۔ کھڑکیوں کے آگے گرے دبیر پردے باہر سے آنے والی سورج کی روشنی کا راستہ روکے کھڑے تھے۔۔۔
ایسے میں رشنا بیڈ کے بیچوں بیچ ساکت سی لیٹی تھی۔۔۔ ساکت آنکھیں چھت کی سیلنگ پر ٹکی تھیں مگر ذہن پتہ نہیں کن وادیوں کی سیر کو نکلا تھا۔۔۔
اس روز کے بعد سے رشنا کو گہری چپ لگ گئ تھی وہاب کے دکھائے گئے آئینے میں اسے اپنا جو چہرا نظر آیا تھا وہ اس چہرے کو دیکھنے کا حوصلہ خود میں نا پاتی تھی۔۔۔
اب بیٹھ کر غیر جانبداری سے سارے حالات کا موازنہ کیا تو ہر جگہ ہی خود کو غلط اور وہاب کو اعلی ضرف پایا۔۔۔
وہ شخص سراپہ محبت تھا۔ لیکن وہ اسکی قدر نا کر پائی۔۔۔ اس روز سے اسنے خاموشی اختیار کر لی تھی۔۔۔ وہ بس خاموشی سے حالات کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
وہ کمرے سے انتہائی ضرورت کے وقت باہر نکلتی۔۔۔ وہ کوشیش کرتی کہ جس وقت وہاب گھر میں ہوتا اس وقت کمرے سے باہر نا نکلے۔۔۔ ابھی تک شعوری طور پر اسکا اور وہاب کا دوبارہ سامنا نہیں ہوا تھا۔۔ وہاب کی زبانی وہ باتیں سن کر شدید پشیمانی کے تحت وہ خود میں وہاب کا سامنا کرنے کی ہمت مفقود پاتی تھی۔۔۔
وہاب کی باتوں کے بعد اسنے روحا کا بھی گہرائی سے جائزہ لیا تھا۔۔ اسے وہاب کی باتوں میں حقیقتاً سچائی دکھائی دی۔۔۔ وہ لڑکی واقعی معصوم تھی۔۔۔ کوئی انسان ہر وقت اتنی پرفیکٹ اداکاری نہیں کر سکتا تھا۔۔ ۔۔ اسکی باتوں سے اسکی حرکتوں سے معصومیت چھلکتی تھی۔۔۔ وہ تھی بھی کم عمر تو شاید یہ سب اسکی عمر کا تقاضا تھا۔۔۔
روحا کے دم سے گھر میں رونق تھی۔۔۔ یہ اسکا گھر تھا اور وہ سارا دن اس گھر کے کونے کونے میں چہکتی پھرتی۔۔۔
سارا دن وہ کام والی سے باتیں کرتی ہر دوسرے دن گھر کے کسی نا کسی کونے کو سجانے بیٹھ جاتی۔۔۔ کبھی کچن میں کسی نئ ڈش پر طبع آزمائی کرتی۔۔۔ دن میں دس دس بار وہاب کو فون کر کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر اسکی رائے لیتی۔۔۔ گو ہر وقت گھر میں اسکی موجودگی کا احساس جاگتا تھا ۔۔۔
اور جب وہاب گھر آجاتا تو اسکا ریڈیو بند ہی نہیں ہوتا تھا۔۔۔ وہیں لاوئنج میں ہی اسکے پاس بیٹھ کر وہ اسے سارے دن بھر کی روداد سنانے بیٹھ جاتی۔۔۔
شام کی چائے کا وقت ہوتا تو چائے سرو کرنے کے بعد خود وہاب کے ساتھ صوفے پر بیٹھنے کی بجائے اسی کے پاس فلور کشن رکھ کر اس پر بیٹھتی کانچ کی میز پر جھک کر چائے پیتی وہ گھنٹوں اس سے باتیں کرتی اور باتیں کرتی کرتی وہیں اسکے گھٹنے پر سر رکھ کر سو جاتی۔۔۔ وہ جگہ شاید اسکی پسندیدہ جگہ تھی۔۔۔
وہاب کے گھر آتے ہی وہ اسکی بازو میں اپنی بازو حائل کرتی اسکے کندھے پر سر رکھ کر اسے اپنے آج کے دن کا کارنامہ دکھاتی ۔۔۔
وہ اگر کوئی جگہ رینوویٹ کی ہوتی تو اسکی ایک ایک چیز کی تفصیل بتاتی اگر کوئی نئ ڈش بنائی ہوتی تو ڈش میں استعمال ہونے والے اجزاء سے لے کر اسکی ترکیب تک سب اسکے گوش گزارتی اور وہ بھی مسکرا کر وہ ڈش کھاتا بہت دلچسپی سے اسکی ایک ایک بات سنتا۔۔۔
وہاب اپنی زندگی میں خوش اور مطنیئں تھا۔۔۔ شاید جن کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا وہ ایسے ہی اتنے مطمیئں ہوتے ہیں۔۔۔
اسے ان دونوں کے پرفیکٹ کپل میں اپنا آپ غیر اہم لگتا جسکی وہاں کوئی ضرورت نا تھی۔۔۔ کل تک ہر حال میں وہاب کو پا لینے والی رشنا اب اسے زندگی میں خوش و خرم دیکھ کر خودبخود قدم قدم پیچھے ہٹانے لگی تھی۔۔۔ زندگی کی خوشیوں پر وہاب کا بھی تو حق تھا۔۔۔ پھر کیا قصور تھا اس مخلص شخص کا جس نے قدم قدم پر اسکا ساتھ دیا تھا۔۔۔
بھاری دل کیساتھ اسنے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اگر وہاب کی زندگی میں غیر اہم ہے تو اب بے ضرر بھی بن جائے گی۔۔۔
اسکی معاشرے میں عزت وہاب کے دم سے تھی۔۔ وہاب کے باعث وہ اس معاشرے میں سر اٹھا کر جی رہی تھی۔۔۔ وہ پہلے ہی اس کے لئے بہت کچھ کر چکا تھا اب مزید وہ اسے تنگ نہیں کرے گی۔۔۔
وہ ساری زندگی بے ضرر بن کر اسی کے نام پر بیٹھی رہے گئ شاید یہ ہی اسکی سزا تھی۔۔۔
اسنے وہاب میں ایک تبدیلی بہت شدت سے نوٹ کی تھی کہ وہ روحا کا بہت خیال رکھتا تھا۔۔۔ اسکے بارے میں ضرورت سے کچھ زیادہ ٹچی تھا۔۔۔
اسنے وہاب کو کبھی بھی روحا کو ڈانٹتے نہیں دیکھا تھا چاہیے وہ کوئی بھی نقصان کیوں نا کر دیتی مگر اسکے معصومیت سے سوری کہنے پر وہ ہولے سے مسکرا دیتا۔۔۔
وہ اسکے کھانے پینے سونے جاگنے کا بہت خیال رکھتا اور بار بار اسے فون کر کے ان چیزوں کے بارے میں پوچھتا۔۔۔ وہ جس طرح ایک ماں چھوٹے بچے کا خیال رکھتی ہے بالکل وہ ویسے ہی روحا کی کیئر کرتا۔۔۔
پچھلے کئ دنوں سے ایک ہی کمرے میں اندھیروں کے درمیاں گھری رہ کر اب اس پر عجیب قنوطیت طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ کسلمندی سے وہ بیڈ سے نیچے اتری۔۔۔ ایک مخلص شخص کا ساتھ پا کر اب وہ بھی دان کرنے والوں میں سے بننا چاہتی تھی۔۔۔ اسی لئے ایک نئی سوچ کے ساتھ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکلی
*****
کہاں مری ہوئی تھی ابھی تک دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی۔۔۔ دروازہ کھلتے ہی سلمی نے ایک ہی جھٹکے میں اسے پورا وا کیا وہ غصے سے اسے ایک ہاتھ سے پیچھے کرتی اندر داخل ہوئی اور اب کمرے کے وسط میں کھڑی چوکس نگاہوں سے پورے کمرے کا معائنہ کر رہی تھی۔۔۔
مر ہی نا جاوں کہیں۔۔۔ مگر تم مرنے بھی کہاں سکون سے دو گئ وہاں بھی میرے سر پر سوار رہو گئ۔۔۔ پھر بھلا فائدہ مرنے کا۔۔
وہ کسلمندی سے کہتی واپس صوفے کے پاس آ کر شاپنگ بیگز کے درمیاں دھپ سے بیٹھی اور صوفے کی ہتھی پر بازو پھیلا کر اس پر سر رکھ کر آنکھیں مونڈ گئ۔
سلمی نے ایک ایک چیز کا جائزہ لیا مگر کچھ بھی غیر معمولی نا لگا۔۔۔ صوفے اور زمین پر بکھرے شاپنگ بیگز اور خود اسکے بکھرے بال اور موندی موندی آنکھیں اسکی کچی نیند سے اٹھنے کی چغلی کھا رہی تھیں۔۔۔
اب کیا تکلیف ہے پھوٹ بھی پڑو کہ میرے سر پر سوار رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔ تمہارا کام تو رات میں ہے نا پھر ابھی کیوں عزرائیل بنی میرے سر پر کھڑی ہو کر میرا محاسبہ کر رہی ہو۔۔۔
وہ خوابیدہ سی کیفیت میں اسے اپنے سر پر سوار دیکھ اس پر چڑھ دوڑی۔۔۔ ابھی تو خوف کے زیر اثر جاگنے سے دل الگ دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
ڈاکٹر آیا ہے تمہارا۔۔ آ کر باہر مل لو اس سے۔۔۔ وہ تیوریاں چڑھائے کھنچے سے انداز میں کہتی باہر نکل گئ۔۔۔ مرحہ بھی گہرا سانس خارج کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ الجھے بال پھر سے سلجھا کر آنچل اٹھا کر ایک کندھے پر ٹکایا اور آئینے میں ایک ناقدانہ نگاہ خود پر ڈالتی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
سلمی کے بتائے گئے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اسنے خود کو کمیوز کیا اور دروازہ دھکیل کے اندر داخل ہوئی۔۔۔
دیوار کے ساتھ لگے آمنے سامنے صوفوں پر سلمی اور وہ ڈاکٹر براجمان تھا۔۔۔
ڈاکٹر تقریباً پچاس کے قریب ایک فٹ اور ایکٹو شخص تھا۔۔۔ پرسنالٹی خاصی روبدار تھی۔۔۔
وہ اس ڈاکٹر کی شخصیت دیکھتی انہیں سلام کر کے متوازن قدم اٹھاتی سلمی کے ساتھ والے صوفے پر آ کر براجمان ہوئی۔۔۔
کیسی طبیعت ہے اب آپکی مس مرحہ۔۔۔ بات کا آغاز اس ڈاکٹر نے کیا تھا۔۔۔ انداز خاصا پروفیشنل تھا۔۔۔
جی اب کافی بہتر ہے۔۔ اسی سلسلے میں میں آپ سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔ نظریں جھکا کر ہاتھ مسلتی وہ خاصی مضطرب لگ رہی تھی۔۔۔
جی جی کہیے کیا بات کرنی ہے آپکو۔۔۔ اس ڈاکٹر نے صوفے کی ہتھی پر کہنی رکھے ہاتھ کے اشارے سے کہتے اسکی ہمت بندھائی۔۔
دراصل ڈاکٹر میرے دل پر بہت بوجھ ہے۔۔۔ ایک واقعہ میری زندگی میں ایسا رونما ہوا ہے جو میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے اور جب اسکی شدت زیادہ ہونے لگتی ہے تو میں پینک ہو جاتی ہوں۔۔۔ مجھے اس چیز سے فرار چاہیے۔۔۔
چاہے وہ وقتی ہی کیوں نا ہو۔۔۔
مجھے سکون آور دوائی چاہیے۔۔۔ کوئی ایسی ٹیبلٹ جسے کھاتے ہی میں پرسکون نیند سو جاوں اور جب اٹھوں تو مجھے سونے سے پہلے کا سب کچھ بھول جائے۔ وہ سوچ سوچ کر بولتی اس ڈاکٹر سے اپنا مسلہ شیئر کر رہی تھی۔۔۔۔ سلمی خاموشی سے مرحہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ کیا وہ لڑکی واقع اس ماحول کے ساتھ سمجھوتا کرنے کی تگ و دود میں ہلکان تھی۔۔۔
لیکن نیند کی گولی تو آپکی ادوایات میں پہلے ہی شامل ہے۔۔ ڈاکٹر اچنبے سے گویا ہوا۔۔۔
اس گولی سے مجھے کچھ افاقہ نہیں ہوتا۔۔۔ بلکہ میں نے تو دو گولیاں اکھٹے بھی استعمال کر کے دیکھی ہیں مگر کوئی فرق نہیں۔۔۔ اسنے اپنی نیلی سحر طاری کرتی نگاہیں اٹھا کر ڈاکٹر کو دیکھا ۔۔ اور آج مرحہ صدیقی پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ حالات نے اسے روانی سے جھوٹ بولنا بھی سیکھا دیا تھا۔۔۔
یہ وہ ہی مرحہ صدیقی تھی جسکی جھوٹ بولتے وقت زبان تھرک جاتی تھی۔۔۔ کچھ بھی ہو جاتا لیکن اس سے جھوٹ بولا ہی نہیں جاتا تھا ۔۔۔ اپنے اندر سے ختم ہوتی ہر اچھی عادت کیساتھ اسکے اندر سے ہوک نکلتی تھی۔۔۔ دل ماتم کناں ہوتا تھا۔۔۔
آج اس میں موجود برائیوں میں جھوٹی کے خطاب کا اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن یہ بقا کی جنگ تھی اور جنگ میں اپنا ایمان سلامت رکھنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔
کیا واقعی۔۔۔ لیکن وہ تو پہلے ہی بہت ہائی پوٹینسی ٹیبلٹ ہے۔۔۔ ڈاکٹر معتجب تھا جیسے اسکی بات پر اسے یقین کرنے میں تامل ہو۔۔۔
جی لیکن مجھ پر وہ اثر نہیں کرتی۔۔۔
مجھے کوئی ایسی ٹیبلٹ چاہیے جیسے کھاتے ہی میں سب بھول جاوں بس سکون ہی سکون ہو۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے آپکو اس سے ہائی پوٹینسی کی گولی لکھ کے دے رہا ہوں ۔۔۔ یہ کافی ہائی ڈوز ہے خیال رکھیے گا کہ اس کا زیادہ استعمال آپکی یاداشت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔۔۔
ڈاکٹر نے سامنے کانچ کی میز سے ڑائٹنگ پیڈ اور پنسل اٹھاتے سفید کاغذ پر چند الفاظ گھسیٹے اور کاغد پھاڑ کر مرحہ کی جانب بڑھایا۔۔۔
اس چیز کی تو فکر ہی مت کریں آپ۔۔۔ میں اپنی یاداشت گنوانا ہی چاہتی ہوں ۔۔ مسکرا کر کہتے کاغذ تھام کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
مجھے ابھی یہ میڈیسن منگوا دو۔۔۔ اسنے کاغذ پر تحریر نام کو اپنی یاداشت میں محفوظ کیا اور کاغذ سلمی کی جانب بڑھا کر خود کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔ اسکے اندر کیا چل رہا تھا یہ کوئی بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔
********

No comments