Header Ads

Nam Aankhain novel 19th episode by Umme Hania


  


 

Nam Aankhain novel 19th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official


انیسویں قسط۔۔۔۔
سفید ٹائلوں سے مزین اونچے ستونوں والے وائٹ پیلس کی فضا میں عجیب سا تناو پھیلا تھا۔۔۔
اونچے کھڑکیوں والے لاوئنج میں اس وقت عدالت سجی تھی۔۔۔ تقریباً سبھی وہاں سر جھکائے متحرک سے کھڑے تھے جبکہ ان سب کے بیچوں بیچ کھڑی بپھری سی سلمی کو قابو کرنا کسی کے بس کا کام نا تھا۔۔۔
وہ مرحہ صدیقی اتنی سیکیورٹی کے باوجود ہم سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وائٹ پیلس سے جا کیسے سکتی ہے۔۔۔ غضب خدا کا اسے یہاں سے نکلے چار گھنٹے ہو گئے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں۔۔۔
کہاں جائے گی وہ۔۔۔بھرپور غصے سے کہتی وہ تمسخرانہ ہسی۔۔۔ ہے تو وہ لاوارث ہی۔۔ جسکا کوئی والی وارث نہیں۔۔۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔اس جیسی لڑکیاں کہاں جاتی ہیں بھلا۔۔۔۔
زیادہ سے زیادہ یہاں سے بھاگ کر پولیس اسٹیشن۔۔۔ سوچ سوچ کر بولتے اسکے تنے اعصاب کچھ ڈھیلے پڑے ۔۔۔ ابتدائی جھٹکے سے سمبھل کر رفتہ رفتہ اب اسکا دماغ کام کرنے لگا تھا۔۔۔
عدنان نئے ایس پی کو فون لگاو کہ اگر کوئی لڑکی وہاں وائٹ پیلس کے خلاف مدد کے لئے آتی ہے تو وہ سلمی کی جانب سے اسکے لئے ایک تحفہ ہے۔۔ چاہیے تو اسے عیاشی کا سامان بنائے اور چاہے تو استعمال کے بعد کاٹ کے پھینک دے۔۔۔ وہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھی ایک پاوں مسلسل جھلاتی تیزی سے کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
دوسرا نمبر آتا ہے اس جیسی لاوارثوں کے لئے دارلامان ۔۔۔ تو وہاں موجود ہمارے کارندوں سے پہلے ہی رابطہ کر چھوڑوں اور انہیں مرحہ کی تصویر سینڈ کر دو کہ اگر کوئی ایسی لڑکی وہاں ان سے رابطہ استوار کرتی ہے تو فوراً ہم سے رابطہ کریں۔۔۔
اور تیسرا اور آخری آپشن بچتا ہے بس اسٹیشنز یا ریلولے اسٹیشنز۔۔۔
تو پچھلے چار گھنٹوں کی وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلواو اور اگر زمین کھود کر بھی اس حرافہ کو نکالنا پڑے نا تو نکال کر میرے سامنے لاو۔۔۔  اسکا تو وہ حشر کروں گی کہ اسکی سات نسلیں یاد کریں گی کہ آخر پالا کس سے پڑا ہے اسکا۔۔۔ مجھے کسی بھی قیمت پر وہ لڑکی چاہیے۔۔۔ آخر اسے بھی تو پتہ چلے کہ یہاں سے بھاگنے کی سزا ہوتی کیا ہے۔۔۔
خون آشام نگاہیں۔۔۔ بگڑے تیور ۔۔۔جیسے مرحہ اسکے سامنے آئے تو اسے تہس نہس کر کے رکھ دے۔۔۔۔
اسکی پھنکار سے وہاں موجود سبھی لوگ سہمے کھڑے تھے ۔۔۔ وہ اس عورت کی فرعونیت کو جانتے تھے کہ حقیقتاً وہ اتنی ہی ظالم تھی کہ جو کہتی تھی کر گزرتی تھی۔۔۔
 وہ جانتے تھے کہ یوں بھاگی ہوئی لڑکی بازیاب کروا لینے کے بعد اسکے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا تھا۔۔۔
آج صبح یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں کے ساتھ ہی نک سک سے تیار مکمل اعتماد سے چلتی مرحہ نے بھی وائٹ پیلس کا گیٹ عبور کیا تھا۔۔۔ 
کسی نے بھی کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا کیونکہ اسکا کوئی انداز کسی کو مشکوک نا لگا تھا۔۔۔ بلکہ ان نے سب کچھ باقی لڑکیوں کی طرح معمول کے تحت ہی کیا تھا۔۔۔
سی سی ٹی وی کیمرے نے اسکی ایک ایک حرکت واضح نوٹ کی تھی۔۔۔
اب جب سلمی نے اسے آج رات تیار رہنے کے لئے بلاوا بھیجا تو معلوم ہوا کہ وہ تو وہاں تھی ہی نہیں اور تب سے ہی سلمی انگاروں پر لوٹ رہی تھی۔۔۔ اسے اس لڑکی کے اندازو اطوار پہلے ہی کھٹک رہے تھے۔۔۔ وہ اسے کسی طور بخشنے کے موڈ میں نا تھی۔۔ بس ایک دفعہ وہ ہاتھ لگ جاتی۔۔۔ 
اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔ اسکا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
میم ۔۔۔ مرحہ صدیقی واپس آ گئ ہے۔۔۔ سیکیورٹی روم میں سبھی فوٹیجز باریک بینی سے چیک کرتے سیکیورٹی انچارج نے مرحہ کو وائٹ پیلس کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے دیکھ کر بھاگ کر لاوئنج میں آتے سلمی کو یہ خبر دی۔۔۔
سلمی نے تعجب سے بھنوریں بھینچ کر سیکیورٹی انچارج کو دیکھا۔۔۔ اس خبر سے وہاں موجود سبھی افراد میں کھلبھلی سی مچ گئ تھی۔۔۔
سب میں کن من کن من ہونے لگی تھی۔۔۔ سلمی نے ماتھے پر بل لئے داخلی دروازے کی جانب دیکھا جہاں کل والی میکسی میں موجود اپنے گھنے لمبے بال کھولے آدھے کمر اور آدھے کندھوں میں بکھرائے یہ خود کو ڈھانپے کی حتی المقدور شعوری کوشیش تھی۔ ہاتھوں میں مختلف شاپنگ بیگز تھامے مرحہ صدیقی پورے اعتماد سے چلتی اندر داخل ہوئی۔۔۔ 
لاوئنج کے ماحول کو  دانستاً نظر انداز کرتی وہ مضبوط قدم اٹھاتی صوفے تک آئی اور شاپنگ بیگز ماربل لگے فرش پر رکھتی خود دھنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھتی آنکھیں موند کر انگوتھے اور دو انگلیوں کی مدد سے ماتھا سہلانے لگی۔۔۔
سلمی خاموشی سے اسکا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ کہاں سے آ رہی ہو۔۔۔ آواز تنبیہی تھی۔۔۔
مرحہ کی پیشانی شکن آلود ہوئی اسنے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو سامنے بھرپور غصے کو ضبط کرتی لال بھبھوکا چہرا لئے سلمی کو پایا۔۔۔
?
تمہیں  پتہ ہے نا کہ باہر کتنی  گرمی ہے اور میں کس حال میں پسینہ پسینہ واپس لوٹی ہوں تو بندے کو کبھی تو چاہیے کہ بنا مانگے ہی جوس لا دے۔۔۔ اس کا مخاطب سلمی کیساتھ کھڑی عذرا تھی سلمی کے سوال کو وہ یکسر نظر انداز کر گئ تھی۔۔۔ انداز خاصا شرمندہ کرنے والا تھا۔۔۔  عذرا تو اس عزت افزائی پر لمحوں میں وہاں سے کچن میں غائب ہوئی ۔۔
میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔۔ سلمی غراتی ہوئی دو قدم مزید اسکی جانب بڑھی۔۔۔
یہ ساری پلٹون میرے سر پر کیوں سوار ہے۔۔ کیا آپ لوگوں کے پاس کرنے کو کوئی اور کام نہیں یا پھر میرے سر پر سینگ نکل آئے ہیں جو آپ سب کھڑے مجھے نہار رہے ہیں۔۔۔
وہ ان سب کو اپنی جانب متوجہ پا کر اچنبھے سے انہیں غورتی  سلمی سے زیادہ قوت سے غرائی۔۔۔ وہ سب ایک نظر اسے اور دوسری نظر سلمی کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگے۔۔۔
کیا تمہیں میری بات سمجھ آ رہی ہے۔۔۔ ان سب کے جانے کے بعد سلمی نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔
تم چھوٹے بچوں والی حرکتیں کرو کی تو تمہاری بات کیسے سمجھ آئے گی۔۔۔ وہ ناک سے مکھی اڑاتی واپس صوفے پر بیٹھی۔۔۔
مطلب کیا ہے تمہاری اس بکواس کا۔۔۔ سلمی کے ماتھے کے بلوں میں مزید اضافہ ہوا۔۔۔
دفعتاً عذرا جوس کا گلاس اسکے سامنے میز پر رکھ کر بنا رکے وہاں سے پلٹ گئ۔۔۔
مطلب یہ ہے کہ تم اچھے سے یہ شاپنگ بیگز دیکھ سکتی ہو اور کوئی بچہ بھی یہ سب دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ میں شاپنگ کرنے گئ تھی ۔۔۔ پھر اس سب ڈرامے کا مقصد۔۔۔ وہ جوس کا گلاس منہ سےء لگاتی تاسف سے گویا ہوئی۔۔
تمہیں کس چیز کی ضرورت پڑ گئ جو تم منہ اٹھا کے شاپنگ پر چل دی۔۔۔ اسکا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔
کیا مطلب کس چیز کی ضرورت تھی۔۔۔۔ تھا کیا میرے پاس ۔۔۔ اسنے زوردارنہ انداز میں جوس کا گلاس میز پر پٹخا۔۔۔
میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے رخصت نہیں کیا تھا جو ساتھ میں جہیز بھی دیا ہوتا ۔۔۔ اٹھا کر لائی گئ تھی یہاں میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تین کپڑوں میں آئی تھی۔۔۔چادر بھی نادارد تھی میری جب یہاں آئی۔۔۔تو دو کپڑوں میں آئی تھی یہاں اب پوری زندگی تو دو کپڑوں میں نہیں گزار سکتی تھی نا۔۔۔ وہ میٹھے انداز میں طنز کے تیر برسا رہی تھی۔۔۔ 
سلمی کے تاثرات نا فہم تھے گہرے جانچتے ہوئے۔۔۔
یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔۔۔ پورا ہال ہے کپڑوں جوتوں اور دیگر اشیاء کیا ۔۔ پھر تمہیں کیا ضرورت پیش آگئ شاپنگ کی۔۔۔اور میری بات کان کھول کر سن لو ۔۔۔ اگر تو یہاں سے بھاگنے کے منصوبے بنا۔۔۔
تم میری بات سنو وہ بھی دونوں کان کھول کر۔۔۔
اس سے پہلے کہ سلمی اسکی جانب انگلی اٹھا کر پھنکارتی ہوئی اس پر اپنی کھولن اتارتی اسنے تیزی سے اسی کے سٹائل میں اسکی بات کاٹی۔۔۔
پہلی بات کے مرحا صدیقی اترن نہیں پہنتی کسی کی۔۔۔ اور اس صورت تو بالکل بھی نہیں جب میں اندھا دھند نوٹ چھاپ رہی ہوں پھر چاہے وہ حرام کے ہی کیوں نا ہو۔۔۔  تو میں اپنی ضروریات زندگی خود خرید سکتی ہوں۔۔ ہو گیا کلیئر۔۔۔
وہ صوفے سے پشت ٹکاتی ٹانگ پر ٹانگ جما گئ ۔۔۔
دوسری بات رہ گئ یہاں سے فرار ہونے کی۔۔۔ تو سلمی ڈیئر ہم جیسی مڈل کلاس لڑکیوں کے پاس صرف عزت ہی ہوتی ہے بچانے کو۔۔۔
 اب جبکہ میں وہ بھی کھو چکی ہوں تو بھاگنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔۔۔ بھاگ کر کروں گی بھی کیا۔۔۔ اور کس لیے بھاگوں گی جب کچھ بچا ہی نہیں۔۔۔ اسنے بہت عام سے انداز میں کندھے اچکائے۔۔۔ سلمی کو اسکی بات پر یقین کرنے میں تامل ہوا۔۔۔
کہاں تو کل تک اس بات ہر اتنا واویلا کہ پورا ہفتہ بستر سے لگ کر رہ گئ اور کہاں آج سب سے سمجھوتا کرنے پر تیار کھڑی تھی وہ۔۔۔
,تم کس کی اجازت سے شاپنگ کرنے گئ۔۔۔ سلمی نے ہاتِھ سینے پر باندھتے نیا نقطہ اٹھایا۔۔۔ گویا عدالت ابھی برخاست نہیں ہوئی تھی۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ اب مجھے کہیں جانے کے لئے پہلے تمہاری اجازت درکار ہو گئ۔۔۔ وہ الجھ کر سیدھی ہوئی۔۔۔
جی بالکل ۔۔  یہاں پر ایک پتہ بھی میری اجازت۔۔۔
اچھا ۔۔۔ بس۔   بس۔۔۔  سلمی کے ڈرامائی انداز میں کہی جانے والی بات کو وہ ہاتھ اٹھا کر درمیان میں ہی کاٹ چکی تھی۔۔۔
یہ لڑکی سلمی کا ضبط بری طرح آزما رہی تھی۔۔  وہ ناجانے کس ضبط سے اسکی بدتمیزیاں برداشتے کر رہی تھی
اب روز روز تو میں تم سے اجازت لینے سے رہی تم آج ہی مجھے ساری اجازتیں دے دو۔۔۔
شام میں مجھے ایک گھنٹے کی شام کی واک کے لئے پارک جانا ہے۔۔۔ صبح میں بھی مارنینگ واک کے لئے جانا ہے۔۔۔۔
اس کے بعد دس بجے کی ٹائمنگ میں میں نے جم جوائن کی ہے تو کل سے دس بجے وہاں بھی جانا ہے ۔۔۔ اس کے علاوہ ہر دوسرے دن مجھے شاپنگ پر بھی جانا ہے تو اجازت نامہ اکھٹا ہی سائن کر دو۔۔ 
وہ نخوت سے کہتی اپنے سبھی شاپنگ بیگز سمبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اس کایا پلٹ کی وجہ جان سکتی ہوں۔۔۔ وہ براہ راست اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی گویا ہوئی۔۔۔
بالکل جان سکتی ہو ڈئئر۔۔۔ کیوں نہیں۔۔ اسکے پاس سے گزرتی مرحہ اسکی بات سن کر وہیں رکتی ایڑیوں کے بل اسکی جانب گھومی۔۔
بتایا تھا نا جو کام تم مجھ سے کروا رہی ہو اس کے لئے ضمیر کو مارنا پڑتا ہے اور ضمیر کو مارنے کے لئے ذہن کو دوسری سرگرمیوں کی طرف مبذول کروانا ضروری ہوتا ہے بس اسی کی شعوری کوشیش ہے۔۔ وہ تمسخرانہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسے نظروں کے حصار میں لئے گویا ہوئی۔۔
آج رات تم تیار رہو گئ اور تمہارا کوئی بہانہ کام نہیں آئے گا۔۔۔
مجھے بہانہ بنانے کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔۔۔ اسنے ہاتھ میں تھامے شاپنگ بیگز دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے ایک ٹانگ سے دوسری ٹانگ پر وزن ڈالا۔۔۔
بس ایک دفعہ میری میرے ڈاکٹر سے اپائمنٹ فکس کروا دو اس کے بعد مجھے کوئی مسلہ نہیں۔۔۔ وہ سنجیدگی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی اسکے پاس سے گزرتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔۔۔ جبکہ پیچھے سلمی اسے گہری نگاہوں سے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔
******
اپنے کمرے میں آتے ہی مرحا نے سبھی شاپنگ بیگ صوفے پر پھینکے اور خود بیڈ پر اونڈھے منہ گرتی سسک اٹھی۔۔۔ بلاشبہ یہ راستہ بہت خاردار تھا جو پل پل اسے لہولہاں کر رہا تھا۔۔۔ وہ اچھے سے سمجھ چکی تھی کہ وہ یہاں سے ایسے ہی بھاگ نہیں سکتی اگر بھاگ جاتی تو بہت آسانی سے پکڑی جاتی اور پھر اسکے بعد کیا ہوتا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔   وہ جان چکی تھی وہ نہتہ انکی طاقت سے نہیں ٹکرا سکتی۔۔۔ اس عقوبت کھانے کی دیواوں میں ڈراریں ڈالنے کے لیے اسے پلانینگ کی ضرورت تھی۔۔ اسے اپنی ذہنی صلاحتیوں کو بھرپور بروئے کار لاتے کوئی بہترین منصوبہ بنانا تھا۔۔۔ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ خدا بھی انکی مدد کرتا ہے جو خود کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ جو کچھ کرنے کی تھان لیتے ہیں۔۔۔ جن میں کچھ کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔۔۔ خدا نے انسان کو عقل دے کر اسے اشراف المخلوقات بنایا۔۔۔ اور اسے فرشتوں پر برتری عطا کی کہ اس عقل نامی چیز کو استعمال کر کے انسان ستاروں پر کمند ڈال سکتا ہے ایک نئی دنیا فتح کر سکتا ہے۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ وہ ابھی ان سب کی نگاہوں میں مشکوک ہے۔۔۔ اسکی پل پل کی سرگرمی پر سلمی کی چوکس نگاہیں ہیں۔۔۔ 
ابھی سب سے پہلے اسے اپنی پوزیشن سب کی نظروں میں کلیئر کروانی تھی۔۔۔ اپنی طرف سے سب کی نظروں کا رخ موڑنا تھا۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر اسے اس عقوبت کھانے کی سیاہ راتوں کا ہیبت ناک سایہ خود پر سے ہٹانا تھا۔۔
اسکی زندگی میں ایک سیاہ بھیانک رات اسکے وجود پر سیاہی کی مہریں ثبت کر گئ تھی اسے اس سیاہی کو دوبارہ خود ہر ثبت ہونے سے روکنا تھا۔۔۔
یہ تو طے تھا کہ اتنی جلدی وہ اس عقوبت کھانے سے نکل نہیں سکتی لیکن یہ بھی طے تھا کہ وہ بار بار خود پر وہ ظلم بھی نہیں ہونے دے سکتی تھی جسکے بعد وہ خود سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جاتی۔۔ 
پہلے وہ لاعلمی میں ماری گئ تھی اب وہ خود کے بچاو کے لئے کچھ سدباب کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے لیے اسے بہت ہمت درکار تھی۔۔۔ جسکا ابھی اس میں بہت فقدان تھا۔۔۔
وہ ایک کمزور اور بےبس لڑکی تھی۔۔۔ حد سے زیادہ کمزور۔۔۔ اسکا دل ابھی اتنی ہمت دکھا کر ہی دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
وہ کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈال کر اٹھی اور ایک شاپنگ بیگ کھول کر اندر سے شلوار سوٹ نکالا۔۔۔ اب اسکا رخ واش روم کی جانب تھا۔۔۔ 
کچھ دیر بعد وہ رگڑ رگڑ کر شاور لینے کے بعد یہ اسکی خود کو پاک کرنے کی ایک شعوری کوشیش تھی۔۔ وہ سوٹ زیب تن کئے باہر نکلی۔۔۔
آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر سر پر حجاب کے سٹائل میں ڈوپتہ لیتے اسکی نگاہیں چہرے کے ایک ایک نقوش کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔
کیوں تھی وہ اتنی خوبصورت۔۔۔ اگر اتنی خوبصورت نا ہوتی تو خوبصورتی کی اتنی بڑی قیمت بھی ادا نا کرنی پڑتی۔۔۔ اسنے تو ہمیشہ خود کو چھپا کر رکھا تھا۔۔ پوری دنیا سے ۔۔۔ پھر غلطی کہاں ہوگئ۔۔۔
اسکی نیلی آنکھیں اس وقت سرخی چھلکا رہی تھیں جیسے کمرے میں آنے کے بعد سے وہ مسلسل روتی رہی ہو۔۔۔ ایک دفعہ دل چاہا کہ اس خوبصورت چہرے کو مسخ کر ڈالے جو اسکی بربادی کا ذمہ دار تھا۔۔۔ لیکن شاید بربادی کی ذمہ دار تو وہ خود تھی۔۔۔
وہ کیسے کسی بھی ایرے غیرے انسان پر یقین کر کے اسے اپنے گھر میں رکھ کر اس پر اپنی سبھی کمزوریاں بے بسی اور سبھی راز افشاں کر سکتی تھی۔۔۔ آنکھوں میں پھر سے مرچیں سی چھبنے لگی ۔۔ ہر کسی کو باآسانی معاف کر دینے والی مرحہ صدیقی کی زبان سے اس زلیخہ نامی بدذات عورت کے لئے بددعائیں تھیں۔۔۔ وہ بھاری دل کے ساتھ آئینے کے سامنے سے ہٹئ۔۔۔
اس روز مرحہ صدیقی نے اپنے گھر سے نکلنے کے بعد سے اب تک پہلی مرتبہ کوئی باقاعدہ نماز ادا کی تھی۔۔۔ اسنے نہایت خوشوع و خضوع کیساتھ ظہر کی نماز ادا کی اور سر سجدے میں جھکاتے سسک اٹھی۔۔۔
دعا کے لئے الفاظ جیسے اپنی موت آپ مر گئے تھے۔۔۔ اللہ میری مدد کر میرے مالک۔۔۔ مجھے اس راہ پر چلا دے جو میرے حق میں بہتر ہے۔۔۔ وہ مسلسل انہی فقرات کی گردان کر رہی تھی۔۔۔
اس وقت کا اسکا سب سے بڑا خوف کچھ اور تھا۔۔۔
وہ حافظ قرآن تھی۔۔۔ قرآن اسکے سینے میں محفوظ تھا۔۔۔ وہ پاک کلام اسکے سینے میں محفوظ تھی تو وہ خود کو معتر سمجھتی تھی لیکن جو حالات آج کل چل رہے تھے ان میں اسکا سب سے بڑا خوف یہ ہی تھا کہ کہیں یہ کلام اسکی یاداشت سے چھین نا لیا جائے۔۔۔ کہیں وہ اسے بھول نا جائے۔۔۔
ان حالات میں نا تو وہ دہرائی کر پا رہی تھی اور نا ہی باقاعدہ قرآن پاک پڑھا جاتا تھا۔۔۔۔ ایک حافظ قرآن کے وجود میں قرآن پاک کی زندگی کی سب سے بڑی غذا اسکی دہرائی ہے۔۔۔ جب تک وہ مکمل یکسوئی کیساتھ بار بار اسکی دہرائی کرتا رہتا ہے تب تک اس پاک کلام کا معتر کرتا مہکتا احساس اسکے سینے میں مہکتا رہتا ہے۔۔ جیسے ہی وہ اسکی دہرائی سے روگردانی کرتا ہے اسکے سینے میں اس پاک کلام کی مہک مانند پڑنے لگتی ہے اس وقت تک جب تک وہ دوبارہ سے اپنی پرانی روش اختیار کرتے  اس پاک کلام کی قدر و منزلت کیساتھ انصاف نا کرنے لگے یہ باتیں وہ اچھے سے جانتی تھی تبھی تو خوفزدہ تھی۔۔  اب بھی وہ نماز پڑھنے کے بعد زمین ہر ہی بیٹھی صوفے کی سیٹ پر سر رکھتی پہلے سپارے سے قرآن پاک کی تلاوت کرنا شروع ہو گئ تھی۔۔ وہ اس کلام کو کبھی بھولانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اسکی مہک سے کبھی اپنے سینے کو خالی نہیں ہونے دے سکتی تھی۔۔۔ وہ اپنی زندگی میں چلتے ان حالاتوں کو کبھی اس چیز پر اثرانداز نہیں ہونے دے سکتی تھی۔۔۔  نہیں وہ کبھی ایسا نہیں ہونے دے گی۔۔۔ اس وقت پوری دنیا میں واحد یہ ہی ایک سہارا تھا جسکے سہارے وہ جی رہی تھی۔۔ یہ بھی اگر ختم ہو جاتا تو پھر بھلا وہ کیا کرتی۔۔۔
مسلسل خوبصورت مگر مدہم آواز میں تلاوت کرتے اپنی آواز خود ہی اپنے کانوں کے ذریعے سنتے اسکے جلتے بھڑکتے وجود میں سکون کی لہریں سرائیت کرنے لگیں تھیں۔۔۔یہ احساس پوری شدت سے دل میں پنجے گاڑنے لگا تھا کہ وہ اکیلی نہیں۔۔۔ ایک ان دیکھی طاقت اسکے ساتھ ہے۔۔۔ اسکا اللہ اسکے ساتھ. ہے۔۔۔ اسکا اللہ اسکے پاس ہے۔۔۔ آواز میں آنسووں کی لغزش کیساتھ تڑپ مزید بڑھنے لگی تھی۔۔۔ یقین راسخ ہونے لگا تھا کہ اللہ کے گھر دیر تو ہوسکتی تھی مگر اندھیر نہیں۔۔۔ آواز موٹی ہونے کیساتھ ساتھ پلکیں بھی بھاری ہونے لگی تھیں۔۔۔ کچھ دیر مزید تلاوت کرنے کے بعد وہ پرسکون ٹھنڈی میٹھی نیند کی  حسین وادیوں میں کھو گئ تھی۔۔۔
وہ کتنی دیر سوئی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔ مگر دوبارہ اسکی آنکھ دروازے کے ڈھرڈھرانے پر کھلی۔۔۔ جیسے باہر سے کوئی دروازہ ٹور ہی دینے کے در پر ہو۔۔۔ 
یکدم ہی وہ ہڑبڑا کر خوف کے زیر اثر اٹھی۔۔۔ اٹھتے ہی اسنے سب سے پہلے سر پر لپٹا آنچل کھول کر صوفے پر پھینکا کہ اسکی اس جگہ اجازت نا تھی۔۔ دل اپنی اس بے بسی پر خون کے آنسو رو دیا مگر انکا اعتبار جیتنے کو تو ابھی ناجانے اور کیا کیا کرنا تھا۔۔۔ 
خود کو کمپوز کرتے اسنے بالوں میں ہاتھ پھیر کی انہیں بکھیرا تب تک دروازہ مزید زور سے بجنے لگا تھا۔۔۔
بھاگ کر جا کر اسنے دروازہ کھولا۔۔۔ سامنے ہی بگڑے تاثرات لئے فرعون کی جانشین سلمی کھڑی تھی ۔۔ اسے یوں سامنے موجود پا کر مرحہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔۔۔
****
جاری ہے۔۔۔
پچھلی ایپی رشنا سپیشل تھی تو اس ایپی کو آپ مرحہ سپیشل کہہ سکتے ہیں اگلی اقساط میں آپکو سبھی کریکٹرز ایک ساتھ ملیں گے۔۔۔ 

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4