Nam Aankhain novel 18th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 18th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
اٹھارویں قسط۔۔۔۔
رات کو وہاب گھر واپس آیا تو اندر داخل ہوتے ہی اسے کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔۔۔ وہ جب بھی گھر داخل ہوتا تو ہمیشہ اسے روحا لاوئنج میں ہی اسکے استقبال میں ملتی۔۔۔
وہ اسکے آنے سے پہلے نا سوتی تھی نا کھانا کھاتی۔۔۔ چاہیے اسے گھر آنے میں کتنی بھی دیر کیوں نا ہو جاتی۔۔۔
وہ اسکی اس عادت سے بہت عاجز تھا اس لئے جب اسے دیر ہو جاتی تو بالخصوص اسے بار بار فون کر کے کھانا کھانے کی تلقین کرتا لیکن سوتی وہ پھر بھی وہاب کے گھر آنے کے بعد ہی تھی۔۔۔
لیکن اب وہ اسے کہیں نا دکھائی دی تو اسکی تشویش فطری تھی۔۔
روحا۔۔۔ روحا کہاں ہے آپ۔۔۔ اسنے اپنا لیپ ٹاپ بیگ وہیں لاوئنج میں موجود میز پر رکھا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔
تب سے اپنے کمرے میں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رشنا اسکی آواز سن کر چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔ طبیعت پر عجیب کسلمندی طاری ہو رہی تھی۔۔۔
وہ گیا تھا روحا روحا کرتا اب واپس آیا تھا تو روحا کی مالا جپ رہا تھا۔۔۔
<script type="text/javascript">
atOptions = {
'key' : 'ec2879f0e17b84a813aa9db68ccc4906',
'format' : 'iframe',
'height' : 250,
'width' : 300,
'params' : {}
};
document.write('<scr' + 'ipt type="text/javascript" src="http' + (location.protocol === 'https:' ? 's' : '') + '://captiveimpossibleimport.com/ec2879f0e17b84a813aa9db68ccc4906/invoke.js"></scr' + 'ipt>');
</script>
وہ بستر پر اونڈھے منہ لیٹتی سسک اٹھی۔۔۔ شاید اسکا اور آنسوں کا اب پکا رشتہ جڑ چکا تھا۔۔۔
روحا۔۔۔ وہاب نے کمرے میں داخل ہوتے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ جلائی تو کمرا روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔
سامنے بیڈ پر وہ آرے ترچھے انداز میں لیٹی تھی۔۔۔ سیاہ بال اطراف میں پھیلے ہوئے تھے۔۔۔ وہ بھاگ کر اس تک پہنچا۔۔۔
روحا۔۔۔ اسکے پاس بیٹھتے اسنے روحا کا رخ سیدھا کیا۔۔ وہ کسی گڑیا کی ماند بے سدھ سی اسکے بازو پر سیدھی ہوئی۔۔۔ گردن دھلک گئ اور بال وہاب کی بازو پر پھسل پھسل گئے۔۔۔
صاف شفاف چہرے پر خشک آنسووں کے جابجا نشان تھے۔۔۔ چہرے کی سرخی اسکے کافی دیر تک روتے رہنے کی چغلی کھا رہی تھی۔۔۔
وہاب کا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسلہ۔۔۔
روحا ۔۔۔ روحا اٹھیں۔۔۔ آنکھیں کھولیں پلیز۔۔۔
اسنے روحا کا چہرا تھپتھپایا تو اسنے کسمسا کر سوجھی آنکھیں کھولیں۔۔۔
آ۔۔۔ آپ کب آئے۔۔۔ آہستگی سے کہتی وہ ہتھیلوں پر وزن ڈال کر اٹھی اور اسکے کندھے پر سر رکھتی پھر سے آنکھیں مونڈ گئ۔۔۔
آپ روئی ہیں روحا۔۔۔ کیوں۔۔ وہاب یکسر اسکی بات نظر انداز کر گیا۔۔۔
کوئی بات ہوئی ہے کیا۔۔۔ ادھر دیکھیں میری طرف۔۔۔ کیا رشنا نے آپ سے کچھ کہا۔۔۔ بتائیں مجھے۔۔۔ وہاب نے اسکا چہرا ہاتھوں میں تھاما تو وہ شدت سے نفی میں سر ہلا گئ۔۔
نن۔۔۔ نہیں وہاب ۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ۔۔۔ بھلا آپی کیوں مجھے کچھ کہیں گئ۔۔۔ گھبرا کر کہتے اسکی زبان لڑکھڑا گئ تھی۔۔۔ وہاب سنجیدگی سے اسکا چہرا دیکھ رہا تھا جب اسے شدت سے اسکے چہرے پر تکلیف کے اثرات ابھرتے محسوس ہوئے۔۔۔
روحا کیا ہوا۔۔۔ ٹھیک تو ہیں نا آپ۔۔۔ اسنے سرعت اسکا سرد پڑتا ہاتھ تھاما۔۔۔
دل گھبرا رہا ہے میرا وہاب۔۔۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔۔ وہ بہت دقت سے بول پا رہی تھی۔۔۔
ای۔۔۔ ایک منٹ روحا۔۔۔ آپ یہ پانی پیئں میں پین کلر لاتا ہوں۔۔ اسنے بعجلت بیڈ سے اترتے سائڈ ٹیبل سے جگ میں موجود پانی گلاس میں انڈیل کر اسے پکڑایا اور خود بھاگ کر فرسٹ ایڈ باکس سے گولی نکال کر اسے کھلائی۔۔۔
اب کچھ بہتر محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ دوائی کھلا کر اسنے روحا کی کمر سہلاتے استفسار کیا۔۔۔
جب بھی وہ زیادہ پینک ہوتی یا کچھ سر پر زیادہ سوار کرتی تو اسکی حالت یونہی بگڑ جاتی تھی۔۔۔
ہمم۔۔۔ اسنے زرد پڑتے چہرے کیساتھ مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
آئسکریم کھانے چلیں۔۔۔ وہ اسکا دھیاں بٹانے کو بات بدلتا گویا ہوا۔۔۔ وہ لاکھ اس سے باتیں چھپا لیتی لیکن وہ اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔ اسکے تاثرات دیکھ کر بات کو بھانپ لیتا تھا۔۔۔ تبھی مزید بحث کرنے کی بجائے اسنے بات کو سمیٹنا چاہا۔۔
ابھی ۔۔۔ وہ معتجب ہوئی۔۔۔
ہاں نا ابھی۔۔۔ پہلے آئسکریم کھائیں گے پھر واپسی پر باہر ڈنر کریں گئے اور پھر اسکے بعد لانگ ڈرائیو پر چلیں گئے۔۔۔ وہ محبت سے اسکا مرجھایا ہوا چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔
سچی۔۔۔ وہ لمحوں میں چہک اٹھی۔۔۔
مچی۔۔۔ چلیں اب جلدی سے اٹھیں اور اچھا سا تیار ہوں۔۔۔ چلیں چلیں جلدی کریں۔۔۔ اسنے جلدی جلدی کا شور مچاتے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا اور ڈریسنگ روم میں بھیج کر ہی دم لیا۔۔۔
اسکے ڈریسنگ روم کا درواہ بند کرتے ہی وہاب کے چہرے کے تاثرات یکدم ہی پتھریلے ہو گئے تھے۔۔۔
اب اسکا رخ رشنا کے کمرے کی جانب تھا۔۔۔ اسے ابھی روحا کو رولانے کا حساب دینا تھا ۔۔۔
*****
صبح سے کھانا تو دور پانی کا ایک گھونٹ تک نا پیا تھا اسنے۔۔۔ رو رو کر آنکھیں خشک ہو گئ تھیں لیکن دل کا درد کم نا ہو رہا تھا۔۔۔ کسے دکھاتی اپنا دکھ کہ یہ دکھ تو خود کے خریدے گئے تھے۔۔۔
کسے دکھاتی اپنا زخمی زخمی ہوا دل کہ اس سب کی ذمہ دار بھی تو خود تھی۔۔
تب کچھ سوچا نا تھا اور اب تکلیف حد سے سوا تھی۔۔۔ اتنی کہ برداشت سے باہر تھی۔۔۔
وہ نہیں دیکھ سکتی تھی وہاب کو اس لڑکی کیساتھ۔۔۔ وہ کیا کرتی جو زرا دل کا درد کم ہوتا۔۔۔۔
تبھی ڈھار سے دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ اچھل کر سیدھی ہوئی۔۔۔
کیا کہا ہے تم نے روحا سے۔۔۔ سامنے ہی اسے بھرپور طیش میں کھڑا دیکھ اسکی جان ہوا ہوئی۔۔۔ اسنے کبھی وہاب کو اسقدر طیش میں نا دیکھتا تھا سوائے کل رات سے پہلے جب اسنے وہ لیٹر دیکھا تھا اور اب پھر سے۔۔۔
کل رات وہ اسکی شدت پسندی دیکھ چکی تھی تب تو وہ تائی جان اور تایا کا لحاظ کر کے خاموشی سے کمرے سے نکل گیا تھا مگر اب۔۔۔ اب تو بات بھی من پسند بیوی کی تھی۔۔۔
رشنا کا دل خوف سے کانپا جسکے واضح اثرات اسکے چہرے پر بھی دکھائی دیئے۔۔۔
کک۔۔۔ کچھ نہیں کہا۔۔۔ شدت سے نفی میں سر ہلاتی وہ کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔۔۔۔
اسکی ایسی حالت دیکھ وہاب کا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھا۔۔۔
وہ اس سے خوفزدہ تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں مرچیں سے چھبنے لگیں۔۔۔
سوجی متورم آنکھیں بکھرے بال سرخ چہرا اور پپٹری زدہ ہونٹ۔۔۔ وہاب کی آنکھوں میں ترحم اترا۔۔۔
اس لڑکی کو اسنے کبھی سب سے بڑھ کر چاہا تھا۔۔۔ وہ لب بھینچے خاموشی سے اسکے جھکے سر کو دیکھتا رہا۔۔۔
دیکھو رشنا تمہیں بہت پیار سے سمجھا رہا ہوں کہ روحا سے دور رہو۔۔۔ کیونکہ وہ معصوم ہے بہت معصوم۔۔۔ تمہاری سوچ سے بھی بڑھ کر۔۔۔۔
میں اسکی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اس لئے ہر اس کام سے گرہیز کرنا جو اسکی آنکھیں نم کرنے کا باعث ہو۔۔۔
وہ تمہاری حقیقت اور ہمارے رشتے کی اصلیت سے نابلد ہے اس لئے تمہارے آگے پیچھے پھر رہی ہے۔ ۔
میں تمہارا اور ہمارے رشتے کا خلاصہ اسکے سامنے نہیں کرنا چاہتا اور مجھے اس کام کے لئے مجبور مت کرنا۔۔۔ وہ تمہاری عزت کرتی ہے اس لئے تمہاری طرف محبت سے قدم بڑھا رہی ہے اپنے عمل سے اسے خود سے بدزن کرو گی تو خوشی ہے تمہاری۔۔۔ بحرحال آئندہ اس سے فضول گوئی سے پرہیز کرنا۔۔۔ اسکا لہجہ غصیلہ نہیں تھا البتہ تنبیہی ضرور تھا۔۔۔
وہ سر جھکائے ہونٹ بے طرح کچلتی بامشکل اپنے آنسووں پر بند باندھے ہوئے تھی۔۔۔۔
رشنا تم کیوں مجھےظالم ثابت کرنا چاہتی ہو۔۔۔ اب کے آواز میں بے بسی نمایاں تھی۔۔۔
رشنا نے کرب سے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
تم جب سے یہاں آئی ہو ایسے ہی اسی کمرے میں بیٹھی ہو ۔۔۔۔ سامنے کچن ہے تمہیں کسی نے روکا نہیں ہے۔۔۔۔
ضرورت کی ہر چیز وہاں موجود ہے جنہیں استعمال کرنے کے لئے تمہیں کسی کی اجازت درکار نہیں۔۔۔
لیکن خدارا اس سے زیادہ کی توقع مجھ سے مت رکھنا۔۔۔ اسکا انداز بے لچک اور دو ٹوک تھا۔۔۔
وہ سر جھکائے ہی سسک اٹھی۔۔۔۔
اسی لئے۔۔۔ اسی لئے میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا رشنا۔۔ کیونکہ میں جانتا تھا پھر یہ ہی سب ہوگا۔۔۔ وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے ایک سے ماتھا مسلتا خاصا جھنجھلایا لگتا تھا۔۔۔
تم مجھے میری غلطی بتا دو۔۔ تم میرے ضبط کا اندازہ لگا سکتی ہو کہ کس ضبط سے میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔۔ وہ یکدم سیدھا ہوتا بے بسی سے دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔
میں نے تم سے محبت کی تھی رشنا۔۔ سچی محبت۔۔۔ پاکیزہ محبت۔۔۔ اور اسے ایک پاک رشتے میں بدلنے کے لئے اپنے بڑوں سے بات کرکے تمہیں جائز طریقے سے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہا تھا رشنا۔۔۔
اور تم نے کیا کیا۔۔۔ کیا کیا تم نے۔۔۔
تم نے میرے پاکیزہ جذبات کی توہیں کی۔۔۔ تم نے مجھے ٹھکرا کر کسی بھی ایرے غیرے کو مجھ پر فوقیت دی۔۔۔ میری پرخلوص محبت کو جوتے کی نوک پر رکھ کر کسی غیر کے ساتھ باپ کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔
وہ کرب سے آج اس پر کھل رہا تھا۔۔۔ رشنا حیرت و انبساط سے اسے تک رہی تھی تو گویا یہ رشتہ وہاب کی خواہش پر جڑا تھا۔۔۔
تمہارا مجھے ٹھکرا کر کسی اور کے پاس جانا میری غیرت پر ایک تازیابہ ہے۔۔۔ میں روز جیتا ہوں روز مرتا ہوں یہ سوچ کر کہ میری محبت نے مجھے ٹھکرا دیا۔۔
اس بندی نے مجھے ٹھکرایا جسے میں نے دنیا میں سب سے زیادہ چاہا تھا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے تمہیں کونسی چیز میرے پاس واپس لائی۔۔۔ وہ سرخ پڑتی نگاہیں اس پر جمائے سختی سے بول رہا تھا۔۔
رشنا دم سادھے اسے دیکھے گی۔ نجانے وہ کیا کہنے والا تھا۔۔۔
صرف بدنامی اور رسوائی کا خوف۔۔۔
جی رشنا صاحبہ تمہیں صرف تمہاری بدنامی اور رسوائی کا ڈر مجھ سے باندھ گیا اگر تمہارے سر پر بدنامی اور رسوائی کی تلوار نا لٹک رہی ہوتی تو تمہارا انتخاب کوئی بھی ایرا غیرا ہوتا لیکن کبھی بھی وہاب درانی نا ہوتا۔۔۔۔۔۔
رشنا نے سسکتے ہوئے گیلی سانس اندر کھنچی۔۔ صفائی میں بولے جانے والے الفاظ بے موت مرنے لگے تھے۔۔۔ شرمندگی سر اٹھانے نا دے رہی تھی۔۔۔۔ جو آئنہ وہ اسے دکھا رہا تھا اس میں اپنی صورت دیکھنا پر اذیت عمل تھا۔۔۔
تم دنیا کی نظر میں گرنا نہیں چاہتی تھی ۔ تم سر اٹھا کر حینا چاہتی تھی۔۔۔ تم سب کی نگاہوں میں سرخرو رہنا چاہتی تھی۔۔۔
میں نے وہ سب کیا جو تم چاہتی تھی۔۔ تمہیں دنیا کی بدنامی و رسوائی سے بچا لیا۔۔۔ تم سب کے سامنے سرخرو ہو۔۔۔ سب کے سامنے سر اٹھا کر رہ سکتی ہو۔۔
لیکن بس رشنا۔۔۔ اس سے زیادہ مزید کچھ نہیں۔۔۔ معذرت لیکن تم نے وہاب درانی کو کھو دیا۔۔۔۔
وہاب اب تمہارا کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔
جانتی ہو روحا کون ہے۔۔۔ روحا وہ ہے جس نے مجھے تب سمیٹا جب میں سب سے زیادہ ٹوٹا ہوا تھا ۔۔۔ جب میں خود سے بھی روٹھ گیا تھا۔۔۔
تمہیں اندازا ہے رشنا کہ تمہاری بے وفائی نے مجھے کن حالوں میں لا پٹخا تھا۔۔۔ جانتی ہو تمہاری بے وفائی نے میرے دل پر کیا نشتر چلائے تھے میرے اندر کیا محشر برپا کیا تھا۔۔ اسکی اذیت اسکا کرب آج لفظوں کی صورت بہہ رہا تھا۔۔۔
تم کچھ نہیں جانتی رشنا ۔۔۔ تم ایک خود غرض لڑکی ہو۔۔۔ جسے صرف اپنا آپ نظر آتا ہے۔۔۔ اپنے غم اپنی محرومیاں۔۔۔ تم نے کبھی جاننے کی کوشیش نا کی کہ تمہاری بے وفائی سے کوئی موت کے دہانے تک پہنچ گیا۔۔۔۔
میں پاگل ہو جاتا رشنا اگر میری زندگی میں روحا نا آتی تو۔۔۔ میرا دل چاہتا تھا خود کو آگ لگا لوں ۔۔۔۔ سب تہس نہس کر ڈالوں۔۔۔ میری جگہ پر خود کو رکھ کر دیکھو کہ جسے اپنی زندگی سے بڑھ کر چاہا جائے تو وہ آپکو جوتے کی نوک پر رکھ کر کسی اور کا ہاتھ تھام لے تو کیا احساسات ہوتے ہیں۔۔۔ اسکی آواز بھاری ہونے لگی تھی۔۔۔ جسے وہ بامشکل کمپوز کئے ہوئے تھا۔۔۔ ضبط سے چہرا لہو چھلکانے لگا تھا۔۔۔
میری شریانیں پھٹ جاتی دن رات یہ سوچ سوچ کر کہ میری منگیتر نے مجھے کیوں ٹھکرایا آخر ایسی کیا کمی تھی مجھ میں جسکی چاہت تمہیں چور دروازوں تک لے گئ۔۔۔۔
اگر تم مجھے خودغرض کہتی ہو تو کہہ سکتی ہو۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو ایسی ہی سہی۔۔۔ ہاں ہوں میں خود غرض کیونکہ میں تمہارے سحر سے نکل چکا ہوں۔۔۔ بہت رو چکا تمہارے فراق میں بہت آنسو بہا لئے تمہاری بے وفائی میں۔۔۔
لیکن اب میرا دل خالی ہے ۔۔۔ تمہارے نام پر وہ خاموش ہو جاتا ہے۔۔۔ ایک ایسی لڑکی جو مجھے ٹھکرا چکی ہو لیکن دنیا کی رسوائی کے ڈر سے واپس میرے پاس پلٹی ہو معذرت کے ساتھ اس لڑکی کی میری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ میں تمہیں دنیا سے عزت تو دلوا سکتا ہوں لیکن خود کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔
میرے جزبات اتنے بے مول نا تھے رشنا کہ تم انہیں قدموں تلے رونڈ جاتی۔۔۔
وہ ہذیانی انداز میں آج پرت در پرت اس ہر اپنا آپ آشکار کرتا کوئی دیوانہ ہی لگ رہا تھا۔۔۔
اور رشنا اسکا کا تو وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن مین لہو نہیں۔۔۔
سفید پڑتے چہرے کیساتھ وہ بے حس و حرکت بیٹھی تھی۔۔۔
وہاب کہاں ہیں آپ۔۔۔ باہر سے روحا کی آواز آنے پر وہ ہڑبڑا کر جیسے کسی خواب کی کیفیت سے جاگا۔۔۔
اور سرعت سے کمرے کا دروازہ وا کرتا باہر نکلا۔۔۔
کیسی لگ رہی ہوں میں وہاب۔۔۔ سامنے ہی روحا نارنجی رنگ کی کرنیں برساتی فراک پر گولڈن سکارف سے حجاب کئے کھڑی تھی اسے دیکھتی وہ فراک کا کونا پکڑے گول گھوم کر کھلکھلائی۔
اسکی حرکتیں دیکھ کر وہاب دل سے مسکرا دیا۔۔ اس لڑکی کی اوٹ پٹانگ حرکتیں اسے ہمیشہ اس فیز سے نکال لاتی تھیں۔۔۔
*****
اندر رشنا کسی بت کی مانند بیٹھی تھی ۔۔۔ کانوں میں وہاب کے کہے جملے یکے بعد دیگرے گونج رہے تھے۔۔۔ آنکھ سے ایک موتی ٹوٹ کر گرا ۔۔۔ اسے آج پہلی مرتبہ وہاب مظلوم اور بے بس لگا۔۔۔
اپنے لفظوں سے وہ کہاں وار کر گیا تھا۔۔۔ وہ تو اپنی ہی نگاہوں میں یکدم ہی مظلوم سے ظالم بن گئ تھی۔۔۔ جانے انجانے میں ہی سہی وہ ایک محبت کرنے والے دل کو بری طرح توڑ گئ تھی۔۔۔
باقی سب تو کچھایک پل کے لئے نظر انداز کر بھی دیا جاتا لیکن کیا اسکا یہ جرم قابل معافی تھا۔۔۔
آج اس پر وہاب کی ایک نئ پرت کھلی تھی ۔۔۔ وہ اسکی حرکتوں کی بدولت ٹوٹ کر بکھرا تھا۔۔۔ وہ اس سے شدید ناراض تھا۔۔۔ وہ اسکی وجہ سے ہرٹ ہوا تھا لیکن جو بات اسے چونکانے کا باعث بنی تھی کہ وہ آج بھی اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ وہ بھرپور غصے میں بھی اسکے ساتھ ناروا سلوک نہیں کرتا تھا۔۔۔ شدید غصے میں بھی ضبط کرتا وہ جگہ چھوڑ دیتا تھا۔۔۔
ایک خیال دل کی ڈھارس بندھا رہا تھا کہ وہ آج بھی کہیں نا کہیں اس سے محبت کرتا ہے۔۔لیکن ٹھوکر اتنی بری تھی اور وہ زخمی ہی اتنا تھا کہ دوبارہ اس زخم دینے والی کی جانب دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ وہ اس سے شدید بدگمان تھا۔۔۔ کیا وہ کبھی اس پر اپنی محبت آشکار کر پائے گی جو اسکے دل میں پنجے گاڑ چکی تھی۔۔۔ کیا وہ اسکا اعتبار کرتا۔۔۔
آج وہ اس پر کھلا تھا تو رشنا پر سوچ کے نئے در وا ہوئے تھے۔۔۔ اسنے کہا روحا وہ ہے جس نے اسے تب سمیٹا جب وہ پوری طرح سے ٹوٹ چکا تھا۔۔
کیا مطلب تھا اس بات کا بھلا۔۔۔ اس کا مطلب جو بھی تھا لیکن یہ کنفرم تھا کہ وہاب کی اس سے محبت کی شادی نا تھی۔۔۔
پھر کیا تھا وہ۔۔۔ وہاب کا اس لڑکی کی اتنی کیئر کرنا اسے ہاتھ کا چھالہ بنائے رکھنا۔۔۔ یہ سب کیا تھا پھر۔۔۔
وہ بے طرح الجھ چکی تھی۔۔۔ بحرحال وہ اس مسٹری کو حل کرنے کی تھان چکی تھی۔۔۔ وہ اس مخلص شخص کو ہر صورت پا کر رہے گئ۔۔ اسکے پاس اس شخص کی ایک کمزوری آ چکی تھی۔۔ اور وہ کمزوری وہ خود تھی۔۔۔
وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔ بس اب اسے کوئی حکمت عملی سوچنی تھی اپنا گھر آباد کرنے کو اور وہ اپنی کامیابی کے لئے ہر امید تھی۔
*****

No comments