Header Ads

Nam Aankhain novel 17th episode by Umme Hania


  


 

Nam Aankhain novel 17th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

سترہویں قسط۔  
مام۔۔۔ ہماری جنگلی بلی بھلا کہاں ہے اس وقت۔۔۔ آفندی ہاوس میں اس وقت خاصی چہل پہل تھی۔۔ سب شام کی چائے باہر لان میں بیٹھے پی رہے تھے ۔۔۔ بیا سب کو چائے سرو کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ دونوں بچوں کی پرام بھی وہیں تھی۔۔۔ جب شہرو نے موبائل پر کچھ ٹائپ کرتے مسکراتی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا مگر شزا کو نا پا کر ماں سے استفسار کرنے لگا۔۔۔
ارے آج اس پر اپنے کمرے کی ڈیپ کلینینگ کا بھوت سوار ہے صبح سے اسکو سیٹ کر رہی ہے اور اسے سیٹ کرتے کرتے خود بھوتنی بن گئ ہے۔۔۔ شازمہ بیگم نے بچوں کے ہاتھ میں بسکٹ پکڑا کر خود اپنا کپ اٹھایا۔۔۔ آنے والی ہی ہوگئ اب تو۔۔ ختم ہو گیا تھا اسکا سارا کام۔۔۔
اوہ۔۔۔ شہروز نے ہونٹ اوہ کی شیپ میں گول کئے اور پھر سے موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے لگا۔۔۔۔
زاہد آفندی بھی آج آفس سے جلدی آ گے تھے اسی لئے شام کی چائے پر ان سب کیساتھ ہی تھے۔۔۔ دفعتاً ایک گاڑی زن سے گیٹ سے اندر داخل ہوتی جا کر ڈرائیوے پر رکی۔۔۔
سب لوگ معتجب ہو کر اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر ایک نوجوان باہر نکلا۔۔۔
ٹی شرٹ پر کوٹ پہنے جسکی آستینیں کہنیوں کے پاس اکھٹی کر کے سلائی کی گئ تھیں۔   کانوں سے تھورے نیچے آتے سلکی بال سائیڈ پف کی صورت سیٹ کئے گئے تھے جو اسکی شخصیت پر چار چاند لگا رہے تھے۔۔۔ دراز قد صاف رنگت اور جازب نظر کھڑے نقوش اس پر اسکی گہری مسکراہٹ جو اسے مزید دلکش بناتی تھی
گاڑی سے اترتے ہی اسنے اپنے بالوں میں ہاتھ چلایا سلکی بال بکھر کر پھر سے اپنی جگہ پر سیٹ ہوگئے اسنے سن گلاسز اتار کر ٹی شرٹ پر ٹکائے اور ان سب کی جانب متوجہ ہوتا دور سے ہی مسکرا کر ہاتھ ہلاتا انکی جانب بڑھا۔۔۔
المیر۔۔۔ شازمہ بیگم خوشگوار حیرت سے اسے تکتیں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔ حیران تو زاہد صاحب بھی تھے اسے یوں اچانک وہاں دیکھ کر بس ایک شہروز ہی تھا جو مطمیئن سا کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اسکی یہاں آمد کے بارے میں جانتا ہو۔۔۔
یہ۔۔۔ بیا نے الجھ کر شہروز کی جانب دیکھا۔۔
یہ المیر ہے ۔۔۔ ہمارا پھوپھو زاد اور شزا کا شوہر۔۔۔  شہروز نے اسکی جانب جھکتے سرگوشی کی۔۔ 
اوہ۔۔ اچھا اچھا۔۔۔ اسنے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
اسلام علیکم ممانی جان کیسی ہیں آپ۔۔۔ وہ آتے ہی خوشدلی سے انکے پاس آتا انکے سامنے جھکا۔۔۔ 
واعلیکم اسلام ۔۔۔ میرا بچہ کتنا پیارا ہو گیا ہے۔۔۔ شازمہ بیگم نے اسکے سر پر پیار دیتے اسکا ماتھا چوما۔۔۔
ماموں جان کیسے ہیں یار۔۔۔ وہ آگے بڑھ کر زاہد صاحب سے بغلگیر ہوا۔۔۔ 
عادت گئ نہیں تمہاری ابھی تک سرپرائز کرنے کی۔۔۔ تم تو جمعہ کو آنے والے تھے نا۔۔۔ زاہد صاحب نے اسے پیار دیتے اسکا کان مڑورا۔۔۔
ارے۔۔۔ ارے ماموں جان یہ کیا کر رہے ہیں۔۔ اسنے دوہرے ہوتے ان سے اپنا کان چھڑوایا۔۔۔
ارے یہ ڈول کون ہے۔۔۔ وہ دونوں بچوں کو پیار کر کے خود ہی زاہد صاحب کیساتھ پڑی کین کی کرسی پر بیٹھتا شہروز کے آگے سے چائے کا کپ اٹھا کر چائے پینے لگا۔۔۔
شہروز نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔ لیکن وہ لاپرواہی سے کندھے اچکا گیا۔۔۔
اسے بھی ہماری بیٹی ہی سمجھو۔۔۔۔  شازمہ کی بھانجی ہے اور اس گھر کا فرد۔۔۔ زاہد صاحب کے محبت سے کہنے پر بیا کی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔  کتنے مخلص لوگ ملے تھے اسے۔۔۔
بیا کے سلام کرنے پر وہ مسکرا دیا۔۔ 
آہم۔۔۔آہم۔۔۔ ایک اہم فرد مسنگ ہے یہاں سے۔۔۔ کہاں پایا جائے گا وہ۔۔۔  اسکے گلا کھنکھار کر ڈرامائی انداز میں کہنے پر وہاں مشترقہ قہقہ گونجا۔۔۔
سب اکھٹے ہی کھیلتے کودتے بڑے ہوئے تھے تو آپس میں کوئی روک ٹوک نا تھی۔۔۔  جب وہ اکھٹے ہوتے تو سب کے ناک میں دم کئے رکھتے تھے۔۔۔
تمہارے استقبال کو اپنے کمرے میں ناخن تیز کر رہی ہیں محترمہ آخر کو وارم ویلکم بھی تو بنتا ہے نا۔۔۔  شہروز نے موبائل سے نظریں ہٹاتے ائبرو اچکایا۔۔۔
واقعی۔۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں گویا ہوا۔۔۔ پھر تو بہت مزا آئے گا۔۔۔ میں ابھی اس سے مل کر آیا۔۔۔ وہ کپ مہز پر رکھ کر شہروز کے سر پر چیت رسید کرتا اندر کو بھاگا۔۔   بیا حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکے لئے یہ سب نیا تھا۔۔۔
*****
بھوووو۔۔۔۔ 
آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ 
شزا کمرے کے وسط میں کھڑی دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے مسکراتی نگاہوں سے چم چم کرتے کمرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ یہ سب اسکے پچھلے تین گھنٹوں کی محنت کا اعجاز تھا۔۔۔
سبھی واڈروب اور ڈرار ری آرگنائز ہو چکے تھے۔۔۔ جھالے اتارنے اور پنکھا صاف کرنے سے چھت کی شکل نکل آئی تھی۔۔۔ ماربل کا فرش دھل کر خشک ہو چکا تھا۔۔۔ بیڈ شیٹ صوفہ کورز اور پردے تبدیل کر دیئے گئے تھے۔۔۔ اب خوبصورت سا نکھرا نکھرا کمرا اسکے سامنے تھا اور اعصاب پر خوشگوار اثرات ڈال رہا تھا۔۔۔ لیکن اس سب میں اسکی اپنی حالت بہت خراب ہو چکئ تھی۔۔۔ دھول اور مٹی سے اٹے کپڑے اور بال اسے کوفت میں مبتلا کر رہے تھے۔۔۔ 
اب وہ جلدی سے شاور لے کر نیچے جانا چاہتی تھی مگر اس سے پہلے کے الماری کی جانب بڑھتی المیر نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور بالکل اسکے پیچھے جا کر زور سے چلا کر اسے ڈرایا۔۔۔  وہ دہل کر دل پر ہاتھ رکھتی اچھلی۔۔۔
غصے سے پلٹ کر دیکھا تو سامنے خوشبوں میں نہائے مسکراتے ہوئے المیر کو پا کر ایک پل کو تو اسے صدمہ ہی لگ گیا۔۔۔ منہ اور آنکھیں پوری کھولے وہ اسے حیرت سے دیکھتی رہی۔۔۔
المیر بھی مسکراتی نگاہوں سے اسکے سراپے کو آنکھوں میں سماتا اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔ اسکا ایسا ہونق پن دیکھنے کو تو وہ بنا بتائے آیا تھا۔۔۔
افف۔۔۔ پھوٹی قسمت میری کس بھوتنی کے ساتھ نصیب پھوٹ گئے۔۔۔ لڑکیوں کے شوہر گھر آتے ہیں انہیں سولہ سنگھار کرنے سے فرصت نہیں ملتی اور یہاں کے حالات ۔۔۔ اللہ ۔۔۔ بندہ گلے ملتے بھی سو بار سوچے۔۔۔  وہ بامشکل مسکراہٹ ضبط کئے مضنوعی افسوس سے کہتا گھوم کر بیڈ پر آ کر گرا۔۔۔
اللہ جی میرا کیا ہوگا۔۔۔ کیا مجھے ایسے ہی سری ہوئی بینگن کی شکل۔۔۔ وہ کمر کے بل کہنی پر سر ٹکائے اس سے مخاطب ہوا جب وہ واقعی پنجے گاڑتی اس پر جھپٹی۔۔۔
المیررررر۔۔ تمہاری تو۔۔۔ ابتدائی فیز سے سمبھلتے اور اسکی باتوں کا مفہوم سمجھ کر اسنے غصے کی شدت سے صوفے سے کشن اٹھا کر کھینچ کر اسکے سر کا نشانہ لیتے مارا۔۔۔
دھت تیری دی۔۔۔ وہ بوکھلا کر ایک ہی جست میں بیڈ سے اترا ۔۔۔ 
رکو تم زرا۔۔ بدتمیز تم تو جمعے کو آنے والے تھے نا۔۔۔ وہ دوسرا کشن تھامے اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی جبکہ وہ کمرے میں چکر کاٹتا کرسی اور صوفوں کی آڑ لے کر اپنا بچاو کر رہا تھا۔۔۔ ایک تو بنا بتائے چوروں کی طرح ہمارے گھر آئے اوپر سے۔۔۔
بدزوق لڑکی ۔۔۔ اسے چوروں کی طرح آنا نہیں بلکہ سرپرائز دینا کہتے ہیں۔۔۔ المیر نے جھک کر نیچے سے کش اٹھایا اور تاک کر اسکی ناک کا نشانہ لے کر مارا۔۔۔
آہ ہ ۔۔ تم بچ جاو زرا میرے ہاتھ بدتمیز انسان۔۔۔۔ وہ بلبلا کر ناک سہلاتی اسکے پیچھے بھاگی۔۔۔۔ 
بچاو۔۔۔ بچاو مجھے ایک جنگلی بلی سے بچاو۔۔۔ وہ دہائیاں دیتا ایک ایک جست میں کئ کئ سیڑھیاں پھیلانگتا نیچے اترا۔۔۔ سارے ملازم ہستے ہوئے انہیں دیکھ رہے تھے وہ یہ منظر بارہا دیکھ چکے تھے۔۔۔
ممانی جان مجھے ایک جنگلی بلی سے بچائیں۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا لان میں ان سب کے پاس آیا۔۔۔ 
امی آپ آج درمیان میں نہیں آئیں گئ۔۔  شزا بھی بھاگتی ہوئی اسکے پیچھے ہی آئی ۔۔۔ 
بیٹی کو یوں دیکھ شازمہ بیگم سر تھام کر رہ گئیں۔۔۔
زاہد صاحب کوئی فون سننے وہاں سے جا چکے تھے۔۔۔  
المیر شہروز کی کرسی کے پیچھے الرٹ سا کھڑا تھا جبکہ وہ خود شازمہ بیگم کی کرسی کے پاس گھٹنوں پر ہاتھ رکھے جھک کر اپنا سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔۔
شزا کچھ عقل کر لو۔۔۔ اب چھوٹی بچی نہیں ہو تم شوہر ہے وہ تمہارا تھوڑا عزت سے مخاطب کر لو اسے۔۔۔ 
شازمہ بیگم کی بات پر وہ اسے آنکھوں سے چڑاتا شہروز کیساتھ ہی کرسی پر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھا۔۔۔
شوہر ہے تو کیا ساری عزت مجھ پر ہی فرض ہے کچھ اپنے اس لاڈلے کو بھی سمجھا دیں۔۔۔ وہ بھرپور غصے سے اسے گھور رہی تھی جبکہ دوسری  جانب وہ مسکراتی شرارتی نگاہوں سے اس تک رہا تھا۔۔۔
ممانی جان  مجھے سلش پینا ہے وہ لاڈ سے شازمہ بیگم کو دیکھتا گویا ہوا۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا کیوں نہیں۔۔۔ 
وہ بھی اپنی خوبصورت سی بیوی کے نوکیلے ہاتھوں سے۔۔۔ اسنے ترچھی نگاہوں سے شزا کے پھولے گالوں کو دیکھتے بات مکمل کی۔۔۔
یہ ہوئی نا بات۔۔۔ اسکی بات مکمل ہوتے ہی شہروز اور  وہ ہاتھ ہر ہاتھ مارتے ہس دیئے۔۔۔ شزا نے تڑپ کر انہیں دیکھا۔۔۔۔
تمہارے لئے سلش بناتی ہے میری جوتی۔۔۔ شزا غصے سے پاوں پٹختی شازمہ بیگم کے ساتھ والی کرسی پر آ کر بیٹھی۔۔
بری بات شزا۔۔۔ جاو اس کے لئے شلس لاو۔۔۔ 
ہرگز نہیں۔۔۔ شازمہ بیگم کے ڈانٹنے پر وہ ٹرخ کر گویا ہوئی۔۔۔
مم۔۔۔میں لاتی ہوں سلش۔۔۔ انہیں یوں آپس میں بھرتا دیکھ بیا جلدی سے اٹھ کر اندر سلش لینے گئی۔۔۔
اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو۔۔۔ اسے ہاتھ باندھے چہرا دوسری جانب موڑے دیکھ المیر نے شرارت سے آگے بڑھ کر اسکی ناک دبائی۔۔۔ 
آہ ہ ہ۔۔۔ المیر کے بچے میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔۔۔  وہ وہیں سے چیخی۔۔۔ جبکہ فضا میں المیر کے قہقے کیساتھ ساتھ شہروز کا قہقہ بھی گونجا۔۔۔ ان دونوں کو ہی  شاید  اسکی تیکھی ستواں ناک سے چڑ تھی۔۔۔
میرے بچے ابھی کہاں۔۔۔ ابھی تو بچوں کی ماں ہی قابو نہیں آ رہی۔۔۔ وہ کرسی سے ٹیک لگاتا اپنے سلکی بالوں میں ہاتھ چلا کر مسکراہٹ دباتے گویا ہوا تو شہروز ہس ہس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔۔۔
جبکہ شزا اپنے ہی الفاظ کی پکڑ میں آتی بے طرح جھینپ گئ۔۔۔۔
شازمہ بیگم انہیں ایک دوسرے سے بھرتا دیکھ گہرا سانس خارج کر کے رہ گئیں۔۔۔
میری چیزیں لے کر آئے ہو نا۔۔۔ شزا اپنی خفت مٹانے کو اس پر چڑھ ڈوری۔۔۔
کونسی چیزیں محترمہ۔۔۔ کونسی چیزیں۔۔۔ وہ انجاں بنتا ٹیک چھوڑ کر اسکی جانب جھکا۔۔۔
خود سے تو ایک سلش کا گلاس نہیں پلایا جاتا اور مجھ سے ہزاروں کا ساماں منگوایا جاتا ہے۔۔۔  کچھ نہیں لایا میں۔۔۔ ہاتھ جھلا کر وہ واپس کرسی سے ٹیک لگا گیا۔۔۔
تم واقعی کچھ نہیں لائے ۔۔ شزا صدمے سے گویا ہوئی۔۔۔
بالکل نہیں لایا وہ ادھر ادھر دیکھتا پاوں جھلانے لگا۔۔۔۔۔تممممم۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔ چلو نکلو یہاں سے۔۔۔   نکلو میرے گھر سے فوراً۔۔۔
اب بس ہو گئ تھی مطلب حد تھی۔۔۔ پچھلے ایک مہینے سے وہ اسے اپنی چیزیں نوٹ کروا رہی تھی اور وہ خالی ہاتھ واپس آیا تھا۔۔۔۔ اپنی جگہ سے اٹھتی وہ باقاعدہ اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے اٹھانے لگی۔۔۔
ارے۔۔۔رے۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔ دیکھیں ممانی جان یہ مجھے گھر سے نکال رہی ہے۔۔۔ وہ باقاعدہ دہائیاں دینے لگا۔۔۔۔
شزا بچے کیا۔۔۔
بس امی آپ بیچ میں نا آئیں ۔۔۔ چلو اٹھو۔۔۔ اسنے ہاتھ اٹھا کر ماں کو روکا۔۔۔
المیر بھی مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ارے کیا ہو گیا بھئ۔۔۔ دفعتاً زاہد صاحب وہاں واپس آئے اور انہیں یوں باقاعدہ ہاتھا پائی کرتے مستفسر ہوئے۔۔۔ 
ماموں جان دیکھیں یہ مجھے گھر سے نکال رہی ہے۔۔۔ اسنے زاہد صاحب کو آتے دیکھ معصومیت سے دہائی دی۔۔۔ 
کیوں بیٹا کیا ہوگیا۔۔۔ 
بابا دیکھیں یہ میری چیزیں نہیں لایا۔۔  خالی ہاتھ آیا ہے۔۔ وہ باپ کو شکایت لگاتی روہانسی ہو اٹھی۔۔۔
اوہ ہو۔۔۔ المیر یہ تو تم نے بالکل اچھا نہیں کیا۔۔۔ وہ بھی مضنوعی تاسف سے کہتے اپنی جگہ پر بیٹھے۔۔۔
چلو چیزیں نہیں لائے نا اب تم بھی چلو
۔۔ اسنے المیر کو کھینچا۔۔۔
ارے ایسے کیسے جاوں ۔۔۔ میرے ماموں کا گھر ہے میں کوئی نہیں جا رہا۔۔۔ وہ جھٹکے سے اپنا بازو چھڑواتا زاہد صاحب کے ساتھ والی کرسی ہر بیٹھا۔۔
ماموں کا گھر تھا۔۔۔ اب یہ تمہارا سسرال ہے وہ کمر پر ہاتھ رکھتی چبا چبا کر گویا ہوئی اور اچھے داماد خالی ہاتھ اپنے سسرال نہیں آتے اس لئے چلو شاباش۔۔۔ وہ ہاتھ جھارتی واپس اسکی جانب بڑھی۔۔۔
ارے۔ ارے لایا ہوں تمہارا سبھی کچھ ۔۔۔ گاڑی میں پڑا ہے جنگلی بلی۔۔۔  اسے دوبارہ اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ سیز فائر کرتا بعجلت گویا ہوا۔۔
واقعی۔۔۔۔ اسکی آنکھیں چمکیں۔۔۔
جی واقعی۔۔۔
یو آر شو وووو شویٹ المیر۔۔۔ اسنے زور سے اسکی گال کھینچی اور اسکی گاڑی کی جانب بڑھی۔۔۔
اچھا وہ چیزیں لے کر زرا چہرا صابن سے دھو لینا قسم سے کچرا رانی لگ رہی ہو۔۔۔ اسے اپنی گاڑی کی جانب بڑھتا دیکھ وہ پیچھے سے ہانک لگاتا گویا ہوا ۔ 
المیر ۔۔ تمممم بچو زرا۔۔۔ وہ وہیں سے چلاتی واپس اسکی جانب بھاگی جبکہ وہ بھی ایک ہی جست میں کرسی سے اٹھتا آگے کو بھاگا۔۔۔۔
شازمہ بیگم انہیں دیکھتی مسکرا کر رہ گئیں۔۔۔ وہ دل سے اپنے بچوں کی خوشیوں کے لئے دعا گو تھیں
*****
اٹیک۔۔۔۔۔ بہروز کے کہتے ہی انکی پوری ٹیم نے ایک ساتھ وائٹ پیلس پر دھاوا بولا تھا ۔ 
وہ لوگ اکھٹے ہی دیواروں کو پھیلانگتے انہیں بنا سمبھلنے کا موقع دیئے اندر جا چکے تھے
اندر انہیں کسی بھی قسم کی خاص سیکیورٹی نا ملی وہ باآسانی اندرونی عمارت کی جانب بڑھے تھے۔۔
سلمی وائٹ پیلس پر ریڈ ہوئی ہے۔۔ سلمی اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی جب ہیڈ آف سیکیورٹی کمیروں کی مدد سے انکی حرکات و سکنات دیکھتا اسکے پاس بھاگا آیا۔۔۔
کیا۔۔۔ جلدی سے سب کلیئر کرواو۔۔۔  وہ ایک جھٹکے سے بستر سے اتری۔۔۔ پیچھے ہی دو تین اور مرد پریشان سے اندر داخل ہوئے۔۔۔
ایس پی کو کال ملاو ۔  وہ ماتھا مسلتی شدید پریشانی سے گویا ہوئی۔۔۔ کس نے کی اتنی ہمت۔۔ کمرے میں چکر کاٹتی وہ خاصی مضطرب تھی۔۔۔
سلمی ایس پی نے ہی ریڈ کی ہے۔۔۔ پچھلے ایس پی کا تبادلہ ہو گیا ہے یہ نیا ایس پی آیا ہے۔۔۔
کیا۔۔۔ سلمی کو دن میں ہی تارے دکھائی دینے لگے تھے۔۔۔ مرزا صاحب سے بات کرواو میری۔۔۔ ان سے کہتی وہ بعجلت باہر لاوئنج میں گئ جہاں شاید پولیس اندر داخل ہو چکئ تھی۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ کون ہیں آپ سب اور یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔ وہ پورے اعتماد سے چلتی ہوئی باہر لاوئنج میں آئی جہاں پولیس کی ایک بھاری نفری ہاتھوں میں رائفلیں تھامے الڑت کھڑی تھی اور ان میں سب سے آگے وہ ایس پی تھا۔۔۔ بہروز آفندی۔۔۔
ہمیں خبر ملی ہے کہ یہاں غیر قانونی کام ہوتے ہیں ہم یہاں کی تلاشی لینا چاہتے ہیں اور ہمارے پاس یہاں کے سرچ وارنٹ ہیں۔۔۔ بہروز ہاتھ پیچھے باندھے سکون سے گویا ہوا۔۔۔
دیکھو ایس پی یہ شریفوں کا گھر ہے۔۔۔ سلمی نے روبدار آواز میں کہنا چاہا مگر بہروز کی گہری کاٹ دار سر سے پاوں تک جاتی نگاہوں  کی تاب نا لاتے خاموش ہوگئ۔۔۔ تلاشی لینا شروع کرو۔۔۔
اسکے حکم پر اسکے کارندے چینٹیوں کی طرح اس وائٹ پیلس کے کونے کونے میں گھس گئے تھے۔۔۔
سلمی اس ایس پی کو سنجیدہ نگاہوں سے دیکھتی وہیں صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گئ۔۔۔ بہروز وہیں کھڑا گہری نگاہوں سے ارد گرد دیکھ رہا تھا۔۔۔
سر سب کلیئر ہے یہاں کچھ نہیں۔۔۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی خواری کے بعد اسکے سبھی کارندے مایوسی سے واپس پلٹنے لگے تھے۔۔۔
کیا۔۔۔ مگر ایسا کیسے ہوسکتا  ہے۔۔۔ وہ چونکا۔۔۔ بے چینی انگ انگ سے پھوٹنے لگی تھی
سلمی کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھری۔۔۔ وائٹ پیلس ایک مسٹری تھا جسے آج تک کوئی حل نا کر پایا تھا تو پھر یہ کل کا آیا ایس پی کیا اہمیت رکھتا تھا ان کے لئے۔۔۔
نہیں میں خود تلاشی لوں گا۔۔ وہ بپھرا ہوا خود اس عمارت کا کونہ کونہ چھان رہا تھا۔۔۔
کرلو۔۔۔ تم بھی تسلی کرلو۔۔۔ سلمی وہیں بیٹھی ٹانگ ہلاتی تمسخرانہ گویا ہوئی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ بھی ناکام و نامراد واپس لوٹ آیا تھا۔۔
شٹ شٹ شٹ۔۔۔ وہ بار بار ماتھے پر مکے مار رہا تھا۔۔۔ اسکے پاس یہ ایک ہی موقع تھا جو وہ گنوا چکا تھا۔۔۔ اسے خود پر افسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے اس عقوبت کھانے کو ہلکا لیا تھا شاید ۔  اسی کی پلینیگ میں کہیں کوئی کمی رہ گئ تھی ۔۔۔ اسکی آنکھیں نم ہونے لگی تھی۔۔۔۔
سینکڑوں لڑکیوں کے ساتھ تہہ خانے میں موجود دیواروں پر نصب بڑی سی ایل ای ڈی پر چلتا یہ منظر مرحا نے کرب سے دیکھا تھا۔۔۔ آج اسے ان لوگوں کی طاقت پر کوئی شبہ نا رہا تھا۔۔۔ بلاشبہ وہ ایک دلدل میں پھنس چکی تھی جہاں سے اسے نکال پانا کم از کم کسی انسان کا کام نا تھا۔۔۔ وہ اسکا اللہ ہی تھا جو اگر حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ سے نکال سکتا تھا نا تو وہ اسے بھی وہاں سے نکال لے گا۔۔  ورنہ اور کسی سے تو اس کی کوئی امید نا رہی تھی۔۔۔
وہ وائٹ پیلس آٹو میٹک تھا۔۔۔ بَٹں دبانے سے اسکے دو حصوں کے درمیاں ایسی سفید دیوار کھڑی ہوتی کہ محسوس ہوتا وائٹ پیلس یہیں ختم ہو جاتا ہے لیکن اصل پراسرار دنیا اس دیوار کے ہٹںے سے شروع ہوتی تھی۔۔۔ 
 اور اگر کوئی غلطی سے اس دیوار کے پار آ بھی جاتا تو اسکے تہہ خانے تک پہنچنا ایک نا ممکن کام تھا۔۔۔
کامیابی کے اتنا قریب پہنچ کر بہروز ناکام و نامراد لوٹا تھا۔۔ اور اسے ان لوگوں کی طاقت کا اندازہ اس وقت ہوا جب ریڈ کے ٹھیک دو گھنٹے بعد اسکے ہاتھ میں ایک دور دراز علاقے میں اسکا  ٹرانسفر لیٹر تھا۔۔۔
وہ مرحا صدیقی کو بچا پانے میں ناکام رہا تھا یہ پچھتاوا حد سے سوا تھا۔
******* 

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4