Nam Aankhain novel 16th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 16th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
سولہویں قسط۔۔۔
رشنا وہاب کے پیچھے تھی وہ اس وجود کو دیکھ نہیں پائی تھی اور نا ہی اس لڑکی نے ابھی تک رشنا کو دیکھا تھا۔۔۔یہ منظر اسکا پورا بدن جھلسانے لگا تھا۔۔۔ آنکھ ٹپکنے کو بے تاب تھی۔۔۔ وہ بے دم ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکے بدترین خدشات حقیقت کا روپ دھارے اسکے سامنے تھے۔۔۔ اسکا دل چاہا وہ یہاں سے بھاگ جائے کہیں دور کہیں بہت دور جہاں کوئی نا ہو۔۔۔
اس کا دل کرلا رہا تھا۔۔۔۔ آنکھ نم تھی مگر ہونٹ قفل زدہ۔۔۔
وہ کیا کہتی ۔۔۔ کیا وہ کچھ کہنے کا حق رکھتی تھی۔۔۔۔
وہ گم صم سی سر جھکائے کھڑی تھی جب وہاب کچھ آگے بڑھا تو پیچھے کا منظر واضح ہوا۔۔۔
ارےےےے۔۔۔ یہ۔۔۔۔ یہ رشنا آپی ہیں نا۔۔۔۔ اسنے سامنے موجود لڑکی کو کہتے سنا۔۔ آواز میں اس قدر عزت تھی کہ وہ خود کو حیرت زدہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے سے روک نا پائی۔۔۔
سو سویٹ آف یو آپی۔۔۔ مجھے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ آپ بھی ساتھ آ رہی ہیں ۔۔ رشنا اسے نا سمجھی سے دیکھ رہی تھی جب وہ لڑکی آگے بڑھی اور بڑی چاہت سے اسے گلے سے لگایا۔۔۔ رشنا تو وہیں ساکت رہ گئ تھی حتی کہ سانس تک روک گئ ۔۔۔۔
وہ اسےدکھنے میں ایک کم عمر شوخ و چنچل سی لڑکی لگی معصومیت جسکے چہرے سے چھلکتی تھی۔۔ چوری دار پاجامے پر گھٹنوں تک آتی کھلی سی بہت زیادہ چنٹوں والی مختلف رنگوں کی فراک جو اسکی ہر ہر جنبش پر لہروں کی مانند ہلتی تھی زیب تن کئے ٹیل پونی بنائے صاف شفاف چہرا آنچل لاپرواہی سے گلے میں ڈالے وہ اسے کافی الہر لگی۔۔۔ دماغ میں ایک تیز طرار سی لڑکی کا بنا بت ٹوٹنے لگا تھا۔۔۔ سب گڈ مڈ ہو رہا تھا۔۔۔
روحا بہت تھکاوٹ ہو رہی ہے مجھے پلیز ایک کپ کافی کا بنا کر کمرے میں لے آئیں۔ وہ رشنا کو نظر انداز کرتا ماتھا مسلتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
آئیں آپی میں آپکو آپکا کمرا دکھاوں۔۔۔ اسنے خوش اخلاقی سے کہتے اسکے ہاتھ سے بیگ تھاما اور آگے بڑھی۔۔۔ رشنا حیرت سے اسکے پیچھے آئی یہ سب کچھ ہی سوچ سے پڑے تھا۔۔۔ کیا وہ لڑکی وہاب کے سامنے اداکاری کر رہی ہے لیکن کیوں۔۔۔۔ وہ اچھا خاصا الجھ چکی تھی۔۔۔
آپی یہ سامنے والا کمرا ہمارا ہے اور یہ آپکا وہ ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اندر بڑھی رشنا کو اسکا انداز جتاتا ہوا لگا۔۔
وہ ایک فرنشڈ فلیٹ تھا جس میں داخل ہو کر ایک چھوٹی سی راہداری آتی تھی راہداری کے بعد لاوئنج تھا جس میں آمنے سامنے دو کمرے تھے جن کے دروازے ایک دوسرے کے بالکل سامنے کھلتے تھے ۔۔۔ سامنے کی جانب کچن تھا۔۔۔ اور رشنا کے کمرے کے ساتھ والا کمرا وہاب کا سٹڈی روم تھا۔۔۔۔ سبھی کمروں کے دروازے لاوئنج میں ہی کھلتے تھے ۔۔۔۔۔ یہ ہمارا گیسٹ روم تھا۔۔۔ روحا نے اسکا بیگ لا کر کمرے میں رکھا اور مسکرا کر مڑی وہ غالباً اس گھر میں اسے اسکی اوقات بتا رہی تھی رشنا کا دل جلنے لگا لیکن وہ ضبط کئے کھڑی رہی۔۔۔
لیکن خیر اب تو یہ کمرا بھی آپکا ہے اور گھر بھی۔۔۔
وہ مسکرا کر کہتی جاتی جاتی پلٹی پلٹنے سے اسکی ست رنگی فراک بھی دائرے کی صورت گھومی۔۔۔ میں وہاب کے لئے کافی بنانے جا رہی ہوں آپکے لئے بھی بناوں۔۔۔ وہ شاید بلخصوص اسے یہ بات سنا کر جلانا چاہتی تھی اور رشنا شاید جل بھی رہی تھی اندر ہی اندر گیلی لکڑی کی مانند آہستہ آہستہ سلگ رہی تھی۔۔
نہیں بہت شکریہ۔۔۔ وہ مٹھیاں بھینچے ضبط سے گویا ہوئی۔۔
اچھا چلیں ٹھیک ہے اگر آپکو کچھ چاہیے ہوا تو مجھے بتا دیجیئے گا۔۔۔ دروازے سے نکلتے نکلتے اسنے رک کر اندر جھانکا وہ لڑکی بار بار میٹھی باتوں کے طنزوں سے رشنا کی اس گھر میں اوقات جتا رہی تھی۔۔۔ رشناکا دل چاہا کوئی چیز اٹھا کر اس ڈرامے باز میٹھی چھڑی کے سر پر دے مارے۔۔۔
اینوی تو نہیں اسنے اپنی اداوں کے جال میں وہاب کو پھانس لیا تھا۔۔۔ لیکن وہ اپنی بات کہہ کر وہاں سے غائب ہو چکئ تھی۔۔۔
اسنے اٹھ کر کمرے کی لاوئنج کی جانب کھلتی ونڈو کھولی اور جلتی آنکھوں سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔۔ کمرے میں تاریکی تھی اس لئے باہر سے اندر کا منظر واضح نا ہوتا تھا جبکہ اندر سے باہر لاوئنج کا منظر واضح تھا۔۔۔
ارے ۔۔۔رے میں کافی لا ہی رہی تھی آپ باہر کیوں آ گئے وہاب اور کہاں جا رہے ہیں۔۔۔
کچھ ہی دیر میں روحا کافی کا بھاپ اڑاتا مگ تھامے لاوئنج میں آئی تو وہاب کو سنجیدہ تاثرات سمیٹ کمرے سے نکلتا دیکھ گویا ہوئی۔۔۔ وہ لباس تبدیل کر کے فریش ہو چکا تھا گیلے بال ماتھے پر پھیلے تھے۔۔۔ تاہم چہرے کے نقوش کچھ برہم سے تھے
بس ایک ڈاوٹ ہے وہ کلیئر کر لوں پہلے۔۔ وہ روحا کا کافی کا مگ اسکی طرف بڑھاتا ہاتھ نظر انداز کئے کچن کی جانب بڑھا ۔۔۔
روحا کے اندر خطرے کی گھنٹی بجی۔۔۔ وہ زبان دانتوں تلے دابتی کھسیانی انداز میں اسکے پیچھے ہولی۔۔۔
وہ ۔۔۔ وہ۔۔ وہاب۔۔۔
وہاب نے کچن میں جاتے ہی سب سے پہلے سینک چیک کیا۔۔۔ جو بالکل صاف ستھرا تھا پھر اسکی نظر برتنوں کے ریک تک گئ اسکے بعد آخری ثبوت کے طور پر اسنے فریج کھول کر دیکھی اور گہری سانس خارج کرکے اسکی جانب پلٹا ۔۔۔ اب صورتحال یہ تھی کہ روحا اپنے آنچل کا پلو تھامے اسے مڑورتی سر جھکائے بے طرح ہونٹ کاٹ رہی تھی جبکہ وہاب اسکے باکل سامنے کھڑا اسے برہمی سے گھور رہا تھا۔۔۔ بیچ بیچ میں وہ ایک چور نگاہ اٹھا کر خود کو گھورتے وہاب کو بھی دیکھ لیتی۔۔۔
ٹائم دیکھا ہے آپ نے روحا کیا ہو رہا ہے۔۔۔ وہ غصے سے اسے گھورتا مستفسر ہوا۔۔۔
شام کے چار بج رہے ہیں اور آپ نے ابھی تک لنچ نہیں کیا۔۔۔
میں کرنے ہی والی تھی لنچ۔۔۔ وہ منمنائی۔۔۔
وہ خود کو لے کر وہاب کی حساسیت اچھے سے جانتی تھی وہ اسکے پل پل کی خبر گیری رکھتا تھا اسنے کب کھانا کھایا۔۔۔کیا کیا کھایا کونسا کھانا مس کیا سب کچھ۔۔۔ شاید وہ اسکی لاپرواہ فطرت کو جانتا تھا اسی لئے اسکے بارے میں متفکر رہتا تھا۔۔۔
تبھی تو وہ نہیں چاہتی تھی کے وہاب کو پتہ چلے کے اسنے کھانا نہیں کھایا۔۔۔ وہ تو پر سکون تھی ۔۔۔۔وہاب نہیں تھا تو تھوڑی نا کوئی پوچھنے والا تھا۔۔۔ لیکن اسے تھوڑی نا پتہ تھا کہ وہاب اتنی جلدی واپس آ جائے گا۔۔۔
رہنے دیتی اسکی کیا ضرورت تھی روحا تھوڑی دیر ہی تو رہ گئ تھی لنچ اور ڈنر اکھٹا ہی کر لیتی ایک وقت کا کھانا بچا کر ہم نے تاج محل جو بنوانا ہے۔۔۔ وہ مسلسل اسکی شان میں قصیدے پڑھتا فریج سے کھانا نکال کر اوون میں گرم کرنے لگا۔۔۔
پہلے مجھے بھوک نہیں تھی اب آپ یوں تو نا دیکھیں مجھے۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی صفائی میں کچھ کہتی وہاب کے اسے کام کے دوران گھور کر دیکھنے پر پھر سے منمنا کر رہ گئ۔۔۔
وہ کھانے کی ٹرے لے کر لاوئنج میں آیا تو وہ بھی کافی کا مگ تھامے باہر نکلی۔۔۔
اسنے کافی کا مگ خاموشی سے اسکے سامنے میز پر رکھا ۔۔۔
فوراً کھانا شروع کریں ۔۔ کافی کا مگ اٹھاتے اسنے آنکھ سے کھانے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
نہیں پہلے آپ بتائیں کے آپ مجھ سے ناراض تو نہیں۔۔ اسنے کھانے کو ہاتھ لگائے بغیر نڑوتھے پن سے پوچھا۔۔۔
ارے یار آپ سے ناراض نہیں ہو سکتا کبھی۔۔۔ بس کبھی کبھار آپکے کام غصہ دلا دیتے ہیں۔۔۔ وہ گہری سانس خارج کرتا ریلیکس ہو کر بیٹھا۔۔۔ یہ لڑکی اسے خود سے خفا بھی نہیں ہونے دیتی تھی۔۔۔چلیں اب شروع کریں۔۔۔ اسنے بے بسی سے چہرے پر ہاتھ پھیرتے اسے کھانے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ ایک دم کھلکھلا کر کھانے کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ جانے کیوں اسکی کھلکھلاہٹ وہاب کو سکون دیتی تھی وہ اسے ہمیشہ ایسے ہی کھلکھلاتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔
چلیں اب مجھے کچھ کام ہے جلد واپس آنے کی کوشیش کروں گا آپ نے کھانا کھا لیا ہے اب میرے جانے کے بعد کچھ دیر آرام کر لینا وہ کافی کا خالی مگ میز پر رکھتا اسکے پاس آیا۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اسنے جانے سے پہلے معمول کے مطابق اسے خود سے لگایا اور اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔۔ اور
اسکا گال تھپتھپا کر باہر کی جانب بڑھا ناجانے کیوں مگر اسکا گال تھپتھپاتے وہاب کی آنکھیں نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔۔
رشنا نے اندر سے یہ سارا منظر دیکھتے کرب سے آنکھیں موندیں۔۔۔
بھوک تو اسے بھی زوروں سے لگی تھی لیکن اب وہ من چاہی نہیں تھی۔۔۔ ہوتی تو اب تک روحا کی جگہ وہ ہوتی۔۔۔ احساس زیاں اندر پھر سے سر ابھارنے لگا تھا ۔۔دل جلنے لگا تھا۔۔۔ اپنے ہاتِوں سے اسنے اپنی خوشیوں کو آگ لگائی تھی۔۔۔ دل چاہ رہا تھا کہ اب خود کو بھی آگ لگا لیتی۔۔۔ زندگی اسقدر تلخ کیوں ہونے لگی تھی۔۔۔
اپنے دکھتے سر کو ہاتھوں سے تھامتی وہ بیڈ تک آئی اور اس پر ڈھے گئ۔۔۔
آپی۔۔۔ آپ کھانا کھائیں گئیں۔۔ دفعتاً روحا دل جلاتی مسکراہٹ چہرے پرسجائے ڈھار سے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔۔
رشنا ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔ تکلیف کیا ہے تمہیں کیوں بار بار میرے سر پر سوار ہو رہی ہو۔۔۔
چلا گیا ہے وہاب لحاظہ اب اپنی اچھے پن کی اس اداکاری کو ختم کرو۔۔۔اور نکلو میرے کمرے سے دوبارہ میرے کمرے میں بنا دستک کے داخل مت ہونا آئی سمجھ۔۔ وہ بستر سے اتر کر اس تک آئی اور اسے بازو سے کھینچتی ہوئی کھلے دروازے سے باہر دھکا دے کر دروازہ زوردارنہ انداز میں اسکے منہ پر بند کیا۔۔۔
روحا حیرت سے پھٹ پڑتی نگاہوں سے رشنا کا یہ رویا دیکھ رہی تھی ۔۔ شدت توہین سے اسکا چہرا سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ دو بے یقین آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹے اور پھر وہ منہ ہر ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کر روتی اپنے کمرے کی جانب بھاگی۔۔۔۔رشنا شاید بھول گئ تھی کہ وہ اسکے شوہر کی چہیتی تھی۔۔ جسکی آنکھ میں وہ ایک آنسو تک برداشت نہیں کر سکتا تھا لیکن وہ آنے والے وقت سے انجان اپنی ساری فریسٹریشن اس پر نکال کر اسے اچھا خاصا رلا چکی تھی
*****
وائٹ پیلس کی رونقیں اپنی عروج پر تھیں ۔۔ ایک ہفتے کے ٹور کے بعد پری واپس لوٹ آئی تھی اور اسکے آنے کے بعد گویا وائٹ پیلس کی رونق میں چار چاند لگ گئے تھے۔۔۔
وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گئ تھی۔۔۔ وہی نخرا وہی نخوت وہی ناک پر دھرا غصہ کچھ بھی تو نا بدلا تھا۔۔۔
اب بھی وہ دن بھر آرام کر کے پچھلے پورے ہفتے کی تھکان اتار کر سر شام ہی کمرے سے تیار ہو کر نکلی تھی۔۔۔ ٹخنوں تک آتی کیپری پر گھٹنوں تک آتی نوکدار برانڈڈ شرٹ زیب تن کئے سنہرے گیلے اسٹیکنگ زدہ بال پست پر بکھرائے نفاست سے کئے گئے میک میں چہرے کے نقوش مزید قاتل لگ رہے تھے ۔ ہیل کی ٹک ٹک ٹکاتی وہ باہر نکلی۔۔۔
پری تمہیں سلمی اپنے گیسٹ روم میں بلا رہی ہے وہ ابھی باہر آ کر لاوئنج میں بیٹھی ہی تھی جب ایک لڑکی اسکے پاس آئی۔۔۔ اسکی بات سن کر وہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی وہ جانتی تھی کہ اسے وہاں کس مقآد کے تحت بلایا جا رہا ہے۔۔۔
وہ گیسٹ روم نئے آنے والے امیر زادوں کو ڈیل کرنے کے لئے مختص کیا گیا تھا اور اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ آج تک وہاں جس جس نے بھی پری کا دیدار کیا وہ خود کو پری کی خوبصورتی کے سحر سے نکلنے سے بچا پایا ہو۔۔۔
وہ نخوت سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سیٹ کرتی گیسٹ روم کی جانب بڑھی۔۔۔
گیسٹ روم کا دروازہ دھکیل کر ایک ادا سے اندر داخل ہوئی۔۔۔
یس سلمی۔۔۔ تم نے بلایا سلمی سنگل صوفے ہر ٹانگ پر ٹانگ رکھے براجمان تھی سامنے ٹھری سیٹر صوفے پر دو لڑکے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھے تھے جنکی اس کی جانب پشت تھی۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی جا کر سلمی کے صوفے کی ہتھی پر بیٹھی اسکے گرد بازوں کا حصار قائم کرتی محبت نچھاور کرنے کے انداز میں بولی۔۔۔
یس مائی ڈئئر ان سے ملو یہ ہیں زاویار اور یہ۔۔۔ سلمی تعارف کے مراحل طے کروا رہی تھی مگر اسکی نظر زاویار پر گویا جم سی گئ۔۔۔لمحوں میں اسکی مسکراہٹ پھیکی پڑی اور سلمی کے گرد بنایا بازووں کا حصار کمزور پڑا لیکن ابتدائی فیز سے نکل کر وہ جلد ہی سمبھلی۔۔۔
دوسری جانب بھی شاک کی سی کیفیت تھی۔۔۔۔
تم۔۔۔ ساکت سے زاویار کے ہونٹوں نے جنبش کی۔۔۔
پری ابتدائی فیز سے نکل کر اب پاوں جھلاتی خود کو لاپرواہ ظاہر کر رہی تھی۔۔۔
کیا تم پری کو جانتے ہو۔۔۔ سلمی زاویار کا پھیکا پڑتا چہرا دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔
تم ایک فحاشہ ہو۔۔۔ یہ اصلیت ہے تمہاری اور تم پچھلے چھ ماہ سے میرے بھائیوں سے عزیر دوست کو محبت کے نام پر بے وقوف بنا رہی ہو۔۔۔
اسکی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔ وہ غصے سے صوفے سے اٹھتا دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔
سلمی نے حیرت سے پہلے زاویار کو دیکھا اور پھر پری کو جو خود کو لاپرواہ ظاہر کرتی سامنے کانچ کی میز پر پڑے باول سے ڈرائے فروٹ نکال کر کھانے لگی تھی۔۔۔
وہ تمہاری محبت میں پاگل ہو چکا ہے تمہارے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور تم یوں یہاں۔۔۔وہ ایک شریف لڑکا ہے تمہیں عزت دے کر ماں سے اپنانا چاہتا ہے۔۔۔اور تم۔۔۔۔ تم اس قدر گھٹیا لڑکی نکلو گی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اسے تمہاری اصلیت پتہ چلے گی تع کتنا بڑا صدمہ پہنچے گا اسے۔۔۔ اوہ گاڈ۔۔۔۔۔ وہ لال بھبھوکا چہرے کیساتھ ضبط سے مٹھیاں بھینچتا چیخ اٹھا لیکن آخر میں بے بسی سے چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ خاصا پریشان تھا ۔
بس کر دو مسٹر زاویار بس۔۔۔ وہ ایک دم ہاتھ اٹھاتی چٹخ کر گویا ہوئی۔۔۔
میں گھٹیا میں فحاشہ۔۔۔ وہ شعلے برساتی نگاہوں سے اسے تکتی اسکے مدمقابل آئی۔۔۔
لیکن تم خود کیا ہو۔۔۔ نیک پارسا اور معاشرے کے لیے قابل عزت شخص ۔۔ مگر تم یہاں کیا کرنے آئے ہو۔۔۔ کونسی کشیش تمہیں اس جگہ کھینچ کر لائی۔۔۔ تم جیسے نام نہاد عزت کا پرچار کرنے والے لوگ سکون حاصل کرنے کے لئے اس جگہ کا رخ کیوں کرتے ہیں۔۔ آخر انہیں حلال میں سکون میسر کیوں نہیں آتا کونسی کشیش انہیں حرام تک کھینچ لاتی ہے۔۔۔۔ایسی کونسی کشیش ہے آخر ہم جیسی گھٹیا اور فحاشہ لڑکیوں میں جو آخر تم جیسے نام نہاد عزت داروں کو ہمارے در پر کھینچ لاتی ہے۔۔۔ تمہیں پتہ ہے کیا اگر تم جیسے نام نہاد عزت کا پرچار کرنے والے لوگ اس معاشرے سے ختم ہو جائیں نا تو یقین مانو ہم جیسا گند بھی معاشرے سے ختم ہو جائیں۔۔۔ کیونکہ تم جیسے نفس پرستوں کے نفس کی آگ کو مٹانے کے لئے ہی مجھ جیسی پریاں جنم لیتی ہیں۔۔۔
اور رہ گئ بات تمہارے کزن کی تو۔۔ محبت اسکا مسلہ ہے۔۔۔ محبت اسنے مجھ سے کی ہے۔۔ میں نے کبھی اسکی حوالہ افزائی نہیں کی۔۔۔
اسکی ضدی اور خودسر طبعت جاگ اٹھی تھی اب بھلا وہ کسی کو کیسے اپنے آگے ٹکنے دے سسکتی تھی۔۔ ایسے ہی تو ہر کوئی پری کے غصے سے پناہ نہیں مانگتا تھا۔۔۔ اسکی زبان کے سامنے خندق تھی اور وہ اپنے لفظوں سے دوسروں کو گھائل کرنا خوب خوب جانتی تھی۔۔۔ ایسے ہی تو نہیں سلمی بھی اسکی گرویدہ نا تھی۔۔۔
اب بھی سلمی سکون سے گال تلے رکھے یہ لائیو ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ ایسے ہی ہر مسلہ سمبھال لیتی تھی
وہ خود پاگل ہوا پھرتا ہے میرے آگے پیچھے ۔۔۔ میں نے تو ہمیشہ اسکی حوصلہ شکنی ہی کی۔۔۔
اور رہ گئ بات میرے حصول کی تو مسٹر زاویار میرا حصول تو مشکل ہے ہی نہیں ۔۔۔ پیسہ پھینکو اور حاصل کرلو مجھے سمپل۔۔۔ وہ اس پر تمسخرانہ ہستی آنکھ اچکا کر گویا ہوئی۔۔
زاویار غصے سے مٹھیاں بھینچے ضبط سے اسکی ساری بکواس سن رہا تھا۔۔۔
کیا قیمت ہے تمہاری۔۔۔ وہ بولا نہیں پھنکارا تھا۔۔
پری ایک ادا سے اپنے بال جھٹکتی ہاتھ سینے پر باندھ کر نظروں کا زاویہ موڑ گئ۔۔
دد۔۔دس لاکھ ایک رات کے۔۔۔ پری کو بولنے پر آمادہ نا پا کر سلمی گھگھیا کر گویا ہوئی۔۔۔
زاویار نے وہیں کھڑے کھڑے جیب سے چیک بک نکال کر بیس لاکھ کا چیک سائن کیا اور اسکے چہرے ہر پھینکا جو اسکے چہرے سے ٹکرا کر نیچے کھسکتا چلا گیا۔۔۔
چلو میرے ساتھ وہ جارحانہ انداز میں اسکی طرف بڑھا اور اسکی بازو جھکڑ کر خارجی دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
سلمی نے بھاگ کر زمین سے چیک اٹھایا اور مسکراتی نگاہوں سے انہیں باہر جاتے دیکھا۔۔۔
بس یہ ہی اوقات تھی وائٹ پیلس کی لڑکیوں کی کہ کوئی بھی انکے چہرے پر پیسے مارتا اور انہیں کھینچ کر ساتھ لے جاتا۔۔۔ اور انہیں بھی محض پیسوں سے غرض تھی۔۔۔۔ وہ کس کیساتھ جا رہی تھیں اس ا
سے انہیں کوئی غرض نا تھی۔۔
********
وہ لوگ چاروں طرف سے وائٹ پیلس کو گھیرے میں لے چکے تھے۔۔۔۔
بہروز چوکنے انداز میں اطراف کا جائزہ لیتے وائرلس پر اپنی ٹیم کو بریفینگ دے رہا تھا۔۔۔
سب لوگ تیار ہیں۔۔۔ٹیم ایے ٹیم بی۔۔۔ آر یو ریڈی
اسنے آخری مرتبہ کنفرم کیا۔۔
یس سر۔۔۔ وائرلس سے آواز ابھری۔۔۔
فرنٹ گیت اور پچھلے دروازے سے بیک وقت اٹیک کرنا ہے تاکے وہ لوگ کسی صورت وہاں سے نکل نا سکیں۔۔۔
تھری۔۔۔۔
ٹو ۔۔۔۔۔۔
ون۔۔۔۔۔
اٹیک۔۔۔۔۔ بہروز کے کہتے ہی انکی پوری ٹیم نے ایک ساتھ وائٹ پیلس پر دھاوا بولا تھا ۔
وہ لوگ اکھٹے ہی دیواروں کو پھیلانگتے انہیں بنا سمبھلنے کا موقع دیئے اندر جا چکے تھے
******

No comments