Nam Aankhain novel Last episode 3rd part by Umme Hania online reading
Nam Aankhain novel Last episode 3rd part by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
آخری قسط تیسرا حصہ
وہاب دل کا غم دل میں چھپائے سرخ آنکھوں سمیت سنجیدہ صورت لئے یہاں سے وہاں سب سے ملتا روحا کے آخری سفر کے انتظامات کرتا پھر رہا تھا۔۔۔ اسلام آباد سے وہاب اور رشنا کے گھروالے بھی بروقت وہاں پہنچ چکے تھے۔۔۔ المیر اس وقت بھائی کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔۔۔ وہ اپنے بڑے بھائی کا غم اپنے دل پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
وقت رخصت المیر نے وہاب کو روحا کو کندھا دینے کے لئے بلایا تو سرخ پڑتی نم آنکھوں کے ساتھ اسکے ہونٹ بھی کپکپا کر رہ گے اور یہ چیز اسکے واضح ضبط کی نشاندہی تھی کہ وہ شاید کسی بھی پل پھوٹ پھوٹ کر رو دیتا۔۔۔
المیر اسے لئے عورتوں کی طرف آیا تو کئ روتی سسکتی بین کرتی عورتوں کے بیچ و بیچ وہ پھولوں سی نازک لڑکی کسی شہزادی کی مانند پرسکون ابدی نیند سو رہی تھی۔۔۔ وہاب نے اسے کئ مرتبہ سفید لباس میں ملبوس دیکھا تھا مگر آج اس آخری سفید لباس میں اسے دیکھنا اسکے لیے محال تھا۔۔۔ وہ سختی سے لب آپس میں ہیوست کئے آگے بڑھا۔۔۔ وہاب کے ساتھ چند مزید مردوں کو اس طرف آتا دیکھ کسی نے روحا کے چہرے کو ڈھانپ دیا تھا اور وہاب کو لگا شاید اسکا دل پھٹ گیا ہو۔۔ اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔ اسکی آخری چارپائی تک پہنچنے سے پہلے وہ بے طرح لڑکھڑایا۔۔۔۔۔۔
رشنا روحا کے پاس بیٹھی کبھی اسکے ہاتھ کا بوسہ لیتی کبھی بہتے آنسووں سمیت اسکے ماتھے سے بال سنوارتی کوئی دیوانی ہی لگ رہی تھی۔۔ روحا کا چہرا ڈھانپنے پر وہ مچل مچل گئ۔۔۔ ایک سوتن کی ایسی دیوانگی وہاں سب کو انگشت بدنداں کر رہی تھی۔۔۔
بیٹا میری بیٹی بہت معصوم ہے وہ زمانہ شناس نہیں۔۔ میرے بعد اسکا اس دنیا میں کوئی نہیں۔۔۔ ایک مرتے ہوئے بے بس باپ کی بات کا مان رکھ لو ۔۔۔ میری بیٹی کے سر پر اپنی عزت کی چادر رکھ دو۔۔۔ اس سے نکاح کر لو۔۔۔
جلتی آنکھوں سمیت وہاب اسکی چارپائی کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔
خان بابا۔۔۔ چار دن بعد میری شادی ہے میں کیسے۔۔۔ بات کرتے اسکی زبان لڑکھڑا گئ تھی۔۔۔
بچے وہ خود کئ سالوں سے اپنی بیماری سے لڑ رہی ہے۔۔۔ اندر ہی اندر گھل کر مر رہی ہے۔۔۔ وہ زیادہ دیر نہیں رہے گئ۔۔۔ بس اسکی موت آسان کردو اور میری بھی۔۔۔ تمہارے ساتھ رہے گی تو اپنا آخری وقت سکون میں گزارے گی اور میں بھی سکون سے مر سکوں گا۔۔۔ ہچکیوں سے روتے اس نحیف شخص کی باتیں وہاب کو جھنجھوڑ رہی تھیں۔۔۔
کلمہ شہادت کی آواز کیساتھ ہی وہاب نے اپنی پوری قوت صرف کرتے روحا کی چارپائی کو اٹھاتے اسے کندھا دیا۔۔۔
مجھے نہیں رہنا آپکے ساتھ۔۔۔ آپ گندے ہیں۔۔۔ مجھے میرے بابا کے پاس جانا ہیں ۔۔۔ سوں سوں کرتی وہ کوئی معصوم شہزادی ہی لگ رہی تھی۔۔۔
لیکن مجھے تو پتہ لگا تھا کہ اچھی بیویاں اپنے شوہر کو تنہا نہیں چھوڑتیں۔۔۔ اور آپکے بابا تو کہہ رہے تھے کہ میری پری بہت اچھی بیوی ثابت ہوگئ۔۔۔
اور یہیں پر وہاب درانی کے ضبط کی طنابیں چھوٹیں تھیں۔۔۔ ایک سیدھ میں چلتے کئ آنسوں اسکی پلکوں کی بار پھیلانگتے بہہ نکلے تھے۔۔۔
میں کیسی لگ رہی ہوں وہاب۔۔۔
میری منہ دکھائی کا تحفہ دیں کنجوس شوہر صاحب۔۔۔
یہ فراک کیسی ہے وہاب۔۔۔ وہ فراک کے کونے پکڑے گول گول گھوم رہی تھی۔۔۔
وہ اسے لہد میں اتار رہا تھا۔۔۔ بے ساختہ اسکا دل چاہا ایک مرتبہ اسکے چہرے سے کپڑا ہٹا کر اسکا آخری دیدار کر لے لیکن اپنی اس خواہش کو دل میں دفن کرتا وہ پیچھے ہٹا۔۔۔
چلیں وہاب مجھے آئسکریم کھانے جانی ہے۔۔۔
وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اس پر مٹی ڈال رہا تھا۔۔۔
میں نے اپنا کمرا ری آرگنائز کیا ہے کیسا ہے۔۔۔
رفتہ رفتہ وہ سب وہاں سے چلے گئے تھے اور وہ تنہا وہیں ڈھتہ اسکی قبر کی تازہ مٹی کو ہاتھوں میں بھرے پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔اتنا تھوڑے وقت کا ساتھ تھا تمہارا روحا۔۔۔ کیوں اتنے تھوڑے سے وقت میں تم ہر کسی کو اپنا اسیر بنا گئ۔۔۔
کتنی ہی دیر وہاں بیٹھ کر دل کا درد بہا کر وہ آنسو رگڑ کر صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ابھی پیچھے اس پر بہت سی ذمہ داریاں تھیں۔۔۔ اسکی ننھی شہزادی جسنے ابھی ماں کا چہرا تک نہیں دیکھا تھا اور جسے اسنے خود ابھی تک نہیں دیکھا تھا۔۔۔ جسکا وجود اس دنیا میں لانے کی خاطر اسکی روحا اسے لڑ بھڑ گئ تھی۔۔ اسکی بیوی جو خود روحا کی موت پر نیم مردہ ہو گئ تھی۔۔۔
وہ ٹوٹ نہیں سکتا تھا کیونکہ اسے ابھی باقیوں کو سمبھالنا تھا۔۔۔
*****
ساری رات گزر گئ تھی بیا کو انتظار کرتے کرتے لیکن شہروز ابھی تک کمرے میں نہیں آیا تھا۔۔۔ شازمہ بیگم کے اسے میڈیسن کھلا کر آرام کرنے کا کہہ کر جانے کے بعد سے وہ ویسے ہی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے شہروز کی منتظر تھی۔۔۔
وہ بس کسی بھی طرح اب اسے منا لینا چاہتی تھی۔۔۔
خرابی طبیعت کے باعث اسے بار بار نیند کے جھولے آ رہے تھے لیکن وہ ضبط سے آنکھیں کھولے خود کو جگائے ہوئے تھی۔۔۔
ساری رات وہ سوئی جاگی کیفیت میں رہی صبح فجر کی اذانوں کیساتھ ہی اس پر غنودگی کا حملہ اسقدر زور آور ہوا کہ وہ ویسے ہی نیم دراز سی نیند کی وادیوں میں کھو گئ۔۔۔
شہروز کو رات ایمرجنسی کیس کی وجہ سے رات بھر ہسپتال میں ہی رکنا پڑا تھا ۔۔ ایک کامیاب سرجری کے بعد وہ صبح فجر کی اذانوں کیساتھ ہی تھکا ہارا سا گھر واپس لوٹا۔۔۔
تھکن اسکے چہرے سے ہوادیدہ تھی۔۔۔ کمرے کا دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوتے ہی اسے اپنے کمرے میں ہونے والے اضافے کا شدت سے احساس ہوا۔۔۔ وہ زیرو پاور کی مدہم پیلی روشنی میں سرخ خوبصورت سے عروسی جوڑے میں ملبوس دلہن کے قاتلانہ روپ میں بستر پر نیم دراز بیڈ کراون سے ٹیک لگائے سو رہی تھی۔۔۔ وہ غالباً ساری رات ہی اسکا انتظار کرتی بے سکون رہی تھی ابھی تک اسکی ساری آرائش و زیبائش کا ہنوز ویسے ہی ہونا اس بات کا گواہ تھا۔۔۔
شہروز کو خود پر جی بھر کر افسوس ہوا۔۔۔ اسے کم از کم گھر مطلع کر دینا چاہیے تھا کہ وہ رات دیر سے گھر آئے گا۔۔۔
اسکی نیند نا خراب ہونے کے ڈر سے وہ بنا چاپ کئے واش روم میں گھسا اور فریش ہو کر آرام دہ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس باہر نکلا ۔۔۔ وہ کمرے کی ہلکی روشنی میں ہی ڈریسنگ کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا جب ہلکی سی کھٹ پٹ کی آواز پر نیم غنودہ سی بیا کی آنکھ کھلی۔۔۔
آنکھ کھلتے ہی کمرے میں شہروز کی موجودگی محسوس کر کے وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔
ابھی تک اسی لباس میں ملبوس کیا کر رہی ہو۔۔۔ چینج کیوں نہیں کیا تم نے۔۔۔ اسے جاگتا دیکھ وہ برش وہیں ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا ماتھے پر بل لئے اسکی جانب بڑھا۔۔۔
اسکے تیز لہجے اور انداز پر بیا لب چبا کر رہ گئ۔۔۔ کب دیکھا تھا اسنے شہروز کا ایسا روپ۔۔۔ وہ تو بہت دوستانہ تھا ہمیشہ سے ہی۔۔۔
وہ اسے کہہ نا سکی کہ وہ اسکے انتظار میں ابھی تک یونہی بیٹھی تھی۔۔
جاو جا کر چینج کرو اور ایزی ہو۔۔۔ شہروز کے یوں بیزارہت سے کہنے ہر وہ اندر ہی اندر سسک اٹھی۔۔
خاموشی سی اپنا لہنگا سمبھالتی پاوں نیچے اتارتی وہ کھڑی ہوئی۔۔۔ کھڑے ہونے سے بازوں میں موجود چوریوں کے بجنے سے ایک جلترنگ سا گھونج اٹھا۔۔۔
آ۔۔۔آپ مجھ سے ناراض ہیں شہروز۔۔۔ اسکے مدمقابل کھڑی ہوتی وہ دونوں ہاتھوں سے لہنگا سمبھالے آس و نراس سے اسے دیکھتی کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔
شہروز کو اس پر جی بھر کر ترس آیا۔۔۔ مگر وہ بات اتنی جلدی ختم کرنے کے حق میں نہیں تھا۔۔ ابھی بہت سے حساب نکلتے تھے اس ستم گر کی طرف۔۔۔
میں تم سے کیوں ناراض ہونگا بیا۔۔۔ بلکہ مجھے تو تم پر ترس آ رہا ہے۔۔۔ جس لڑکے سے محبت کی خاطر تم نے میری محبت ٹھکرائی وہ تمہیں عین وقت پر دغا دے گیا۔۔۔۔۔ اور قسمت دیکھو تم پھر سے تمہارے نا چاہنے کے باوجود مجھ سے جوڑ دی گئ۔۔۔
شہروز کی بات پر بیا نے حیرت و صدمے سے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
بکواس ہے یہ سب۔۔۔ میری وہ ارینج میرج تھی۔۔۔ اسکے آنسو کسی بھی پل چھلک پڑنے کو بے تاب تھے۔۔۔اس وقت آپنی صفائی دینا اسے دنیا کا سب سے مشکل کام لگا۔۔۔
کیوں بکواس ہے یہ سب۔۔۔ میں سنی سنائی بات نہیں کر رہا۔۔۔ یہ اعتراف تم نے میرے سامنے خود کیا تھا۔۔۔ زرا یاد کرو۔۔ آیا یاد کے نہیں۔۔۔۔ اب ضرورت پڑنے پر تم مجھے بے وقوف بنا رہی ہو۔۔۔ وہ دو قدم آگے بڑھتا بیا کی بازو اپنی آہنی گرفت میں دبوچ کر غرایا۔۔۔
دو آنسو بیا کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔۔۔
جھوٹ تھا وہ سب۔۔ وہ بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔
ڈرامے۔۔ شہروز نخوت سے اسکا بازو چھوڑ کر سر جھٹکتا پیچھے ہوا۔۔۔
آپ کا یہ روپ نہیں دیکھ سکتی میں شہروز۔۔۔ مجھ سے یوں اجنبی بن کر مت پیش آئیں۔۔۔ مجھے میرا وہی دوست شہروز واپس چاہیے جو بنا کہے میری ہر بات سمجھ جاتا تھا۔ آنسو لڑیوں کی مانند اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔ وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی مانند اسکے سامنے کاسہ محبت پھیلائے کھڑی تھی کہ وہ اپنی محبت و الفت کے چند سکے اس میں ڈال دے۔۔۔۔
وہ دوست تمہاری بے وفائی کی نظر ہو گیا۔۔۔ وہ بیا کی آنکھوں میں دیکھتے نہایت سخت الفاظ کہہ گیا۔۔۔ جو سیدھا بیا کے دل پر نشتر کی مانند چبھے تھے۔۔۔
How dare you...
نہیں ہوں میں بےوفا۔۔۔ آئی سمجھ نہیں ہوں میں بے وفا۔۔۔ وہ لمحوں میں آپے سے باہر ہوتی اسکی جانب بڑھی اور اسے اسکے گریبان سے جھکڑتی سختی سے گویا ہوئی۔۔۔
میں بے بس تھی۔۔۔ بہت بے بس۔۔۔ مجھے شازمہ خالہ کی باتوں کا مان رکھنا تھا۔۔۔ آخر میں وہ بے بسی سے کہتی اسکے سینے پر سر رکھے سسک اٹھی۔۔۔
آئی لو یو شہروز۔۔۔ آپ میری زندگی میں آنے والے واحد مرد ہیں۔۔ نا آپ سے پہلے کوئی تھا اور نا ہو گا۔۔۔ وہ اسکے سینے سے لگی سسکتی ہوئی اقرار کر رہی تھی۔۔ شہروز نے کرب سے آنکھیں بند کیں۔۔۔ آگر وہ بروقت کوئی حکمت عملی نا اپناتا تو وہ لڑکی خاموشی سے اپنے دل کا سودا کرتی اپنی زندگی سمجھوتے کی نظر کر دیتی۔۔۔
وہ سب میں نے شازمہ خالہ کے کہنے پر کہا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ گھر میں کوئی بونچال آئے۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔ بیا کے کہنے پر وہ پرسکون سا گویا ہوا تو بیا جھٹکے سے پیچھے ہوتی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
اتنی حیرانگی سے مت دیکھو مجھے بیا۔۔۔ محبت کی ہے تم سے کوئی مذاق نہیں جو تمہاری بےوقوفیوں کو آسانی سے مان جاتا۔۔۔۔
میں سب جانتا تھا۔۔۔ اور دکھ بھی تو اسی چیز کا تھا بیا کہ تم نے مجھ سے محبت تو کی لیکن افسوس کے اعتبار نا کر سکی۔۔۔
ایک دفعہ تو مجھے اعتماد میں لیتی۔۔ اپنا مسلہ مجھ شیئر کرتی۔۔۔ اقرار محبت نا کرتی لیکن میرے اظہار محبت کو قبول تو کرتی۔۔۔ مجھے وضاحت دینے کا موقع تو دیتی۔۔۔ کیا تمہیں لگا تھا کہ میں محبت کا دعوی کرکے تمہیں اپنانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ۔۔۔ تم اس سب میں کوئی کرداد ادا نا کرتی لیکن سب مجھ پر چھوڑ کر تو دیکھتی کہ میں کیسے سبھی حالات اپنے موافق کرتا۔۔۔ لیکن افسوس صد افسوس تم نے تو براہ راست سزا سنائی تھی۔۔۔ جدائی کی سزا۔۔۔
تمہارے ان الفاظ نے میرے سینے پر خنجر کا کام کیا تھا بیا۔۔۔ اسقدر بے اعتباری۔۔۔ پھر اس سب کے بعد میں بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ میرا دل اجاڑ کر تم خود کیسے سہتی ہو یہ سب۔۔۔ اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے بے خبر تھا تو یہ بھول ہے تمہاری میں تمہارے لمحے لمحے سے واقف تھا۔۔۔ تمہارے پر اذیت شب و روز کا ایک ایک لمحہ میرے سامنے تھا۔۔۔ لیکن سکون میں تو میں بھی نہیں تھا۔۔۔ مجھے بھی تو تم نے جلتی بھٹی میں جھونکا تھا۔۔۔
یہ سب کچھ ایسے ہی ہوتا جیسے میں نے اب کیا لیکن اگر تم مجھے موقع دیتی تو میں یہ سب تمہیں اعتماد میں لے کر کرتا۔۔۔ یوں ہم دونوں اذیت میں نا ہوتے۔۔۔
ثمن میری کزن ہونے کیساتھ ساتھ میری دوست بھی ہے اور وہ اتنی پڑھی لکھی ضرور ہے کہ میرے اسے حقیقت سے روشناس کروانے پر کہ میں ایک بےوقوف لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور اسکی جگہ اپنی زندگی میں کسی کو نہیں دے سکتا۔۔۔ وہ بڑے دوستانہ انداز میں بہت خوبصورت طریقے سے اپنی راہیں جدا کر گئ۔۔۔ سدرہ پھوپھو کی بیٹی کو انکار میں کرتا تو وہ انا کا مسلہ بناتیں اسی لئے ہماری پلینیگ کے مطابق انکار ثمن نے کیا اور باہر اپنا فیشن ڈیزائنگ کا کورس کرنے چلی گئ۔۔۔ ابھی سب تھوڑے خفا ہیں لیکن جب کچھ عرصے بعد وہ واپس آئے گی تو سب لوگ سب بھول جائیں گے۔۔۔
اب رہ گیا سب سے بڑا تمہاری شادی کا مسلہ تو عین شادی کے دن بارات کا نا آنا بھی پری پلین تھا۔۔۔ تمہارے گزشتہ منگیتر سے ملنا اسے اپنے حق میں قائل کرنا ایک الگ مسلہ تھا ۔۔۔ وہ بھی کسی اور کو پسند کرتا تھا لیکن میری طرح ماں باپ کے آگے مجبور تھا لیکن میرے ہمت دلانے پر وہ بھی عین موقع ہر ہمت دکھا گیا۔۔۔
میں کسی بھی صورت اپنی محبت سے دستبردار ہونے کے حق میں نہیں تھا اور اگر آج تم میرے سامنے میری بن کر موجود ہو تو یہ میرے اللہ کے بعد میری کوشیشوں کا ثمر ہے۔۔۔
وہ بیا کے پل پل بدلتے تاثرات کو دیکھتا رفتہ رفتہ سبھی انکشافات کر رہا تھا اور وہ ہونق بنی اسے سن رہی تھی۔۔۔ اسکے آنسو تک ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔
پھر آپ نے شازمہ خالہ کے سامنے اس شادی سے انکار کیوں کیا تھا۔۔۔۔ شہروز کے خاموش ہوتے ہی وہ ناسمجھی سے گویا ہوئی۔۔۔
تمہارے اور مام کی طرف سے اتنی پلانینگ کے بعد اب تھوڑے نخرے دیکھانا میرا بھی کام تھا نا کہ کہیں تم اور مام یہ نا سمجھتیں کہ میں تم سے شادی کرنے کو بہت بےتاب ہوں ایکچولی اندر سے تو تھا مگر ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا نا اس لئے۔۔۔ لمحوں میں وہ اپنی پرانی جوں میں واپس آتا جا کر صوفے پر دھپ سے بیٹھا۔۔۔
بیا اسے نم آنکھوں سے اسکی پرانی جوں میں آتا دیکھتی رہی۔۔۔
کتنا مس کیا تھا اسنے اس لاابالی اور ہس مکھ سے شہروز کو۔۔۔
آنسو ایک مرتبہ پھر سے اسکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔۔۔
ادھر آو۔۔۔ صوفے پر بیٹھے شہروز نے اسے اپنے پاس بلاتے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے پاس جا کر صوفے پر بیٹھی ۔۔۔
بس بہت رو چکی یار۔۔۔ دوبارہ ان آنکھوں کو کبھی نم مت ہونے دینا۔۔۔
اسنے محبت سے اسکی آنکھوں کے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں پر چنے اور عقیدت سے اسکی دونوں آنکھوں کا بوسہ لیا تو وہ اسی کے کندھے پر سر ٹکاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
آپکو پتہ ہے شہروز میں کتنی راتوں سے سوئی نہیں۔۔۔ میں اب آپکے کندھے پر سر رکھ کر ایک پرسکون نیند سونا چاہتی ہوں ۔۔۔ وہ روتے ہوئے گویا ہوئی تو شہروز اداسی سے مسکرا دیا۔۔۔
میں اس معاملے میں بہت بے بس تھی لیکن میں نے اللہ سے دعا کی تھی۔۔۔ میں نے آپکو اپنی ہر دعا میں مانگا ہے شہروز۔۔۔ وہ طمانیت سے آنکھیں مونڈے اب اس سے اپنی سبھی باتیں شیئر کر رہی تھی اور وہ مسکرا کر اسے سنتا آہستگی سے باری باری اسکی جیولری اتار رہا تھا۔۔ رات بھر کی بے سکونی کے بعد اب جیولری کے بوجھ سے آزاد ہو کر وہ بہت جلد نیند کی وادیوں میں کھو گئ۔۔۔ شہروز نے مسکرا کر اسکے سوئے ہوئے معصوم چہرے کو دیکھا اور بے ساختہ اپنے رب کا شکر ادا کیا۔۔۔
*****
بہروز ابھی ابھی اسلام آباد سے واپس لاہور آیا تھا۔۔۔ آج وہ پورے چار دن بعد گھر جا رہا تھا۔۔۔ مرحہ صدیقی کو اپنے گھر چھوڑ کر اسے اماں بی اپنے گھر کی کیئر ٹیکر اود بچوں سے تعارف کروا کر اس روز سے وہ گھر سے نکلا تھا لیکن جانے سے پہلے وہ مرحہ کو ایڈوانس تنخواہ کے نام پر اچھی خاصی رقم دے کر گیا تھا تا کے وہ اپنی ضرورت کے مطابق کچھ شاپنگ کرنا چاہے تو کر لے۔۔۔
تب سے وائٹ پیلس کے کیس کو حل کرتے وہ بیا کی شادی پر بھی بالکل وقت ہر ہی پہنچا تھا۔۔ اب چار دن ہوگئے تھے اسے بچوں سے ملے تبھی وہ گاڑی پارکنگ میں کھڑی کئے بعجلت اندر بڑھ رہا تھا کہ لاوئنج میں ہی ایک منظر کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ لاوئنج میں نیچے بچھے کارہٹ پر مرحہ صدیقی مکمل مشرقی لباس قمیض شلوار میں ملبوس حجاب کے ہالے میں خود کو چھپائے بیٹھی سامنے موجود کانچ کی میز پر جھکی ہوئی تھی۔۔ ساتھ ہی اسکے دائیں بائیں سبحان اور میرب بھی ویسے ہی جھکے شاید کوئی ڈرائینگ بنا رہے تھے۔۔۔ وہ مسکرا کر ان سے باتیں کرتی ڈرائینگ کے متعلق کچھ بتاتی ساتھ ساتھ سامنے پڑے باول سے انہیں کھانا کھلا رہی تھی۔۔۔ ان دونوں کو کھانا کھلانا جان جوکھم کا کام تھا جسے وہ بہت خوبصورتی سے ہینڈل کر رہی تھی۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔۔ بہروز نے باآواز بلند سلام کیا تو اسکی آواز سنتے ہی دونوں بچے سب کچھ وہیں چھوڑ چھاڑ پاپا ۔۔ پاپا پکارتے اسکی جانب بڑھے۔۔۔ بہروز نے بھی گھٹنوں کے بل بیٹھتے انہیں خود میں سمویا اور چٹا چٹ کئ بوسے انکے لے ڈالے۔۔۔ مرحہ نے ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر خاموشی سے سارا سامان سمیٹنے لگی۔۔۔
حجاب کے ہالے میں دودھیا رنگت پر نیلی آنکھیں عجیب سی مقناطیسیت رکھتی تھیں۔۔۔ بہروز کو سمجھ نا آیا کے اسنے پچھلی ملاقات میں براوں لینز لگائے تھے یا آج۔۔۔
وہ بچوں کو لئے اپنے کمرے میں چلا آیا۔۔۔ کافی دیر تک بچوں کے ساتھ کھیلنے کے بعد وہ اماں بی سے بچوں کے لئے دودھ لینے کی غرض سے کچن میں آیا مگر سامنے ہی کاونٹر ٹاپ پر مرحہ کو کچھ کرتے دیکھ کر دروازے میں ہی ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ مرحہ بھی اسے دیکھتی نظریں جھکا کر پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گئ ۔۔۔ وائٹ پیلس سے نکلتے ہی اسکی بدمزاجی اکھڑ پن بدتمیزی مغرور پن اور اوور کانفیڈینس سب جاتا رہا تھا۔۔۔ وہ پھر سے خاموش طبع اپنے کام سے کام رکھنے والی مرحہ صدیقی بن گئ تھی۔۔۔ وہ سب پری کی خصوصیات تھیں اور وہ اس کردار کو دوبارہ کبھی مر کر بھی اپنانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
آپکو کچھ چاہیے۔۔۔ مدہم سی جلترنگ بکھیرتی آواز ابھری۔۔۔
میں دراصل اماں بی سے بچوں کے لئے دودھ لینے آیا تھا۔۔۔ وہ اپنا ماتھا کھجاتا گویا ہوا۔۔۔
جی میں انہی کے لئے چاکلیٹ شیک بنا رہی تھی۔۔۔ صرف دودھ وہ پسند نہیں کرتے چاکلیٹ شیک خوشی سے پی لیتے ہیں۔۔۔ دودھ اور برف کے کیوبز جوسر میں ڈالتی وہ مصروف سی گویا ہوئی۔۔
اچھا ایک کام اور تھا آپ سے۔۔۔ بہروز کے کہنے پر اسکے کام کرتے ہاتھ زرا کی زرا رکے۔۔۔ دراصل کل میری فیملی آ رہی ہے میرے چھوٹے بھائی اور بھابھی کی دعوت ہے تو آپ زرا اماں بی کیساتھ مل کر مینیو دیکھ لینا۔۔۔ وہ کچھ جھجھکتے ہوئے گویا ہوا کہ یہ مرحہ صدیقی کی جاب کا حصہ نا تھا۔۔۔
جی میں دیکھ لوں گی۔۔۔ مرحہ نے شیک گلاسوں میں انڈیل کر ٹرے بہروز کے آگے کی تو وہ ٹرے تھامے کچن سے نکل گیا۔۔۔
مرحہ نے رات ہی اماں بی کیساتھ بیٹھ کر مینیو سلیکٹ کر لیا تھا صبح ہوتے ہی وہ انکے ساتھ کام میں جٹ گئ۔۔۔ لنچ تک سبھی مہمان وہاں پہنچ رہے تھے۔۔۔ وقت سے کچھ دیر پہلے ہی وہ دونوں ہر کام سے فارغ ہو گئ تھیں۔۔ مرحہ نے شاور لے کر گولڈن اور بلیک کلر کا خوبصورت سا شلوار سوٹ زیب تن کیا اور دوبارہ سے حجاب سیٹ کر کے کچن میں داخل ہوئی۔۔۔ مہمان سبھی پہنچ چکے تھے۔۔۔ لاوئنج سے انکے ہسنے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔۔ مرحہ انکے لئے ریفریشمنٹ کا سامان ٹرالی میں سیٹ کر کے کچن سے نکلی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ لاوئنج میں داخل ہوتے ہی اسنے باآواز بلند سلام کیا۔۔۔
بیا جو شہروز کیساتھ مسکرا کر باتیں کر رہی تھی آواز پر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ مگر مرحہ پر نظر پڑتے ہی تڑپ کر کھڑی ہوئی۔۔۔
مرحہہہہہ۔۔۔ میری گڑیا۔۔۔ میری جان۔۔۔ مرحہ کو دیکھتے اسکی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی مانند بہنے لگے تھے۔۔۔ وہ یوں مرحہ کی جانب لپکی جیسے میلے میں بچھڑے بچے کو کوئی اپنا مل گیا ہو اور مرحہ اسکی تو حالت ایسی تھی جیسے ابھی زمین بوس ہو جائے گی۔۔۔ بہتی آنکھوں سے وہ بھاگ کر بیا سے لپٹی۔۔۔ وہ آج کل اپنے آبائی گھر جا کر بیا کے بارے میں جاننے کی کوشیش کرنا چاہتی تھی۔۔۔ پہلے تو وائٹ پیلس سے نجات ہی مقصد حیات تھا۔ اب وہاں سے بچ نکلی تو بہن کی یاد شدت سے ستانے لگی تھی اور اللہ اس پر اسقدر مہربان تھا کہ اسنے مرحہ دل میں چلتے گمان کو حقیقت کا روپ دے دیا تھا۔۔۔
شاید وہ اپنی آزمائش میں سرخروع ٹھہری تھی۔۔۔
بیا دیوانوں کی طرح اسکے چہرے کے بوسے لیتی مسلسل رو رہی تھی۔۔۔ بیا کے بعد شازمہ خالہ نے اسے خود سے لپٹایا تو گویا مرحہ کو لگا جیسے ایک زندگی تپتے ریگستان میں برہنہ پاوں چل کر آبلہ پائی ہونے کے بعد اب اسے ایک پرسکون آغوش میسر آئی ہوں۔۔۔ شازمہ خالہ کے گلے لگی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ناجانے اپنی کس کس محرومی پر۔۔۔ شزا اور شہروز بھی اسے بہت خوش اخلاقی سے ملے۔۔۔
میں نے تمہیں کتنا مس کیا مرحہ ۔۔۔ تم کہاں تھی اتنا عرصہ۔۔۔ میں نے تمہیں ڈھونڈنے کی بہت کوشیش کی اور تم یہاں بہروز بھیا کے پاس کیسے۔۔۔
سب سے ملنے کے بعد بیا اسے پھر سے گلے لگاتی گلوگیر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
اس سوال سے مرحہ کی سانس سینے میں ہی اٹکنے لگی ۔۔۔ وہ بھلا اسے اپنے پراذیت ماضی کا کیسے بتاتی۔۔۔
بہروز جو خاموشی سے ایک طرف کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا مطلب کہ اسکا شک درست ثابت ہوا یہ لڑکی اسکی خالہ زاد مرحہ صدیقی ہی تھی۔۔۔ اسے اس مشکل میں پھنسے دیکھ بروقت اسکی مدد کو آگے بڑھا ۔۔۔
یہ پچھلے چند ماہ سے یہاں بچوں کے لئے کیئر ٹیکر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔۔۔ماتھا مسلتے وہ بڑی روانی سے چند دنوں کو چمد مہینوں میں بدل گیا۔۔۔
اس سے پہلے یہ کچھ عرصہ شیلٹر ہوم میں رہی ہیں اور پھر اسکے بعد گرلز ہاسٹل میں۔۔۔ بہروز روانی سے کہہ رہا تھا جسکی وجہ سے وہ سب کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا جبکہ مرحہ حیرت و انبساط سے اسے فر فر بولتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس رات کیا ہوا تھا مرحہ کیا وہ لوگ تم تک پہنچ گئے تھے۔۔۔ تم انکے قبضے میں چلی گئ تھی یا بچ گئ تھی۔۔۔ مجھے تو بہت آگے جا کر تمہاری غیر موجودگی کا احساس ہوا تھا ۔۔۔
اس روز بھی یہ وہاں راونڈ پر موجود پولیس کے بروقت وہاں سے چکر لگانے پر ان لوگوں کو ڈاج دینے میں کامیاب رہی تھی ۔۔۔ پھر غالباً یہ ہمارے اسلام آباد والے گھر کا ایڈریس نہیں جانتی تھیں اور کوئی رابطہ نمبر بھی نہیں تھا انکے پاس ۔۔۔ ہے نا ایسے ہی ہے نا۔۔۔
اسنے درمیان میں مرحہ کو بھی اپنے ساتھ گھسیٹا تو وہ ہونق بنی ہاں میں سر ہلا گئ۔۔۔
ہاں ایڈریس تو مجھے بھی نہیں پتہ تھا بس دھندلا دھندلا سا سب یاد تھا تبھی تو میں بھی دھونڈ دھانڈ کر وہاں پہنچی تھی۔۔ بیا پرسوچ انداز میں گویا ہوئی۔۔ اس بیچ اسے یہ تک یاد نا رہا کہ اس رات آئے پرزور طوفان میں بھلا وہاں پولیس موبائل کا کیا کام۔۔۔
اسی لئے پھر انہوں نے وقتی طور پر ایک شلٹر ہوم میں پناہ لی۔۔۔ میں یہ سب جانتا ہوں کیونکہ میں نے انہیں جاب پر رکھنے سے پہلے انکا پورا بائیو ڈیٹا چیک کروایا تھا۔۔۔ لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ وہی مرحہ صدیقی ہیں جنہیں ہم پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔ وہ بات کرتے آہستہ سے مسکرایا۔۔
سب بہتوز کے جوابات سے مطمیئن ہو کر خوش گپیوں کے دوران کھانے میں مشغول ہوچکے تھے۔۔۔ کھانا کھاتے مرحہ ایک نظر اپنے محسن پر بھی ڈال لیتی جو بہت آسانی سے اسے اس دلدل سے نکال کر سب کی آنکھوں میں سرخروع کروا گیا تھا۔۔۔۔ صرف ایک شہروز تھا وہاں جو الجھا الجھا سا بیٹھا تھا جسے اس کہانی میں بہت سے جھول دکھائی دے رہے تھے مگر وہ کسی بھی چیز کو کریدنے کی بجائے خاموشی سے کھانا کھاتا رہا کہ سب کی بجائے وہ اکیلے میں بہروز سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔
******

No comments