Nam Aankhain novel last episode 4th part by Umme Hania
Nam Aankhain novel last episode 4th part by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
آخری قسط چوتھا حصہ۔۔۔
بیا کسی طور مرحہ کو ایک لمحے کے لئے بھی خود سے دور کرنے کے حق میں نا تھی۔۔۔ وہ تو سب بھلائے بس مرحہ کو نہارتی اس سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ باتیں کرتے بار بار اسکی آنکھیں نم ہو اٹھتیں تو وہ بار بار مرحہ کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں لیتی چٹا چٹ اسکے کئ بوسے لے ڈالتی۔۔۔ مرحہ خود کو جتنا بھی ّمضبوط ظاہر کر لیتی لیکن بہن کی محبت بار بار اسکی آنکھیں چھلکا جاتی۔۔۔
اس پر سجدہ شکر واجب تھا۔۔۔ بار بار وہ نم آنکھیں اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھتی۔۔۔ وہ اپنے رب کی شکر گزار تھی جس نے اسے اس آزمائش سے نکالا تھا۔۔۔ سفر لمبا تھا خار دار تھا راستہ کانٹوں بھرا تھا۔۔۔ چلتے چلتے بارہا اسکے قدم لہولہان ہوئے وہ گری بھی لیکن پھر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اسکے توکل اور اللہ پر پختہ یقین نے اسے اس آزمائش سے نکال باہر کیا تھا۔۔۔ بلاشبہ اللہ اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔۔ بے شک انسان ہی بے صبرا واقع ہوا ہے۔۔۔ وہ تھک جاتا ہے اکتا جاتا ہے حسب منشع نتیجہ ظاہر نہیں ہوتا تو بددل ہو جاتا ہے۔۔۔ مگر اس اللہ کی ذات تب بھی اپنے بندے کے ساتھ ہوتی ہے پل پل سائے کی طرح۔۔۔ سب چھوڑ جاتے ہیں مگر وہ رب نہیں چھوڑتا ۔۔۔ وہ انسان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔۔۔ وہ کہتا ہے محسوس تو کر میں تو تیری شہہ رگ سے بھی نزدیک ہوں۔۔۔
اسی رب نے مرحہ صدیقی کے لئے بھی بہت احسن انداز میں راہیں ہموار کی تھیں کہ وہ اس عقوبت خانے کو نیست و نابود کرنے میں بھی کامیاب ٹھہری اور بنا تردد کے بہن سے بھی جاملی اور ماں جیسی خالہ کی گود بھی میسر آگی۔۔۔ رہتی کسر بہروز اسے ہر کسی کی نگاہوں میں سرخرو کروا کر پوری کر گیا۔۔۔ کیا بھلا زندگی اس سے بھی خوبصورت ہو سکتی تھی۔۔۔ مرحہ مجض سوچ کر رہ گئ۔۔۔نماز کا وقت ہوا تو مرحہ اٹھ کر نماز ادا کرنے چلے گئ بیا نے بھی اسکی تقلید کی تو شہروز کو بہروز سے بات کرنے کا اس سے احسن وقت کوئی اور نا لگا۔۔۔
بہروز اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا۔۔۔ دونوں بچے بھی اسکے پاس ہی بیڈ پر سو رہے تھے۔۔۔ وہ دونوں بہنوں کو ایک دوسرے میں مصروف و مشغول دیکھ بچے اپنے ساتھ ہی لے آیا تھا۔۔۔ اب بھی وہ بچوں کے پاس ہی بیڈ پر نیم دراز کوئی کتاب پڑھ رہا تھا جب شہروز دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوا۔۔۔
آو شہروز۔۔۔ بہروز نے سیدھے ہو کر بیٹھتے اسے اپنے پاس ہی بستر پر جگہ دی۔۔۔ بھیا دراصل آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔ تھوڑی سی الجن ہے وہ سلجھانی تھی۔۔۔شہروز ماتھا مسلتا کچھ جھجھک کر گویا ہوا۔۔۔
ہاں ہاں بولو کیا بات ہے بہروز نے کتاب بند کر کے سائڈ ٹیبل پر رکھتے مکمل توجہ شہروز کی جانب مبذول کی۔۔۔ مرحہ گڑیا آپکو کہاں ملی بھیا۔۔۔ دراصل آپ کی سنائی کہانی میں مجھے کچھ جھول دکھائی دے رہے ہیں۔۔ شہروز کے سنجیدگی سے دریافت کرنے پر بہروز نے ایک گہری سانس خارج کی۔۔۔
مرحہ مجھے جہاں سے بھی ملی شہروز وہ میٹر نہیں کرتا۔۔۔ کچھ حقائق پر پردہ پڑا رہے تو وہ ہی بہتر ہوتا ہے۔۔۔ اس سے کسی کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوتی اور آپکی ذات بھی پرسکون رہتی ہے کہ آپ کسی کا راز راز رکھنے میں کامیاب ٹھہرے۔۔۔
اس تجسس سے باہر نکل آو شہروز۔۔۔ اللہ کا کرم ہے کہ وہ بخیرو عافیت ہمیں مل گئ۔۔ جہاں سے بھی ملی جس بھی حالت میں ملی تمہارے لئے اور سب کے لئے وہی کہانی بہتر ہے جو میں نے سب کو سنائی کیونکہ بحرحال جو بھی ہو وہ ہمارے گھر کی عزت ہے اور ہمارے لئے بیا گڑیا جتنی ہی قابل احترام اور عزیز ہے۔۔۔ گھر کی عزتوں کو اچھالہ نہیں جاتا ان پر پردہ ڈالا جاتا ہے انہیں قابل احترام اور مقدم جانا جاتا ہے۔۔۔ بہروز کے سنجیدگی سے کہنے پر شہروز آسودگی سے مسکرا دیا۔۔۔ اب میں مطمیئن ہوں بھیا اب کسی سوال کا جواب نہیں چاہیے مجھے کیونکہ مجھے بھی مرحہ گڑیا شزا کی طرح ہی عزیز ہے۔۔۔ اللہ اسکے نصیب اچھے کرے۔۔۔ وہ صدق دل سے دعا گو ہوا تو بہروز بھی دل سے مسکرا دیا۔۔۔
*****
سب لوگ بہروز کے پاس اسی گھر میں ہی رات رکے تھے۔۔۔ مرحہ سے ملنے کے بعد سے بیا نے شہروز تک کو بھرپور نظر انداز کر دیا تھا اسے سوائے اپنی بہن کے کچھ دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا
۔۔ شہروز نے بھی اسکے احساسات سمجھتے کوئی شکوہ نا کیا تھا اسی لئے اسکے شہروز سے اجازت طلب کرنے پر کہ وہ رات مرحہ کیساتھ گزارنا چاہتی ہے شہروز نے مسکرا کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیتے اسے مرحہ کے ساتھ رکنے کی اجازت دی تھی۔۔۔ اسنے آج سے پہلے بیا کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ مرحہ کے لئے اسکی تڑپ سے بخوبی آگاہ تھا۔۔۔ تبھی بہن کے ملنے پر اب اسکے چہرے سے حقیقی خوشیوں کے رنگ پھوٹ رہے تھے۔۔۔
رات دیر تک بیا سے باتیں کر کے اسے پیاس محسوس ہوئی تو وہ کچن میں پانی پینے کی غرض سے آئی لیکن کاونٹر ٹاپ کے پاس بہروز کو چائے بناتا دیکھ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
ارے مرحہ آپ۔۔۔ چائے پیئں گی آپ۔۔۔ مرحہ پر نظر پڑتے ہی بہروز خوش اخلاقی سے گویا ہوا۔۔۔ نہیں وہ میں پانی پینے آئی تھی۔۔۔ وہ فریج کی جاب بڑھی اور فریج کھول کر اندر سے پانی کی بوتل نکال کر پانی گلاس میں انڈیلنے لگی۔۔۔
چلیں آپ آج میرے ہاتھ کی چائے پی کر دیکھیں یقیناً آپکو پسند آئے گی۔۔۔ اتنی بھی بری چائے نہیں بناتا میں۔۔۔ وہ مسکرا کر گویا ہوتا دودھ کا ایک کپ مزید پین میں شامل کرنے لگا۔۔۔
بیا نے پانی پی کر گلاس واپس کاونٹر ٹاپ پر رکھا اور بہروز سے بات کرنے کے لئے الفاظ کا چناو کرتی لب چبانے لگی۔۔۔
کچھ کہنا ہے آپکو۔۔۔ اسے شش و پنج مبتلا دیکھ بہروز گویا ہوا۔۔۔
جی ۔۔۔ اسنے آہستگی سے جھجھکتے ہوئے نگاہیں اٹھا کر بہروز کو دیکھا۔۔۔ اور اف ان نگاہوں کا دیکھنا۔۔۔ ان آنکھوں میں بہروز کو ہمیشہ ایک مقاطیسیت کا احساس ہوتا جیسے وہ کسی مقناطیسی کشیش کے تحت بہروز کو اپنی جانب کھینچ رہی ہوں۔۔ اسی لئے وہ مرحہ کی آنکھوں کی جانب دیکھنے سے گریز ہی کرتا اور ہر بار نگاہیں ملنے پر نظریں چرا جاتا۔۔۔
مجھے آپکا شکریہ ادا کرنا تھا۔ آپ نے آج جو میرے لئے کیا۔۔۔
شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں مرحہ۔۔ جس راز کو میرے اللہ نے راز رکھا ہے ہم کوئی نہیں ہوتے اسے افشاں کرنے والے کچھ حقیقتوں کو دفن کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے وہ بھی ایک ایسی ہی حقیقت تھی جسے میں دفن کر چکا ہوں اب بس آپ آگے بڑھیں۔۔ وہ لڑکی مرحہ صدیقی نہیں تھی وہ پری تھی جو اسی روز مر گئ جب وائٹ پیلس ایکسپوز ہوا تھا۔۔۔ اب میرے سامنے جو کھڑی ہے وہ اللہ کی ایک پیاری سی بندی مرحہ صدیقی ہے۔۔۔
مرحہ اسے بتا نہیں سکی کے اس کے یہ الفاظ مرحہ کے لئے کس قدر روح افزا ثابت ہو رہے ہیں دل کو کتنے بھلے لگ رہے ہیں۔۔۔ وہ سر جھکائے سسک اٹھی۔۔۔
بس برا وقت تھا ٹل گیا۔۔۔ اب اس برے وقت کو یاد کر کے اپنا آج اور مستقبل برباد کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔۔۔ بہروز نے اسکے سر پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھتے اسے دلاسہ دیا اور چائے کو ابال آنے پر چائے کہوں میں انڈیلنے لگا۔۔۔
ویسے میں ایک دو روز تک بچوں کے لئے نئ کیئر ٹیکر کا انتظام کرلوں گا۔۔۔ اسنے چائے کا کپ کاونٹر پر اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ دونوں ہی کاونٹر ٹاپ سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔۔۔
نئ کیئر ٹیکر کیوں۔۔ کیا آپ مجھ سے مطمین نہیں۔۔۔ کپ اٹھاتے مرحہ اچنبے سے گویا ہوئی۔۔۔
ارے ایسی بات نہیں آپ سے تو بچے بہت اٹیچ ہوگئے ہیں۔۔۔ بلکہ مجھے تو حیرانی ہو رہی ہے کہ یہ وہی بچے ہیں جو اپنی ہر کیئر ٹیکر کو تگنی کا ناچ نچاتے تھے اور اب آپکی ہاں میں ہاں ملاتے نہیں تھکتے۔۔۔ میں تو اسلئے کہہ رہا تھا کیونکہ اب تو آپ گھر کی بیٹی ہیں اور گھر کی بیٹیوں سے کوئی جاب تھوڑی نا کرواتا ہے بہروز نے چائے کی چسکیاں لیتے ایک مرتبہ پھر سے اسکا مان بڑھایا۔۔۔
بالکل گھر کی بیٹیوں سے جاب نہیں کروائی جاتی بلکہ گھر کی بیٹیاں اپنی خوشی سے اپنے گھر کے کام سر انجام دیتی ہیں۔۔۔ میرب اور سبحان دونوں ہی مجھے بہت پیارے ہیں۔۔۔ میں خود ان سے بہت اٹیچ ہو گئ ہوں۔۔ اور بچے تو ہوتے ہی محبت کے بھوکے ہیں جہاں انہیں پرخلوص محبت ملے وہیں کے ہو جاتے ہیں۔۔۔ آپ پلیز نئ کیئر ٹیکر کا خیال دل سے نکال دیں۔۔ وہ یوں چاہے کی چسکیاں لیتی مدہم آواز میں وضاحت کرتی کوئی معصوم سی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔۔۔
بیا جو مرحہ کے اتنی دیر تک کمرے میں نا آنے پر اسے ڈھونڈتی ہوئی باہر آئی تھی اب کچن میں اسے اور بہروز کو مسکرا کر باتیں کرتا دیکھ ٹھٹھک کر رکی۔۔۔ یکدم ہی اسکے دل میں ایک نئ خواہش نے سر ابھارا تھا۔۔۔ وہ جس خاموشی سے آئی تھی اسی خاموشی سے واپس چلے گئ اب بس وہ صبح کے انتظار میں تھی کیونکہ اب اسے شازمہ خالہ کیساتھ مل کر پلانینگ کر کے ایک کام کو سرے لگانا تھا۔۔۔
*****
روحا کو اس دنیا سے گئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن اس گھر کے لئے جیسے ںدگی وہیں رک گئ تھی۔۔۔ روحا کی موت کا سب سے زیادہ صدما رشنا نے ہی لیا تھا۔۔۔ اسے وہ نازک سی لڑکی بھولتی ہی نا تھی۔۔۔ اسے اس گھر کے کونے کونے سے روحا کی یاد آتی۔۔۔ آپی یہ کھا کر بتائیں کیسی بنی ہے۔۔۔ چلیں آپی شاپنگ پر چلتے ہیں۔۔۔ آپی یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں۔۔ گویا اسکی ہر بات میں اسکی آپی ساتھ ہوتی۔۔۔ وہ یہ قبول کرنے سے قاصر تھی کہ اتنی ہس مکھ سی بندی اسے یوں چھوڑ کر جا سکتی تھی۔۔۔
وہ اتنی ہی تھوڑی عمر لکھوا کر لائی تھی۔۔۔ دل تو ہر وقت روحا کے لئے کرلاتا تھا رہتی کسر نورین تائی کی باتوں نے پوری کر دی۔۔ نورین پھوپھو آج صبح ہی واپس اسلام آباد چلے گئ تھیں جاتے ہوئے وہ ننھی ایمان کو بھی ساتھ لے گی تھیں کیونکہ وہاب نے واپس اسلام آباد میں اپنا ٹرانسفر کروا لیا تھا اور باقی کی فارمیلیٹیز پوری کر کے وہ لوگ بھی ایک دو دن تک اسلام آباد آنے والے تھے۔۔۔
جانے سے پہلے وہ رشنا کے پاس آئیں تھین جو ہمیشہ کی طرح گم صم سی لاوئنج میں پڑے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
بیٹا وقت کیساتھ ساتھ ہر زخم بھر جاتا ہے۔۔۔ اب یہ بھی تو دیکھو نا کہ بچی نے کتنی اذیت کاٹی ہے۔۔۔ مسلسل کتنے سالوں سے وہ اپنی بیماری سے لڑ رہی تھی بس اللہ نے اسکا پردہ رکھ لیا۔۔ وہ رشنا کو حوصلہ دیتیں گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
کیا مطلب تائی ماں ۔۔۔ تائی کی باتوں سے رشنا کا دماغ بھک سے اڑا تھا یقیناً کچھ تھا جو اسکے علم میں نا تھا وہ تھوک نگکتی دھک دھک کرتے دل کیساتھ انکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
بیٹا روحا کو بیماری تھی ڈاکٹر جواب دے چکے تھے کہ اللہ کو منظور ہوا تو وہ دس سال جیئے گی نا منظور ہوا تو دس دن بھی مشکل ہونگے۔۔۔
آ۔۔آپکو کیسے پتہ یہ سب۔۔ رشنا نے اپنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیری ۔۔۔
بیٹا وہاب ساری سچائی بتا کر ہی ہمیں اسلام آباد سے یہاں لایا تھا۔۔۔ اب بھلا ایک مرتے ہوئے انسان سے کیسے گلے شکوے۔۔۔ اسی لئے ہم سب اسکے سر پر دست شفقت رکھنے آئے تھے اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم بروقت یہاں آگے ورنہ ساری عمر ایک کسک سی دل میں رہتی۔۔۔ نورین بیگم تو اپنا دل ہلکا کر رہی تھیں لیکن رشنا کو اپنے ارد گرد دھماکے سے ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔ تو یہ وجہ تھی اسلام آباد سے سب کی یہاں روحا کو پیار دینے آنے کی۔۔ سب لوگ سب کچھ جانتے تھے۔۔ سوائے اسکے۔۔۔ اسے ہی لاعلم رکھا گیا تھا بس۔۔ اسکے دماغ میں بھانبھر سے جلنے لگے تھے۔۔ وہاب پر غصہ حد سے سوا تھا۔ ۔ بس ایک دفعہ وہ اسکے سامنے آ جاتا۔۔۔
وہاب ماں کو ایئر پورٹ چھوڑ کر واپس گھر آیا تو غصے سے بھری بیٹھی رشنا نے اسے دراوزے میں ہی جا لیا۔۔۔
کیا یہ سچ ہے کہ روحا کو کوئی بیماری تھی۔۔۔ اسے دروازے میں ہی بھرپور غصے سے کھڑا دیکھ وہاب نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور اسے بازو کے حلقے میں لئے لاوئنج میں آیا ۔۔۔ اسے صوفے پر بیٹھا کر خود اسکے ساتھ بیٹھا۔۔۔
وہ میرے آفس کے واچ مین خان بابا کی بیٹی تھی ۔۔ خان بابا کا ایکسیڈینٹ ہوا تو سب ایمپلایز کی طرح میں بھی انکی عیادت کرنے ہسپتال گیا۔۔۔ وہ بہت بری حالت میں تھے لیکن انکے مطالبے نے مجھے شش و پنج میں مبتلا کر دیا ۔۔۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کی مجھ سے شادی کروانا چاہتے تھے۔۔۔ میں ان سب کے لئے انکاری تھا لیکن انکی التجائیں۔۔۔۔ اور انکشافات کہ بچپن سے روحا کے دل میں سوراخ تھا۔۔۔ وہ بہت کمزور دل کی لڑکی تھی۔۔۔ وہ کوئی صدمہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔کوئی تھوڑی کی سختی کرتا تو پینک ہو جاتی اسکا سانس رکنے لگتا دل گھبرانے لگتا۔۔ شروع میں اسکا مرض قابل علاج تھا لیکن وسائل کی عدم دستیابی کے باعث وہ لوگ اسکا علاج نا کروا سکے۔۔۔ اسکا مرض بڑھتا بڑھتا لا علاج ہو گیا۔۔۔ وہ ٹیشن برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔ اسکی زندگی خوشی میں تھی۔۔ ایک بے بس باپ کی التجاوں کے آگے میں بے بس ہو گیا۔۔۔ میں نے وہیں انکے سامنے انکی بیٹی کو اپنا نام دیا اور وہی وہ لمحہ تھا جب وہ پرسکون ہو کر آنکھیں مونڈ گئے۔۔۔ لیکن میرے لئے آگے ایک بڑا امتحان پڑا تھا۔۔۔
وہ باپ کو یاد کر کے روتی تو پینک ہوجاتی۔۔۔ مجھ سے وہ مانوس نہیں تھی۔۔۔ حتی کہ مجھے بھی کاٹنے کو ڈورتی۔۔۔ بہت محنت کی میں نے اسے زندگی کی طرف واپس لانے کی۔۔۔ میری زندگی کا محور ہی وہ بن گئ۔۔۔ اسکی اذیت مجھے تکلیف دیتی تھی۔۔۔ وہ تکلیف میں ہوتی تو وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتی۔۔۔ میں نے اسے اس رشتے کا مان دیا۔۔۔ اس گھر کی ملکیت کا احساس دیا۔۔۔ اسے اپنی ذات کے گرد محصور کر دیا۔۔۔ وہ دنوں میں کھلنے لگی۔۔۔ چہکنے لگی۔۔۔ اسکا کہا میرے لئے حرف آخر ہوتا۔۔۔ اسکی کی گئ فرمائش مجھ پر فرض ہوتی۔۔۔ میں نہین چاہتا تھا کہ اسکی کوئی خواہش ادھوری رہے۔۔۔ روز رات میں روحا کے سونے کے بعد سوتا۔۔ رات میں اٹھ اٹھ کر اسے دیکھتا۔۔۔ ہمیشہ ایک ڈھرکا دل کو لگا رہتا کہ کہیں یہ رات اسکی زندگی کی آخری رات نا ہو۔۔۔
مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے بھلا۔۔۔ وہ میری زندگی میں آئی ہی جانے کے لئے تھی۔۔۔ بات کرتے وہاب کی اپنی آنکھیں نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔
رشنا خاموش آنسو بہاتی اسے دیکھ رہی تھی دماغ میں کئ مناظر ایک ساتھ ابھر رہے تھے۔۔۔ تو گویا اس لئے وہاب اس سے غیر مشروط محبت کرتا تھا۔۔۔ کئ بار اسے محسوس ہوا کہ وہاب اس سے زیادہ روحا کی کیئر کرتا ہے اس سے محبت کرتا ہے تو کیا اسکی وجہ یہ تھی۔۔۔
میری روحا سے محبت کس قسم کی ہے یہ شاید تم ابھی نا جان سکو رشنا یہ تمہیں کچھ وقت گزرنے کے بعد پتہ چلے گا۔۔۔ بے ساختہ اسے وہاب کی کہی بات یاد آئی۔۔۔ تو گویا وہاب کے کہنے کا یہ مطلب تھا۔۔۔ مطلب روحا اسی لئے اپنی سبھی چیزیں ملازموں میں بانٹتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ اپنی آگے کی راہیں ہموار کر رہی تھیں۔۔۔ کئ کڑیاں اب آپس میں جڑ رہی تھیں۔۔۔
مجھے کیوں اس سب سے لاعلم رکھا وہاب۔۔۔ میں حقیقت سے آشنا ہوتی تو شاید اسکے ساتھ کچھ اور اچھا وقت گزار لیتی۔۔۔ وہ پھر سے سسک اٹھی تھی۔۔۔
لاعلمی ایک نعمت ہوتی ہے رشنا اور آگاہی عذاب۔۔۔ میں اس عذاب میں پچھلے ایک سال سے جھلس رہا تھا۔۔۔ تم جس قدر روحا سے اٹیج ہو گئ تِھی حقیقت سے روشناس ہو کر تم بھی میری طرح شب و روز کرب سے گزارتی۔۔۔ وہاب نے رشنا نے کو حصار میں لیتے اسکا سر تھپتھپایا۔۔۔
جانے والوں کو کوئی نہیں روک سکتا رشنا۔۔۔ اسکے لیے مغفرت کی دعا کرو۔۔ اللہ آگے اسکے مرتبے بلند فرمائے۔۔۔ ہمیں تو وہ جاتے جاتے بھی ایک خوبصورت تحفہ دے گئ ہمیں اسکی آخری نشانی کی مل کر پرورش کرنی ہے۔۔۔ اور تب سے اب رشنا کو یاد آیا کہ وہ ان سب میں اس ننھی جان کو کس بری طرح نظرانداز کر گئ تھی جو سب سے زیادہ اسکی توجہ کی مستحق تھی۔۔ لیکن اب وہ ارادہ کر چکی تھی کہ اسلام آباد جاتے ہی وہ اس ننھی پری کی ساری ذمہ داری خود اٹھائے گی۔۔۔ اور اسے اتنی محبت دے گی کہ کبھی اسے محسوس ہی نا ہو کہ اسکے پیدا کرنے والی ماں اب اسکے ساتھ نہیں۔۔۔
******
بیٹا میں کب نہیں چاہتی کہ ایسا ہو۔۔۔ وہ کون سی ماں ہو گئ جو اپنے بیٹے کی بے رنگ زندگی دیکھ کر خوش ہوتی ہوگئ۔۔۔ لیکن آخری مرتبہ جس طرح سے اسنے میرا مان توڑا اسکے بعد سے اب میں نے اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔
رات ناجانے بیا نے کیسے گزاری تھی صبح ہوتے ہی وہ سب سے پہلے شازمہ خالہ کے پاس پہنچی ۔۔۔ بنا جھجھکے انہیں اپنا سارا مدعا سنا کر اب وہ انکی رائے کی منتظر تھی لیکن شازمہ خالہ کی باتیں سن کر نظریں چرا کر رہ گئ وہ انہیں بتا نا سکی کہ اس رشتے سے انکار بہروز نے اسکے کہنے پر کیا تھا۔۔۔
وہ سب پرانی باتیں ہیں خالہ۔۔۔ اب وہ وقت گزر گیا ہے۔۔ اور پلیز آپ میری خالہ نہیں ماں ہیں اور آپ اپنی بیٹی کے لئے اتنا تو کر ہی سکتی ہیں نا۔۔ وہ شازمہ خالہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتی انکے دونوں ہاتھ تھام کر التجائیہ گویا ہوئیں۔۔۔ سرخ رنگ کے دیدہ ذیب لباس میں ہلکی پھلکی جیولری اور لائٹ سے میک کے ساتھ وہ کھلی کھلی سی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ شہروز کی چند روزہ قربت نے ہی اسے نکھار دیا تھا۔۔۔ خالہ اتنی دیر بعد مجھے میری بہن ملی ہے اور میری دلی خواہش ہے کے وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔۔۔ پلیز خالہ۔۔۔ وہ بس کسی بھی صورت شازمہ خالہ کو منا لینا چاہتی تھی۔۔۔
آگر ایسا ہو جائے تو اس سے بڑھ کر میرے لئے خوشی کی کوئی بات نہیں ہو سکتی۔۔۔ شازمہ خالہ نے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔۔ مجھے بھی تم دونوں سے زیادہ کوئی عزیز نہیں اس لئے ایک مرتبہ کوشیش کر کے دیکھ لیتی ہوں۔۔۔ شازمہ خالہ کے اسکے گال تھپتھپا کر رضا مندی دینے پر بیا جھٹ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور پھر اسنے شازمہ خالہ کو بہروز بھیا کے کمرے کے دروازے تک چھوڑ کر ہی سانس لیا۔۔۔
*****
شازمہ بیگم بہروز کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئیں تو کمرے میں بہروز نہیں تھا لیکن واش روم سے پانی گرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ وہ وہیں بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگیں۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ ٹراوزر کے اوپر سفید بنیاں پہنے تولیے سے بال رگڑتا باہر آیا اور سامنے ماں کو بیٹھا دیکھ مسکرا دیا ۔۔
امی آپ۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا ماں کے پاس آیا اور زمین پر بیٹھ کر سر انکی گود میں رکھ گیا۔۔۔ شازمہ بیگم بھی اداسی سے مسکراتیں اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیّں۔۔۔
ابھی تک ناراض ہیں کیا ماں۔۔۔ بہروز باخوبی محسوس کرتا تھا کہ پچھلی دفعہ ماں کا مان توڑ کر وہ انہیں بڑی بری طرح ہرٹ کر چکا تھا۔۔ ماں نے کبھی ظاہر نہیں کیا تھا مگر اندر سے انہیں بہروز کے اس قدم سے دھچکا لگا تھا۔۔۔
وہ پشیمانی سے گویا ہوا۔۔۔ نہیں۔۔۔ ماں کبھی اپنے بچوں سے ناراض نہیں ہو سکتی۔۔۔ وقتی طور پر تمہارے اس عمل سے دھچکا ضرور لگا تھا لیکن شاید یہ ایسا ہی ہونا طے پایا تھا۔۔۔ بیا اور شہروز کا جوڑ شاید روز اول سے ہی لکھ دیا گیا تھا۔۔۔
وہ اداسی سے گویا ہوئیں وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی نہیں تھکتیں تھیں کہ اللہ نے انکے چلبلے سے بیٹے کو اسکی محبت سے ملا دیا۔۔۔
ویسے تو اب میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ چکی ہوں مگر ماں کا دل ہے نا جتنا مرضی سمجھا لو اپنے بچوں کے لئے اچھا سوچنا چھوڑ ہی نہیں سکتا۔۔۔ اب بھی بہت دیر تک کشمکش میں گزار کر تمہارے پاس آئی ہوں یہ جانتے ہوئے کے ماں کا مان تو تم رکھو گے نہیں۔۔۔ وہ گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
آپ حکم کیجیئے ماں ۔۔۔ وہ سیدھا ہوتا ماں کا ہاتھ تھام کر ہاتھ کا بوسہ لیتا گویا ہوا۔۔
میں چاہتی ہوں کہ تم مرحہ سے شادی کر لو کیونکہ۔۔۔۔
مجھے منظور ہے ماں۔۔۔ وہ جھجھکتے ہوئے کہہ رہی تھیں جب وہ انکی بات کاٹا گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
کیا۔۔۔ شازمہ بیگم نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔
چلیں۔۔۔ بات مانوں تو مسلہ نا مانوں تو مسلہ۔۔۔ وہ ماں کی حیرت دیکھتا محظوظ ہوتا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔
سچ۔۔۔ تم سچ کہہ رہے ہو۔۔۔ مطلب۔۔۔۔
اسکے اتنی جلدی مان جانے پر شازمہ بیگم کی خوشی دیدنی تھی۔۔ وہ توقع نہیں کر رہی تھیں کے وہ اتنی جلدی مان جائے گا۔۔۔
جی ماں۔۔۔ بلکہ میں خود آپ سے اس بارے میں بات کرنے والا تھا۔۔۔ مرحہ اچھی لڑکی ہے۔۔ وہ ماں کا ہاتھ تھامے سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
شکر اللہ اس لڑکے کو بھی کوئی پسند آئی۔۔۔ اللہ تمہیں دونوں جہاں کی خوشیاں نصیب فرمائے۔۔۔ شازمہ بیگم نے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
آج شام ہی تمہارا نکاح ہوگا۔۔۔
کیاااا۔۔ ماں کیا ہو گیا ہے اتنی جلدی۔۔۔
تم اس معاملے میں بالکل بھی قابل اعتبار نہیں کیا پتہ آج مانے کل انکار کر دو۔۔۔ میں ایسا رسک نہیں لے سکتی اس لئے نکاح تو آج ہی ہوگا۔۔ وہ تیزی سے کچھ سوچتیں سارا منصوبہ ترتیب دے رہی تھیں۔۔۔
ماں مرحہ سے تو بات کر لیں۔۔۔ مان کی جلد بازیاں دیکھتا وہ جھنجھلا کر گویا ہوا۔۔۔ یہ تمہارا مسلہ نہیں۔۔۔ ویسے بھی وہ میری بہت پیاری بیٹی ہے تمہاری طرح ضدی اور اڑیل نہیں۔۔۔ وہ اسے گھور کر کہتیں کمرے سے نکل گئیں۔۔۔
****

No comments