Nam Aankhain novel Last episode Last part by Umme Hania
Nam Aankhain novel Last episode Last part by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
آخری قسط آخری حصہ
کیااااا۔۔۔۔ شازمہ خالہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ شازمہ خالہ کی بات سن کر مرحہ کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا۔۔۔ بہروز کی اس شادی کے لئے رضا مندی دے دینے کی خوشخبری بیا کو سنانے کے بعد وہ دونوں مرحہ کے پاس آئیں تھیں۔۔۔ مرحہ جو کہ پرسکون سی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی ان کے آنے سے کتاب چھوڑ مکمل طور پر انکی جانب متوجہ ہوئی مگر انکا مطالبہ سن کر اچھل ہی تو پڑی۔۔۔
نہیں خالہ ایسا نہیں ہو سکتا میں بہروز سے شادی۔۔ نہیں۔۔۔
خالہ پلیز آپ س مجھنے کی کوشیش کریں۔۔۔ وہ بوکھلا کرکہتی اپنے الفاظ کی سختی محسوس کر کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی بے بسی سے گویا ہوئی۔۔۔
خالہ آپ جا کر تیاری کریں میں اسے سمجھاتی ہوں۔۔۔ بیا نے خالہ کو کمرے سے بھیجتے کمرے کا دروازہ مقفل کیا۔۔۔
تیاری ۔۔۔ کس چیز کی تیاری۔۔۔ مرحہ کے ارد گرد خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی۔۔۔
کسی چیز کی نہیں پہلے تم بتاو بہرو بھیا میں کیا کمی ہے۔۔۔ وہ اسکی بات نظر انداز کرتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔
بہروز میں کوئی کمی نہیں۔۔۔ بے بسی سے کہتی وہ خاموش ہو گئ۔۔۔ وہ کہہ نا سکی کے کمی بہروز میں نہیں بلکہ خود اس میں ہے۔۔۔بے بسی کے شدید احساس تلے اسکی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔
کیا آپ لوگوں نے بہروز سے بھی پوچھا ہے۔۔ وہ کسی بھی پل رو دینے کو تھی۔۔۔
یہ سب انکی رضا مندی سے ہو رہا ہے تم اپنا بتاو۔۔۔ بیا سینے پر ہاتھ باندھے ہنوز سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکے جواب پر مرحہ نے حیرت سے بیا کو دیکھا۔۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔ وہ خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم کچھ مت سوچو آرام کرو۔۔۔ ٹینشن مت لو جیسا تم کہو گی ویسا ہی ہوگا۔۔۔ مرحہ کے منتشر حواس دیکھ کر بیا نے سنجیدگی چھوڑتے لہیمی سے اسے کہا اور اسے بستر پر لٹا کر لائٹ بند کر دی۔۔۔ اسے پتہ تھا کہ اسے اب کیا کرنا ہے وہ اپنی بہن کو کوئی بے وقوفی کرتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔
مرحہ کا سر اسقدر درد کرنے لگا تھا کہ پرسکون ماحول میسر آتے ہی وہ لمحوں میں غافل ہو گئ۔۔۔ دوبارہ اسکی آنکھ شام کو کھلی۔۔۔ اٹھتے ہی اسنے فریش ہونے کے لئے شاور لیا جس سے اسکے حواس کچھ بحال ہوئے۔۔۔ آئینے کے سامنے بال سلجھا کر اب اسکا ارادہ بہروز سے مل کر بات کرنے کا تھا۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کمرے سے باہر نکلتی بیا بعجلت کمرے کا دروازہ وا کرتی اندر داخل ہوئی۔۔۔ اندر آتے ہی اسنے ہاتھ میں تھاما سرخ آنچل مرحہ کے سر پر دیا۔۔
یہ کیا بیا۔۔۔ مرحہ حیرت سے گویا ہوئی۔۔۔ مرحہ بابا کہتے تھے کہ یہ میری بہت فرما بردار اور رشتوں کا مان رکھنے والی بیٹی ہے۔۔۔ اب سوال بابا کی تربیت پر ہے انکی تربیت کا مان رکھ لینا۔۔۔
کیا کہہ رہی ہو بیا۔۔۔ اسکا دل تیزی سے ڈھرکنے لگا تھا جیسے کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کر رہا ہو۔۔۔
دفعتاً شہروز زاہد انکل اور شازمہ خالہ کے ساتھ نکاح خواں اور ایک دو اور افراد اندر داخل ہوئے۔۔ بیا نے جلدی سے اسکے چہرے کے آگے گھونگھٹ گرایا۔۔۔ مرحہ کا دل اتنی تیزی سے ڈھرکا کہ جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر نکل جائے گا۔۔۔
کچھ دیر تک کمرے مین ایک سکوت طاری ہوا۔۔۔ جسکے بعد ایک آواز کمرے کے سکوت کو تورٹی بلند ہوئی
مرحہ صدیقی ولد سہیل صدیقی۔۔۔ نکاح خوان نکاح کے مندجات پڑھ رہا تھا لیکن مرحہ کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا۔۔۔ اسے بہروز پر جی بھر کر غصہ آیا۔۔۔ وہ تو مجبور تھی لیکن بہروز نے کیوں اسے سے نکاح کی ہامی بھری۔۔ اتنے معزز لوگوں کے سامنے اسکی زبان پر قفل پڑ گئے تھے ورنہ وہ چیخ چیخ کر آسمان سر ہر اٹھا لیتی۔۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی ضبط کے مراحل طے کرتی خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔ جب بیا نے زور سے اسکے کندھے پر دباو ڈالتے اسے بولنے پر اکسایا۔۔۔ لیکن اس پر خاطر خواہ اثر نا ہوا۔۔۔
بولو بیٹا گھبراو مت۔۔۔ زاہد صاحب نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھتے اسے دلاسہ دیا تو وہ دل پر پاوں رکھتے وہ کر گئ جو کرنے کا وہ کبھی زندگی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔ کئ جگہوں پر انسان ناچاہنے کے باوجود بھی مجبور ہو جاتا ہے یہ وہی مقام مرحہ صدیقی کے لئے بھی تھا کہ وہ چاہ کر بھی آج اتنے لوگوں کے سامنے اپنوں کا مان نا توڑ سکی۔۔۔
نکاح ہوتے ہی سب کے کمرے سے نکلتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
****
آندھی طوفان بنے وہ ایک جھٹکے میں بنا اجازت کے بہروز کے کمرے کا دروازہ وا کرتی اندر داخل ہوئی۔۔۔ سامنے ہی بہروز اور شہروز آپس میں بات کرتے ہس رہے تھے۔۔۔ یوں اچانک کمرے کا دروازہ ڈھار سے کھلنے اور سامنے مرحہ کو غصے سے لال بھبھوکا کھڑا دیکھ دونوں نے نگاہوں سے ایک دوارے کی جانب دیکھا۔۔۔ شہروز کے ہونٹوں پر ایک شرارتی مسکراہٹ رینگ گئ جسے اسنے فورا چہرا جھکاتے چھپایا۔۔۔ نکاح ہوئے کچھ ہی وقت ہوا تھا اور سب کے ادھر ادھر ہوتے ہی وہ شعلہ جوالہ بنی فورا بہروز کے کمرے میں آئی تھی۔۔۔
شہروز بھیا پلیز آپ زرا باہر جائیں گئے مجھے آپکے بھائی سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ غصیلی نگاہیں بہروز پر ٹکائے وہ چبا چبا کر گویا ہوئی۔۔۔۔ جی جی بالکل بھابھی کیوں نہیں۔۔۔ وہ اپنی مسکراہٹ دابتا سر جھکائے فورا کمرے سے نکلا۔۔۔
آپ نے مجھ سے نکاح کے لئے رضا مندی کیوں دی۔۔۔ وہ قدم قدم چلتی اسے مدمقابل آتی غصے سے گویا ہوئی۔۔۔
انکار کی کوئی ایک وجہ۔۔۔ بہروز سینے پر ہاتھ باندھتا سائید ٹیبل سے ٹیک لگائے اسے دلچسپی سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ آج ان نیلی آنکھوں کے سحر میں جھکڑتے اسنے نظریں نہیں چرائیں تھیں۔۔۔
اقرار کی کوئی ایک وجہ بتا دیں۔۔۔ غم و غصےسے اسکی آواز نم ہونے لگی تھی۔۔۔
بہت سی ہیں۔۔۔ تم اچھی لڑکی ہو۔۔۔ کیئرینگ ہو۔۔۔ رشتوں کا احترام کرنے والی ۔۔۔ باکردار اور۔۔۔
اور بس یہیں ہر مرحہ کی بس ہوئی تھی۔۔۔ آنسو بہہ نکلے تھے جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔ مذاق اڑا رہے ہیں میرا۔۔۔ ضبط سے چہرے کی رگیں تک کھینچ گئ تھیں۔۔۔
بہروز نے بڑی نرمی سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے کھینچا اور خود سے لگائے اسکی کمر سہلانے لگا۔۔
ریلیکس ہو جاو مرحہ۔۔۔ اس نکاح کو اتنا سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ٹیک اٹ ایزی۔۔۔ وہ اسکی کمر سہلاتا آہستگی سے کہہ رہا تھا۔۔۔ اور مرحہ کا تو وہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔ بہروز کی یہ حرکت اسکی توقع سے باہر تھی۔۔۔
وہ ساکت و جامد کسی بت کی مانند سانس روکے کھڑی تھی۔۔۔ اسکے آنسو تک ٹھٹھرنے لگے۔۔۔
یہاں بیٹھو۔۔۔ اسے ساکت ہوتا دیکھ بہروز نے اسے بیڈ پر بیٹھا۔۔۔ جس بات کو بنیاد بنا کر تم اس رشتے سے انکاری ہو میں اسے نہیں مانتا۔۔۔ تم ایک بہادر لڑکی ہو جسنے حالات کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے ہر حال میں لڑا اور لڑ کر مخالف چلتی ہواوں کا رخ موڑا ہے۔۔۔
تم میرے لئے کس قدر قابل احترام ہو مرحہ یہ تم مجھ سے پوچھو۔۔۔
اس ایک فعل میں تمہارا کوئی کردار نہیں تھا۔۔۔ اس وقت ظلم ہوا تھا تم پر مگر تم نے اس ظلم کے آگے بھی گھٹنے نہیں ٹھیکے بلکہ اس ظالم کو دھول چٹا دی۔۔۔ جب اس فیز سے نکل چکی ہو تو آگے بھی بڑھ جاو۔۔ اس رشتے کو خدا کی رضا جان کر میرا ہاتھ تھام لو قسم کھا کر کہتا ہوں کبھی ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ ایک مرتبہ اعتبار کر کے تو دیکھو۔۔ ہر مشکل ہر برے وقت میں یہ ہاتھ تھامے شانہ بشانہ ساتھ چلوں گا۔۔۔ وہ اسکے سامنے دوزانو بیٹھا ہاتھ پھیلائے اسکا منتظر تھا۔۔۔ جانے کیوں اسکے الفاظ مرحہ کے جلتے بھرکتے دل پر پھوار کا کام کر رہے تھے۔۔۔
اللہ پر توکل رکھتی ہو نا۔۔۔ اسکے ہر فیصلے کو دل و جان سے جب قبول کرتی ہو تو اس کے اس فیصلے سے پھر کیوں انکاری ہو۔۔۔ ہمارا جوڑ اسی رب نے جوڑا ہے۔۔ تو کیا تمہیں نہیں لگتا اس رشتے سے انکاری ہو کر تم اسکے فیصلے کی نفی کر رہی ہو۔۔۔ وہ اسے اپنی باتوں کے سحر میں جکڑ رہا تھا۔۔۔ اسے ہنوز خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا دیکھ بہروز نے ناکام ہوتے ہاتھ پیچھے کرنا چاہا جب مرحہ نے تیزی سے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ ہاتھ تھاما اور اس سے ماتھا ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
دفعتا کمرے کے دروازے پر دستک کی آواز ابھرنے پر مرحہ نے بہروز کا ہاتھ چھوڑتے اپنے آنسو صاف کئے اور بہروز بھی نیچے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ دفعتاً ہواس باختہ سی بیا کمرے کا دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوئی۔۔۔ اسے غالباً شہروز نے مرحہ کے اسقدر غصے میں وہاں آنے کا بتایا تھا جو وہ اسقدر ہواس باختہ دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
گڑیا اپنی بہن کا سامان اس کمرے میں شفٹ کر دو بس ہوگئ اسکی رخصتی۔۔۔ بہروز اسے مسکرا کر کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جبکہ اسکی اتنی بڑی بات کہنے پر بھی بیا کا نارمل رویہ دیکھ بیا خوشگوار حیرت سے اسکی جانب بڑھی اور مسکراتے ہوئے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔ وہ دل سے اپنی بہن کی خوشیوں کے لئے دعا گو تھی۔۔۔
******
آج المیر کی بارات تھی۔۔۔ شادی والے گھر میں مخصوص ہربونگ سی مچی تھی۔۔۔ بڑی بہو ہونے کے ناطے اور نورین بیگم کی کوئی بیٹی نا ہونے کی وجہ سے رشنا کی ہر جانب ڈوریں لگیں ہوئیں تھیں ۔۔۔اسکا ایک قدم یہاں ہوتا تو دوسرا قدم وہاں۔۔۔ ننھی ایمان کی ذمہ داری الگ۔۔۔
ایمان کو تو وہ ہمہ وقت خود سے لگائے رکھتی۔۔ پچھلے ایک مہینے میں وہاب نے اسے اسقدر مان عزت اور محبت دی تھی کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اپنے رب کا شکر ادا کرتی نا تھکتی۔۔۔ بلاشبہ وہ اسکے لئے ایک بہترین شوہر ثابت ہوا تھا جو بنا اسکے کہے اسکی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتا۔۔۔۔ وہ تھک جاتی تو بنا محسوس کروائے ایمان اس سے پکڑتے اسے آرام کا موقع دیتا۔۔۔ ہر ہر معاملے میں اسکی رائے کو مقدم جانتا۔۔۔ وہاب کی اسقدر کیئر اور محبت سے وہ بہت پر اعتماد ہو گئ تھی۔۔۔
اب بھی وہ ایمان کو تیار کر کے سلانے کے بعد باقی کے کاموں کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔۔۔ وہ ملازموں کے سر پر کھڑی ہو کر بری کی چیزیں گاڑی میں رکھوا رہی تھی کہ دفعتا ایمان کے رونے کی آواز سن کر سرپٹ اندر کو بھاگی۔۔۔ وہ ایمان کے معاملے میں ایسی ہی تھی۔۔۔ زرا سی اسکی رونے کی آواز آتی تو ضروری سے ضروری کام چھوڑ کر اسکی جانب متوجہ ہوتی۔۔۔
ارے رشنا کیا کرتی ہو یار۔۔ بارات نکلنے کو تیار کھڑی ہے اور تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔۔ بلیک کرتا اور سفید شلوار میں ملبوس وہاب کسی کام سے اندر کمرے میں آیا تو رشنا کو جوں کا توں ایمان کیساتھ مصروف دیکھ خفگی سے گویا ہوا۔۔۔
ہاں بس میں تیار ہونے ہی والی تھی پر ایمان اٹھ گئ۔۔۔ رشنا نے بوکھلاہٹ میں اسے پھر سے تھپکتے سلانے کی کوشیش کرنی چاہی مگر اب اسکا دور دور تک سونے کا کوئی ارادہ نا لگتا تھا۔۔۔
لاو میری شہزادی مجھے پکڑاو اب وہ اپنے بابا کیساتھ کھیلے گی۔۔۔ وہاب نے آگے بڑھتے ہاتھ پاوں چلا کر کھیلتی ایمان کو نرمی سے گود میں آٹھایا اور اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
تم جلدی سے تیار ہو جاو۔۔ وہ ایمان کو لئے باہر نکل گیا۔۔۔ کافی دیر تک ایمان کیساتھ کھیلنے کے بعد ماں کے رشنا کو بلانے پر وہ ایمان ماں کو پکڑاتا کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔
رشنا کتنی دیر اور لگے گی یار۔۔۔۔ ایک جھٹکے سے دروازہ وا کرتا وہ بولتا ہوا اندر داخل ہوا لیکن سامنے کا مںظر دیکھ کر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔ رشنا فریش ریڈ کلر کی دیدہ زیب میکسی میں ملبوس سیاہ آبشار کمر پر پھیلاے نفاست سے کئے میک میں باآسانی وہاب کی توجہ اپنی جانب کھینچنے کی کشیش رکھتی تھی۔۔۔ وہ مسمرائز سا مسکراتا ہوا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
مائے گاڈ ۔۔۔ کیون کمزور دل بندے کا ہارٹ فیل کروانے کا ارادہ ہے۔۔ وہ بہت کم کم تیار ہوتی تھی اور جب ہوتی تب یونہی ٹوٹ کر پیاری لگتی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہاب اسے ایک ٹرانس کی کیفیت میں دیکھتا اسکی جانب بڑھا۔۔ اسنے آگے بڑھ کر رشنا کا گال سہلایا تو وہ مسکرا کر نگاہیں جھکا گئ۔۔۔
وہاب تائی ماں۔۔۔ رشنا کے اچھل کر کہنے پر وہاب سٹپٹا کر پیچھے پلٹا مگر پیچھے کسی کو نا پا کر غصے میں واپس پلٹا مگر تب تک وہ کھلکھکلا کر ہستی باہر کو بھاگی۔۔۔ جلدی باہر آئیں دیر ہو رہی ہے۔۔ تمہیں تو میں پوچھتا ہوں۔۔۔ وہ انگلی اٹھا کر اسکے پیچھے بھاگا لیکن رشنا اس سے پہلے ہی اسے زبان چڑاتی بھاگ نکلی۔۔۔ فضا میں دور دور تک اسکی ہسی کی جھنکار گھونج رہی تھی۔۔۔
********
شزا دلہن کے روپ میں تیار برائیڈل روم میں بیٹھی سیلفیز لے رہی تھی۔۔۔ دلہن بنی وہ کوئی کیوٹ سی گڑیا ہی لگ رہی تھی سیلفیز لیتے لیتے جسے بار بار ایک ہی فکر کھائے جا رہی تھی اور وہ بار بار اپنا مانگ ٹیکا درست کرتی بیا سے ہوچھتی کہ میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نا۔۔۔ مرحہ اسکے اس بے فکرے اور لاابالی پن پر مسکرا دیتی۔۔۔ وہ دونوں بہنیں برائیڈل روم میں شزا کے پاس ہی بیٹھیں تھیں۔۔۔ بہروز مرحہ کے حق میں ایک بہترین فیصلہ ثابت ہوا تھا جسکے بارے میں وہ بارہا اپنے عمل کے ذریعے ثابت کر چکا تھا ۔۔۔ مرحہ نے اسے کہا تھا کہ وہ اپنا پردہ دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے جس پر بہروز نے خوشی کا اظہار کرتے اسکا بھرپور ساتھ دیا تھا۔۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ آج بھی مکمل سیاہ عبایا میں سنہرے سکارف کے ساتھ حجاب کئے ہوئے تھی۔۔۔ کیونکہ فنکشن اکھٹا ہی ارینج کیا گیا تھا اس لئے آج کے اس فنگشن کی مناسبت سے یہ عبایہ اسکی ضرورت تھا۔۔۔ فنگشن میں بہت سی عورتوں نے اسکی اس حرکت پر سوال اٹھایا تھا مگر مرحہ صدیقی نے پہلے کسی کی باتوں کا اثر لیا تھا جو اب لیتی۔۔۔ گزشتہ تین سالوں کی توڑ پھوڑ اور اذیت کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ مرحہ صدیقی بہت مضبوط ہوچکی تھی۔۔۔ جس پر یہ چھوٹی موٹی چیزیں لوگوں کے طنز اور چبھتی نظریں اثرانداز نہیں ہوتی تھیں۔۔۔
بارات کے آنے کا شور اٹھا تو وہ وہیں شزا کے پاس ہی بیٹھی رہی۔۔۔ برائیڈل روم میں شزا سے باتیں کرتی وہ نقاب ہٹا چکی تھی۔۔۔
اسلام علیکم پیاری سی گڑیا کیسی ہو۔۔۔ دفعتاً کوئی ہوا کے جھونکے کی مانند برائیڈل روم کا دروازہ کھولے اندر داخل ہوا ۔۔۔ مرحہ کو اسکی پشت دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ وہ سرخ میکسی میں ملبوس کوئی پیاری سی لڑکی تھی جو اب جھک کر شزا سے مل رہی تھی۔۔۔ تو فائنلی آج ہم اپنی گڑیا کو اپنے سنگ لے ہی جائیں گے۔۔۔
چہک کر کہتی وہ سیدھی ہو کر پلٹی لیکن مرحہ پر نظر پڑتے ہی اسکی ساری مسکراہٹ ایک لمحے میں غائب ہوئی۔۔۔ آنکھوں کے راستے سے دماغ نے شناسائی کی منازل طے کیں تو رشنا کی رنگت خطرناک حد تک زرد پر گئ۔۔۔
پہچان تو مرحہ بھی اسے گئ تِھی لیکن اسکی نسبت مرحہ اپنے تاثرات پر قابو پائے ہوئے تھی۔۔۔
کیا آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتی ہیں۔۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی جانب یوں دیکھتا پا کر بیا نے مداخلت کی۔۔۔
نہیں۔۔۔ یہ ہماری پہلی ملاقات ہے۔۔تعارف تو کروا دو۔۔ رشنا تو حواس باختہ سی مرحہ کو دیکھ رہی تھی جبکہ مرحہ نے ہی بات سمبھالی۔۔
یہ رشنا ہے شزا کی جیٹھانی۔۔۔ اور رشنا یہ مرحہ ہے میری چھوٹی بہن اور شزا کی بڑی بھابھی۔۔۔ تعارف کرواتے وہ مسکرا دی۔۔۔ مرحہ نے مسکراتے ہوئے رشنا کی جانب ہاتھ بڑھایا تو اسکے چہرے کی کچھ رنگت بحال ہوئی اسنے بھی مسکراتے ہوئے مرحہ کا ہاتھ تھاما۔۔۔
وہ وائٹ پیلس کی ایک لڑکی کو بہروز کی بیوی کے روپ میں دیکھ کر شاکڈ تھی۔۔ لیکن ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔۔۔ شاید مرحہ صدیقی بہروز کو ڈیزرو کرتی تھی۔۔۔ رشنا نے اس لڑکی کے دو روپ دیکھے تھے۔۔۔ ایک سب کے سامنے غصے سے اسکے سر پر چادر اتارنے والی لڑکی۔۔۔ اور ایک رات کی تاریکی میں اسے سب کی نظروں سے بچائے وائٹ پیلس جیسی آسیب زدہ جگہ سے باحفاظت نکالنے والی لڑکی۔۔۔ خدا گواہ تھا کہ اگر وہ لڑکی اسکی وائٹ پیلس سے نکلنے میں مدد نا کرتی تو وہ بھی بہت سی معصوم لڑکیوں کی طرح ظلم کا شکار ہو جاتی۔۔۔
تھینک یو۔۔۔ مرحہ اسکے پاس سے گزر کر باہر نکلنے لگی تو رشنا آہستہ سے اسکے قریب جھکتی گویا ہوئی۔۔۔ اسکی بات سن کر مرحہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھی۔۔۔ وہ دونوں ہی آج ایک نئ پہچان سے ایک دوسرے کے ساتھ متعارف ہوئی تھیں بنا کسی گزشتہ حوالے کے اور دونوں کے پرسکون ہونے کو یہ بات کافی تھی۔۔۔۔
میرب۔۔۔ اسے ایک جانب میرب بھاگتی دیکھائی دی تو وہ بے ساختہ اسکی جانب لپکی۔۔۔۔
مرحہ۔۔۔ اسے اپنے پیچھے سے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی تو ٹھٹھک کر رکتی ایک جھٹکے سے پیچھے پلٹی۔۔۔ پیچھے احمر شیخ الجھے تاثرات لئے کھڑا تھا وہ غالباً لڑکے والوں کی طرف سے آیا تھا۔۔ اسے دیکھ کر مرحہ کی نیلی آنکھوں میں حد درجہ حیرت ابھری۔۔۔
مرحہ صدیقی رائٹ۔۔۔ احمر نے مرحہ کو اسکی آواز سے پہچانا تھا اور اب نقاب سے جھانکتی اسکی نیلی آنکھیں دیکھ کر مزید الجھا تھا کہ بھلا مرحہ اور عبایہ۔۔۔ اسی لئے کش مکش میں الجھتا ہوا پوچھ بیٹھا۔۔۔
مسز مرحہ بہروز آفندی۔۔۔ مرحہ اپنے سینے پر بازو باندھتی اعتماد سے اسکی جانب دیکھتی گویا ہوئی۔۔۔ اس تعارف سے ایک پل کو احمر گنگ رہ گیا۔۔۔۔
آئی ایم سوری مرحہ۔۔۔ احمر کے چہرے پر کرب ناک تاثرات ابھرے تھے وہ فوراً نظریں جھکا گیا لیکن پھر بھی وہ اسکی آنکھوں کی نمی محسوس کر چکی تھی۔۔۔
اپنی لائف میں آگے بڑھ جاو احمر جیسے میں بڑھ چکی ہوں۔۔۔ ایک محبت کے پیچھے دنیا ختم نہیں ہوجاتی۔۔۔ دنیا میں سب کچھ ہر کسی کے لئے نہیں ہوتا۔۔۔ میرا اور تمہارا جوڑ کبھی اللہ کے ہاں لکھا ہی نہیں گیا تھا۔۔۔
تم اللہ کی جانب سے میرے لئے ایک وسیلہ بنا کر بھیجے گئے تھے پھر مجھ تک آنے کے لئے راہ جو بھی تھی۔۔۔ مگر درحقیقت تمہیں میرے اللہ نے مجھے اس عقوبت خانے سے نکالنے کے لئے ایک وسیلہ بنا کر بھیجا تھا ۔۔۔ اور یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ تمہاری مدد کے بنا یہ کام ممکن نہیں تھا۔۔۔ تم نے میری بے لوث مدد کی ہے۔۔ جسکے لئے میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔۔ اس لئے تمہیں ایک مشورہ دیتی ہوں کہ شائنہ سے شادی کرلو۔۔۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔ اور سب سے بڑھ کر تم سے بہت محبت کرتی ہے بہت عرصے سے۔۔۔ اور انسان کو جب اپنی محبت نا ملے نا تو کسی اور کو اسکی محبت دے دینی چاہیے۔۔۔ مجھے یقین ہے کے وہ لڑکی تمہیں پھر سے زندگی کی طرف کے آئے گی۔۔ وہ بھی فرش کو گھورتی آہستگی سے گویا ہوئی۔۔۔
مرحہ یہاں آو۔۔۔ بہروز کی آواز پر وہ والا پلٹی ۔۔۔ شزا کو المیر کے سنگ سٹیج پر لا کر بیٹھایا جا چکا تھا جسکے پاس اب سب سٹیج پر موجود فوٹو سیشن کروا رہے تھے۔۔۔ بہروز بھی میرب اور سبحان کے سنگ سٹیج پر موجود اسے وہاں بلا رہا تھا۔۔۔ وہ مسکرا کر انکی جانب بڑھی۔۔۔ احمر نے نم آنکھوں سے لمحہ با لمحہ دور ہوتی اس عظم اور حوصلہ سے لبریز لڑکی کو دیکھا اور آنکھیں مسلتا رخ موڑ گیا۔۔۔ وہ دل سے اس لڑکی کی خوشیوں کے لئے دعا گو تھا جس نے ایک لمبا سفر تپتے ریگستان میں برہنہ پاوں مسافت طے کی تھی۔۔۔ وہ یہاں المیر کے پرزور اصرار پر اسکی بارات کے ساتھ آیا تھا۔۔۔ اسکی دوستی المیر کےساتھ امریکہ میں ہی ہوئی تھی وہ اسی کے پرزور اصرار پر اسکی شادی میں شمولیت کی غرض سے ہی پاکستان آیا تھا۔۔۔ لیکن اب وہ واپس جا کر شائنہ سے رابطہ کرنا چاہتا تھا شاید کہ مرحہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی کہ اسے اب زندگی میں آگے بڑھ جانا چاہیے کیونکہ کسی کے آپ کی زندگی میں رہنے یا نا رہنے سے رندگی رک نہیں جاتی۔۔۔۔
******
مرحہ بہروز کو کئ دنوں تک منانے کے بعد آج سینٹرل جیل میں سلمی سے ملنے آئی تھی۔۔۔ ناجانے کیوں اسکا بہت دل چاہ رہا تھا اس سے ایک مرتبہ ملنے کا جسنے فرعونیت کی انتہا کرتے ناجانے اس جیسی کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کی تھی۔۔۔ کئ راہداریوں سے گزر کر وہ بہروز کے ساتھ مطلوبہ جیل تک پہنچی جو عمر قید کے قیدیوں کے لئے مختص تھی۔۔۔۔ بہروز وہیں کچھ فاصلے ہر کسی اہلکار سے بات چیت کرنے لگا تھا جب وہ سیاہ عبایہ میں ملبوس مضوبوط قدم اٹھاتی آگے بڑھی۔۔۔
سلمی بہت سے قیدیوں کے ساتھ اجتماعی جیل میں قیدیوں کے مخصوص لباس میں جو جگہ جگہ سے میلہ تھا زمین پر بیٹھی تھی۔۔۔ روز روز کی فلنگز اور سکن ٹائٹنگ کے بغیر اسکی سکن ڈھلک کر بوڑھی لگنے لگی تھی۔۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور پپٹری زدہ ہونٹ۔۔۔۔ بال جو کبھی نفاست سے بنائے جاتے تھے اس وقت بے تاحاشہ الجھے ہوئے تھے جسے کئ دنوں سے بنائے ہی نا گئے ہوں۔۔۔ اسے دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ وہ عورت ہے جو کبھی انتہائی کروفر سے رہتی تھی۔۔۔
سلمی۔۔۔ مرحہ کی آواز پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی اور حیرت زدہ سی اٹھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائی سلاخوں تک آئی۔۔۔
پہچانا مجھے۔۔۔ مرحہ تاسف سے گویا ہوئی۔۔۔
مرحہ صدیقی۔۔۔ سلمی حیرت سے شرگوشانہ گویا ہوئی۔۔۔ مرحہ کی آنکحیں اسے سب میں ممتاز بناتی تھیں یہ ہی وجہ تھی کہ نقاب میں ہونے کے باوجود سلمی اسے باآسانی پہچان گئ تھی۔۔۔
ہمم۔۔۔ وہی مرحہ صدیقی جسکی زندگی برباد کرنے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مگر دیکھو جسکے ساتھ اللہ ہو نا پھر کوئی اسکا کچھ نہیں بگھار سکتا۔۔۔ کیوں کیا تم نے ایسا سلمی۔۔۔ کیا مل گیا تمہیں اس سے۔۔۔ ناجانے تم نے مجھ جیسی کتنی لڑکیوں کی زندگی وقتی آسائشات کے لئے برباد کر دیں۔۔۔ ناجانے کس کس کی بربادی کا گناہ تمہارے سر ہے سلمی۔۔۔ ۔۔ انسان کی حقیقت تو یہ ہی ہے کہ وہ بہت بےبس ہے بہت بے بس۔۔۔جب خدا کی لاٹھی پڑتی ہے نا تو بڑے بڑے فرعون کی اکڑ نکل جاتی ہے ۔۔۔ اتنا ہی بے بس ہے انسان۔۔۔ پھر وہ خود کو عقل قل کیوں سمجھتا ہے۔۔۔ کیا سوچ کر قانوں قدرت کے برخلاف چلتاہے۔۔۔ وہ تاسف سے بول رہی تھی اور بولتے بولتے اسکی آواز رھندے لگی تھی۔۔۔ مجھے تمہاری حالت دیکھ کر افسوس ہو رہا ہے۔۔۔ مگر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔۔۔ معافی مانگ لو اپنے رب سے وہ بڑا رحیم ہے۔۔۔
یہ سب تم نے کیا۔۔۔ وہ مرحہ کی بات کاٹتی درشتی سے گویا ہوئی۔۔۔ تم میٹھی چھڑی بنی میری جڑیں کاٹتی رہی۔۔۔ تم نے مجھے برباد کر دیا۔۔۔ مرحہ صدیقی میں تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ تمہیں اس دنیا کے سامنے ذلیل و خوار کرکے رکھ دوں گی۔۔۔ وہ لمحوں میں آپے سے باہر ہوتی چیخ چیخ کر بولتی سلاخوں کے اندر سے ہی ہاتھ نکالتی مرحہ کا گلا دبوچ کر دبانے لگی۔۔۔ بدنام کر دوں گی میں تمہیں۔۔۔ تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑوں گئ کہیں منہ دکھانے لائق نہیں رہو گی تم۔۔۔ ہنگامہ برپا ہوتے ہی کئ اہلکار اس جانب بھاگے جس میں بہروز سب سے آگے تھا۔۔۔ ایک جھٹکے میں بہروز نے اسے سلمی کی گرفت سے آزاد کرواتے اپنے حصار میں لیا۔۔۔
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ
بہروز کے حصار میں وہ بھرائی نگاہوں سے اس عورت کو دیکھتی گویا ہوئی جسکی قسمت میں شاید ابھی بھی ہدایت نہیں تھی۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔ اور وہ ایک الوادعی نظر اپنے حواس کھوتی سلمی پر ڈال کر واپس مڑ گئ آج وہ اپنی زندگی کا پرانا ہر باب بند کر گئ تھی۔۔۔ بہرو اسکا ہاتھ تھامے اسے سرزنش کرتا واپس لے جا رہا تھا کیونکہ وہ اسکے سلمی سے ملنے کے حق میں قطعاً نہیں تھا لیکن وہ اسکی ضد کے آگے مجبور ہو گیا تھا۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بہروز کی ڈانٹ سن رہی تھی۔۔۔ سیاہ عبایہ میں ملبوس وہ اسلام کی شہزادی آج ایک جنگ فتح کئے اپنے ہمسفر کے سنگ اعتماد سے سر اٹھائے جا رہی تھی جس کے وجود سے پھوٹتی ایمان اور توکل کی روشنی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔۔ اسنے اس قید میں محض ایک خواب دیکھا تھا اسکا گھر اسکا شوہر اسکے بچے اور ایک پرسکون زندگی۔۔۔ مگر حالات کی سختیوں اور لوگوں کی ستم ظریفی کے باعث اسنے وہ خواب خود ہی اپنے ہاتھوں سے نوچ پھینکا تھا جسکی چبھتی کرچیاں اسکی آنکھوں کو لہولہان کرتی تھی۔۔۔ مگر وہ اللہ ہے نا جو اس پر ایک ماں سے ستر گنا زیادہ رحیم تھا اسنے اسکے لئے ایسے ایسے راستے استوار کئے تھے کہ اب اگر وہ زندگی کے اس مقام پر کھڑی ہو کر اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے لگتی تو بے ساختہ اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے لگتے۔۔۔ صرف صبر ایمان اور اس رب پر کامل یقین اور توکل نے آج اسے پار لگا دیا تھا اور ایسا پار لگایا تھا کہ اسکی زندگی میں کوئی کسک باقی نا رہی تھی۔۔۔ وہ جھنجھلائے سے بہروز کی بات سنتی کھلکھلا کر ہستی گاڑی میں بیٹھی جبکہ اسکی پھولوں سی شفاف ہسی سنتے بہروز بھی مسکرا دیا۔۔۔
***"*"
ختم شدھ۔۔۔۔
فائنلی آج نم آنکھوں یہ سفر بھی تمام ہوا۔۔۔ جلد ملتے ہیں ایسے ہی ایک نئے ناول اور چند اور کرداروں کیساتھ ۔۔۔ تب تک ام ہانیہ آفیشل فیس بک پیج پر ہمارے ساتھ بنے رہیں تاکے نئے ناول کی اپڈیٹس سے بروقت مستفید ہو سکیں۔۔۔
وسلام
#ام_ہانیہ

No comments