Nam Aankhain novel 9th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 9th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
نویں قسط۔۔۔
فضا میں عجیب سی سوگواریت رچی بسی تھی یا شاید یہ اسکے اندر کا سوگوار ماحول تھا جو باہر کے ماحول پر یاسیت و سوگواریت پھیلا رہا تھا۔۔۔۔
وہ سبز اور سرخ رنگ کے دیدہ زیب عروسی جورے میں ماہر بیوٹیش کے ہاتھوں کئے گئے میک اپ میں غضب دھا رہی تھی بیوٹیشن نے اسکے خوبصورت نین نقوش کو مزید دلکش کر کے اسے ابھار دیا تھا۔
اس پر آج نگاہیں نہیں ٹک رہی تھیں۔۔۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز سر جھکائے مسلسل اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو گھور رہی تھی۔۔۔
ناجانے کیا لکھا تھا ان ہاتھوں کی لکیروں پر۔۔۔ وہ ابھی تک کش مکش کا شکار تھی۔۔۔ دل مختلف طرح کے واہمات میں گرا تھا ۔۔۔
تائی جان کے پزمردہ سنانے پر خاندان بھر میں خوشی کی لہر دور گئ تھی اسکی شادی کی تیاریاں مزید جوش پکر گئیں تھیں مگر اسکے اندر باہر سناٹوں کا راج تھا۔۔۔
ناجانے وہ شخص بارات لاتا بھی یا نہیں اسکی نگاہوں میں اس روز اسنے اجنیت دیکھی تھی۔۔۔ اسکی سوچوں کا محور بس یہ ہی تھا۔۔۔
شہر کے سب سے بڑے ہال میں آج اسکی شادی کا فنگشن ارینج کیا گیا تھا۔۔۔ ہر چیز بہتر سے بہتریں ارینج کی گئ تھی مگر ایسے خوشی کے موقع پر بھی اسکا دل کہیں پاتال میں گرتا جا رہا تھا نیچے کہیں بہت ہی نیچے۔۔۔۔
دفعتاً باہر بارات آنے کا شور اٹھا تو اسنے حیرت سے اپنا جھکا سر اٹھایا تو مطلب وہ اتنا بھی سنگدل نہیں تھا۔۔۔۔
اسے ابھی بھی اسکی عزت کی پرواہ۔۔ وہ ابھی بھی ااکی فکر کرتا تھا۔۔۔
خوبصورت یاسیت بھرے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نے چھب دکھلائی تھی۔۔۔ مسرت سے آنکھیں نم ہو اٹھی تھیں۔۔
دل زور سے ڈھرکا تھا۔۔۔ ہاں وہ اس سے محبت کرتا تھا بے انتہا بے حد و حساب تبھی تو اسے پوری دنیا سے بچا گیا تھا۔۔
وہ اسکی بے وفائی کے باعث سنگدل بنا تھا لیکن وہ اسے منا لے گی۔۔۔ ہاں اسے کچھ بھی کرنا پڑا وہ کرے گئ۔۔۔ وہ اسے یقین دلائے گی اپنی وفاوں کا۔۔۔
وہ اپنی سبھی وفائیں اسکے نام کر دے گی۔۔۔ وہ اسکی تابعدار بن کر رہے گی۔۔۔ وہ اس بہترین شخص کی اتنی اطاعت کرے گی کہ اسکی بے اعتباری پر اعتبار کی چادر چڑھا دے گی۔۔۔
وہ اسکے رنگ میں رنگ جائے گی۔۔۔ اسکی ہر کڑوی کسیلی ہس کر سہہ جائے گی۔۔۔
اسنے جو رشنا کے لئے کیا وہ پوری زندگی بھی اسکا شکریہ ادا کرتی تو کم تھا۔۔
جانتی تھی کہ شروع میں یہ مشکل ہوگا بہت مشکل لیکن وہ صبر سے یہ وقت کاٹ لے گی اسکی بے اعتنائی سہہ لے گی لیکن وہ اسکا دل جیت لے گی وہ پرامید تھی۔۔۔
نکاح نامے ہر دستخط کرتے اسکی آنکھوں میں آنے والی زندگی سے بے خبر سہانے مستقبل کے بہت سے خواب تھے۔۔۔
****
ماربل کے فرش پر اسکی ہیل کی ٹک ٹک دور تک سنائی دے رہی تھی سنہری ساڑھی کا پلو اسکے چلنے سے لہروں کی مانند بل کھا رہا تھا۔۔۔ ارد گرد ہلکے میوزک کا شور وہاں کے ماحول کو عجیب فسوں خیز بنا رہا تھا۔۔۔
راہدری کے آخری سرے پر پہنچ کر اسنے کمرے کے دروازے پر دباو ڈال کر اسے کھولا۔۔۔۔ دروازے کے عین سامنے کاوچ پر مرحہ سر جھکائے بیٹھی تھی چہرا آنسوں سے تر تھا۔۔ سنہری آبشار بکھری پری تھے۔۔ پاوں کے انگوتھے پر تھوکر لگنے سے خون کی ننھی ننھی سی بوندیں اب جم چکی تھی۔۔۔ کھدر کے شکن آلود سوٹ میں آنچل سے بے نیاز اسکا تراشیدہ سراپا غضب ڈھا رہا تھا۔۔۔
دودھ ملائی سی دمکتی رنگت دور سے ہی سب کو اپنی جانب متوجہ کرتی تھی۔۔۔
وللہ۔۔۔ اس لرزہ خیز حسن پر میر عالم کیسے نا قربان جاتا۔۔۔ دروازے کے وسط میں استادہ سلمی کی آنکھوں میں مِرحہ کو دیکھ کر ستائش ابھری ۔۔۔
آواز پر مِرحہ نے آنکھیں اٹھائیں دمکتی رنگت پر نیلی آنکھیں ۔۔۔ سلمی کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔
افف۔۔۔ کہاں چھپا تھا یہ حسن۔۔۔۔
مِرحہ کے آنسوں میں مزید روانی آئی۔۔
آدھے گھنٹے تک اسے دلہن کی طرح سجا کر میر عالم کے سپیشل کمرے میں بھیجو۔۔ وہ ستائشی انداز میں بھنوریں اچکاتی اسکے پاس کھڑی لڑکیوں سے گویا ہوئیں۔۔۔
نہیں۔۔۔ مِرحہ تڑپ کر ہوش میں آئی۔۔۔ دیکھو لڑکی یہاں سے بھاگنے کی کوشیش کر کے تم ایک ناقابل تلافی گناہ کی مرتکب ہوئی ہو۔۔۔ جسکی پاداش میں سزا جھیلتے جھلیتے تمہارا نازک وجود جھلس کر رہ جاتا لیکن شکر ادا کرو کہ تم سیٹھ میر عالم کی منظور نظر ٹھہری ہو اس لئے تمہاری یہ خطا معاف۔۔۔ قدم قدم چلتی سلمی اسکے بمقابل آتی کھلکھلا کر گویا ہوئی۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
خبردار خبردار جو کسی نے مجھے ہاتھ لگایا تو۔۔۔ پاس کھڑی لڑکی نے اسے بازو سے تھام کر کھڑا کرنا چاہا تو وہ بدک کر کاوچ سے اٹھتی ان کی پہنچ سے دور ہو کر انگلی اٹھا کر غرائی۔۔۔
سلمی نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔ ان کے لئے یہ ردعمل کوئی غیر متوقع نا تھا یہاں اکثر ہی نئ آنے والی لڑکیاں یوں ہی شور مچاتی تھیں۔۔۔ وہ انہیں ہینڈل کرنا خوب خوب جانتی تھیں۔۔
اس جگہ آ کر یہاں سے نجات ممکن نا تھی سب کو یہاں کے اصول و قوائڈ کے مطابق زندگی گزارانا ہی پڑتی تھی بس فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ جلد ایڈجسٹ کر جاتیں جبکہ کچھ کی اکڑ تورنے میں انہیں وقت لگتا لیکن اکڑ وہ سبھی کی توڑ دیتی تھی۔۔۔
یہاں اکثر لڑکیاں انکے مختلف جگہ پر پھیلے چھوٹے موٹے کارندے مڈل کلاس بیک گراونڈ کو دھونڈ کر ان میں سے خوبصورت لڑکیوں کو ٹارگٹ کر کے بھیجتے تھے۔۔۔ کچھ پیار محبت کے جال میں پھانس کر گھر سے بھگا کر بیچ جاتے رہی سہی کثر اسکی یونیورسٹی میں پھیلی لڑکیاں غریب گھروں سے آئیں خوبصورت لڑکیوں کو اپنے جال میں پھانس کر پوری کرتیں۔۔۔
جن کی مرحہ کی طرح آگے پیچھے کوئی نا ہوتا انہیں سرے سے ہی اغوا کر لیا جاتا لیکن جن مڈل کلاس فیملی کی خوبصورت لڑکیوں کے پیچھے کوئی نا کوئی ہوتا۔۔۔ انہیں بہانے بہانے سے اپنے ٹھکانوں پر بلا کر انکی فحش تصویروں اور ویڈیوز بنا کر انکے ذریعے انہیں بلیک میل کر کے ان سے اپنے اہداف پورے کروائے جاتے۔۔۔انکے پاس ایسی لڑکیوں کی خوب خوب کمزوریاں ہوتیں اور تب مجبور و بے بس لڑکیاں دنیا کی نظر میں اپنی عزت محفوظ رکھنے کو کمرے کے بند کواروں کے پیچھے انہیں تار تار کرنے پر مجبور ہو جاتیں۔۔۔
ان کا بزنس خوب جما تھا۔۔۔ لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی تو انہیں دبئ اور دوسرے ممالک میں ایکسپورٹ کر دیا جاتا۔۔۔ بظاہر باعزت لوگ اندر سے اتنے گھناونے فعل میں مبتلا تھے کہ کوئی سوچ نہیں سکتا تھا۔۔
انکی جڑیں حد سے زیادہ مضبوط تھیں۔۔۔ ایس ایچ او سے لے کر ایس پی۔۔۔ ایم این اے سے لے کر صنعتکار اور بالان افسران تک انکے تعلقات تھے۔۔۔ جنہیں خوش کرنے کو بروقت سب سے نایاب پیس انکی خدمت میں پیش کئے جاتے۔۔۔
انکے خلاف کوئی ثبوت نا تھا کام اتنی رازداری سے ہوتا کہ وہ لوگ کئ سالوں سے بہت کامیابی سے اپنا یہ دھندا چلا رہے تھے۔۔۔
اپنے مخصوص طریقے سے اسے تیار کرو اور خیال سے اسکے سندر مکھرے پر خراش تک نہیں آنی چاہے۔۔۔ میر عالم کے سامنے یہ بالکل ایسی ہی جانی چاہیے اور ہاں زرا جلدی کیونکہ میر عالم کو انتظار سے کوفت ہے
وہ مرحہ کو نظر انداز کئے ان دو لڑکیوں سے سفاکیت سے کہتی جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس چلی گئ۔۔۔ اسکی ہیل کی ٹک ٹک دور دور تک سنائی دے رہی تھی۔۔ کچھ ہی سیکندز گزرے تھے کہ اس وائٹ پیلس کی درو دیوار نے مرحہ کی دلدوز چیخیں سنی تھیں۔۔۔جو خود کو انکی آہنی گرفت سے چھڑواتی ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہی تھی۔۔۔
*****
آفندی ہاوس کی خوبصورت عمارت پر رات اپنے پنکھ پھیلانے لگی تھی۔۔ سب ڈنر کر چکے تھے ایک وہی تھی جس نے کھانا نہیں کھایا تھا اور اب بھوک لگنے پر اسنے کچن کا رخ کیا۔۔۔ کچھ اور کھانے کا دل نا چاہا تو فریج سے فروٹ سیلڈ نکال کر وہیں شلف کے پاس کھڑی کھڑی کھانے لگی۔۔
اے جنگلی بلی مجھے بھی ایک چائے کا کپ بنا دو۔۔۔ دفعتا وہ اچانک سے کچن میں نمودار ہوا اور اسکے سر پر ایک چیت رسید کرکے بالوں کی لٹ کو مخصوص انداز میں کھینچ کر ایک ہی جست میں کچن کاونٹر پر چڑھ کر بیٹھا اور پاس پڑی گاجروں کی ٹوکری سے ایک سرخ گاجر اٹھا کر کترنے لگا۔۔۔
اسکی اس حرکت پر سیلڈ منہ کی طرف لے کر جاتا بیا کا ہاتھ ٹھٹھک کر ہوا میں معلق رہ گیا۔۔۔ آج کتنے ہی دنوں بعد اسنے یہ حرکت کی تھی ورنہ وہ قول کا پکا تھا اسے تنگ کرنا تو دور شہروز نے اسے مخاطب تک نا کیا تھا۔۔۔ البتہ شزا کے ساتھ اسکا وہی معمول تھا۔۔ گھر میں ہر وقت وہ ادھم مچائے رکھتا کیا ہی بہروز بھیا اور کیا ہی مام یا ڈیڈ حتی کہ وہ دو ننھی معصوم جانوں سے بھی خوب خوب مزاق کرتا انہیں گدگدی کر کے ہساتا۔۔۔ لیکن ایک محض وہی تھی جسے دیکھتے ہی وہ خاموش ہو کر وہ جگہ ہی چھوڑ دیتا۔۔۔ ایسے میں اب یہ سب۔۔۔ وہ جی بھر کر حیران ہوئی
بیا کی اسکی جانب پشت تھی۔۔۔ آہستہ سے پلٹ کر اسنے نافہم نگاہوں سے شہروز کو دیکھا۔۔۔ بیا پر نظر پڑتے ہی اسکی ساری شوخی ہوا ہوئی۔۔ اسے زور کا اچھو لگا۔۔۔ منہ میں کتری گاجر حلق میں پھنستی محسوس ہوئی۔۔۔
سوری مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ آپ ہیں۔۔ میں سمجھا شاید شزا ہے۔۔۔
فورا ہی کچن کاونٹر سے اترتا وہ سنجیدگی سے معذرت خواہاںہ انداز میں کہتا کچن سے نکل گیا۔۔۔
بیا کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔ وہ فطرتاً ہی شوخ و چنچل تھا۔۔۔ وہ ہی شاید اسے غلط سمجھی تھی اور تو اور خالہ سے بھی اسے کس قدر ڈانٹ پروا دی تھی اسنے۔۔۔
باول واپس فریج میں رکھ کر اسنے بعجلت چائے بنائی اور چائے کپ میں چھان کر کچھ سوچتی ہوئی اسکے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
کمرے کے بارے کھڑے ہوکر اسنے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس اندر کھینچا اور ہچکچا کر دروازے پر دستک دی۔۔۔
اجازت ملنے پر اندر داخل ہوئی تو وہ جو صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا اسے دیکھ کر جی بھر کر حیران ہوا۔۔۔
آپ۔۔۔ خیریت۔۔۔
یہ چائے۔۔۔ بیا نے ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ اسکے پاس میز پر رکھا۔۔۔
آپ نے خوامخواہ تکلف کیا ابیہا میں نے آپ کو شزا سمجھ کر کہا تھا۔۔۔ اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ دوبارہ لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا۔۔
کوئی کام ہے کیا۔۔۔ جب کافی دیر تک بیا وہیں کھڑی انگلیاں چٹخاتی رہی تو وہ مجبوراً اسکی جانب پھر سے متوجہ ہوا۔۔۔
سوری۔۔۔ وہ آہستہ سے منمنائی۔۔۔
شہروز نے بھنور اچکائی۔۔
سیرسلی۔۔۔ پر کس لئے۔۔ وہ لیپ ٹاپ پیچھے کرتا دونوں ہاتھ سر کے پیچھے باندھ کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتا شریر ہوا۔۔۔
کم کم ہی ممکن تھا کہ شہروز زیادہ تر سنجیدہ رہ پاتا۔۔۔
اس روز میری وجہ سے آپکو خالہ سے ڈانٹ پڑی۔۔۔ چہرا جھکا رکھا تھا اسے حد سے زیادہ شرمندگی محسوس ہوئی۔۔۔
اس میں تو کوئی شک نہیں ڈانٹ تو تمہاری وجہ سے ہی مجھے پڑی تھی پر خیر جاو کیا یاد کرو گی کہ کس سخی سے پالا پڑا ہے۔۔۔
وہ شاہاں انداز میں سیدھا ہوتا ایک ادا سے گویا ہوا۔۔۔ بیا ہلکا سا مسکرائی۔۔
یہ رکھ لیں آپ۔۔۔ آپکا بہت بہت شکریہ۔۔۔ اسنے جھجھکتے ہوئے مٹھی میں بند مڑے تڑے چند نوٹ اسکی جانب بڑھا۔۔
وہ لمحوں میں سمجھ چکا تھا کہ یہ کس لئے تھے اسے سنجیدگی سے دیکھتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
یہ کس لئے۔۔۔ سمجھنے کے باوجود اسنے استفسار کیا۔۔۔
یہ وہ دو سو پچاس روپے جو اس روز آپ نے رکشے والے کو دیئے تھے دراصل اس روز میرے پاس پیسے نہیں تھے ورنہ آپکو کبھی نا کہتی۔۔۔
سر جھکا کر ہونٹ چباتی وہ ضبط میں ہلکان تھا۔۔۔
اسکی ضرورت نہیں ہے بیا اس روز میں محض تمہیں تنگ کر رہا تھا وہ اداسی سے مسکرایا۔۔۔
پلیز ایسا مت کہیں یہ رکھ لیں۔۔۔ میں جانتی ہوں کہ رقم تو بہت چھوٹی ہے لیکن میری عزت نفس کا سوال ہے۔۔۔ مانا کہ ابھی میں آپ سب کے رحم و کرم۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔ بات کرتے اسکی آواز بھیگنے لگی تھی اس سے پہلے کہ وہ احساس کمتری کے احساس تلے کوئی فضول بات کرتی وہ سرعت سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔
اسکی چھٹی حس بہت تیز تھی۔۔ بات کرنے والے کے انداز سے فورا ہی اسکی اگلی بات بھانپ جاتا۔۔۔
اب تو ہماری صلح ہوگئ ہے نا تو اسی خوشی میں چلو پھر ان پیسوں سے ہمیں آئسکریم کھلاو۔۔۔
وہ اس سے پیسے نہیں لے سکتا تھا یہ اسکی غیرت کو گوارا نہیں تھا کہ گھر کی عورتوں ہر خرچ کیے پیسے واپس لیتا۔۔۔ اس روز بھی اسکی نیت پیسے واپس لینے کی نا تھی۔۔۔ بلکہ وہ تو عادت سے مجبور اسے محض تنگ کر رہا تھا۔۔ اسی لئے اب بیچ کی راہ نکالتا گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے نا چلو پھر ابھی چلتے ہیں۔۔۔ وہ بنا پیسے تھامے اسکا وہی ہاتھ تھام کر جلدی جلدی کا شور مچاتا کمرے سے باہر نکلا۔۔۔
اسکی اس قدر جرات پر بیا ارے۔۔ ارے ہی کرتی رہ گئ۔۔۔
اے بھاگڑ بلی چلو آو آئس کریم کھانے چلیں۔۔۔
لاوئنج میں آتے ہی وہ شزا کو صوفے پر ماں کے ساتھ بیٹھا باتیں کرتا دیکھ اونچی آواز میں گویا ہوا۔۔۔
شزا کیساتھ ساتھ ماں نے بھی حیرت سے اسے دیکھا جو بیا کی بازو تھامے اسے کھینچتا اپنے ساتھ ان تک لا رہا تھا۔۔۔
کیا مام۔۔۔ ایسے مت دیکھیں۔۔ تنگ نہیں کر رہا آپ کی بھانجی کو صلح ہوگی ہے ہماری اور اسی خوشی میں ہم آئس کریم کھانے جا رہے ہیں کیوں بیا۔۔۔ بتاو مام کو۔۔۔ کیوں مجھے جوتے پڑوانے کا ارادہ ہے ظالم لڑکی۔۔۔
ماں کو یوں اپنی طرف تکتا پا کر وہ اپنی صفائی دیتا آخر میں دہائی دینے لگا۔۔۔
اسکی حرکتوں پر بیا بے ساختہ کھلکھلا دی۔۔۔ شازمہ بیگم نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ بچی زندگی کی طرف واپس آ رہی تھی وہ اسکے لئے خوش تھی۔۔
صحیح احتجاج تو اسنے اس وقت بلند کیا جب آئس کریم کھانے کے بعد وہاں پیمنٹ شہروز نے خود کی لیکن اسکے واویلے کے جواب میں شہروز محض کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔۔
اب جب ہم دوست بن ہی گئے ہیں تو دوستوں میں کوئی میرا تیرا نہیں ہوتا۔۔۔ واپسی کے راستے پر گامزن وہ عام سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔ بیا اسے صرف دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
******
No comments