Header Ads

Nam Aankhain novel 10th episode by Umme Hania


 

   

 Nam Aankhain novel 10th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

دسویں قسط۔۔۔
مختلف طرح کی رسومات کے بعد اب کہیں جا کر اسکی جان خلاصی ہوئی تھی۔۔ 
تائی جان ناجانے کون کونسی رسمیں کرتیں اپنے چاو پورے کر رہیں تھیں۔۔۔۔ وہ تو بار بار اسکی بلائیں لیتیں نا تھکتی تھیں۔۔۔ اور وہ جسکے نام سے وہ منسوب ہوئی تھی وہ اینوی نہیں ہر دلعزیز تھا ۔۔۔
وہ واقعی اس قابل تھا کہ لوگ اسے آنکھوں کا تارا بناتے اسکی جس نرم گفتار اور اقدار کی پاسداری سے اکتا کر رشنا نے باہر دل لگی کی تھی آج اسکی وہی خصوصیات و خوبیاں اسے سرخرو کروا گئیں تھیں۔۔۔ وہ معترف ہو گئ تھی اس شخص کی اچھائیوں کا۔۔۔ 
دل میں تو وہ پہلے ہی گھر کر چکا تھا اب تو جیسے روم روم میں بسنے لگا تھا۔۔۔
پوری تقریب کے دوران مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے وہ اسکے ہر رشتے سے ملتا رہا۔۔۔ اپنے چچا جان سے وہ پہلے والا وہاب بن کر ہی ملا تھا۔۔۔ تقریب کی ہر ہر رسم پر دلگرفتی سے ہی سہی پر بھرپور دلچسپی لیتا وہ وہاں موجود ہر شخص کے دل میں پنپتے خدشات کا سر کچل گیا تھا۔۔۔
اسکے اندر دل کا ماحول چاہیے جیسا بھی تھا مگر اسنے اسکا شائبہ تک بھی چہرے پر چھلکنے نا دیا تھا۔۔۔ 
اب بھی اسے اسکے سبھی اپنوں کی دعاوں کے سائے تلے رخصت کروا کر وہ بڑی شاں سے اسے اپنے گھر لایا تھا۔۔۔گویا مجبوری بھی ذمہ داری سمجھ کر نبھا رہا ہو۔۔۔
لیکن یہاں پر آ کے اسنے بڑی شائستگی سے کسی بھی قسم کی رسم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا اور اہم فون کال کا کہہ کر وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ تب سے رشنا نے اسے دوبارہ نہیں دیکھا تھا۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی تائی ماں اسے اسکے کمرے میں چھوڑ کر گئ تھیں اور وہ تب سے نروس ہوتی مسلسل انگلیاں چٹخا رہی تھی۔۔۔
ناجانے وہاب کا رویہ کیسا ہوتا۔۔  اب تک تو اسنے سب کے سامنے اسکا خوب مان برقرار رکھا تھا ناجانے تنہائی میسر آتے ہی وہ کیا کرتا۔۔۔
اے کاش وہ اس رشتے کو دل سے قبول کر لے۔۔۔ مجھے اور میری نادانیوں کو بھول جائے۔۔۔
اسے تو یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے وہاں بیٹھ کر وہاب کا انتظار کرنا چاہیے تھا یا اٹھ کر چینج کر لینا چاہیے تھا۔۔۔ کیونکہ بحرحال جو بھی ہوا ہو یہ شادی نارمل شادی نا تھی بلکہ سمجھوتا تھا۔۔ 
اس سے پہلے کہ وہ چینج کرنے کی نیت سے بیڈ سے اترتی دفعتاً ایک کلک کی آواز سے کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔ رشنا چونک کر سیدھی ہوئی۔۔۔ سر خودبخود جھک گیا۔۔۔۔
ایک سنجیدہ نظر اسے روایتی دلہنوں کی طرح بیڈ کے وسط میں سر جھکائے بیٹھا دیکھ وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا۔۔۔
کیا تمہیں واقعی لگتا ہے رشنا کہ تمہیں یوں میری سیج سجا کر یہاں  بیٹھنا چاہیے تھا۔۔۔ اسنے اپنی کلائی سے رسٹ واچ اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی۔۔۔ سرد لہجہ اسکی رگوں میں دورتے خون تک کو جمانے لگا۔۔ خوش گمانی کے بلبلے پھوٹنے لگے تھے۔۔۔
تو گویا وہ سب اداکاری تھی اسکا بھرم رکھنے کو۔۔۔ اور اب تنہائی میں اسکی ضرورت نا رہی تھی۔۔۔
تو بلآخر تمہاری ضد جیت گئ رشنا میں ہار گیا۔۔۔ حالانکہ میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔۔ میں تمہیں اپنے ساتھ اس نام نہاد رشتے میں باندھ کر اپنا پابند بنانا نہیں چاہتا تھا رشنا وہ بھی تب جب میرا دل خود اس رشتے کو بنانے پر آمادہ نہیں تھا۔۔۔
میں جانتا تھا کہ میں تمہیں کچھ نہیں دے پاوں گا اسی لئے تمہیں خود سے دور رکھنا چاہتا تھا۔۔۔
ضبط کے آخری مراحل کو چھوتا وہ ناپ تول کر الفاظ ادا کرتا نہایت کرب میں لگتا تھا۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا وہ بیڈ تک آیا چال میں واضح شکستگی تھی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے رشنا مرد اگر بد کردار بھی ہو نا تو وہ اپنے لئے اپنی ہمسفر اعلی کردار کی چاہتا ہے جانتی ہو کیوں وہ اسکے پاس ہی بیڈ پر پائنتی کی جانب نیم دراز ہوتا کہنی بیڈ پر جمائے ہاتھ کی ہتھیلی پر سر رکھتا کسی نادیدہ نقطے کو دیکھتا بول رہا تھا۔۔
رشنا نے جھلملاتی نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ 
کیونکہ اس عورت کے بطن سے اسکی نسل نے پروان چڑھنا ہوتا ہے۔۔۔ وہ اسکی نسل کی امین ہوتی ہے۔۔۔ اس لئے وہ اس معاملے میں اپنا معیار بہت بلند رکھتا ہے لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے۔۔۔
میں نے تو خود کو بہت سینچ سینچ کر رکھا تھا اپنی ہمسفر کے لئے۔۔۔میں نے تو اپنے خالص جذبے ابھی تک اپنی ہمسفر کے لئے بچا رکھے تھے۔۔۔اسکے لفظوں سے واضح یاسیت ٹپک رہی تھی۔۔۔ 
دیکھو رشنا یہ رشتہ تمہاری  ضد کے باعث بندھا ہے جو تب تک قائم رہے گا جب تب تم چاہو گئ جیسے ہی حالات کچھ سازگار ہوئے یا تمہیں کوئی اپنے لئے مناسب جوڑ لگا تو خدارا یہ میرے جڑے ہاتھوں کی لاج رکھنا سیدھا میرے پاس آنا میں تمہیں اس نام نہاد رشتے سے رہائی دے کر خود تمہاری شادی وہاں کرواوں گا لیکن خدارا۔۔۔خدارا میرے سر پر خاک مت ڈالنا ۔۔ میری عزت کی لاج رکھ لینا۔۔  اگر میں نےابھی تک تمہارا بھرم قائم رکھا ہے تمہاری عزت کا سانجھی بنا ہوں تو تم میرا بھی بھرم رکھ لینا۔۔  میری عزت کی سانجھی بن جانا کم از کم تب تک جب تک تمہاری ذات مجھ سے وابسطہ ہے۔۔۔ خدارا مجھ سے دلبرداشتہ ہو کر دوبارہ پھر سے کسی کے میٹھے بولوں کی اسیر ہوتی اسکے جال میں مت پھنس جانا۔۔۔ 
اس رشتے کے حوالے سے میری تم سے محض یہ ہی توقع وابسطہ ہے خدارا مجھے غلط ثابت مت کرنا۔۔۔ وہ حقیقتاً اسکے سامنے ہاتھ جوڑتا اسے لاجواب کر گیا تھا۔۔۔
ڈھر ڈھر ڈھر۔۔۔گویا پورے کمرے کی چھٹ اسکے سر پر آ گری تھی
وہ بس ساکت سی پتھرائی آنکھوں سے اسے تک رہی تھی۔۔۔ سٹل منجمند۔۔۔ اس پر کسی مجسمے کا گمان ہونے لگا تھا۔۔۔ اسقدر بے اعتباری۔۔
اور اس بے اعتباری کی ذمہ دار کون ہے۔۔۔ اندر کوئی اس پر ہسا تھا۔۔۔ اسے اپنے جذبات و احساسات تک منجمند ہوتے محسوس ہوئے۔۔۔
بولنے کو کچھ بچا ہی  نا تھا۔۔۔ الفاظ اپنی موت آپ مر گئے تھے۔۔۔
رشنا کو لگا وہ کبھی زندگی میں بول نہیں پائے گئ۔۔۔
میں شادی کر چکا ہوں رشنا۔۔۔ عام سے انداز میں کہی گئ بات پر رشنا نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ اسے لگا تھا وہ پتھر کی ہوگئ ہے لیکن اس خبر سے جیسے اسکے اندر ایک گلیشیئر پھٹنے کو تھا۔۔۔۔
میں کبھی تمہیں مظلوم ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ کبھی تم سے یہ بات نہیں سنا چاہتا تھا کہ میں تم پر سوتن لایا ہوں۔۔۔ حالانکہ تم اس رشتے کی اصلیت جانتی ہو لیکن تب بھی نہیں۔۔۔ 
اس لئے ہمیشہ یاد رکھنا کہ وہ میری پہلی بیوی ہے دوسری عورت وہ نہیں تم ہو۔۔۔
تم اس پر سوتن آئی ہو وہ تم پر نہیں۔۔۔ سفاکیت کی اگر کوئی انتہا تھی تو وہ اس وقت وہاب درانی کر رہا تھا یا شاید یہ اسے ہی محسوس ہو رہا تھا کیونکہ وہ بھول گئ تھی کہ اسکی بے وفائی اس مخلص شخص کو تورتے اسے اس سے بھی زیادہ اذیت سے دوچار کر گی تھی۔۔۔ اب خود پر آئی تو اسے سفاکیت یاد آگی تھی۔۔۔ جو بھی تھا مگر حقیقت تو یہ ہی تھی کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا بوجھ اٹھاتے وہ ابھی سے لہولہاں ہونے لگی تھی
گلیشیر پھٹنے کو تھا۔۔۔ اسے اپنے اندر دل کٹتا محسوس ہوا جس سے قطرہ قطرہ خون رسنے لگا تھا۔۔۔ کاٹے جانے کا وہ عمل تکلیف دہ تھا۔۔۔ نہایت اذیت ناک۔۔۔۔ اذیت برداشت سے باہر تھی۔۔۔ اسکی تکلیف برداشت کرتی سسکیوں کا گلہ گھونٹے میں وہ ادھ موئی ہوتی جا رہی تھی۔۔ دانتوں پر دانت سختی سے پیوست کئے ہوئے تھے۔۔۔ ضبط میں ہلکان گلے کی نسوں میں کھنچاو پڑںے لگا تھا۔۔۔ اندر رستے خون نے باہر کا رستہ لینا چاہا۔۔۔
بڑی شدت سے آنکھوں کی کنارے سرخ ہونے لگے تھے۔۔۔ 
ہمیشہ یاد رکھنا کہ تم۔۔۔۔
اور بس۔۔۔ اسکی برداشت یہیں تک تھی۔۔۔ گلیشئر پھٹ گیا تھا۔۔۔ ناقابل برداشت اذیت نے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیا تھا۔۔۔
ضبط کے سبھی بندھن توڑتے وہ یوں ٹوٹ کر بکھری تھی کہ کچھ سخت کہنے کو لب کھولتا وہاب وہیں لب بھینچ گیا۔۔۔
دل کا ہر درد آنکھوں کے رستے رسنے لگا تھا۔۔۔ بیڈ شیٹ مٹھیوں میں جکڑے سر جھکا کر سسکتی وہ اپنی ہر ہر نادانی پر پشیمان تھی۔۔۔ نادانی یا بے لگام خواہشیں۔۔۔ اندر کسی نے جھنجھوڑا تھا۔۔۔
کاش کاش۔۔۔ کاش وہ وقت کا پہیہ موڑنے پر قادر ہوتی۔۔۔ کاش وہ اپنے بہکتے قدم روک پاتی۔۔۔ کاش وہ کبھی اس شخص سے بات کرنا شروع نا کرتی۔۔۔
ٹھیک کہتا تھا وہ شخص وہ اپنے قیمتی جذبات کسی سستے عاشق پر وار چکی تھی۔۔۔ 
کیوں اسنے ان خوشنما باتوں کو یست کا حاصل سمجھا۔۔ وہ اسکی منگیتر تھی پھر کیوں رات رات بھر کسی اور سے باتیں کرتی اسکے خواب سجاتی رہی۔۔۔ یہ مکمل شخص تو پہلے بھی یہ ہی تھا۔۔ اتنی ہی شدت سے اسکا طلبگار تھا پھر اسکے پاس وہ آنکھ پہلے کیوں نا تھی جس سے وہ اب اسے دیکھ سکتی تھی۔۔۔
کون تھی وہ خوش قسمت جسے اسنے اپنی زندگی میں شامل کیا پورے دل کی رضا کیساتھ۔۔۔
اسنے کیوں خسارے کا سودا کیا۔۔۔ کیوں اس نام نہاد عاشق کیساتھ باپ کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔
اس شخص سے کیسا شکوہ۔۔۔ وہ تو پل پل اس کے لئے گنا سایہ دار شجر بنا رہا تھا۔۔۔ اس سے یہ اذیت سمبھالی نا جا رہی تھی جو اگر دنیا کو اس کی اصلیت پتا چل جاتی تو کیسے جیتی وہ۔۔۔
وہ ستمگر تو اسکا محسن تھا۔۔۔ ہاں وہ حق رکھتا تھا اپنے لئے بہتریں فیصلے کا لیکن اس کے باوجود بھی پھر دل میں درد کیوں جاگ رہا تھا۔۔ 
اسے یوں بکھرتا دیکھ وہاب خاموشی سے وہاں سے اٹھا اور ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ اسکے پاس اس سے کہنے کو اب کچھ نا تھا۔۔۔
سہانے مستقبل کے خوشنما خواب پانی پر بلبلے کی مانند ثابت ہوئے تھے۔۔۔ وہ جو ہر دم وہاب کی خدمت گزاری و فرمابردای کے ذریعے اسکا دل جیتے آئی تھی وہ عہد اب کہیں ہوا میں تحلیل ہو گیا تھا۔۔۔ پیچھے رہ گئ تھی تو محض ایک ہی بازگشت۔۔۔ میں شادی کر چکا ہوں۔۔۔ 
*****
کافی دیر تک دل کا غبار آنکھوں کے ذریعے ہلکا کر لینے کے بعد وہ دلگرفتہ سی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ چلتی چلتی وہ سنگار میز تک آئی اور آئنے میں نظر آتے اپنے عکس سے اسے اپنی ہی نگاہین ہٹانا محال لگا۔۔۔ بیوٹیشن نے اسے خوب خوب نکھارا تھا۔۔
مگر فائدہ اس دلکش روپ کا۔۔ بیوی تو وہی جو پیا من بھائے۔۔۔ آج وہ مان گئ تھی کہ عورت کی عزت سفید چادر کی مانند ہوتی ہے جس پر چھوٹا سا داغ بھی نمایاں ہو کر بدنما دھبہ لگتا ہے جسے جتنا بھی دھو لو وہ اپنا نقش نہیں چھوڑتا۔۔۔ بھلے ہی اسکی عزت محفوظ رہی تھی مگر کردار کی شفاف چادر پر داغ تو لگ گیا تھا جسے جتنا بھی رگڑ لیتی وہ بدنما دھبا ہی لگتا۔۔۔ کاش یہ باتیں جو ہمیشہ سن کر سر پر سے گزار دیتی تھی کاش کہ انکی افادیت سے پہلے ہی واقف ہو جاتی۔۔۔
اپنے عکس پر نگاہیں جمائے اسنے ایک ایک کر کے سارے زیوارت اتارے اور ایک آرام دہ سوٹ لے کر واش روم میں گھسی۔۔۔
کپڑے بدل کر اور رگڑ رگڑ کر چہرا دھو کر اپنے اوپر سے اس تقریب کے سارے نقش مٹا دینے کے بعد  واپس کمرے میں آئی تو ڈریسنگ روم کا دروازہ ہنوز بند تھا۔۔۔
وہ تھکے تھکے قفم اٹھاتی بیڈ تک گئ اور بستر پر دراز ہوتی آنکھوں پر بازو رکھ گئ۔۔۔ 
دماغ میں چٹاخے بج رہے تھے۔۔۔ جسمانی تھکن سے زیادہ اعصابی تھکن نے اسے توڑ دیا تھا۔۔۔ کندھوں اور سر پر ِبھاری بوجھ محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ کھانا اسنے دوپہر کا کھایا تھا شاید اسی لئے بھی نقاہت کچھ زیادہ ہو رہی تھی لیکن وہ بے حس بنی لیٹی رہی۔۔۔ ایسے ہے تو ایسے ہی صحیح وہ خود اذیتی کی انتہا پر تھی۔۔۔
دفعتاً کمرے میں موبائل فون کے بجنے کی آواز گھونجی۔۔۔ وہ تب بھی ٹس سے مس نا ہوئی جانتی تھی کہ یہ اس کے موبائل کی رنگ ٹیون نہیں جسکی تھی وہ خود ہی جانے۔۔۔۔
سینٹر ٹیبل پر پڑا وہاب کا فون چنگاڑ چنگاڑ کر بند ہو گیا تھا۔۔۔ 
دفعتاً وہاب ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔ رشنا نے آنکھ کی جھری سے اسے دیکھا وہ شیروانی کی بجائے آرام دہ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا۔۔۔ اس میں اسکی دراز قامت مزید نمایاں ہو رہی تھی۔۔۔ تیکھے مغرور نقوش اس وقت تنے ہوئے تھے۔۔ اسے دیکھ دل سے ایک مرتبہ پھر سے ہوک اٹھی۔۔۔
دفعتا ایک مرتبہ پھر سے موبائل چنگارا۔۔۔ اسنے سرعت سے میز سے موبائل اٹھایا۔۔۔
سکرین پر بلنک کرتا نمبر دیکھ اسکے چہرے پر ایک مبہم سی مسکراہٹ ابھری۔۔۔
اسنے ایک نظر رشنا کی جانب دیکھا اور وہیں صوفے پر زرا پرسکون ہو کر بیٹھے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگایا۔۔۔
جی اسلام علیکم۔۔۔ کیسے مزاج ہیں جناب کے۔۔۔ چہرے پر موجود کچھ دیر پہلے کے تناو کی جگہ شگفتگی نے لے لی تھی۔۔۔چاشنی بھرا لہجہ اور مبہم مسکراہٹ۔۔۔ بیڈ پر دراز رشنا کے جسم میں ایک برقی رو گزری۔۔۔ اسکے سبھی اعضا کان بن گئے۔۔۔
ارےےےے۔۔۔ کیا ہو گیا ہے یار۔۔۔ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں باہر گارڈ تعینات ہے اور میں نے میڈ سے بھی بولا تھا آپ کے پاس رات رکنے کو کیا وہ نہیں آئی۔۔۔ اسکا انداز خاصہ فکرمندانہ تھا۔۔۔ وہ غالباً رشنا کو سوتا سمجھا تھا تبھی تو وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگا تھا۔۔۔۔۔
رشنا جو سمجھ رہی تھی شدت سے دعا گو تھی کہ ویسا نا ہو۔۔۔
پھر کیا پرابلم ہے یار ایک دو دن مینج کر لیں نا پھر تو میں آ ہی جاو گا۔۔۔ وہ خاصا پرسکون سا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے نیم دراز سا محو گفتگو تھا۔۔۔
اچھا آپ نے کھانا کھایا۔۔۔ یکدم یاد آنے پر وہ چونک کر گویا ہوا۔۔۔ رشنا کا دل کرلا اٹھا ۔۔۔ کاش وہ اسے سونے کا تاثر نا دیتی تو یقیناً وہ وہاں بیٹھ کر یوں اس سے باتیں نا کر رہا ہوتا۔۔۔
او ہو روحا کیا کرتی ہیں آپ ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔۔۔ وقت دیکھا ہے آپ نے کیا ہوگیا ہے۔۔۔ زرا احساس نہیں آپکو اپنا۔۔۔ فوراً اٹھیں اور کھانا کھائیں۔۔  ماتھے پر بل لاتے وہ خاصا جھنجھلایا۔۔۔
نہیں پہلے سب چھوڑیں اور کچن میں جائیں۔۔۔ وہ برہمی سے گویا ہوا۔۔۔
اچھاااا جی۔۔۔ چلیں یہ دو دن تو اپنا خیال رکھ لیں نا آ جاوں گا تو آپکے نازنخرے بھی اٹھا لوں گا۔۔۔ یکدم ہی اسکے چہرے پر پھر سے شگفتگی پھیلی ۔۔۔ 
رشنا کو دوسری طرف کی آواز نہیں آ رہی تھی وہ صرف وہاب کی باتوں سے ہی انداز لگا پا رہی تھی۔۔
میں ں ں۔۔۔ کوشیش تو پوری ہے کہ کل رات یہاں سے نکل آوں کل رات نا آسکا تو پرسوں صبح تو انشااللہ آپکے پاس ہوں گا۔۔ اچھا اب آپ کچن میں پہنچ گی یا نہیں۔۔ بات کرتا کرتا وہ بالکنی میں نکل گیا تھا۔۔۔ اسکے دور ہوتے ہی فاصلہ زیادہ ہونے کیساتھ آواز کا رابطہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ دو آنسو رشنا کی بند آنکھوں سے نکلتے کنپٹیوں میں جذب ہو ئے۔۔۔ لیکن اب انکا تو شاید رشنا کے ساتھ زندگی بھر کا ناطہ تھا۔۔۔
صبح تک وہ تیز بخار میں پھنک رہی تھی۔۔۔ جسمانی تھکاوٹ کیساتھ ساتھ ذہنی تھکاوٹ زیادہ کاری تھی۔۔۔ اسے بس مٹا مٹا سا سب یاد تھا۔۔۔ تائی جان کا اسکی تشویش میں اسے اٹھانا۔۔۔ ڈاکٹر بلوا کر چیک آپ کروا کر سہارے سے ناشتہ کروانا۔۔۔ وہ نیم گنودگی کی کیفیت میں تھی ۔۔۔ دوپہر تک بخار کا کچھ زور ٹوٹا تو ولیمے کے لئے اسے تیار کرنے کو بیوٹیش گھر ہی بلا لی گئ تھی۔۔۔ اسکی حالت دیکھتے تائی تو ولیمہ منسوخ کرنا چاہتی تھی مگر عین وقت یوں تقریب منسوخ کرنا بھی بہتر نا تھا سو اتفاق رائے سے ولیمہ کی تقریب کو مختصر کر دیا گیا۔۔۔
مضحمل سی رشنا نے اس ستم گر کو عین تقریب کے موقع پر دیکھا تھا بلیک پینٹ کوٹ میں اسکی شخصیت مزید نمایاں ہو رہی تھی۔۔۔وہ ہر کسی سے بھرپور انداز میں مل رہا تھا۔۔ کھانا کھانے کے بعد فوراً ہی رشنا کو واپس گھر لے آیا گیا۔۔ اور پھر ناجانے اسنے گھر میں سب سے کیا کہا تھا جو وعدے کے عین مطابق اسی شام وہاں سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گیا جہاں اسکی جاب تھی اور اب تو شاید سب سے اہم وجہ بھی۔
******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4