Nam Aankhain novel 11th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 11th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
گیارہویں قسط۔۔۔
آج کا دن خاصا روشن تھا۔۔۔ البیلی صبح میں چمکتے سورچ کی کرنیں چار سو روشنی بکھیرتیں صبح ہونے کا سندیس دے رہی تھیں۔۔ ایسے میں آفندی ہاوس میں بھی صبح کی مصروفیات جاری و ساری تھیں۔۔ وہی جانا پہچانا سا منظر تھا۔۔۔ شازمہ بیگم ملازموں کے سر پر کھڑی ہر کسی کی پسند کا ناشتہ بنوا رہی تھیں ابھی کچھ ہی دیر میں وہاں ہر کوئی ہربونگ مچاتا جلدی جلدی کا شور کرتا آنے والا تھا۔۔۔
بس سارے منظر میں ایک اہم اضافہ تھا ہرہر پل شازمہ بیگم کی ہر کام میں مدد کرواتی انکی بیا۔۔۔
جو اب بھی لاوئنج کے صوفے پر بیٹھی ٹوئن پرام میں لیٹے سبحان اور میرب کو دودھ پلا کر انکا چہرا صاف کرتی ان سے کھیل رہی تھی۔۔۔
شازمہ بیگم نے مسکرا کر یہ منظر دیکھا۔۔۔ اس منظر کے حوالے سے انہوں نے کچھ بہت خاص سوچ رکھا تھا۔۔۔۔ بس کسی بھی طرح بہروز کو منانا ضروری تھا اور وہ پر امید تھیں کہ وہ کیسے بھی کر کے اسے منا ہی لیں گی۔۔۔
آجاو بیا بیٹا بچوں کی پرام بھی یہیں لے آو۔۔۔ شازمہ بیگم ملازمہ کو ناشتہ لگانے کا کہہ کر خود ڈائینینگ ٹیبل کی جانب بڑھیں تو ساتھ میں اسے بھی آواز لگائی۔۔۔
جی خالہ آئی۔۔۔ اسنے فیڈروں پر کیپ چڑھائی اور مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ پرام کے ہینڈل پر زور ڈال کر اسکا رخ اپنے سامنے کیا کہ دفعتاً اوپر سے شہروز اپنے مخصوص حلیے نیوی بلو پینٹ اور ڈریس شرٹ کی بازو پیچھے موڑے گیلے بالوں کو اچھے سے سیٹ کئے سفید اوور آل پہنے ہشاش بشاش سا نیچے آتا دیکھائی دیا ۔۔۔
وہ خوشگوار حیرت سے اسے دیکھتی وہیں ٹھٹھک کر رکھی۔۔۔
خیریت۔۔۔ وہ اسکا ٹھٹھکنا اور محویت نوٹ کر چکا تھا تبھی سیدھا اس کے پاس آتا بھنور اچکا کر گویا ہوا۔۔۔
آپ ڈاکٹر ہیں۔۔۔ وہ واقعی حیران تھی۔۔۔
اس بات پر تو ابھی ہمیں خود بھی شک ہے اتنے نان سیریس شخص کا پروفیشن اتنا سیریس۔۔۔ یونیفارم میں ملبوس انہی کیطرف آتے بہروز نے غالباً بیا کی بات سن لی تھی تبھی مسکرا کر کہتے وہ پرام میں موجود دو ننھی جانوں پر جھکا۔۔۔
بیا نے مسکراتے ہوئے یہ منظر دیکھا۔۔۔ بچوں پر جھکے وہ باری باری دونوں کو پیار کر رہا تھا بچے بھی اسے دیکھ کر کھلکھلا اٹھے۔۔۔ اسنے میرب کو گود میں اٹھایا تو سبحان بھی دھواں دار رونے لگا۔۔۔۔
ارے۔۔۔رے اٹھا رہا ہوں تمہیں بھی اسنے مسکراتے ہوئے دونوں بچوں کو دونوں بازوں میں بھرا۔۔۔
کیوں کیا تمہیں بھی بھیا کیطرح میرے ڈاکٹر ہونے پر شک ہے۔۔ وہ مضنوعی خفگی سے اسے گھورتا ڈائینینگ ٹیبل کی جانب بڑھا۔۔۔
ارے شک نہیں بلکہ مجھے تو بہت خوشی ہوئی ہے یہ جان کر ۔۔۔ وہ بھی اسنے ہمقدم ہوئی اسکا لہجہ حقیقتاً اسکی خوشی کا غمازی تھا۔۔
آج ہاوس جاب کا پہلا دن ہے۔ اللہ کرے کہ اچھا اچھا گزرے۔۔۔ اسنے ڈائینیگ ٹیبل پر اپنی مخصوص کرسی سمبھالی۔۔۔
ویسے تمہارا بھی میں اپنے والے کالج میں ہی ایڈمیشن کروا رہا ہوں۔۔۔ انٹری ٹیسٹ تو تمہارا کلیئر ہے اور نمبر بھی شاندار ہیں۔۔۔ تمہارے سبھی ڈاکومنٹس تو میرے پاس ہی ہیں شام میں فارم لے آوں گا اور کل اپلائی کر دیں گے۔۔۔
کانٹے اور چھڑی کی مدد سے چیز آملیٹ سے انصاف کرتا وہ مصروف سے انداز میں اسے پے در ہے شاک لگا رہا تھا۔۔۔ وہ حیرے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔وہ تو یہ سب کب کا بھول بھال چکی تھی۔۔۔
ہاں سچ یاد آیا المیر آ رہا ہے اگلے ہفتے۔۔۔ یونیورسٹی کے لئے تیار مگن سی شزا کو بابا کیساتھ ڈائینینگ ٹیبپپل کی طرف آتے دیکھ کر وہ شریر سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
واقعی سچ۔۔۔ شزا اسکی بات سن کر پرجوش سی دھپ سے اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی۔۔۔
لڑکی کچھ شرم کرو لڑکیاں تو اپنے منگیتر کا نام سنتے ہی شرم سے دوہری ہو جاتی ہیں اور ایک تم ہو کہ تمہارا جوش قابل دید ہے۔۔۔
شہروز نے مضنوعی تاسف سے چہرا دائیں بائیں گھماتے اسے شرم دلانے کی ناکام کوشیش کی۔۔۔
ہاں تو منگیتر کو دیکھ کر ایسا کرتی ہونگی نا پر تم بھول رہے ہو شاید وہ میرا منگیتر نہیں شوہر ہے۔۔۔
وہ ادائے بے نیازی سے کندھے اچکاتی جوس گلاس میں انڈیلنے لگی۔۔
مجھے المیر سے پوری پوری ہمدردی ہے۔۔۔ انداز خاصا چڑانے والا تھا۔۔۔
اور مجھے تمہاری اس ہوتی سوتی سے جو تم سے منسوب ہو کر پوری زندگی رونے والی ہے۔۔۔ اسنے بھی کہاں ادھار رکھنا سیکھا تھا۔۔۔ دوبدو بولی۔۔۔
بیا اداسی سے مسکراتی انکی نوک جھونک دیکھ رہی تھی۔۔۔
شازمہ بیگم دل ہی دل اپنے بچوں کی دائمی خوشیوں کے لئے دعا گو تھیں
*******
ہر چیز پر یاسیت اور اداسی کی گہری تہیں چھائیں تھیں۔۔۔ شان و شوکت سے اپنے پورے قد و قامت کے ساتھ کھڑی سفید ٹائلوں سے مزیں وائٹ پیلس کی اس پرشکوہ عمارت نے آج پھر سے وہاں ایک بے بس کی بے بسی دیکھی تھی۔۔۔
مِرحہ صدیقی ان منجھے ہوئے لوگوں میں اناڑی تھی۔۔۔
نا تو وہ بہت تیز طرار تھی اور نا ایسی سازشوں کاحصہ۔۔ ایک سیدھی سادھی معصوم سی اپنے کام سے کام رکھنے والی لڑکی تھی۔۔۔ جسکی دنیا اسکے گھر بابا اور بہن سے شروع ہو کر انہیں پر ختم ہو جاتی تھی۔۔۔ باہر کی دنیا تو اسنے دیکھی ہی نا تھی اور نا ہی انکی سفاکیت سے آگاہ تھی۔۔۔
اسنے اپنی پوری قوت صرف کی تھی۔۔۔ بتھیرے ہاتھ پاوں مارے۔۔ تڑپی۔۔۔ بلبلائی۔۔۔ مگر اسکی کوئی مزاحمت کام نا آئی۔۔۔ اسکی ہر ہر مزاحمت کے نتیجے میں اسے اپنے مخصوص انداز میں زدو کوب کیا جاتا۔۔۔ اسے جسمانی کم اور ذہنی ٹارچر زیادہ کیا جا رہا تھا۔۔۔ ان سے مزاحمت کرتے کرتے وہ تھک چکی تھی۔۔۔ جسم نیم مردہ ہو گیا تھا ساری طاقت جیسے کسی نے نچوڑ لی تھی ۔۔۔ تبھی تو تھک ہار کر وہ ڈھے گئ تھی۔۔۔ صرف اپنے ساتھ ہوتا ستم دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہاں کے ماہرانہ ہاتھوں نے اسے اسکی بھرپور مزاحمت کے باوجود ایک گھںٹے میں مکمل تیار کر دیا تھا۔۔ نیٹ کی بے باک سرخ میکسی جسکی آستینیں ندارد اور گلا ڈیپ تھا میں اسکے جسم کے نشیب و فراز واضح ہو رہے تھے بھورے بال نیچے سے کرل کر کے کھلے چھوڑے گئے تھے پنکھری کی مانند لب سرخ لپ اسٹک سے رنگے گئے تھے وہ اس روپ میں ایک کھلتا گلاب ہی لگ رہی تھی۔۔۔
کرسی پر بیٹھی ندھال سی مرحہ نے سامنے لگے دیو ہیکل آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔۔۔ اسکا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ شرم سے وہ پانی پانی ہو رہی تھی۔۔۔
جسکا ایک بال بھی آج تک کسی غیر مرد نے نا دیکھا تھا اسے آج کس مقصد کے لئے سجایا سنوارا گیا تھا سوچتے ہی اسکے رونکھٹے کھڑے ہونے لگے۔۔۔ نیلی سمندر سی گہری آنکھوں میں بے تحاشا گھلی سرخی اسے مزید قاتل بنا رہی تھی۔۔۔
حزن و ملال میں گھری مرحہ پر ٹوٹ کر روپ چڑھا تھا۔۔۔
زدوکوب کے نتیجے میں نڈھال سی مِرحہ کو اس عالیشان کمرے میں پہنچایا گیا جس کی ایک ایک چیز سے امارت ٹپک رہی تھی۔۔۔ تو گویا سامنے والے کی حیثیت کے مطابق ہی سپیشل کمرے موجود تھے وہاں۔۔۔
پرتعیش صوفوں کے آگے کانچ کی میز پر وائن کی بوتلیں اور شیشے کے گلاس پڑے تھے۔۔۔ ان کی طرف نگاہ اٹھتے ہی مرحہ کا پہلے سے ڈوبتا دل مزید ڈوبا۔۔۔۔
اسے اس شخص کی شخصیت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید وہ شخص اسکی مدد کرے لیکن یہ حرام مشروب دیکھ کر اسے نئے واہمات ستانے لگے۔۔۔ اس مشروب کو پی کر تو اچھے اچھے اپنا آپا کھو جاتے تھے۔۔۔
وہ نڈھال سی بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی بیڈ کراون سے ٹیک لگا گی۔۔۔ دفعتا کمرے کا دروازہ کھلا اور وہی خوبرو مرد چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ سجائے شاہانہ چال چلتا اندر داخل ہوا۔۔۔
مرحہ کپکپا کر سیدھی ہوئی۔۔۔ کسی مرد کے ساتھ یوں تنہائی میں اس طرح کی حالت میں یہ اسکا پہلا تجربہ تھا۔۔ اسے خوفزدہ سی نگاہوں سے دیکھتی وہ خود میں سمٹی۔۔۔
ارے۔۔رے۔۔۔ اتنا گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ریلیکس ہو کر بیٹھو۔۔۔ جن تھوڑی نا ہوں جو تمہیں کھا جاوں گا۔۔۔ وہ اسے اسقدر خوفزدہ دیکھ محظوظ ہوتا نرمی سے گویا ہوا عنابی لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ نے چھب دکھلائی تھی۔۔۔
بھاری قدم اٹھاتا وہ اسکی جانب آنے کی بجائے صوفے کی جانب بڑھا۔۔۔ اسکا نرم رویہ دیکھ اور اسے صوفے کی جانب بڑھتا دیکھ وہ زرا پرسکون ہوئی۔۔۔ اسنے اپنے کندھوں پر اوڑھی مردانہ چادر اتار کر صوفے پر ایک سائیڈ کو رکھی اور خود صوفے پر براجماں ہوا۔۔۔
مرحہ نے اس شال کو للچائی نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ شدت سے دل چاہا کے بھاگ کر اس چادر کو اٹھائے اور اسے خود پر پھیلاتے اس میں چھپ جائے۔۔۔۔
میں نے آج تک بہت حسن دیکھا ہے۔۔ حسین سے حسین چہرا مگر یقین مانو میرا نہیں خیال کہ میں نے آج سے پہلے اس حسیں مکھڑے جیسا حسین مکھڑا کہیں دیکھا ہو۔۔۔
وہ مرحہ کو سر سے پاوں تک والہانہ انداز میں دیکھتا وائن کی بوتل کھول رہا تھا۔۔
مرحہ کی ریڈھ کی ہدی تک سسنا اٹھی یہ وہ حرام مشروب تھا جو وہ اگر پی لیتا تو یقینی طور پر اپنے ہوش کھو بیَٹھتا۔۔۔ وہ اسے روک دینا چاہتی تھی مگر جیسے آواز ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔۔
آ۔۔۔آپ یہ مت پیئں پلیز۔۔۔ ہونٹ بری طرح کاٹتی وہ سرخ چہرے سمیت بدقت بولی۔۔۔
مدھر جھڑنے جیسی جھنکار کی آواز پر اسنے خوشگوار حیرت سمیت اسے دیکھا۔۔ لبوں کی طرف وائن کا گلاس لے کر جاتا ہاتھ ٹھٹھک کر رکا۔۔۔
سیریسلی۔۔ اسنے ایک بھنور اچکائی۔۔۔ لیکن وہ کیوں بھلا ۔۔۔وہ دلچسپی سے اسے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ گلاس البتہ ہاتھ ہی میں تھام رکھا تھا۔۔۔
کیونکہ یہ حرام مشروب ہے اسے پینے سے انسان بہک جاتا ہے اپنے ہوش کھونے لگتا ہے۔۔۔ سر نیچے جھکائے اسنے اپنے ہاتھ بے طرح مسلے
لیکن میں تو بن پیئے ہی بہکنے لگا ہوں۔۔۔ ہوش کھو رہا ہوں۔۔۔ وہ اسے خمار آلود نگاہوں سے دیکھتا معنی خیزی سے گویا ہوا۔۔۔
ان الفاظ کا مفہوم سمجھتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ یہ قسمت اسے کس دوراہے پر لے آئی تھی۔۔۔
ارے۔۔رے ۔۔۔ یہ لو نہیں پیتا مگر تم رو مت۔۔۔ اسنے فکرمندانہ انداز میں زور سے گلاس میز پر پٹخا اور صوفے سے اٹھ کر اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔
آ۔۔۔آپ پلیز میرے پاس مت آئیں۔۔ اسے اپنی طرف آتا دیکھ وہ سہم کی کھڑی ہوتی خود میں سمٹتی اور کپکپاتی انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا۔۔۔
آآآ آ آ۔۔۔۔ یہ تھوڑا مشکل کام ہے اسنے شریر انداز میں اپنا کان کھجایا۔۔۔
دیکھیں میں ایسی لڑکی نہیں خدارا مجھ پر رحم کریں۔۔۔ وہ اسے آس بھری نگاہوں سے تکتی سسکی۔۔۔
دیکھو جانتا ہوں تم ایسی لڑکی نہیں تبھی تو یہاں میرے پاس موجود ہو۔۔۔ اسنے کندھے اچکاتے دو قدم مزید اسکی جانب بڑھائے وہ ڈر کر مزید دور ہوتی دیوار سے چپکی۔۔۔
نہیں ایسے مت کہیں ۔۔ آپکو خدا کا واسطہ مجھے بے آبرو مت کریں۔۔۔ مجھ سے میری ذات کا مان اور نسوانیت مت چھینیں۔۔۔
آپ کے لئے لڑکیوں کی کمی نہیں۔۔۔ لیکن یہ ایک رات میرے پرخچے اڑا دے گی مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔۔۔ میں خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہو نگی۔۔۔بے بسی کے شدید احساس تلے وہ اپنے کپکپاتے ہاتھ اسکے سامنے جوڑ گئ۔۔۔
خوف کے زیر اثر وہ سر سے پاوں تک کپکپا رہی تھی۔۔۔
دیکھو تم میری بات سمجھنے کی کوشیش کرو اگر آج میں تمہیں چھوڑ بھی گیا تو کل کو کوئی اور آ کر تم سے اپنا مطلب پورا کر لے گا ۔۔۔
رہائی تو یہاں سے ممکن ہی نہیں تو پھر آج میں ہی کیوں نہیں۔۔
مرحہ کو لگا اسکا دل بند ہوجائے گا اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھے۔۔۔ اسے اپنے رونکھٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے
آ۔۔۔آپ مجھ سے نکاح کر لیں ۔۔۔ اس رشتے کو پاکیزہ بنا لیں۔۔۔ تیزی سے دماغ چلاتے اسنے بعجلت حل پیش کیا۔۔۔۔
اسکی بات پر وہ محظوظ ہوتا قہقہ لگا گیا۔۔۔ نکاح۔۔۔
ہمم۔۔۔ واقعی۔۔۔ اسنے پھر سے قہقہ لگایا۔۔۔
مرحہ ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
دیکھو تم اچھی ہو۔۔۔ بہت معصوم اور خوبصورت ۔۔۔ تم سے دل لگی کی جاسکتی ہے۔۔ دل میں بسایا بھی جا سکتا ہے۔۔۔
لیکن شادی۔۔۔ نانانا۔۔۔ اسکے لئے ہماری خاندانی عورتیں موجود ہیں۔۔۔ اگلے ہفتے شادی ہے میری۔۔۔ وہ اسے یوں سمجھا رہا تھا جیسے بڑا کسی ناسمجھ بچے کی بات پر اس سے محظوظ ہوتا سمجھاتا ہے۔۔۔
نہیں۔۔۔ وہ کپکپاتے ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیلتی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ مگر دو ہی قدم آگے بڑھی تھی جب دو مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں آئی۔۔۔۔
سرعت سے اسنے اسے بھاگنے سے روکنے کے لئے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتے اسے اپنی جانب کھینچا۔۔ مرحہ کی پشت اسکے سینے سے ٹکرائی۔۔
وہ پورے قد سے لرز کر رہ گئ۔۔۔ اسے اپنا جسم جلتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ مزاحمت بھی نا کر پا رہی تھی۔۔۔
نادان بے وقوف لڑکی۔۔۔ تمہیں لگتا ہے تم یہاں سے بھاگ سکتی ہو۔۔۔ اس دروازے کے پار تمہاری رہائی نہیں بلکہ تمہارے لئے عذاب ہے۔۔۔
سلمی کو پتہ چلا نا کہ میں یہاں سے مایوس لوٹا ہوں تو تمہارا وہ حشر کرے گی کہ تمہاری معصوم جان سہہ نہیں پائے گی۔۔۔ اس لئے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ میرے ساتھ تعاون کرو۔۔۔ وہ اسکے کان کے پاس جھک کر غرایا۔۔۔
مرحہ نے پوری قوت سے اپنے دانت اسکے ہاتھ پر گاڑے۔۔۔ اسنے دانت پیستے جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اسے کسی بے جان چیز کی مانند بیڈ پر پٹخا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے اٹھتی وہ فورا سے اس پر حاوی ہوا تھا۔۔۔
پورے کمرے میں مرحہ کی دلخراش چیخیں گونج اٹھی تھیں۔۔۔ گویا کوئی قربانی کے جانور کو ذبح کر رہا ہو۔۔۔ اسکی گردن پر چھڑی چلا کر قطرہ قطرہ خون نچور رہا ہو۔۔۔
مرحہ کو لگا گویا وہ انگاروں پر لوٹ رہی ہو۔۔۔
وہ بن جل مچھلی کی مانند تڑپ تڑپ گئ۔۔۔ مگر سامنے بھی منجھا ہوا شکاری تھا۔۔۔
اسے اپنے جسم پر سرائیت کرتے ہاتھ کسی اژدھے کی مانند لگ رہے تھے جو پل پل اسے ڈس رہے تھے۔۔۔ اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔
اس فولادی شخص کے سامنے وہ دھان پان سی لڑکی بے بس تھی جسکا وہ پورا پورا فائدہ اٹھا رہا تھا۔۔۔
اپنی پوری طاقت صرف کر لینے کے بعد بھی وہ ناکام و نامراد تھی۔۔۔
اس طاقتور شخص کے سامنے جلد ہی اسکی مزاحمتیں دم توڑنے لگیں۔۔۔۔
بس آنکھ شفاف پانی بہا رہی تھی یا دل خون رس رہا تھا۔۔۔ وہ خود کو گہری پاتال میں گرتا محسوس کر رہی تھی نیچے کہیں بہت نیچے۔۔۔
اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی ساری زندگی کسی فلم کی مانند چلنے لگی ۔۔۔
اسکا بابا کو تہجد کا وضو کروانا۔۔۔ بیا کے ساتھ گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کروانا۔۔۔ بابا کے ساتھ پارک میں جانا۔۔۔
منظر بدلا۔۔۔ وہ نماز کے بعد لمبے سجدے میں دعا مانگ رہی تھی۔۔۔ وہ اب اپنے جامع کی طرف جا رہی تھی۔۔۔۔ یکدم اسی صحن میں بابا کی میت پڑی تھی۔۔۔ چیخ و پکار۔۔ بین۔۔۔۔۔ سسکیاں۔۔۔۔ تندو تیز ہواوں کے ریلے۔۔۔ خوفناک طوفان۔۔۔ ہوا کی شوریدہ سر لہروں کے سنگ اسکے آنچل کا سر سے اٹھ جانا۔۔۔ اپنے جانب بڑھتے کئ ہاتھ۔۔۔
آہستہ آہستہ سب گڈمڈ ہونے لگا ۔۔۔ بابا کے مسکراتے چہرے کی جگہ کئ بھیانک چہرے لے رہے تھے۔۔۔ بیا کے بےریا چہرے کی جگہ کئ خرانت عورتیں لے رہی تھی۔۔۔
رفتہ رفتہ سب دھندلا ہونے لگا ہر منظر تحلیل ہونے لگا۔۔۔ اسکی پلکیں بھاری ہونے لگیں۔۔۔ سانسیں تھمنے لگی۔۔۔ رفتہ رفتہ وہ اس اذیت سے نجات حاصل کرنے لگی۔۔۔ دل و دماغ پرسکون ہو گیا دہکتے کوئلوں کی جلن زائل ہونے لگی۔۔۔ ہر طرف گہرا سکوت چھا گیا۔۔۔۔۔وہ انسان کے روپ میں درندہ اپنا مقصد حاصل کر کے اسکے مردہ وجود کو وہیں چھوڑتا بڑی شان سے اپنی چادر اوڑھتا فاتحانہ چال چلتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ ایک قیامت آ کر گزری تھی سوائے اس کی جان کے باقی سب ویسا ہی تھا جیسا حسب معمول چل رہا تھا
*****
No comments