Header Ads

Nam Aankhain novel 12th episode by Umme Hania


   

 Nam Aankhain novel 12th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

بارہویں قسط۔۔۔۔
موسم کافی حد تک بدل گیا تھا سردی کی شدت میں حیرت انگیر طور پر کمی ہوتی گرمی کی آمد آمد کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔ گرم کپروں کے استعمال میں کمی ہوتی اب ہلکے پھلکے کپڑے پہنے جانے لگے تھے۔۔ ایسے میں وہ بھی لیلن کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس آنچل اچھے سے سر پر اوڑھے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی پڑھ رہی تھی ۔۔۔ سٹڈی ٹیبل کا لیمپ آن تھا جسکی پیلی روشنی براہراست اسکے سامنے کھلے جرنل پر پڑ رہی تھی۔۔۔ پاس ہی ارد گرد موٹی موٹی سی کتابیں پڑی تھیں۔۔۔ اسکے بالکل پیچھے سامنی دیوار پر نصب اونچی کھڑکی کے سلائڈنگ ڈور کھلے تھے جہاں سے رات کے اس وقت چاند کی چاندی کے اندر داخل ہونے کیساتھ ساتھ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا بھی اندر آ رہی تھی جو اعصاب پر خوشگوار اثرارت مرتب کر رہی تھی۔۔۔
شہروز نے بالا ہی بالا تاریخ گزرنے سے پہلے اسکا ایڈمیشن اسی میڈیکل کالج میں کروا دیا تھا جہاں سے اسنے خود پاس آوٹ کیا تھا۔۔۔
ہر کام مکمل کرنے کے بعد وہ فارم اسکے پاس محض اسکے دستخط کروانے کے لئے لایا تھا۔۔۔ ایڈمیشن کے بعد اسنے بیا کو  خود ساتھ لیجا کر ساری کتب اور سٹیشنری لے کر دینے کے بعد اوورآل بھی لے کر دیئے تھے۔۔۔
وہ خود پاس آوٹ کر چکا تھا اس لئے وہ اسکی بنیادی سبھی ضروریات کے بارے میں جانتا تھا تبھی اسکے بنا کہے ہی سب خودبخود ہی کرتا چلا گیا۔۔۔
اسکا اسقدر خلوص اور اپنائیت دیکھ کر کئ مرتبہ وہ اپنی آنکھیں نم ہونے سے بچا نہیں پاتی تھی  جو اس شخص کی زیرک نگاہوں سے پوشیدہ رکھ پانا اسکے لئے ایک محاظ ثابت ہوتا۔۔۔۔
کئ بار وہ اسکی یہ چوری پکڑ بھی چکا تھا اور پھر وہ تب تک نا ٹلتا تھا جب تک اسے بات پتہ نا چل جاتی۔۔۔ اور بات پتہ چلنے کے بعد کا اسکا  ردعمل سوچ کر بیٹھے بیٹھے اسکے چہرے پر مسکان دوڑ جاتی۔۔۔
چچ۔۔چچ۔۔۔چچ۔۔۔ بیا میں تو تمہیں اچھی خاصی سمجھدار اور ڈیسنٹ لڑکی سمجھتا تھا مگر تم۔۔۔ وہ تاسف سے چچ چچ کرتا نفی میں سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔
بیا حیرت بھری نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
مطلب۔۔۔
مطلب یہ کہ تم تو اچھی خاصی احساس کمتری کی ماری بندی ہو یار۔۔۔ تمہیں تو احساس کمتری کے فٹس پڑتے ہیں۔۔۔ وہ خاصے غیر سنجیدہ انداز میں تاسف سے کہتا مسلسل اسے چڑا رہا تھا۔۔۔
شہروز ۔۔۔  بیا نے صدمے سے اسے دیکھا نم آنکھیں چھلک گئ تھی۔۔۔
احمق عزیم لڑکی۔۔۔۔ یہ گھر تمہارا ہے تم اس گھر کی فرد ہو تو اس گھر کی ہر چیز پر تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا میرا شزا یا بہروز بھیا کا۔۔۔
ممی تمہیں بیٹی مانتی نہیں بلکہ ہم تینوں سے زیادہ خاص تم ان کے لئے ہو۔۔۔ ہم سے کہیں زیادہ انہیں تمہاری پرواہ ہے وہ تم سے محبت کرتی ہیں تبھی تو تمہارے لئے اپنے شہزادے بیٹے کو بھی ڈانٹ دیا تھا انہوں نے مگر تم۔۔۔ تمہیں انکی قدر ہی نہیں۔۔۔ انکے خلوص کا تم جلوس نکال رہی ہو۔۔۔ رکو زرا۔۔۔ ابھی تمہاری ویلیو کم کرواتا ہوں انکی نظر میں۔۔۔ سب بتاتا ہوں انہیں کہ تمہاری نظر میں ہم سب کی کیا اہمیت ہے زرا رکو تو صحیح۔۔۔
وہ اسے خطرناک عزائم کی دھمکی دیتا چہرے کیساتھ ساتھ ہاتھوں سے بھی اشارے کرتا کہ دیکھو اب تمہاری خیر نہیں دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔
ارے۔۔رے۔۔۔۔ شہروز کیا بول رہیں آپ۔۔۔ آپ خالہ سے یہ سب کہیں گے۔۔۔ وہ بعجلت بھاگ کر اسکے سامنے جاتی اسکی بازو تھام کر معتجب سی اسے دیکھتی مستفسر ہوئی۔۔۔
اور نہیں تو کیا۔۔ اور پھر۔۔ 
آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے سنا آپ نے۔۔۔ اسنے بھرپور غصے سے شہروز کی جانب دیکھتے انگشت اٹھائی۔۔۔
شہروز نے بمشکل قہقہ ضبط کیا۔۔
اور تمہارے وہ فٹس جو۔۔۔
مجھے کوئی فٹس نہیں پڑتے آئی سمجھ۔۔۔ اسنے پھر سے شہروز کی بات کاٹی۔۔۔
لیکن ابھی تو تم نے کہا۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔ آپ نے غلط سنا ۔۔۔۔ میں نے کہا کہ آپ نے مجھے صرف کالج کی شاپنگ کروائی ہے مجھے اور بھی بہت سی چیزیں خریدنی ہے جو آپ مجھے کل دلوائنگے۔۔۔ 
 Is that clear...
اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی وہ آخر میں خود ہی اپنی حرکت سے محظوظ ہوتی ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔
اب کی بار شہروز اپنا قہقہ ضبط نا کر پایا۔۔۔
یہ ہوئی نا بات۔۔۔ ایسے ہی تم اچھی لگتی ہوتی۔۔۔ شہروز نے مسکراتے ہوئے اسکی ناک پکڑ کر دائیں بائیں ہلائی تو وہ بھی کھلکھلا دی۔۔۔
انکے درمیاں اجنبیت کی دیواریں بہت تیزی سے گریں تھیں اور اس میں زیادہ ہاتھ بھی شہروز کا ہی تھا۔۔۔
اب تو وہ بنا اجازت ہی اسکے خیالوں میں بھی چلا آتا تھا۔۔۔ مرحہ کے بارے میں رو رو کر جب وہ ہلکان ہو چکی ہوتی ایسے میں وہ کسی باد صبا کے جھونکے کی مانند آتا اور اسے اسکے سبھی دکھ تکلیفوں سے دور کھینچ لاتا۔۔۔۔
اب بھی وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی جب دروازے پر دستک کی آواز گھونجی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہاں بہروز بھیا نمودار ہوئے۔۔۔ آرام دہ کرتا شلوار میں ملبوس کرتے کی بازو فولڈ کئے وہ اسے صبح یونیفارم میں ملبوس بہروز بھیا سے خاصے مختلف لگے۔۔۔
ارے بھیا آپ۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا کر گویا ہوئی حالانکہ حیرت حد سے سوا تھی۔۔۔ وہ جب سے یہاں آئی تھی بہروز اسکے کمرے میں پہلی مرتبہ آیا تھا۔۔۔
جی گڑیا دراصل آپ سے ایک بات کرنی تھی۔۔ وہ سنجیدہ سا ہاتھ پیچھے باندھے مضبوط قدم اٹھایا آگے آیا اور اسکی کرسی سے کچھ دور پرے سنگل صوفے پر براجمان ہوا۔۔۔
کیسی بات بھیا۔۔۔ وہ جی جان سے اسکی جانب متوجہ ہوئی کیونکہ اسکے انداز خاصے ٹھٹھکادینے والے تھے۔۔۔
دراصل ایک شانخت کروانی تھی۔۔۔ سنجیدگی سے کہتے اسنے ہاتھ میں تھامی ایک تصویر اسکی جانب بڑھائی۔۔ 
کیا اس عورت کو جانتی ہو۔۔۔ کھوجتی نگاہیں اسی پر جمائے وہ اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔۔ اسنے ہاتھ بڑھا کر تصویر پکڑی اور تصویر پر نظر پڑتے ہی اسکا رنگ اڑ گیا۔۔۔ تھوک نگلتے اسنے ساکت نگاہیں اٹھا کر بہروز کو دیکھا۔۔۔
بھیا یہ  تو زلیخہ ہے۔۔۔ وہی جو ہمارے گھر آئی تھی۔۔۔ جسکے پاس مرحہ ہے۔۔۔ بھیا یہ اب کہاں ہے۔۔۔ میری مرحہ کیسی ہے۔۔۔ وہ مل گئ نا آپکو۔۔۔ پھر آپ اسے یہاں کیوں نہیں لائے۔۔۔
عجیب بے تابانہ انداز تھا اسکا ۔۔۔ بے چینی انگ انگ سے عیاں تھی۔۔۔ آنسو لڑیوں کی مانند آنکھوں سے ٹوٹنے لگے تھے۔۔۔
بہروز نے لب بھینچتے سختی سے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔۔ گویا وہ اپنے اندرونی خلفشار پر قابو پا رہا ہو۔۔۔ بیا اس عورت کی جلی ہوئی لاش ہمیں نہر سے ملی ہے۔۔۔ کسی نے بہت بے رحمانہ انداز میں اسے مار کر پھینکا ہے۔۔۔
بہروز کے آہستگی سے گویا ہونے پر بیا سناٹوں میں گھر گئ تھی۔۔۔ بس ساکت سی نگاہوں سے بہروز کو دیکھتی رہی۔۔۔ تو مطلب اسکی مرحہ تک جاتا آخری راستہ بھی آج ختم ہو گیا تھا۔۔۔
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔  بہروز گھٹںوں پر کہنیاں ٹکائے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم پیوست کئے لب سختی سے بھینچے ماربل لگے فرش کو گھور رہا تھا۔۔۔
ابھی وہ اسے مکمل حقیقت سے روشناس کروانے کا حوصلہ خود میں نہیں رکھتا تھا کہ وہ عورت مرنے سے پہلے اسکی بہن کو آگے بیچ چکی تھی۔۔۔۔۔ 
لیکن اب یہ کیس پرسنل نوعیت کا بن چکا تھا اس لئے اب وہ اسے حل کرنے کے لئے ذاتی رسک لینا چاہتا تھا۔۔۔
گڑیا آپ فکر مت کرو انشااللہ میں جلد ہی مرحہ گڑیا کو بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔۔
اٹھ کھڑے ہوتے اسنے بیا کے سر پر ہاتھ رکھا اور کمرے سے نکل گیا۔
********
درانی ہاوس کی کچن کی اونچی کھڑکی سے دھوپ چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔۔۔ رشنا کھلتے سرخ رنگ کی شارٹ شرٹ اور کیپری زیب تن کئے دوپٹہ کندھے سے لا کر کمر پر ایک سائیڈ کو باندھے کباب کا آمیزہ تیار کر لینے کے بعد اب اسکے کباب بنا رہی تھی۔۔۔بال جوڑے میں باندھ رکھے تھے جس میں سے کچھ لٹیں پھسل کر چہرے پر آ جاتی۔۔۔
دھلا دھلایا چہرا کسی بھی آرائش سے پاک تھا۔۔۔ وہ گم صم سی اپنا کام کر رہی تھی لیکن دھیاں کے پردے کہیں اور ہی لگے تھے۔۔۔ اس ستم گر کو گئے ایک مہینہ گزر گیا تھا مگر اسنے پلٹ کر دیکھنا تو دور ایک فون تک نا کیا تھا۔۔۔ دل یاسیت سے بھرتا جا رہا تھا  کسی کام میں دل نا لگتا تھا۔۔۔۔ سوچ ہر دم اسی ستم گرد کی طرف جاتی رہتی لیکن ہونٹوں پر قفل لگے تھے۔۔ وہ اپنی زندگی میں خوش تھا۔۔۔ اپنی دوسری بیوی کیساتھ۔۔۔ کیا اسکی زندگی میں اسکی کوئی جگہ بنتی تھی۔۔۔کتنی سحر انگیز مسکراہٹ تھی اسکے چہرے پر اپنی دوسری بیوی سوری پہلی بیوی سے بات کرتے ہوئے۔۔ دوسری بیوی تو وہ تھی۔۔۔ اور یہ سوچ ہی نہایت اذیت ناک تھی جس نے اسکے چہرے کی ساری شادابی چھین لی تھی۔۔۔ 
اسکا دل چاہا کہ ایک بار۔۔۔ ایک بار تو اسکے سامنے جا کر بھیک مانگے کہ خدا کے لئے مجھے معاف کر کے اپنا لو لیکن اسنے اعتبار کھویا تھا کیا اتنی جلدی وہ اس پر اعتبار کرتا۔۔۔
کیا وہ اس پر حق رکھتی تھی کہ اس سے کچھ ڈیمانڈ کر سکتی۔۔۔ پل پل وہ اپنی اس خطا کو یاد کر کر کے روئی تھی۔۔۔ اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگیں تھیں۔۔۔ 
ارے رشنا بچے کیا کر رہی ہو۔۔۔  دفعتاً نوریں بیگم بعجلت کچن میں داخل ہوئیں۔۔۔
ارے یہ بہت اچھا کیا تم نے جو کباب بنا لئے۔۔۔ اسے کباب بناتا دیکھ وہ کچھ پر سکون ہوئیں۔۔۔
جی تائی جان میں نے سوچا المیر جمعے کو آ رہا ہے تو تب تک ایک دو اور بھی فروزن ڈشز بنا کر فریز کر دوں گئ ویسے بھی وہ باہر سب سے زیادہ دیسی کھانوں کو ہی مس کرتا ہے تو اچھا ہے اسے سب اسی کی پسند کا ملے گا۔۔۔ ایک ٹرے مکمل کرنے کے بعد وہ دوسری ٹرے میں کباب رکھتی مصروف سی گویا ہوئی۔۔۔
ہاں بیٹا یہ تو ہے لیکن المیر کے آنے میں ابھی دن ہیں میں تو وہاب کی بات کر رہی ہوں۔۔۔ آ رہا ہے نا وہ۔۔۔ نوریں بیگم مصروف سے انداز میں کیبن کھولتے ان میں سے چیزیں نکال نکال کر باہر رکھنے لگیں۔۔۔
رشنا کے کباب بناتے ہاتھ ٹھٹھک کر رکے۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا تھام۔۔ وہ آ رہا ہے۔۔ اتنے دنوں بعد دید کی پیاس ختم ہوگی۔۔ کیا ایک مہینے بعد ہی سہی اسکے دل میں رشنا کے لئے کوئی گنجائش نکلی ہو گئ یا نہیں۔۔۔۔ دل نادان پھر سے خوش فہم ہونے لگا تھا۔۔۔
کباب اتنے ہی کافی ہیں باقی بعد میں بنا لینا تم تب تک چاول چن کر بھگو دو اور چکن دھو لو ۔۔۔ میں تب تک تمہیں باقی کی چیزیں کاٹ دیتی ہوں ۔۔۔ چکن بریانی اور چکن کراہی ہی بنا لیتے ہیں زرا جلدی بن جائے گی اور ٹرائفل تو میرا خیال ہے پڑا ہی ہے فریج میں۔۔۔ زبان کیساتھ ساتھ انکے ہاتھ بھی خوب چل رہے تھے۔۔۔ بعجلت فریج کھول کر چیک کی اور ٹرائفل کی موجودگی یقینی بنا کر فریج بند کرتی واپس کاونٹر ٹاپ کی طرف پلٹتیں پیاز کاٹنے لگیں۔۔۔
رشنا بھی سب سمیٹ کر جلدی سے کام میں جٹ گی۔۔
ہے تو میرا بہت فرمابردار بیٹا۔۔۔ حالانکہ المیر کی طبیعت میں ضد اور غصہ ہے لیکن وہاب۔۔۔ اسنے تو کبھی شکایت موقع ہی نہیں دیا۔۔۔وہیں سنٹرل میز پر بیٹھیں  پیاز کاٹ کر وہ اب لہسن چھیل رہی تھیں لہجے میں وہاب کے لئے مان ہی مان تھا۔۔۔ اسکی ان سب خصوصیات کی تو وہ خود بھی قائل تھی۔۔۔ ایویں تو نہیں اسکا اتنا بڑا راز چھپا گیا تھا۔۔۔ 
اسی لئے جانتی ہوں اسے جتنی بھی بھوک لگی ہو اگر کھانا نہیں تیار تو کبھی بھی المیر کی طرح ہربونگ نہیں مچائے گا۔۔۔ ایسے بچے ماوں کو ویسے ہی بڑے پیارے ہوتے ہیں پیارے تو سبھی ہوتے ہیں لیکن ایسے فرمابردار اور خاموش طبیعت بچوں سے انسیت ہی الگ ہوتی ہے اسی لئے کوشیش کرتی ہوں اسکے کہنے سے پہلے ہی اسکا ہر کام ہوا ہو۔۔۔ 
بس اسکے پہنچنے سے پہلے پہلے کھانا تیار ہو جائے مجھے پتہ ہے وہ راستے سے کچھ نہیں کھائے گا۔۔۔  وہ کام کرتیں مسلسل بیٹے کی باتیں کرتیں مسکرا رہی تھی۔۔
ویسے ایک بات تو بتاو رشنا یکدم وہ کام سے ہاتھ روک کر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
جی تائی جان وہ پھیکا سا مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
وہاب کا رویا کیسا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ فون وغیرہ تو کرتا رہتا ہے نا تمہیں۔۔۔۔ ہاتھ روک وہ اسے ہی دیکھتیں پوچھ رہی تھیں۔۔۔
جج۔۔۔جی تائی جان۔۔۔ چکن میڑینیٹ کرتی وہ ایک پل کو ٹھٹھکی مگر جلد ہی خود کو کمپوز کر گئ۔۔۔ فون بھی آتا ہی رہتا ہے۔۔ روانی سے کہتے اسنے میرینیٹ کیا چکن ڈھک کر ایک سائیڈ پر رکھا اور کراہی نکال کر چولہے پر رکھی۔۔۔ 
آنے دو زرا اسے کرتی ہوں اس سے بات کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی۔۔۔ شادی کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور یہ وہاں بیٹھا نوکریاں کر رہا ہے اور تم یہاں انتظار کی سولی پر لٹک رہی ہو۔۔۔ ساتھ لے کر جائے تمہیں۔۔ وہ پرسوچ انداز میں گویا ہوئیں
کراہی میں تیل ڈال کر اس میں کھڑے مصالحے ڈالتی رشنا نے چونک کر انہیں دیکھا۔۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو بھئ۔۔۔ کھانا تیار کر کے اپنی پیکنگ کرو۔۔۔ وہ جتنے بھی دنوں کے لئے آ رہا ہے واپسی پر تمہیں ساتھ لے کر جائے انہوں نے حتمی انداز میں کہتے کٹی ہوئی چیزیں اسکے پاس رکھیں اور سنک کی جانب بڑھی۔۔ رشنا کی گردن میں ایک گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔
*****
باہر دن کی سرگرمیاں شروع ہو گئں تھیں مگر اندر دبیز پردوں کے گرے ہونے کے باعث ابھی تک صبح کے کوئی اثار نظر نا آئے تھے۔۔۔ کارپٹ پر وائن کی خالی بوتلیں اور گلاس لڑھک رہے تھے۔۔۔
بستر شکن آلود تھا جسکے ایک طرف وہ ادھ موئی حالت میں بکھری سی پڑی تھی۔۔۔
دفعتا اسکے ماتھے پر ہلکے ہلکے بل پڑے آنکھوں میں جنبش ہونا شروع ہوئی تو اسنے پوری طاقت صرف  کر اپنی پلکیں وا کیں۔۔۔ سر پر گویا بہت بھاری بوجھ لادا گیا ہو۔۔۔
کچھ پل لگے تھے اسے جگہ سے مانوس ہونے میں لیکن ہوش کی وادیوں کو چھوتے ہی اسے جو احساس ہوا وہ خاصا اذیت ناک تھا  کہ وہ ابھی زندا ہے۔۔۔ اسکی سانسیں چل رہی ہیں۔۔۔  اتنی اذیت کے بعد بھی۔۔۔ یہ سوچ ہی اسے نیل و نیل کرنے کو کافی تھی۔۔۔ 
آنسو اپنی اس قدر بے وقعتی و بے قدری اور بے بسی پر پلکوں کی بار پھیلانگ پھیلانگ کر بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔ 
وہ خود اذیتی کی انتہا تھی۔۔۔  دل میں جیسے کوئی سوئیاں چھبو رہا تھا۔۔۔ وہ لٹ گئ تھی برباد ہو گئ تھی۔۔۔ وہ درندا چند پلوں کے نفس کی تسکیں کے لئے اسکی عزت و آبرو کو تار تار کر گیا تھا۔۔۔
کون کہتا تھا کہ قیامت نہیں آئی۔۔۔ مرحہ صدیقی کے لئے تو ایک قیامت آ کر گزر گئ تھی۔۔۔ اسکی ذات کا مان نسوانیت کا غرور سب خاک میں مل گیا تھا۔۔۔
جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا بھی اللہ ہوتا ہے۔۔۔ ایسا ہی ہے نا۔۔ تو پھر تیرے ہوتے میں کیسے لٹ گئ اللہ۔۔۔
تو تو ہر چیز پر قادر ہے نا پھر تو نے کیوں نا میری طرف بڑھتے اس درندے کے ہاتھ توڑ دیئے اللہ۔۔۔۔
تو نے کیسے نا میری عصمت کو محفوظ رکھا۔۔۔ خود اذیتی و بد گمانی کی انتہا تھی جو وہ اپنے رب سے بھی بد گمان نظر آتی تھی۔۔۔
کیوں تو نے مجھے نہیں بچایا۔۔۔ جسم سے اٹھتی ٹھیسوں کو نظر انداز کرتی وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی۔۔۔  دل چاہا خود کو آگ لگا لے۔۔۔ جسم میں شرارے پھوٹ رہے تھے گویا پورا بدن آگ کی لپیٹوں میں ہو۔۔۔
تو تو ایک ماں سے ستر گنا زیادہ رحیم ہے نا پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔۔۔ وہ ہچکیوں سے روتی اپنی کپکپاتی ٹانگوں ہر وزن ڈال کر سنگھار میز تک گئ۔۔۔
وہ فرعوں فاتح کیسے ٹھہرا اللہ۔۔۔ اس دنیا میں تو تیرے حکم کے سوا ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا پھر مجھ پر یہ قیامت کیسے ٹوٹی۔۔۔
سامنے نظر آتا اسکا اجڑا عکس اسے منہ چڑا رہا تھا۔۔۔۔
میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔۔۔ میں نے تو ہمیشہ تیرے احکامات کو ماننے کی کوشیش کی تھی پھر میرے ساتھ کیوں۔۔۔ وہ جنونی انداز میں اپنے چہرے کو نوچ رہی تھی۔۔۔ کیوٹکس لگے ناخنوں سے اسنے اپنا خوبصورت چہرا لمحوں میں زخمی کر لیا تھا۔۔۔
مجھے نفرت ہو رہی ہے خود سے۔۔  گھن آ رہی ہے ۔۔۔ میں کیسے جیوں اللہ۔۔۔ مجھے نہیں جینا۔۔۔ وہ ہذیانی انداز میں کبھی بازو تو کبھی اپنا گلا نوچ رہی تھی۔۔۔ اسکا بس نا چل رہا تھا کہ چاقو سے خود کو کھرچ کر اس گھٹیا لمس کے تاثرات خود سے ختم کر ڈالتی۔۔۔
سانسوں کی اس دور کو تھما دے اللہ۔۔۔ میرے لئے اب اس دنیا میں کچھ نہیں بچا۔۔۔ نقاہت ہر پل اسکی توانیاں نچورتی اسے مزید کمزور کر رہی تھی۔۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔ سر چکرا رہا تھا مگر وہ خود کو اذیت دے رہی تھی بے انتہا۔۔۔ اسنے بے طرح اپنے بالوں کو ہاتھوں کی مضبوط گرفت میں جکھڑ کر خوب خوب نوچا۔۔۔ اسکی دلخراش ڈھاریں کمرے کی چار دیواری سے ٹکرا ٹکرا کر واپس لوٹ رہی تھیں۔۔۔
دفعتاً اسکی نظر نیچے لڑھکتے گلاس پر پڑی ۔۔۔ یکدم اسکی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اسنے بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل  کھولتے وہ گلاس اٹھایا اور اسے زور سے میز پر مارا۔۔۔ گلاس لمحوں میں جابجا کرچیوں میں بٹا۔۔۔
کپکپاتا ہاتھ آگے بڑھا کر اسنے ایک بڑئ نوکدار کرچی کو اٹھایا۔۔۔ کرچی کی نوک کو دیکھتے اسکی آنکھوں میں سفاکیت تھی۔۔۔ کپکپاتی بازو آگے کر کے اسنے کانچ کی نوک رگ پر رکھی۔۔۔ اسکے چہرے پر سفاک مسکراہٹ تھی اسے یہ زندگی قبول نہیں تھی۔۔۔ وہ مزید زندہ رہنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ وہ ناپاک ہو گئ تھی وہ کسی اور سے تو کیا خود سے بھی نگاہیں ملا پانے کے قابل نا رہی تھی۔۔ اسکا اس دنیا سے چلے جانا ہی بہتر تھا۔۔۔
وہ بابا کی آغوش میں جانا چاہتی تھی۔۔۔ انکی گود میں سر رکھ کر انہیں اس سفاک دنیا کی سفاکیت بھری داستان سنانا چاہتی تھی۔۔ اپنے اوپر بیتا ہر غم ہر قیامت انہیں سنا کر انکی آغوش میں چھپ کر سونا چاہتی تھی۔۔۔ وہ دنیا سے سامنا کرنے کی ہمت خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔ اس لئے اس دنیا سے ہی روٹھ کر چلے جانا چاہتی تھی۔۔۔
اسنے کانچ کی نوک پر ہاتھ سے دباو بڑھانا چاہا مگر اس سے پہلے کے اس کانچ سے اپنی رگ چیرتی چلی جاتی اسکا ہاتھ بے جان ہو کر ڈھ گیا تھا ساتھ ہی اسکی آنکھیں بند ہونا شروع ہوئی اور وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہوتی وہیں ڈھ گئ۔۔۔
********

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


 

No comments

Powered by Blogger.
4