Nam Aankhain novel 8th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 8th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
آٹھویں قسط
اسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی مانند باتوں کی آوازیں سناِئی دے رہی تھی سر اور آنکھوں پر گہرا بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اسنے کراہ کر کنپتیوں کو ہاتھوں کی پوروں سے دباتے ہلکی سی آنکھیں وا کیں۔۔۔ذہن کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔
انکھ کھلتے ہی پہلی نظر جابجا رنگوں سے مزیں سیلنگ سے ٹکرائی۔۔۔۔ اسنے آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔
پرتعیش کمرا نفاست سے سجا تھا۔۔۔ پاس ہی دو عورتیں آپس میں کچھ باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ اسے ہوش میں آتا دیکھ وہ اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
کھلے دروازے سے اسے کئِ رنگ برنگے آنچل ادھر ادھر لہراتے دیکھائی دیئے۔۔۔ آہستہ آہستہ حواس بحال ہوئے تو ذہن کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو اندازہ ہوا کہ اس پر کیا قیامت گزر چکی ہے۔۔۔ وہ کہاں پر تھی کن لوگوں کے درمیاں۔۔۔۔ بیا کہاں تھی۔۔۔ مرحہ کا دل زور سے ڈھرکا۔۔۔۔
آرے سویٹی سلمی کو خبر پہنچاو کہ شہزادی کو ہوش آگیا۔۔۔ کتنی پیاری ہے یہ جیسے میدے سے بنی ہو اور اسکی آنکھیں افف۔۔۔۔ جیسے نیلا پانی سمندر میں بہہ رہا ہو۔۔۔ رے جا رے جلدی بتا سلمی کو یہ تو اس وائٹ پیلس کی قسمت ہی بدل دے گی۔۔۔اور اس نک چڑھی کو بھی تو زرا پتہ چلے کہ محض ایک وہ ہی خوبصورت نہیں بلکہ آج تو سیر پر سوا سیر آیا ہے۔۔۔
ان میں سے ایک عورت مرحہ کے قریب آ کر اسے اشتیاق سے دیکھتی دوسری سے کہہ رہی تھی۔۔۔
مرحہ کی نیلی سمندر سے گہری آنکھوں میں پانی بھرنے لگا۔۔۔ انکا ایک ایک لفظ مرحہ کے پہلے سے نیم مردہ وجود سے جان کھینچ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ ڈر کر بمشکل اٹھ کر بیٹھی۔۔۔ جسم نقاہت کے باعث ساتھ نہیں دے رہا تھا۔۔۔ اٹھ کر بیٹھنے سے اسکی سنہری آبشار کندھوں پر پھسلی۔۔۔
صدمے سے مرحہ کا دم نکلنے کے در پر تھا ۔تب سے اسے اب احساس ہوا کہ وہ آنچل سے عاری تھی۔۔ اسے اپنا آپ برہنہ لگا۔۔۔ اسنے تڑپ کر ادھر ادھر دیکھ کر آنچل تلاش کرنا چاہا تب اسے یاد آیا کہ اسکی شال تو بے ہوش ہونے سے پہلے ہوا کے دوش پر اڑ گی تھی تو اسکا مطلب تب سے وہ ایسے ہی۔۔۔
آسکا دل بند ہونے لگا۔۔۔ اسے ناجانے کون یہاں لایا تھا۔۔۔ کس کس نے اسے یوں دیکھا تھا۔۔۔ اسکا تو آج تک کسی نے ایک بال تک نا دیکھا تھا تو پھر اب۔۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اسے اپنے رب سے شکوہ ہوا۔۔۔ وہ تو حافظ قرآن تھی۔۔۔ قرآن محفوظ تھا اسکے سینے میں یہ کوِئی عام بات تھی کیا۔۔۔ وہ تہجد گزار تھی شرعی پردہ کرتی تھی۔۔۔ اللہ کے احکامات کو مانتی تھی۔۔۔ اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ اسنے کبھی دانستہ کوِی غلط کام کیا ہو تو پھر یہ سب اسکے ساتھ کیوں۔۔۔ اللہ اس دنیا میں تو تیرے کن کے بنا کوئی کام نہیں ہوتا پھر کیسے میں یہاں اس گندی جگہ پہنچ گی۔۔۔ اللہ میری مدد کر۔۔۔ وہ اس خرانت سی عورت کو دیکھی بے آواز رو رہی تھی۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔
تبھی دوسری عورت اندر آئی۔۔۔ سلمی میٹنگ میں ہے ایسا کرتے ہیں کہ اسکی نوک پلک سنوار دیتے ہیں تاکہ اسے بھی رات کی بولی میں شامل کیا جائے۔۔۔ وہ دوسری عورت پہلی عورت کے پاس آتی مرحہ کو ایکسرے کرتی نگاہوں سے دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔
مرحہ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔۔۔
بات تو تیری ٹھیک ہے سویٹی۔۔۔ دوسری عورت پہلی عورت سے کہتی اسکے جانب بڑھی۔۔۔ مرحہ کو ہوا میں آکسیجن کی کمی ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
ںہیں۔۔۔ نہیں پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو۔۔ میں ایسی لڑکی نہیں خدارا مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔ انہیں اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ سسک اٹھی۔۔۔ ارے چندا اتنا ڈر کیوں رہی ہے رے۔۔۔۔ گھر کیا رکھا ہے۔۔۔ اصل مزہ تو یہاں ہے۔۔۔ اور تو ایسی نہیں ہے اسی لئے تو تیرا دام سب سے زیادہ لگے گا۔۔۔ اپنی قیمت پہچان لڑکی۔۔۔ تو بڑی توپ شے ہے تو تو نظروں کے وار سے گھائل کر دے اور تو ادھر بیٹھی ہے ماتم کرنے۔۔۔۔ وہ عورت ہس کر اسے پچکارتی انگلی سے اسکا گال چھو کر کھلکھلا کر دی۔۔۔ پتہ نہیں اسکی بے بسی پر یا اسکی معصومیت پر۔۔۔
چل سوہٹی پہلے ہیڈ آف دیپارٹمنٹ کو اس لڑکی کا بتا دیں پھر اسے لے کر چلتے ہیں۔۔۔ وہ دونوں عورتیں مسکراتی ہوِئیں باہر نکل گئ لیکن دروازہ کھلا چھوڑ گِیں۔۔۔
مرحہ کو یہ موقع غنیمت لگا۔۔۔ دل زور سے ڈھرکا۔۔ وہ بنا سوچے سمجھے نیچے اتری ۔۔۔
دن کا یہ کون سا پہر تھا وہ نہیں جانتی تھی ۔۔ دن تھا یا رات اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا ۔۔ بس وہ اس عقوبت کھانے سے نکل جانا چاہتی تھی۔۔
دل میں مسلسل ورد الہی تھا۔۔۔ وہ بنا جوتے بنا آنچل کے کھلے دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔
سامنے راہداری کے تھوڑا سا آگے بڑا سا ہال تھا۔۔۔ وہاں بہت سی لڑکیاں تبلے کی تال کر تھرک رہی تھیں۔۔ پاوں میں باندھے گھنگھرو اور ہاتھ لہرا کر ایک جیسے سٹیپ لیتیں وہ جیسے ڈانس سیکھ رہی تھی۔۔۔
یہ منظر دیکھ اسکی روح تک لرز اٹھی۔۔۔ سب لوگ اسی جانب متوجہ تھے اسنے راہداری کی دوسری جانب ایک دروازہ کھلا دیکھا وہ دبے پاوں بنا چاپ پیدا کئے اس جانب بڑھی۔۔۔
اپنے اس حلیے سے اسے سخت کوفت ہو رہی تھی۔۔۔ عام حالات میں وہ کبھی بھی یوں بنا آنچل کے گھر سے باہر نکلنے کا سوچتی بھی نا مگر آج بات اور تھی آج باہر سے زیادہ گدھ اندر موجود تھے۔۔۔ آج باہر سے زیادہ گندی نظریں اندر اسکے تعاقب میں تھیں۔۔
عام سے کھدر کے سوٹ میں چاندی کی مانند دہکتی رنگت پر سنہری آبشار۔۔۔
حسن بے حجاب تھا یوں بھاگتے اس پر کسی گڑیا کا گمان ہوتا تھا۔۔۔
اس دروازے سے باہر آتے ہی اسے معلوم ہوا کہ دن اپنے اختتام پر تھا آہستہ آہستہ آسمان جامنی ہو رہا تھا۔۔۔ شومئ قسمت باہر کوئی نا تھا۔۔۔
اسنے شکر کا سانس خارج کیا سامنے ہی اس وائٹ پیلس کا گیٹ کھلا تھا اور چوکیدار نادارد۔۔۔ وہ اندھادھند گیٹ کی جانب بھاگی۔۔۔ اسکی اس عقوبت کھانے سے رہائی کے درمیان محض یہ گیٹ ہی حائل تھا۔۔۔
اٹھتے ہر قدم میں سرشاری تھی ابھی وہ گراونڈ کے وسط میں ہی پہنچی تھی کہ چار سو الارم کی کانوں کو پھارتی آواز گھونجی۔۔۔ ساتھ ہی کئ بھاگتے قدموں کی چاپ اسے اپنی جانب آتی سنائی دی۔۔۔
وہ یکدم ٹھٹک کر رکی۔۔۔ یہ کیا ہو رہا تھا۔۔۔ اسکا حلق خشک ہوا بے ساختہ اسنے تھوک نگلا۔۔۔
کئ ہٹے کٹے گارڈ اور مرد ہاتھوں میں بندوقیں تھامے اسکے گرد گھیرا قائم کر چکے تھے۔۔۔ اسے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔
تبھی ایک پجارو کھلے گیٹ سے سیمٹ اور بجری کی بنی مضبوط روش پر آکر رکی۔۔۔ وہ سب لوگ اس پجاور کی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
کیونکہ وہ گاڑی کسی عام انسان کی گاڑی نا تھی۔۔ پجارو کا دروازہ وہ کر کے ایک بھرپور نوجوان اندر سے چھلانگ لگاتا باہر نکلا۔۔۔
دراز قد سفید کاٹن کے کلف لگے کڑکڑاتے سوٹ میں ملبوس پاوں میں پشاوری چیل پہنے اپنے مخصوص انداز میں چادر کندھوں پر پھیلائے وہ تیکھے نقوش کا حامل خوبصورت مرد تھا۔۔۔ مرحہ نے ڈبدبائی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔
ایک نظر دیکھنے میں ہی وہ اسے کوئی وڈیرا لگا۔۔۔ وہ شخص بھی یک ٹک سا اس مومی گڑیا کو دیکھ رہا تھا جسکے معصوم چہرے پر موجود نیلی آنکھیں جھرنا بہا رہی تھی اسے اس خوبصورت منظر سے نظریں ہٹانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگا۔۔۔
ایک شخص نے سختی سے مرحہ کو اسکی بازو سے جھکڑا وہ کراہ کر رہ گئ۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ اپنی بازو اس آہنی گرفت سے نکالنے کو ہلکان ہوگئ۔۔
رکو۔۔۔ دور ہٹ جاو اس سے۔۔۔ وہ شخص روبدرانہ انداز میں ہاتھ سے اس شخص کو پیچھے ہٹںے کا اشارہ کرتا قدم قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔
اس شخص کے کہنے کا اعجاز تھا کہ اسکے گرد بنا ان مردوں کا جمگٹا اس سے دور ہونے لگا تھا۔۔ اب اسکے قریب محض وہی شخص کھڑا تھا ایک ٹرانس کی کیفیت میں اسے دیکھتا۔۔۔ مجھے بچا لیں۔۔۔ مرحہ کو وہ اپنا محسن لگا جو ان سب لوگوں کو اس سے دور کر چکا تھا۔۔۔
وہ ناولوں کی دیوانی لڑکی تھی۔۔۔ کبھی سوچا نا تھا کہ وہ کبھی ایسی صورتحال کا خود بھی شکار ہو جائے گی۔۔۔ اسے یہ سب افسانوی لگتا تھا۔ ۔ لیکن اب اپنے سامنے اس محسن کو دیکھ کر اسے یقین ہونے لگا کہ معجزے حقیقت میں بھی ہوتے ہیں۔۔۔ وہ شخص اتنا مضبوط ضرور تھا جو اسکا محافظ بن سکتا۔۔۔۔
******
سلمی پری کے جانے سے جیسے وائٹ پیلس کی رونق ہی چلی گئ ہے۔۔۔ وہ لڑکی یہاں وہاں گھومتی تھی تو یہاں دل بھی لگتا تھا۔۔۔ وہ موٹی توند والا شخص سلمی کے ساتھ بیٹھا حرام مشروب کے پیگ بنا کر پی رہا تھا۔۔۔ سامنے کچھ لڑکیاں اپنی تیاری میں ادھر ادھر گھوم پھر رہی تھیں۔۔۔ رات ہونے والی تھی اور رات ہونے سے پہلے وہاں ہر لڑکی کو دلہن کی مانند سجایا جاتا تھا۔۔۔
تمہیں اس کا کیا فائدہ۔۔ منہ تک تو تمہیں وہ لگاتی نہیں۔۔۔ بھئ اسکا سٹینڈرڈ بہت اونچا ہے۔ ابھی تو اسے گئے تین دن ہی ہوئے ہیں ایک ہفتے کی بکنگ پر گئ ہے وہ۔۔۔ سلمی نے ایک ادا سے ٹانگ پر ٹانگ جماتے ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔
ارے بھلے ہی وہ منہ نا لگاتی ہو لیکن ہم تو اسکے چاندنیاں بکھیرتے سراپے کو دیکھ دیکھ کر ہی ٹھنڈی آہیں بھر لیتے تھے مگر اب تو کمبخت تین دن ہوگئے اسکا دیدار کئے بھی۔۔۔ اب تو نشا ٹوٹنے لگا ہے۔۔۔ یہاں کوئی دوسرا ہے بھی تو نہیں اسکی ٹکر کا۔۔۔ اسکی تو ایک جھلک دیوانہ بنا دے۔۔۔ اسکی نزاکت جچتی ہے اس پر۔۔۔ وہ مسلسل پیگ پیتا کسی غیر مری نقطے کو تکتا یوں بول رہا تھا جیسے سامنے پری کھڑی ہو۔۔۔
کچھ نیا مال آیا ہے سنا ہے بہت لاجواب ہے۔۔ کیا پتہ کوئی گوہر نایاب مل ہی جائے۔۔۔ اچانک یاد آنے پر سلمی اسکی جانب رخ کرتی گویا ہوئی وہ خود میٹنگ کے چکر میں نئ لڑکیوں سے مل نہیں سکی تھی۔۔
مل سکتا ہے تمہیں گوہر نایاب۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی اور پری سے بھی حسین ہو۔۔۔ لیکن اس میں پری جیسی نزاکت نہیں ہو سکتی۔۔۔ یہ اسکی نزاکت اور نازک مزاجی ہی ہے جو اسکی جانب متوجہ کرتی ہے۔۔۔ ایسی نازک مزاجی کسی اور میں نہیں ہو سکتی۔۔۔ وہ پری سے کچھ زیادہ ہی متاثر لگتا تھا۔۔۔ سلمی کو اسکی کسی بات سے اعتراض نا تھا۔۔۔ پری واقعی اس وائٹ پیلس کی جان تھی اور اسکے لئے سونے کی چڑیا۔۔۔
سلمی بائی وہ نئے آئے مال سے ایک لڑکی نے یہاں سے فرار ہونے کی کوشیش کی ہے لیکن بروقت سیکیورٹی ہیڈ نے اسے فوٹیج میں دیکھ کر الاارم بجا دیا وہ اب ہماری تحویل میں ہے۔۔۔ تبھی ایک لڑکی ہانپتی کانپتی وہاں تک پہنچی اور ایک ہی سانس میں سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ اسے یہ ڈر تھا کہ کہیں سلمی اسکی پوری بات سنے بغیر ہی کوئی فیصلہ نا سنا دے جسکے عتاب کا نشانہ وہ بنتی۔۔۔ اسی لئے بعجلت ایک ہی سانس میں گویا ہوئی۔۔۔
سلمی بھرپور طیش میں صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ ابھی تو پچھلی بھاگ جانے والی لڑکی کا غم غلط نا کر سکی تھی کجا کہ ایک اور لڑکی نے وہ حرکت کر ڈالی۔۔ سلمی کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں۔۔۔
اسے جلد از جلد اس بغاعت کا سر کچلنا تھا تا کہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت کرنے کے بارے میں نا سوچتا۔۔۔
کہاں ہے وہ۔۔۔ وہ غصے سے کھولتے دماغ کیساتھ وہاں سے بعجلت نکلی۔
*****
عصر باسی ہوچکی تھی آسمان ہلکا ہلکا سا رنگ بدلنا شروع ہوا تھا آفندنی ہاوس کے لان کی سبھی لائٹیں روشن کر دی گئ تھی۔۔۔ ایسے میں وہ کچن شیلف کے پاس کھڑی کچن کی کھلی کھڑکی سے سر اونچا کئے یاسیت بھری نگاہوں سے باہر کھلے آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ چولہے پر ہلکی آنچ پر رکھی چائے کو ابالے آ رہے تھے وہ چائے ہمیشہ کڑک پیتی تھی۔۔۔ دو کپ دودھ ڈال کر چائے بننے کے لئے رکھ دیتی اور جب تک چائے کو جوش دلا دلا کر ایک کپ نا رہ جاتا وہ چائے نہیں پیتی تھی۔۔۔ پتلی چائے اس سے پی ہی نہیں جاتی تھی۔۔ مرحہ کو اسکی اس عادت سے بہت چڑ تھی۔۔۔ شام کی چائے مرحہ کے ذمہ تھی اور اتنی دیر تک چولہے کے پاس کھڑے ہونے پر وہ سخت بد مزہ ہوتی۔۔۔ مرحہ کی یاد آتے ہی دل بوجھل سا ہونے لگتا۔۔۔
وہ مرحہ کی یاد میں اتنے آنسو بہا چکی تھی کہ اب تو آنسو بھی خشک ہونے لگے تھے۔۔۔ بات بات پر وہ یاد آ کر اسکی آنکھیں نم کر جاتی۔۔۔
صبح شام وہ بہروز بھائی کے سر ہوتی کہ مرحا کا کچھ پتہ چلا کہ نہیں اور وہ بیچارے نظریں چڑا کر رہ جاتے۔۔ شازمہ خالہ اور شزا نے اسکا بھرپور خیال رکھا تھا۔۔۔ میرب اور سبحان سے بھی اسکا کافی دل بہل گیا تھا البتہ شہروز سے اسکا دوبارہ سامنا نا ہوا تھا کیونکہ وہ کسی ٹور پر گیا تھا۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود اسکی یاد دل میں کسک پیدا کرنے کیساتھ ساتھ آنکھ بھی نم کر جاتی۔۔۔ وہ پہروں بیٹھ کر رب کے حضور اسکی عافیت اور صحیح سلامت رہنے کی دعائیں کرتی۔۔۔
ہے بیوٹیفل لیڈی کیا ہو رہا ہے۔۔۔ روٹھے روٹھے سے ہمارے سرکار نظر آتے ہیں یہ کیا ماجرا ہے ہمیں اس سے زیادہ شعر نہیں آتے ہیں۔۔۔ دفعتا وہ ہوا کے جھونکے کی مانند کچن میں داخل ہوا اور سوچوں میں گم بیا کی تیکھی ستوان ناک پر اپنے ہاتھ کی انگلیاں رکھ کر ڈور بیل بجاے کے سٹائل میں دبائیں۔۔۔
بیا نے چونک کر اسکی جانب دیکھا جبکہ وہ اسے سمبھلنے کا موقع دیئے بغیر ڈوپٹے کے ہالے سے جھانکتے بالوں کو کھینچتا اسکی پہنچ سے دور ہوکر فریج سے ٹیک لگا کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھے شرارتی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اسے دیکھنے لگا ۔ ۔
بیا ہونق بنی پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئ۔۔ آنکھیں لمحوں میں جل تھل ہوئیں۔۔۔
دھت تیری دی۔۔ شہریار سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
اررے۔۔رے یہ کیا ہوا۔۔۔ بیا کیا ہوا رو کیوں رہی ہو۔۔۔ ڈونٹ ٹیل می کہ اس بدتمیز بندے نے تمہیں کچھ کہا۔۔۔
دفعتاً شزا پانی کا جگ ہاتھ میں تھامے کچن میں آئی اور اسے یوں نیر بہاتے دیکھ پاس ہی شہروز کو شرارتی نگاہوں سے اسے تکتا پا گویا معاملے کی تہہ تک پہنچی۔۔۔
نوٹنکی کی دوکان میں نے کچھ نہیں کہا میں نے تو بس حال چال ہی پوچھا تھا یہ محترمہ خود ہی رونے لگی۔۔۔ تیزی سے شزا کے پاس آتے اسنے شزا کے ساتھ بھی وہی حرکت دہرائی اسکے ناک پر دو انگلیاں رکھ کر انہیں دبانے کے بعد سرعت سے اسکے بال کھینچتا اسے سمبھلنے کا موقع دیئے بغیر قہقہ لگاتا کچن سے بھاگا۔۔۔
آہہہہ۔۔ امی ی ی ی ۔۔۔ وہ جھنجھلا کر پاوں پٹختی زور سے چیخی۔۔۔
کچھ لحاظ کر لو لڑکی اپنا نہیں تو المیر بھائی پر ہی ترس کھا لو جن کی قسمت پھوٹ گئ۔۔۔ کل کو انہیں رخصتی کے وقت بیوی نہیں بلکہ تین سال کی ننھی کاکی ملے گی جو بات بات پر بچوں کی طرح چیخ کر پاوں پٹختی امی ی. امی ی کرتی ہے۔۔۔ وہ واپس کچن کے دروازے سے سر نکال کر اسکی حالت سے محظوظ ہوتا گویا ہوا اس سے پہلے کے شزا کا بیلن کی طرف بڑھتا ہاتھ گھوم کر اسکا سر سینکتا وہ قہقہ لگا کر وہاں سے نو دو گیارہ ہوا۔۔۔ جبکہ بیا کے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے وہ حیرت و انبساط سے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔۔۔
ارے فکر مت کرو بیا اور اسکی کسی بات کو دل پر مت لینا وہ ایسا ہی ہے ہر کسی کی ناک میں دم کر دینے والا۔۔۔ ماما کہتی ہیں کہ وہ ہمارے آفندی ہاوس کی جان ہے پر میں کہتی ہوں کہ جب جب یہ یہاں نہیں ہوتا آفندی ہاوس میں سکون رہتا ہے۔۔۔ دیکھا نہیں گزشتہ دو روز کتنے پرسکون تھے اور آج ابھی گھر داخل نہیں ہوا اور بھونچال لا کر رکھ دیا۔۔۔
لیکن خیر چھوڑیں گے تو ہم بھی نہیں اسے چلو امی کے پاس ابھی اسے جھاڑ پلوا کر بدلہ لیتے ہیں۔۔۔ شزا اسے پوری بات بتا کر اسکا ہاتھ پکڑتی اسے اپنے ساتھ کھینچی باہر نکل گئ جبکہ وہ اسکی جلدبازیاں ملاخظہ کرتی بعجلت چولہا بند کر کے اسکے ساتھ کچن سے نکلی۔۔
امی ی ی ۔۔۔امی ی ی ی۔۔۔ وہ لاوئنج میں کھڑی اونچی آواز میں ماں کو پکار رہی تھی۔۔
*****
آفندی ہاوس کے لاوئنج میں اس وقت عدالت سجھی تھی۔۔۔ بیا سر جھکائے تھری سیٹر صوفے پر بیٹھی اپنے ہاتِھ مسل رہی تھی جبکہ شازمہ بیگم اسکے بالکل سامنے بیٹھی بھر پور غصے سے بیٹے کو گھور رہی تھیں۔۔۔ انکے صوفے کے پیچھے شزا ہاتھ باندھے فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے کٹھرے میں کھڑے شہروز کو دیکھ رہی تھی جو مسکراہٹ چھپانے کو ہلکان سر جھکائےماتھا کھجا رہا تھا۔۔
شہروز تمہیں کچھ اندازہ ہے تم نے بیا کو رلایا اب تم گھر آئی مہمان کو بھی تنگ کرو گئے۔۔۔ انکا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تِھا شزا نے انہیں خوب بھڑکایا تھا اور یہ اسی کا اعجاز تھا۔۔۔
لیں مام بھلا اب میں نے کیا گستاخی کر ڈالی میں نے تو اس بیوٹیوفل سی ڈول کا محض حال چال ہی پوچھا تھا اب اتنے میں ہی یہ رونے لگی مجھے کیا پتہ تھا میڈم اتنی نازک مزاج ہیں کندھے اچکا کر کہتا وہ دھپ سے اسکے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھا۔۔۔ بیا اسکی حرکت پر سراسیمگی سے اسے دیکھتی سمٹ کر پیچھے ہٹی۔۔۔
شہروز۔۔۔ انکی آواز میں تنبیہہ تھی۔۔۔کچھ شرم کر لو۔۔۔
لیں اب اس میں شرم کیسی میں نے تھوڑی نا آپکی بھانجی کو پرپوز کر دیا یا بھاگ کر شادی کرنے کی آفر کر دی حال چال ہی پوچھا تھا۔۔ کیوں ایسا ہی ہے نا بیا۔۔۔ وہ ایک بازو صوفے کی پشت پر ٹکاتا اسکی جانب زرا جھک کر شوخی سے گویا ہوا۔۔۔ بیا اسے خوفزدہ نگاہوں سے دیکھتی مزید سمٹی غزال سی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر بہے اور ادھر شازمہ بیگم کا ضبط جواب دے گیا۔۔۔
انف اٹس انف شہروز۔۔۔ وہ تمہارے مزاق نہیں سمجھتی وہ شزا نہیں ہے جس سے تمہارے مذاق کا رشتہ ہو۔۔۔ ہر وقت اپنی مت ہانکا کرو کبھی وقت اور موقع کی نزاکت کو بھی سمجھ لیا کرو۔۔۔ بھرپور غصے میں اس پر الٹنے سے شہروز کے مسکراتے لب سمٹے ۔۔۔چہرے نے لمحے کے ہزارویں حصے میں رنگ بدلا۔۔۔
بونچکا تو شزا بھی رہ گئ تھی اس صورتحال سے وہ تو محض ماں سے اسکی ٹانگ کھنچوانا چاہتی تھی کجا کہ یوں اسقدر عزت افزائی۔۔۔ماں شاید بھانجی کے لئے زیادہ ہی سیریس ہو گئ تھیں۔۔۔
لب بھینچے وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اسے نہیں. یاد پڑتا تھا کہ اسکے ہوش سمبھالنے کے بعد سے ماں نے کبھی اسے ڈانٹا ہو۔۔۔
ایم سوری مس ابیہا صدیقی۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوگئ آئندہ سے میں بالخصوص دھیاں رکھوں گا کہ میری ذات سے آپکو کوئی تکلیف نا ہو آپ یہاں آرام سے رہیں۔۔۔
سنجیدگی سے اس سے مخاطب ہوتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا لاوئنج سے باہر نکل گیا۔۔۔
شہروز میری بات۔۔۔ پیچھے شازمہ بیگم کہتی ہی رہ گئ جبکہ وہ جا چکا تھا۔۔۔ بے بسی سے انہوں نے مٹھی صوفے کی ہتھی پر ماری۔۔۔
وہ انکا شوخ و چنچل سا بیٹا تھا اتنا سنجیدہ انہوں نے اسے کبھی نہیں دیکھا ۔۔ وہ بے بسی سے آنکھیں موند گئ۔
*****
No comments