Header Ads

Nam Aankhain novel 7th episode by Umme Hania

    


 Nam Aankhain novel 7th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

ساتویں قسط۔۔۔
اسکے دروازے کی جانب اٹھتے قدم من من بھاری ہو چکے تھے۔۔۔ دروازے کے باہر رک کر اسنے ایک گہرا سانس خارج کرتے خود کو اگلے محاز کے لئے تیار کیا اور دل کڑا کر کے آہستگی سے دروازہ وا کیا۔۔۔
سامنے کا منظر بہت جانا پہچانا سا تھا۔۔۔ وہی کمرا وہی سیٹنگ۔۔۔ اور اسی انداز میں وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے ٹانگوں پر لیپ ٹاپ رکھے اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔
رشنا نے تھوک نگلتے قدم اندر رکھا۔۔۔ دروازے کے چڑچڑانے کی آواز پر وہاب نے لیپ ٹاپ سے نگاہیں ہٹا کر سامنے دیکھا اسکی بھوری آنکھوں میں رشنا نے کئ تاثر ایک ساتھ ابھرتے دیکھے پہلے حیرت پھر تعجب اور پھر درشتگی۔۔۔ اسکے نظروں کے انداز اور ماتھے پر بچھتا شکنوں کا جال رشنا کا دل لرزا رہے تھے۔۔۔ اب تک اسکے سامنے آ کر کی جانے والی وضاحت کی جوڑ توڑ اسے بھولنے لگی تھی۔۔۔ الفاظ زبان کا ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ کس کی اجازت سے تم آئی یہاں۔۔ وہ ایک ہی جست میں لیپ ٹاپ بیڈ پر پھینک کر اس تک آیا اور اسکی بازو دبوچ کر بھرپور غصے سے غرایا۔۔۔ رشنا جو ہاتھ مسلتی بولنے کو الفاظ ڈھونڈ رہی تھی اسکی وحشانہ گرفت ہر لرز کر رہ گئ۔۔۔
کچھ کہنے کی جستجو میں لب کپکپا کر رہ گئے۔۔۔ جھکے سر سمیت کئ آنسو اسکی گالوں پر پھسلتے چلے گے۔۔۔
چلو جی بس ڈرامے شروع۔۔۔ اسکے آنسوں کا ثمر تھا شاید جو وہ جھنجھلا کر اسکی بازو ایک جھٹکے میں چھوڑتا بالوں میں ہاتھ چلا کر اپنے اندر اٹھتے شرویدہ سر طوفان کی لہروں کو دبانے لگانے۔۔۔
چھن سے دل میں کچھ ٹوٹا تھا۔۔۔ وہ ایسا تو کبھی نا تھا۔۔۔ وہ تو بہت نرم دل پولائٹ اور میٹھی گفتار والا تھا۔۔ اسکی یہ ہی سب خوبیاں سوچ کر تو اس سے یہاں ملنے آنے کا حوصلہ نکال پائی تھی۔۔۔
مگر یہ کیا۔۔۔ یہ تو وہ وہاب تھا ہی نہیں۔۔۔ یہ تو بے وفائی کی آگ میں جلتا وہاب تھا جو اس آگ کی تپش سے اسے بھی جلا کر بھسم کر دینے کے در پر تھا۔۔۔
آئی کیا ہو تم یہاں لینے۔۔۔ اب کیا بچ گیا ہے کہنے سننے کو۔۔۔ ایک ہاتھ کمر پر  رکھے دوسرے ہاتھ کی مٹھی ماتھے پر مارتا یکدم وہ پلٹ کر اس تک آ کر غرایا۔۔۔
رشنا کے آنسوؤں کی شدت میں اضافہ ہوا۔۔۔
دفعہ ہو جاو یہاں سے رشنا اس سے پہلے کہ میں تمہارا گلا دبا کر قتل کردوں۔۔ نکل جاو میرے کمرے سے۔۔۔  اسکے آنسو مسلسل وہاب کی اذیت میں اضافہ کر رہے تھے تبھی تو آپا کھو کر وہ حقارت آمیز انداز میں گویا ہوا۔۔ 
چھن چھن چھن اندر کچھ ٹوٹا تھا۔۔۔ یہ طرز تخاطب اسکے لئے۔۔۔ اتنی حقارت۔۔۔ کیا وہ اتنی ہی حقیر ہوگئ تھی۔۔۔ اتنی ہی بے مول ۔۔۔ اتنی ارازاں ۔۔۔ یک ٹک وہاب کو دیکھتے اسکے آنسو ٹھٹھرنے لگے تھے۔۔۔
اس سب کی ذمہ دار بھی تم خود ہو تمہارے منہ زور جذبات بے لگام خواہشیں۔۔۔ اندر سے کسی نے جھجھوڑ کر اسکے ضمیر کو جگاتے اسے آئینہ دکھایا تھا۔۔۔ اس آئینے میں اسے اپنا عکس نہایت مکرو لگا۔۔۔
ٹھیک ہے تم تو ہو ہی ڈھیت اول میں ہی چلا جاتا ہوں یہاں سے۔۔۔ اتنی عزت افزائی کے باوجود اسے کمرے سے ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ وہاب دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔
جب یکدم اسکے قدم زنجیر ہوئے۔۔۔ دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔ آنکھیں پھٹ گئ۔۔۔ آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو کر ہلنے سے انکاری ہو گئیں۔۔ گویا ہر چیز ساکت ہوگئ۔۔۔ وہ فضا میں معلق رہ گیا تھا۔۔۔الفاظ کہیں کھو گئے۔۔۔ زبان گنگ ہو گئ۔۔۔ وہ ہر چیز کی توقع کر سکتا تھا پر اس چیز کی نہیں۔۔۔ نا توقع تھی اور نا ہی خواہش۔۔۔۔ 
یہ کیا کر ڈالا تھا اس پاگل لڑکی نے۔۔۔ اسے لگا وہ ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔۔۔ کئ لمحے لگے اسے سانس لینے میں۔۔ پلکیں جھپکنے میں۔۔۔ صورتحال سمجھنے میں۔۔۔ بولنے کے قابل ہونے کے۔۔۔ الفاظ اکھٹے کرنے کے۔۔
اور خود رشنا۔۔  وہ سب کشتیاں جلا کر آئی تھی یہاں۔۔۔ وہ اسکا محسن تھا۔۔۔ اسکا ہمدم۔۔۔ اسکا محافظ سمجھنے میں اسے غلطی ہوئی تھی۔۔ بے وفائی اسنے کی تھی۔۔ وہاب تو سراپا وفا تھا۔۔۔ اسنے تو ابھی تک وفا نبھائی تھی اسکا ناقابل معافی گناہ چھپا گیا تھا سب سے۔۔۔ سب کی نظروں میں سرخرو کروا گیا تھا۔۔ آج اگر وہ سب کے سامنے سر اٹھا کر جی رہی تھی تو محض اسکی بدولت تو اسکے سامنے کیسی انا اور کیسی عزت نفس۔۔۔ آج تو سب وار کر بھی اسے حاصل کرنا تھا۔۔۔ 
دوسرا آپشن ہی نا تھا۔۔۔ آج یا تو مراد بر آتی یا نا مراد ٹھہرتی۔۔۔۔ آر یا پار۔۔۔ چاہے تو جنت مل جاتی۔۔۔ چاہے تو دھتکار کر اس جنت سے نکال دی جاتی۔۔۔
کوشیش تو کرنی تھی نا اسے۔۔۔ آخری حد تک۔۔۔
وہاب نے تھوک نگلتے بدقت ساکت نگاہوں سے اسکی پتلیوں کو حرکت میں لاتے نیچے اپنے پیروں تک کا سفر طے کیا۔۔ وہ کپکپا کر رہ گیا۔۔۔ اسکے جوتے سے آزاد پاوں رشنا کے مخروطی دودھیا ہاتھوں کی پرشدت گرفت میں تھے۔۔۔ اسکے بال سر پر اوڑھی شال سے نکل کر اسکے پاوں کو چھوتے زمین پر سجدہ ریز تھے۔۔۔۔ جھکے سر اور چہرے سمیت آنکھوں سے سفید موتی توٹ توٹ کر اسکے پاوں بگھوتے جا رہے تھے۔۔۔
بدقت اسنے تھوک نگلا۔۔ اسے لگا وہ مفلوج ہو رہا ہے۔۔۔ ان دیکھی زنجیریں اسے جکڑ رہی ہیں۔۔۔
جانتی ہوں وہاب۔۔۔ گناہ بہت بڑا ہے۔۔۔ ناقابل تلافی۔۔۔ شاید اسکی معافی ممکن نہیں۔۔۔ پر ایسا نا کریں میرے ساتھ وہاب۔۔۔ ایسا نا کریں نا۔۔۔  مر جاوں گی۔۔۔ اگر ابھی تک سب سے بچایا ہے تو اب اس دہکتی جہنم میں مت پھینک وہاب۔۔ جھلس جاوں گی۔۔۔ میں سب کی بولتی نگاہوں اور نشتروں کی مانند طنزوں کا سامنا نہیں کر سکتی۔۔۔ بہت کمزور ہوں چھلنی چھلنی ہو جاوں گی وہاب۔۔۔ شادی نہیں کر سکتے تو زہر دے دیں۔۔۔ مار دیں مجھے ایک ہی بار میں۔۔۔ ویسے بھی مجھ جیسی نفس پرست بیٹیوں کو جینے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہے۔۔۔
موت آسان کر دیں نا وہاب۔۔۔ اس پشیمانی بھری زندگی سے رہائی دے دیں۔۔۔ عذاب میں مت جھونکے وہاب۔۔۔۔ آپکو خدا کا واسطہ۔۔۔ آپکو تائی جان کا واسطہ وہاب۔۔۔ آپکو اس محبت کا واسطہ جو آپ نے مجھ سے کبھی کی۔۔۔ 
لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا کرتے اسکا جسم خزان رسید پتے کی مانند ہچکیوں کی زد پر تھا۔۔۔ وہاب کے پاوں اسکے آنسو سے تر ہو چکے تھے۔۔۔ کسی نے اسکا دل مٹھی میں لے کر بے طرح مسلا۔۔۔ اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔
کبھی یہ لڑکی اسکی آتی جاتی سانسوں کی وجہ تھی۔۔۔ کب چاہا تھا اسنے اسے جھکانا۔۔۔
اپنی پوری ہمت مجتمع کر کے وہ جھکا اور اسے دونوں کندھوں سے تھاما۔۔۔ اٹھو رشنا پلیز۔۔۔ ی۔۔یہ مت کرو۔۔ اٹھو شاباس۔۔۔
شوریدہ سر طوفان کا ریلہ خودبخود کہیں جا سویا تھا۔۔۔ اب تو آواز تک کپکپا گئ تھی۔۔  رشنا کی حرکت نے اسے گنگ کر دیا تھا۔۔۔
یہاں بیٹھو۔۔۔ لو پانی پیو۔۔۔ اسنے ہچکیاں لیتی رشنا کو صوفے پر بیٹھایا اور خود بعجلت جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر اسے گلاس تھمایا۔۔۔
وہ صوفے پر سر جھکائے بیٹھی خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ شال سر سے اتر کر کندھوں تک کھسک گئ تھی۔۔۔ چہرا شدت گریہ سے سرخ ہوا پڑا تھا۔۔۔
وہاب کو اس پر جی بھر کر ترس آیا۔۔۔
دیکھو رشنا میری بات غور سے سنو اور سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔ وہ اسکے سامنے ہی گلاس ٹیبل پر ٹکتا اسکے دونوں ہاتھ تھام گیا۔۔۔ آواز میں نرمی تھی۔۔۔ وہی نرمی جو اسکی ذات کا خاصا تھی۔۔۔ رشنا نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ دونوں کی نظریں ٹکرائی۔۔۔ رشنا کو اس میں پہلے والے وہاب کی جھلک دکھائی تھی۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے۔۔۔
دیکھو روشی مت دو خود کو تکلیف اور مجھے بھی اسنے ہاتھ بڑھا کر رشنا کے آنسو صاف کیے۔۔۔
رشنا نے شدت سے ان لمحات کے امر ہو جانے کی دعا کی۔۔
روشی میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔ خدارا میری بے بسی کو سمجھو۔۔۔ میرا اتنا ضرف نہیں ہے۔۔۔ لب چبا کر کہتے اسکی آواز پر نم  تھی۔۔۔ رشنا کو پہلی مرتبہ وہ بہت بے بس لگا۔۔۔
اگر تمہیں میں خود سے الگ کر رہا ہوں تو تمہاری بھلائی کے لئے روشی کیونکہ میں ابھی بھی تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم خوش رہو۔۔۔ تمہاری نادانی کا تمہاری زندگی پر اثر نا پڑے تم ایک باعزت زندگی بسر کر سکو۔۔۔
تم اچھی ہو روشی۔۔۔ رشنا کو اپنا سانس رکتا محسوس ہو۔۔۔ یہ عموما وہ فقرات تھے جو بکرے کو ذبح کرنے سے پہلے کہے جاتے ہیں۔۔۔ تم اچھے ہو لیکن تمہیں ذبح کرنا مجبوری ہے۔۔۔ وہ سانس روکے یک ٹک اسے دیکھے گئ۔۔۔ لیکن میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔ نا عزت نا محبت۔۔ میں نے تمہاری اس لڑکے کے ساتھ ہوئی چیٹ پڑھی ہے روشی۔۔۔ معذرت کیساتھ تم اپنے خالص جذبات کسی اور پر لٹا چکی ہو۔۔۔ رشنا کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔ کہاں کہاں کس کس انداز میں اسنے اپنے گناہ کی جڑیں پھیلا رکھی تھی کہ انہیں اکھیرتے اکھیرتے اسکے ہاتھ لہولہان ہو جاتے۔۔۔
دیکھو میرا مطلب تمہیں شرمندہ کرنا نہیں لیکن یہ سچ ہے وہ سب پڑھ کر اب میرے دل میں تمہارے لئے کوئی گنجائش نہیں۔۔ نا ہی دل میں اور نا ہی زندگی میں۔۔۔ 
یہ وقت تھوڑا مشکل ہوگا لیکن یہ کٹ جائے گا روشی آگے ایک اچھی زندگی تمہاری منتظر ہو گئ تم خوش رہو گی کجا کہ میرے ساتھ شادی کے بعد پوری زندگی جہنم میں بسر کرو گی۔۔۔
اس وقت سب کو غصہ آئے گا لوگ برا بھلا بھی کہیں گے لیکن وہ سب چونکہ حقیقت سے ناآشنا ہے تو کوئی تمہارے کردار پر حرف نہیں اٹھائے گا۔۔۔  انکی دل چیرتی باتیں کم از کم اس نوعیت کی نہیں ہوگیں۔۔
کچھ وقت گزرے گا تو سب آیا گیا ہو جائے گا۔۔۔ چچا جان تمہارے لئے کوئی اچھا رشتہ ڈھونڈ لیں گے اور وہ رشتا واقعی اچھا ہوگا۔۔۔ چونکہ وہ شخص تمہاری اس حرکت کے بارے میں نہیں جانتا ہوگا تو تم اسکے ساتھ ایک اچھی اور باعزت زندگی گزارو گی۔۔۔۔ بے شک لاعلمی بھی ایک نعمت ہے۔۔۔ لیکن روشی شاید میں بہت تلخ ہو رہا ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ کوئی شخص آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتا۔۔۔ وہ بہت میٹھے انداز میں اسے ساری حقیقت سے آشنا کرواتا قطرہ قطرہ اسکی رگوں سے خون چوس رہا تھا۔۔۔ اتنی بھیانک حقیقت سن کر اسے اپنی رگوں میں بہتا خون مجمند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ دل پر بوجھ بڑھنے کیساتھ ساتھ اسے جسمانی طور پر بھی اپنے اوپر ایک ان دیکھا بوجھ بڑھتا محسوس ہوا جسکے بوجھ تلے وہ دبتی جا رہی تھی۔۔۔
میں تمہیں مستقبل کی مصیبتوں سے بچانا چاہتا ہوں روشی میرا ساتھ تمہارے لئے محض باعث اذیت ہوگا۔۔ 
اس رشتے کا ٹوٹ جانا ہی بہتر ہے کسی اچھے انسان کا ہاتھ تھامنا جو تمہیں عزت دے سکے۔۔۔
اسکی اتنی لمبی تقریر کے جواب میں وہ خوفزدہ بچے کی مانند اسکے ہاتھ تھام کر سسک اٹھی۔۔۔
یہاں تک کا نقشہ تو خوب کھینچا  ہے آپ نے وہاب آگے کا نقشہ بھی کھینچ دیں تاکہ جسم سے روح کے پرواز ہونے کا سفر آسان ہو سکے۔۔۔۔
اس عزت بھری زندگی میں جو پل پل میرے سر پر کسی بھی وقت حقیقت کے کھل جانے کی تلوار لٹکے گی اس سے اپنی پور پور لہولہان ہونے سے میں کیسے بچا پاوں گی وہاب۔۔ اس پل پل کی اذیت سے کیسے بچوں گی۔
اور۔۔۔اور جو کبھی اگر میری اصلیت کھل گئ تو میرا وہ نام نہاد عزت دینے والا شوہر کیا کرے گا میرے ساتھ۔۔۔ اسکا بھی نقشہ کھینچ دیں نا۔۔۔
اب ہر کوئی وہاب درانی نہیں ہو سکتا نا جو محبت بھی عبادت سمجھ کر کرے۔۔۔ جسے محبت کی ناقدری برداشت نا ہو۔۔۔ جو خود پر ہر الزام سہہ لے لیکن بے وفا محبوب پر حرف نا آنے دے۔۔۔
نہیں ایسا صرف وہاب درانی ہی کر سکتا ہے دوسرا کوئی بھی ایکس وائی زید مجھے اسی وقت طلاق کے تین کاغذات پکڑا کر بھرپور ذلالت اور بے عزتی کے بعد اپنی زندگی سے بے دخل کر دے گا۔۔۔ پوری دنیا میں میرے گناہ کے اشتہارات لگائے گا۔۔۔ 
مجھے گنہگار ثابت کر کے خود غظیم بنے گا۔۔۔
تب میں کیا کروں گی وہاب یہ بھی تو بتا دیں۔۔۔ 
وہاب نے نظریں چراتے ہوئے اسکی گرفت سے ہاتھ نکالے اور میز سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ تمہاری اصلیت کسی کے سامنے نہیں آئے گی۔۔۔ اسے خود بھی اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی
یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں وہاب۔۔۔ ایسا ہی ہوگا۔۔۔ اس دنیا میں محض ایک ہی انسان ہے جس سے شادی کے بعد میں حقیقت کھلنے کے خوف سے آزاد رہ سکتی ہوں اور وہ  وہاب درانی ہے۔۔۔۔
رشنا چپ ہو جاو۔۔۔ وہ ڈھار کر اسکی جانب پلٹا۔۔۔ وہ لڑکی اسے گھما پھرا کر اپنی باتوں کے جال میں پھنسا رہی تھی۔۔ لمحوں میں ساری ہمدری ہوا ہوئی۔۔۔
آپ اس رشتے کو محض کاغذی رہنے دیں آ۔۔۔آپ دوسری شادی کر لینا وہاب۔۔۔ میں کبھی آپ سے کوئی مطالبہ نہیں کروں گی ۔۔ لیکن اس وقت میرے سر پر لٹکی بدنامی و رسوائی کی تلوار کو ہٹا دیں خدارا مجھ سے نکاح کر لیں۔۔۔ مستقبل کے خوفزدہ ازدہوں کو دیکھتی وہ کپکپا اٹھی تھی تِبھی تو اب اسکے سامنے ہاتھ جوڑتے منتوں ہر اتر آئی تھی۔۔۔
یہ سب اتنا ی آسان لگتا ہے تمہیں۔۔ شادی گڈے گڈی کا کھیل ہے کیا۔۔۔ شوٹنگ چل رہی ہے یہاں کسی فلم کی۔۔۔ یا یہ کوئی انڈین مائیلو ڈرامہ ہے۔۔۔ 
یہ ہماری زندگی ہے رشنا۔۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔۔۔ نا تو میں کوئی فرشتہ ہوں جو سب بھول جاوں اور نا ہی تم کوئی ستی ساوتری ہو جو چپ چاپ اپنے ہر حقوق سے محروم دکھیاری بن کر کسی کونے سے لگ کر زندگی گزار دو۔۔۔ اسنے غصے سے پلٹ کر اسے دونوں بازوں سے تھام کر اچھا خاصا جھنجھوڑ دیا تھا۔۔۔
یہ دیکھو میرے جڑے ہوئے ہاتھ رشنا بخش دو مجھے نہیں کر سکتا تم سے شادی۔۔ جان چھوڑ دو میری۔۔۔ میرے تو نیکی گلے پڑ رہی ہے۔۔وہ اسکے سامنے زوردانہ انداز میں ہاتھ جوڑتا پھٹ پڑا تھا۔۔۔ اعصاب چٹخنے لگے تھے۔۔۔
  تمہاری اصلیت سب کو بتاوں تو مرتا ہوں نا بتاوں تو مرتا ہوں کس مصیبت میں پڑ چکا ہوں۔۔۔ کھولتے دماغ کے ساتھ اسنے ڈریسنگ کے شیشے میں پوری قوت سے مکہ جڑا تھا۔۔۔ چھناکے سے اسکا شیشہ ٹوٹ کر ماربل کے فرش پر جابجا بکھرا تھا۔۔۔
آہ ہ 
رشنا چیخ مارتی پھٹی پھٹی آنکھوں کیساتھ منہ پر دونوں ہاتھ رکھتی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
ساری فساد کی جڑ میں ہوں نا وہاب۔۔۔ آپکی زندگی کی سبھی مشکلیں میری وجہ سے ہی ہیں نا۔۔ میری ہی وجہ سے اس شادی سے انکار کی وجہ سے ہی تائی جان آپ سے ناراض ہیں نا تو میں آج یہ جڑ ہی ختم کر دوں گی۔۔۔ ختم کر ڈالوں گی میں خود کو۔۔۔
میں نہیں جی سکتی یوں۔۔۔ میں لوگوں کی حقارت زدہ نگاہئن اور طنزیہ باتیں نہیں سن سکتی۔۔۔ بے بسی اور احساس زیاں سر چڑھ کر بول رہا تھا۔۔ وہاب کے ہاتھ سے بہتا خون اسے پاگل کئے دے رہا تھا۔۔۔ ہر انجام سے بالاتر اسنے بھاگ کر میز پر پڑی فروٹ کی باسکٹ سے چھڑی اٹھائی اور سرعت سے اپنی کلائی پر رکھی۔۔۔ یہ سب لمحوں میں ہوا تھا وہاب دیکھتا ہی رہ گیا
اسکی یہ حرکت وہاب کو ساکت کر گئ وہ جہاں کا تہاں رہ گیا۔۔۔
نہیں رشنا۔۔۔ نو۔۔۔ چھڑی واپس رکھو۔۔۔ اسکا سانس حلق میں آٹکا۔۔۔ وہ ایک جذباتی لڑکی تھی اور اس وقت تو ویسے بھی اسکی دماغی حالت پے در پے ہوئے واقعات کے باعث سٹیبل نا تھی۔۔۔ وہ کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔ وہاب کو اپنی فاش غلطی کا احساس ہوا۔۔۔ اسے رشنا سے ملنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔
کیا ہوا یہ آواز۔۔۔ آہ۔۔۔ روشی بچے نہیں ۔۔ ہٹاو اسے۔۔۔ شیشہ ٹوٹنے کی آواز پر نوریں بیگم بھاگ کر کمرے کا دروازہ وا کر کے اندر داخل ہوئیں لیکن سامنے ہی رشنا کو کلائی پر چھڑی رکھے خطرناک عزائم سے اسے تکتے دیکھ چیخ کر منہ پر ہاتھ رکھتیں کپکپا کر رہ گئیں۔۔۔
ہٹاو اسے۔۔۔ انہوں نے ایک ہی جست میں آگے بڑھتے ہاتھ مار کر چھری اسکے ہاتھ سے دور پھینکی اور کھینچ کر اسے خود میں بھینچا۔۔۔ رشنا انکے ساتھ لگی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔  
بس بیٹا ایک آنسو نا نکلے اب تمہاری آنکھ سے۔۔۔ گھر جا کر تیاری کرو ہم پرسوں بارات لے کر آ رہے ہیں۔۔۔ وہاب جو ماں کے آنے سے اور رشنا کے ہاتھ سے چھڑی کھینچ لینے سے زرا پرسکون ہوا تھا ماں کے اس انکشاف پر اسنے حیرت سے ماں کی جانب دیکھا۔۔۔
اور اگر تم نے میرے فیصلے سے انحراف کرنے کی کوشیش کی تو تمہیں دودھ نہیں بخشوں کی وہاب۔۔ میرا مرا منہ تک دیکھنے نہیں دوں گی وہاب میرے جنازے کو کندھا دینے کا حق تک چھین لوں گی تم سے۔۔۔ رشنا کے لرزتے بدن کو ساتھ لگائے وہ انگلی اٹھا کر دھارتی ہوئی خاصی جذباتیت سے گویا ہوئی۔۔۔
وہاب نے بے بسی سے اپنے بال مٹھیوں میں جکھڑے۔۔۔ کونسی منحوس گھڑی تھی جب وہ اسے بچانے گیا تھا۔۔۔ عجیب عذاب بن گئ تھی زندگی۔۔ وہ غصے سے کھولتا  خطرناک عزائم لئے سامنے آتی ہر چیز کو تھوکڑوں کی زد پر رکھتا کمرے سے تو کیا گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔
******



For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4