Header Ads

Nam Aankhain novel 6th episode by Umme Hania

    

 Nam Aankhain novel 6th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

 چھٹی قسط
ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی جو کہ موسم کی شدت میں اضافہ کر رہی تھی۔۔۔  لیکن اس پر کوئی بھی موسم اثرانداز ہو کہاں رہا تھا۔۔۔ بھلا اندر کے موسم میں آگ لگی ہو تو باہر کا کوئی موسم کیسے اثرانداز ہو سکتا ہے۔۔۔ بیا بھی پرامید سی شازمہ خالہ کے ساتھ ایئرپورٹ کے احاطے سے باہر نکل رہی تھی۔۔۔ 
بہروز نے سب لمحوں میں کیا تھا اور اسکے کھانا کھاتے ہی وہ سیالکوٹ کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے۔۔۔ ایئر پورٹ کے باہر انکے لئے گاڑی پہلے ہی تیار کھڑی تھی۔۔ بہروز نے گاڑی سے نکلتے آدمی سے مصافحہ کیا اور اس سے چابی پکڑ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔۔۔ شہروز اسکے ساتھ ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا جبکہ وہ اور شازمہ خالہ پچھی سیٹ پر بیٹھیں تو انکا سفر پھر سے شروع ہوا۔۔۔ 
بیا بس خاموش نگاہوں سے ہر چیز کا جائزہ کے رہی تھی۔۔۔ دل مسلسل اپنے رب کو پکارتا مدد کی فریاد کر رہا تھا۔۔۔
انکی گاڑی کے پیچھے ہی ایک پولیس موبائل انکے ساتھ آ رہی تھی۔۔۔ بہروز نے راستے میں انکے ایڈریس اور انکے ساتھ ہوئے حادثے کے متعلق کئ بڑے چھوٹے سوالات بیا پوچھے  وہ باریک بینی سے معاملے کی تہہ تک جانا چاہتا تھا گھر کے قریب کون کونسی جگہیں ہیں۔۔۔ وہ کس کس سڑک پر بھاگیں کس جگہ پر مرحہ اس سے بچھری وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ وہ سہمی سی نپے تلے انداز میں اسکے سوالات کے جوابات دے رہی تھی۔۔
انکے گھر تک پینچتے پہنچتے پولیس موبائل کی تعداد تین ہو چکی تھی باقی کی دو موبائلز شاید راستے سے ساتھ شامل ہوئی تھی۔۔۔  
بیا کی امید کچھ مزید بڑھی اتنے سارے لوگ مل کر تو یقیناً مرحہ کو بچا ہی لیں گے۔۔۔ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔۔۔ بس وہ عورت ہاتھ لگ جائے۔۔۔ 
انکے گھر کے سامنے پہنچ کر چلتی گاڑیوں کا سفر تمام ہوا تھا۔۔۔ ایک ساتھ گاڑی کے دروازے کھول کر وہ سب باہر نکلے۔۔۔ اتنی بھاری تعداد میں پولیس کی نفری دیکھ کر محلے میں کھلبلی سی مچ گئ تھی۔۔
یقینا اتنا پڑوٹوکول بہروز کے ایس پی ہونے کی بدولت مل رہا تھا۔۔۔
لیکن گھر کے داخلی دروازے پر لگا بڑا سا تالا دیکھ بیا کا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ وہ عورت بھلا کہاں گئ۔۔۔ بیا نے نم آنکھین اٹھا کر شازمہ خالہ کو دیکھا۔۔  شازمہ نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
بہروز اور شہروز اب پولیس والوں کے ساتھ مل کر ان سے کچھ فاصلے پر محلے والوں سے کچھ پوچھ تاچھ کر رہے تھے۔۔۔ بیا کا دل ہر گزرتے لمحے کیساتھ بیٹھتا جا رہا تھا۔۔۔ 
کچھ دیر بعد شہروز ایک پولیس اہلکار کیساتھ واپس ان تک آیا۔۔۔ بیا نے غور سے اسکی جانب دیکھا اسکی آنکھیں سرخ تھی اور چہرا ضبط سے ہلکان ۔۔۔ وہ کچھ دیر پہلے والے شوخ و چنچل سے شہروز سے بالکل منفرد تھا۔۔۔
اسے کسی غیر معمولی پن کا احساس ہوا۔۔۔ مام آپ بیا کیساتھ اندر جا کر اسکی ضروری پیکنگ کریں بھیا کچھ ضروری انویسٹیگیشن کر رہے ہیں جب تک وہ یہاں اپنا کام کر رہے ہیں آپ یہ کام مکمل کر لیں۔۔۔  
وہ ہاتھ پیچھے باندھے ادھر ادھر دیکھتا گویا ہوا آواز حد درجہ سنجیدہ تھی۔۔۔ ایک لمحے کو بیا کو گمان گزرا جیسے وہ اس سے نگاہیں نا ملا پا رہا ہو۔۔۔ تبھی اسکے اشارہ کرنے پر اسکے ساتھ آئے کانسٹیبل نے دروازے پر موجود آہنی تالے پر فائر کیا جس سے اسکا لاک ٹوٹ کر لٹک گیا۔۔۔
شہروز نے ہاتھ سے ماں کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
سب ٹھیک ہے نا ۔۔۔ میری مِرحہ مل جائے گی نا۔۔۔ ناجانے کس دل سے بیا اندر داخل ہوتے ہوتے اس سے پوچھ بیٹھی تھی۔۔۔ اب جیسے دل مضتر محض اپنی مرضی کا جواب جاننا چاہتا تھا۔۔۔
انشااللہ اللہ خیر کرے گا۔۔۔ وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھتا مبہم سا کہہ کر واپس بہروز کے پاس چلا گیا جو اب باقی پولیس آفیسرز کے ساتھ پولیس موبائل میں بیٹھ کر کہیں جا رہا تھا۔۔۔
اسکے دل کو ایک عجیب سی بے چینی لگ گئ تھی۔۔۔ اسے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا بس شازمہ بیگم ہی پھرتی سے اسکے بیگ میں اسکی ضرورت کی اشیا رکھ رہی تھی وہ بس خاموشی سے خالی خالی نگاہوں سے انہیں کام کرتا دیکھ رہی تھی۔۔۔ باقی پیکنگ کرنے کے بعد اب انہوں نے الماری سے اسکے تعلیمی ڈاکومنٹس کی فائل نکال کر بیگ میں رکھی۔۔۔ بیٹا ایک دفعہ تم چیک کر لو کوئی ضروری چیز چھوٹ تو نہیں رہی۔۔۔ شازمہ بیگم مصروف سے انداز میں گویا ہوئی تو بیا نے الماری کے کھلے پٹ سے جھانکتا اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور دوسرے دراز سے اپنی کل جمع پونجی نکال کر اس میں رکھی جو شاید چند ہزار ہزار کے نوٹوں پر مشتمل تھی۔۔۔
ناجانے انہیں یہاں کتنی دیر گزر گئ تھی جب اسے صحن سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔۔ وہ پرامید نگاہوں سے باہر کی جانب بھاگی جب اسکے کمرے کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی شہروز وہاں نمودار ہوا۔۔۔ وہ دراز قد تھا۔۔ دروازے کے پاس کھڑے ہونے سے باہر سے اندر آتی انرجی سیور کی روشنی کا راستہ رک گیا تھا۔۔۔ اسنے پر امید نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا کہ وہ اب کوئی روح آفزا خبر سنائے گا مگر اسکی سنجیدہ نگاہیں اسکی بجائے ماں پر ٹکی تھیں۔۔۔ مام پیکنگ ہوگئ ہے تو آ جائیں ہمیں ابھی واپس اسلام آباد کے لئے نکلنا ہے۔۔۔ آواز تھی کہ صور اسرافیل بیا کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی۔۔ سنجیدگی سے کہہ کر وہ واپس پلٹنے والا تھا جب بیا نے درشتگی سے اسکی بازو دبوچتے اسے روکا۔۔۔
وہ مرحہ کے بارے میں کیوں کچھ نا بتا رہا تھا۔۔۔ یہاں اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا اور وہاں وہ کچھ منہ سے نکالنے کو تیار ہی نا تھا۔۔۔
مرحہ کا کیا بنا۔۔۔ وہ ملی۔۔۔خدشات سے لرزتا لہجہ تھا۔۔۔ پر نم نگاہیں اسی پر جمی تھیں۔۔۔ کان شدت سے مثبت جملے سننے کے خواہش مند تھے۔۔۔ 
اپنے ڈوکومنٹس وغیرہ اور سبھی ضروری چیزیں یاد سے رکھ لینا۔۔۔ اسکی بات کا بالکل غیر متوقع جواب سن کر اسکے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال بچھا۔۔۔
میں آپ سے مرحہ کا پوچھ رہی ہوں۔۔۔ اسکا کیا بنا۔۔۔ ہم اسکے بنا واپس اسلام آباد کیسے جائیں گے۔۔۔ دماغ پر جیسے ہتھورے برس رہے تھے۔۔ سر درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ وہ ضبط کھوتی چیخ کر گویا ہوئی۔۔۔ شہروز نے لب بھینچتے اپنا بازو اسکی شدت بھری گرفت سے چھڑوایا اور تیزی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔۔ جبکہ بیا اپنے خالی ہاتھ دیکھتی رہ گئ۔۔۔ اندر شدت سے اسے کچھ غلط ہونے کا سگنل مل رہا تھا وہ جھٹکے سے شازمہ بیگم کی جانب مڑی مگر انکے بھی نظریں چڑانے سے دل میں پنپتے خدشات کو حقیقت کی سند ملنے لگی تھی۔۔۔
******
سرسراتی ہوا ہڈیوں کو چیرتی ہوئی گزر رہی تھی۔۔۔ ٹھنڈ کی شدت میں مزید اضافہ ہونے لگا تھا۔۔۔ سورج کا کہیں نام و نشان نا تھا۔۔۔ یر طرف آندھی چلنے کے اثرات واضح ہو رہے تھے۔۔۔ ایسی ہی اندھی اسکی زندگی میں بھی چلی ہوئی تھی جو سب کچھ اڑا لے جانے کے در پر تھی۔۔۔
وہ بھیا کے ساتھ اس عالی شان عمارت کے سامنے کھڑی تھی جو کبھی پورے حق سے اسکا مقدر بنے والی تھی لیکن اسکی کوتاہی و بے رحمی سے وہ اس سے چھننے والی تھی۔۔۔ وہ اس جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی وہاں سے نکال دیے جانے والی تھی۔۔۔ سوچا نا تھا کہ اسکی غلطی اتنی بڑی ہوگی جیسے آدم نے نا سوچا تھا کہ گندم کا ایک دانا کھانے کی پاداش میں وہ جنت سے نکال دیا جائے گا۔۔۔ وہ سزا محض گندم کا دانا کھانے کی پاداش میں نہیں تھی۔۔۔ بلکہ وہ سزا حکم عدولی کی تھی نافرمانی کی تھی۔۔ اللہ کی طے کردو حدود سے تجاوز کر جانے کی تھی۔۔۔ ایسی ہی حکم عدولی وہ بھی انجانے میں کر چکی تھی۔۔۔ بے لگام جذبات کی رومیں بہک کر وہ بھی طے کردہ حدود سے تجاوز کر گئ تھی تو جنت سے نکالا جانا تو طے تھا۔۔۔ مگر معافی تو آدم کو بھی مل گئ تھی۔۔۔ 
اللہ نے انکی اتنی بڑی کوتاہی و حکم عدولی کے باوجود معاف تو آدم کو بھی کر دیا تھا۔۔۔ ہاں اللہ کے گھر تو معافی تھی۔۔۔ اسکے ہاں تو ہر چیز کی معافی تھی۔۔۔ ہاں اسے بھی معافی مل جائے گی۔۔۔ وہ نادم تھی اپنے غلطی پر ۔۔ پچھتا رہی تھی۔۔۔ ہاں وہ معافی بھی مانگے گی سچے دل سے اپنے رب سے بھی اور اس سے بھی جسکی وہ گنہگار تھی تو اسے بھی معافی مل جائے گی۔۔۔ ہاں اسکا اللہ اتنا ہی رحیم ہے۔۔۔ وہ رحم کرے گا اس پر اسے یقین تھا اپنے رب پر۔۔۔
وہاب درانی کے گھر کے سامنے کھڑی رشنا آصف کی امید کچھ بڑھ گئ تھی نم آنکھوں میں چمک سی ابھر آئی تھی۔۔۔ ہاں وہ وہاب سے معافی مانگ کر اسے منا لے گی۔۔۔ 
گڑیا تم جاو اندر مجھے کچھ کام ہے میں آدھے گھنٹے بعد تمہیں یہاں سے پک کر لوں گا۔۔۔ اسکا بھائی اسے اندر جانے کا بول کر خود گاڑی سٹارٹ کرتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔ وہ آس و امید لئے کپکپاتے دل کیساتھ اندر بڑھی اس امید کیساتھ کہ اگر آدم کو انکی خطا کے بعد معافی مل سکتی ہے تو مجھے بھی مل جائے گی۔۔۔ لیکن شاید وہ  بھول گئ تھی کہ آدم کو کتنے سالوں کی ریاضت کے بعد معافی ملی تھی۔۔۔ کتنے خوبصورت سالوں کے فراق کے بعد کتنے سالوں کے  پچھتاوں  اور ندامت کے آنسو بہانے کے بعد وہ اللہ کے حضور سرخرو ہو پائے تھے۔۔۔
درائیوے سے گزر کر اسنے گھر کا اندرونی منقش دروازہ وا کیا اور ٹانگوں کی لغزش پر قابو پاتی دل کڑا کر کے اندر داخل ہوئی۔۔۔
ارے ماشااللہ میرے گھر کی رونق آئی ہے۔۔۔ اللہ نظر بد سے بچائے میری بچی کو۔۔۔ 
اندر داخل ہوتے ہی اسکی پہلی نگاہ لاوئنج میں صوفے پر بیٹھیں نورین بیگم پر پڑی تھی وہ بھی اسے پہلی ہی نگاہ میں دیکھ چکی تھیں۔۔۔ تبھی تو مسکراتے ہوئے محبت سے دونوں بازو وا کر کے اسکی جانب بڑھیں اور اسے خود سے لپٹا کر چٹا چٹ کئ بوسے اسکے چہرے کے لے ڈالے۔۔۔
اسقدر اپنائیت و محبت کے مظاہرے پر باوجود ضبط کے رشنا کی آنکھیں چھلک پڑیں تھیں۔۔ اب قدم قدم پر اپنے خساروں کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔
نورین بیگم اسکے آنسوں کو کسی اور حساب میں لے گئ تھیں تبھی تو بھاری دل سے اسکے آنسو صاف کرتے گویا ہوئیں۔۔۔
روشی بچے تم بالکل فکر مت کرو تم میرے لئے بیٹی سے بڑھ کر ہو۔۔۔ تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی و حق تلفی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔
پتہ نہیں اس احمق کے دل میں کیا سمائی ہے جو شادی سے دو دن پہلے رشتے سے انکار کر رہا ہے۔۔۔ پر میں بھی اسی کی ماں ہوں اگر اسنے میری بات نا مانی تو اسے دودھ نہیں بخشوں گی۔۔۔ اسے چپ کرواتی نورین بیگم خود آبدیدہ ہو گئ تھیں۔۔
نورین درانی کے دو  بیٹَے ہی تھے  وہ بیٹی کو ترسی ہوئی ماں تھی وہاب کا رشتہ پکا کرنے کے بعد سے رشنا انہیں اور بھی پیاری ہو گئ تھی وہ تو خود اسے جلد از جلد اپنے گھر بہو بنا کر لانا چاہتی تھیں اسی غرض سے تو خوشی خوشی شادی کی تیاریاں کر رہی تھی مگر وہاب کے انکار سے وہ خود کل سے بیمار تھیں۔۔۔
رشنا کے آنسوں میں مزید روانی آ گئ۔۔۔ اگر انگاروں پر اسکی ذات لوٹ رہی تھی تو سکون میں تو وہ ستم گر  بھی نا تھا۔۔۔ سب سے حقیقت چھپا کر وہ خود 
بھی تو سب کی نگاہوں میں گنہگار بن رہا تھا۔۔
تائی جان میں ان سے ایک دفعہ مل لوں۔۔۔ وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا کیوں نہیں اچھا ہے اگر اسکے دماغ کا کیڑا صاف ہو جائے تو۔۔ میں ماں ہوں بچے جانتی ہوں سکون سے تو وہ بھی نہیں ہے۔۔۔ مجنوں بنا بیٹھا ہے کمرا نشین ہو کر۔۔  بیٹا کوشیش کرنا کہ تم دونوں کے مابین غلط فہمی دور ہو جائے تائی ماں اسکے ہاتھ تھام کر ملتجی ہوئیں۔۔
انشااللہ تائی ماں۔۔۔ اسنے تائی ماں سے زیادہ خود کو تسلی دی اور نیم مردہ جسم کو گھسیٹتی وہاب کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
****** 
اس چھوٹے سے تین مرلہ گھر پر جیسے ایک مرتبہ پھر سے قیامت ٹوٹی تھی۔۔۔ رات کا اندھیرا ہر جانب چھایا تھا گویا چاند بھی جیسے اس سیاہ رات کی سیاہی میں کہیں جا سویا تھا۔۔۔ 
چھوٹے سے صحن میں چار سو بیا کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔۔۔ وہ زمیں ہر ٹوٹی بکھری سی بیٹھی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔ دل غم سے پھٹ رہا تھا۔۔۔ شازمہ بیگم بھی اسکے پاس ہی بیٹھیں اسے سمبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔ شہروز ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرے ہاتھ سے ماتھا مسلتا شدید اضطرابی حالت میں اسکی جانب پشت کئے کھڑا تھا دفعتا بہروز بھیا برآمدے میں پڑی کرسی کھینچ کر اسکے پاس لائے اور خود کرسی پر بیٹھ کر اسکی جانب جھکے۔۔۔۔ 
دیکھو بیا گڑیا میری بات غور سے سنو۔۔۔ انکے انداز اور لہجے کی سنجیدگی دیکھ کر بیا جی جان سے انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ 
ہمیں یہاں پہنچنے میں دیر ہو گئ ہے۔۔۔ جس دن تم دونوں یہاں سے بھاگی تھیں وہ عورت اسی روز یہاں سے فرار ہو گئ تھی۔۔۔ محلے والوں سے تفتیش کی تو معلوم ہوا وہ لوگ اس عورت کو نہیں جانتے اسنے کہا تھا کہ وہ سہیل انکل کی عزیزہ ہیں اور بس۔۔۔ لگڑیا آپ لوگوں کو ایسے کسی پر بھی اعتماد نہیں کرنا چاہیے تھا مگر میں سمجھ سکتا ہوں اس وقت خود آپ لوگوں کو جذباتی سہارے کی ضرورت تھی وہ فیز ہی ایسا تھا اور اسی بات کا فائدہ اس مکار عورت نے اٹھایا ۔۔ یہ ہی آپ دونوں کی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔۔ 
میرا ہوم ورک مکمل ہے۔۔ ہم نے وہ سب جگہ وزٹ کر لی جہاں پر اس عورت کے ملنے کے امکان ہو سکتے تھے لیکن زلیخہ نامی کسی عورت کا وہاں کوئی وجود نہیں۔۔ ایک تو ہمارے پاس اسکی کوئی تصویر نہیں مزید محلے سے کوئی اسکے بارے میں نہیں جانتا ۔۔۔
یہاں کے تھانے میں مرحہ کی گمشدگی کی ریپورٹ لکھوائی جا چکی ہے جیسے ہی کچھ پتہ چلا ہمیں اطلاع کر دی جائے گی مزید میں بھی ان لوگوں سے رابطے میں رہوں گا۔۔۔
لیکن ابھی آپکو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا کیونکہ آپ یہاں بالکل بھی محفوظ نہیں۔۔۔ باقی آپ فکر مت کرو انشااللہ اللہ بہتر کرے گا۔۔۔
بہروز نے نہایت شائستہ انداز میں  مختصراً ساری بات اسکے گوش گزاری تھی وہ سیدھے سیدھے اسے بتا نہیں سکا کہ اسکی گڑیا گدھوں کے دلدل میں پھنس چکی ہے۔۔۔ ایک ایسا مضبوط نیٹ ورک جسکی تہہ تک ابھی تک کوئی پہنچ نہیں سکا۔۔۔ کئ آفیسرز کے اس کیس کو حل کرتے کرتے دوردراز علاقوں میں تبادلے ہو گئے تھے۔۔۔۔ اس نیٹ ورک کی جڑیں بہت مضبوط تھی اور ثبوت ندارد۔۔۔
وہ اسے واضح الفاظ میں بتا نا سکا کہ وہ بچ گئ مگر اسکی بہن ان درندوں کے ہتھے چڑھ گئ۔۔۔
بیا گڑیا آپ اللہ سے دعا کریں وہ بہتر کار ساز ہے انشااللہ وہ کوئی سبب بنا ہی دے گا۔۔۔  وہ بھاری دل سے کہتا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا کہ اب اسکے سامنے بیٹھنا اسکے دل پر مزید بوجھ بڑھا رہا تھا۔۔ 
بیا کو اپنے اندر باہر سناٹے چھاتے محسوس ہوئے۔۔۔
*****

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4