Nam Aankhain novel 5th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 5th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
,پانچویں قسط۔۔۔
میں آپکے پیسے لوٹا دوں گی۔۔۔ وہ نظریں جھکاتے منمنائی۔۔
دیکھا بھیا مان گئ کہ یہ ٹھگ لٹیرنی ہے۔۔
شیروز نے ہاتھ پر ہاتھ مارتے بھائی کو فاتحانہ نگاہوں سے دیکھتے آنکھ سے اسکی جانب اشارہ کیا۔۔۔
بیا نے اسکی غلط بیانی پر ٹرپ کر اسے دیکھا۔۔۔ جبکہ بہروز خاموشی سے دونوں کو دیکھتا معاملہ سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا
دیکھیں محترمہ آپ۔۔۔ اس سے پہلے کہ بہروز آگے بڑھ کر اس سے اصل معاملہ دریافت کرتا وہ بہروز کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر خوف و ہراس کے تحت چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔ اسے یوں روتا دیکھ بہروز لب بھینچے وہی رکا اب وہ خاموشی سے اسے دیکھتا اس کا رویہ سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
دفعتاً شازمہ بیگم چھ ماہ کے چھوٹے سے سبحان کو اٹھائے اس سے کھلیتے ہوئے کمرے سے باہر نکلیں وہ گول مٹول سا سرخ و سپید سا بچہ تھا اسے گدکدی کرتے اچانک انکی نظر لاوئنج میں پڑی۔۔۔
کیا ہوا بہروز آپ سب ایسے کیوں کھڑے ہو اور یہ لڑکی کون ہے۔۔۔ بیا کی انکی جانب پشت تھی لیکن وہ اسے پیچھے سے بھی دیکھ کر جان چکی تھی کہ وہ لڑکی رو رہی ہے۔۔۔ اسی لئے بھرپور حیرت سے اسے دیکھتیں مستفسر ہوئیں۔۔۔
سبحان کو کچن سے باہر آتی شبانہ کام والی کے حوالے کرتیں وہ دو قدم مزید اسکی جانب بڑھیں۔۔۔ جانی پہچانی آواز سن کر بیا کی کچھ ڈھارس بندھی سرعت سے ہاتھ چہرے سے ہٹاتے وہ جھٹکے سے پیچھے پلٹی۔۔۔
بیا۔۔۔ حیرت سے اسے دیکھتے شازمہ بیگم بے آواز گویا ہوئی۔۔۔
شازمہ خالہ۔۔۔اس کی حالت یوں تھی جیسے میلے میں گم ہوئے بچے کو یکدم کوئی شناسا مل گیا ہو۔۔۔ بھاگ کر انکے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔ انہوں نے بھی بنا دیر کئے اسے اپنی مہربان آغوش میں چھپا لیا۔۔۔
بیا بچے آپ یہاں۔۔۔ کس کے ساتھ آئی ہو۔۔۔ ہوا کیا ہے بیٹا کچھ بتاو تو سہی۔۔۔ شازمہ بیگم نے اسکا کملایا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔ وہ جو کل سے خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی کسی اپنے کو سامنے پاکر یوں ٹوٹ کر بکھری تھی کہ ان سے سمبھالنا مشکل ہو گیا۔۔۔
شزا پانی کا گلاس لاو بہن کے لئے۔۔ شازمہ بیگم نے اسے بانہوں کے حصار میں لئے صوفے پر بیٹھایا اور پاس کھڑی ہونق بنی بیٹی سے کہا۔۔۔ وہ اس وقت کھلے سے ٹراوزر اور گھٹنوں تک آتی شارٹ شرٹ میں ملبوس تھی ڈھیلی سی پونی میں مقید بکھرے بال دائیں کندھے پر جھولتا آنچل اور مندی مندی آنکھیں وہ بھی غالبا شور کی آوازیں سن کر کچی نیند سے اٹھ کر آئی تھی۔۔۔اسنے بھاگ کر کچن سے پانی کا گلاس لا کر ماں کو دیا۔۔۔ شازمہ بیگم نے اسکے منہ سے پانی کا گلاس لگایا جو وہ ایک ہی سانس میں پی گئ۔۔۔ زرا حواس بحال ہوئے تو وہ شازمہ بیگم سے لپٹی انہیں سب بتاتی چلی گئ۔۔۔ بابا کی موت اس عورت کی خود غرضی خود پر ٹوٹی قیامت اور مرحہ کی گمشدگی۔۔۔ سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا سامنے صوفے پر بیٹھا بہروز ٹانگ پر ٹانگ جمائے کہنی صوفے کی ہتھی ہر رکھے ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھے سرخ انگارہ آنکھوں سے کسی غیر مری نقطے کو تکتا اسے سن رہا تھا دوسرے صوفے پر بیٹھا شہروز بے چینی سے پہلو بدلتا اتنے لرزہ خیز انکشافات سن رہا تھا کچھ دیر پہلے کی شوخی کہیں مفقود تھی شزا اسکی دوسری جانب بیٹھی خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
شازمہ اسکی سگی خالہ تھی اسکی ماں کی بہن۔۔۔ اسکی ماں محض دو بہنیں ہی تھیں پہلے پہل شازمہ بیگم کا انکے گھر بہت آنا جانا تھا پھر اسکے بابا کا اور زاہد صاحب کا کسی بات کو لے کر جھگڑا ہو گیا رشتوں میں ڈراریں اتنی بڑھیں کہ ایک دوسرے سے ملنے سے بھی جاتے رہے۔۔۔ بس کبھی کبھار شازمہ بیگم ہی انکے گھر ان سے ملنے آتیں تھیں لیکن پانچ سال پہلے اسکی ماں کے انتقال کیساتھ یہ سلسلہ بھی رک گیا ۔۔ وہ تو صد شکر کہ ماں اپنی بہن کا اسقدر ذکر کرتیں تھی کچھ وہ بچپن میں ایک دو بار ماں کیساتھ یہاں آ بھی چکی تھی تو مٹا مٹا سا ایڈریس یاد تِھا۔۔۔علاقہ یاد تھا اسی لئے زاہد آفندی کا نام لے کر انکا گھر ڈھونڈتے اسے صبح سے شام ہو گئ تھی۔۔۔
خالہ میری گڑیا کو بچا لیں پلیز۔۔۔ خالہ وہ بہت معصوم ہے ۔۔ وہ تو اندھیرے سے ڈر جاتی ہے ۔۔ خالہ وہ رات میں اکیلی چھت پر نہیں جاتی تھی۔۔۔ چڑیا سا دل ہے اسکا خالہ۔۔۔ وہ اب کس حال میں ہوگئ۔۔۔ مجھے اسکی بہت فکر ہے خالہ۔۔۔ بابا کی ڈیٹھ کا اسنے بہت گہرا اثر لیا تھا وہ تو پہلے ہی بیمار تھی اب ناجانے اسنے کچھ کھایا بھی ہو گا کے نہیں۔۔۔ ایک مرتبہ پھر سے وہ شازمہ بیگم کے کندھے سے سر ٹکاتی سسک اٹھی۔۔۔
فکر مت کرو گڑیا۔۔۔ میں ابھی گجرانوالہ کی فورس سے بات کرتا ہوں۔۔۔ ابھی ہم گجرانوالہ کے لئے نکلتے ہیں وہاں جا کر اگر وہ مکار عورت ہماری تحویل میں آگی تو مرحہ گڑیا کو بازیاب کروانا ہمارے لئے کچھ مشکل نا ہوگا۔۔۔ بہروز نے اٹھ کر اسکے سر پر دست شفقت دراز کرتے اسکی ڈھارس بندھائی۔۔۔ بیا نے جھٹکے سے حیرت زدہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔
سچ بھیا۔۔۔ ایسا ہو سکتا ہے۔۔۔ آنکھوں کی چمک کئ گنا بڑھ گئ تھی۔۔۔ دل زور سے ڈھرک اٹھا تھا۔۔۔ امید کا سرا دیکھائی دیا تو چہرے پر رونق چھا گئ تھی۔۔۔۔
بالکل گڑیا۔۔۔ مام آپ گڑیا کو کچھ کھلا دیں تب تک میں اسلام آباد سے سیالکوٹ جانے والی پہلی فلائٹ کی ٹکٹ بک کرواتا ہوں سیالکوٹ سےگجرانولہ پھر بائے روڈ چلے جائیں گے وہاں سے گجرانولہ کا راستہ بمشکل بیس پچس منٹ کا ہو گا۔۔۔
آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں امی ۔۔ سبحان اور میرب کو شزا شبانہ کیساتھ مل کر دیکھ لے گئ۔۔۔ دیر پہلے ہی بہت ہوگئ ہے ہم مزید مرحہ گڑیا کے لئے تاخیر کا شکار نہیں ہو سکتے ورنہ تو چاہے صبح چلے جاتے۔۔۔
آپ گڑیا کو کھانا کھلائیں میں آتا ہوں۔۔۔ وہ بعجلت موبائل پر کچھ تائپ کرتا مختصراً اپنا اگلا پلان ماں کے گوش گزارتا باہر نکل گیا شہروز بھی بھائی کے ہمقدم ہوا۔۔۔ جبکہ بیا کا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ اللہ کرے اسکی مرحہ خیریت سے ہو۔۔ اسے اسکی مرحہ مل جائے دل بس ایک ہی دعا بار بار کر رہا تھا۔۔
*******
گھر آتے ہی رشنا کا پر تپاک استقبال ہوا تھا۔۔ سب نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔۔ ماں جلدی سے اسکے لئے ہلدی ملا دودھ لے آئی تھی۔۔۔ بابا بار بار اسکے واری صدقے جا رہے تھے۔۔۔ بھابھیوں نے اسے ہاتھ کا چھالا بنا لیا تھا۔۔۔ محض کچھ ہی دن تو رہ گئے تھے اسکی شادی میں۔۔۔ کوئی اسے بستر سے پاوں تک اتارنے نا دے رہا تھا۔۔۔ ماں کام کو ہاتھ تک نا لگانے دیتی۔۔۔ یہ سب دیکھ دیکھ اسکے دل کا بوجھ مزید بڑھنے لگتا۔۔۔ اپنے خساروں کا احساس مزید شدت سے ہونے لگتا۔۔۔
وہ اپنے باپ کی شہزادی تھی بھائیوں کی لاڈلی تھی ان مخلص محبتوں کے سر میں خاک ڈال کر وہ دنیا فتح کرنے نکلی تھی۔۔۔ آنسو تواتر سے بہنے لگتے تھے۔۔۔ وہ پہروں بیٹھ کر اپنے کردہ گناہ پر آنسو بہاتی۔۔۔ اتنی گھٹیا حرکت کے بعد بھی اگر وہ سب اپنوں کے درمیاں سر اٹھا کر جی رہی تھی سب اسکے اتنے ناز نخرے اٹھا رہے تھے تو اسکا سہرا صرف ایک ہی شخص کے سر جاتا تھا۔۔ وہ جو نجانے کب دل و جان کا مالک بن بیٹھا پر اس دشمن جان نے تو پلٹ کر جھوٹے منہ پوچھا تک نا تھا۔۔۔
صحیح کہا تھا اسنے کہ کہ وہ اسکی نظروں میں گر چکی تھی وہ کبھی اسکی نگاہوں میں پہلے والا مقام نہیں پا سکتی تھی۔۔۔ ابھی وہ پزمردہ سی بیڈ پر نیم دراز لیٹی یہ ہی سب سوچ رہی تھی کہ دفعتاً باہر سے اسے اپنے بابا اور بھائیوں کے اونچا اونچا بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔ دل کسی انہونی کے خدشے سے روز سے ڈھرکا تھا۔۔۔ آوازیں بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی تھیں۔۔ اتنی آوازوں کے گڈ مڈ ہونے سے وہ باتوں کا مفہوم نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔۔
گھبراتے ہوئے وہ آہستگی سے بیڈ سے اتری اور ننگے پاوں ہی دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔ دل الگ دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔
اسنے کمرے کا دروازہ کھولا اور تھوڑا سا باہر نکلی۔۔۔ بابا یہ مزاق ہے کیا۔۔۔ وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔۔ سامنے لاوئنج میں الگ ہی منظر تھا۔۔۔ امی سنگل صوفے پر نیم جان سی آہ و بکا کر رہی تھی۔۔۔ بابا سر جھکائے بیٹھے تھے انکے کندھے ڈھلک چکے تھے نیز ضبط کی کوشیش میں ہلکان انکا چہرا خون چلکا رہا تھا۔۔۔ دونوں بھائی آگ بھگولہ لان کے بیچ و بیچ کھڑے سب کچھ جلا کر بھسم کر دینے کے در پر تھے۔۔۔ بھابھیاں بھی گم صم سی کھڑی تھیں۔۔۔
ہماری بہن کوئی گڑی پڑی نہیں ۔۔ جو وہ یوں عین شادی سے دو دن پہلے شادی سے انکار کر رہا ہے۔۔
ڈھرام ڈھرام ڈھرام۔۔۔ کمرے کی چھت پورے قد سے رشنا کے سر پر گری تھی۔۔۔ دماغ میں دھماکے ہونے لگے تھے۔۔۔ بے ساختہ لڑکھڑا کر اسنے دروازے کا سہارا لیا۔۔۔ تو مطلب اس سب کی وجہ اسکی اپنی ذات تھی۔
تو مطلب وہاب درانی زبان کا پکا نکلا تھا اسنے محض کہا نہیں تھا بلکہ سچ میں اسے اپنی زندگی سے نکال باہر کیا تھا۔۔۔ واقعی اسکی زندگی میں رشنا جیسی گھر سے بھاگی لڑکی کے لئے کوئی جگہ نا تھی۔۔۔ اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ جیسے کوئی پورے زور سے کپڑا اسکے حلق میں ٹھونس رہا ہو۔۔۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔
کہا کیا ہے اسنے۔۔۔ شادی سے دو روز پہلے شادی سے انکار کا جواز کیا دیا ہے اسنے۔۔۔ بابا کی نحیف و شکت خوردا آواز گونجی۔۔۔ رشنا کے سبھی اعضا کان بن گئے۔۔۔ کیا کہا ہو گا اسنے۔۔۔ رشنا کی بدکرداری کی داستان۔۔۔ اسکی بے وفائی و کج ادائی کی کہانی۔۔۔ باپ کی دہلیز پار کر جانے کا گناہ۔۔۔ اسکی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھری۔۔۔ تو مطلب روز محشر آج ہی طے پایا تھا۔۔ ابھی یہیں لگی عدالت میں اسکا حساب ہونا طے پایا تھا۔۔۔
یہ ہی تو مسلہ ہے بابا کہ وہ کچھ پھوٹ بھی نہیں رہا۔۔۔ کہتا ہے کہ وجہ رشنا سے پوچھ لیں میں بس اس سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔
ٹپ ٹپ آنسو رشنا کا چہرا بھگوتے چلے گئے تھے۔۔۔ جسم بے جان ہو چلا تھا۔۔۔ تو مطلب ایک مرتبہ پھر سے وہ شخص اسے ذلت کی گہرائی میں گرنے سے بچا گیا تھا۔۔۔ دل چاہا یہیں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔۔۔ اپنے اس خسارے پر اپنے بال نوچے ڈھاریں مارے کہ شاید دل کو کچھ سکون مل جائے۔۔۔
ارے رشنا۔۔ ادھر آو بچے۔۔۔ بتاو ہمیں کہ وہ گھٹیا شخص کیا بکواس کر رہا ہے۔۔۔ کیا بات ہوئی ہے تم دونوں کے درمیاں۔۔۔ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں بیٹا ابھی تمہارے بھائی زندہ ہیں تمہارے ساتھ بالکل نا انصافی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ رشنا کے بڑے بھائی کی اس پر نظر پڑی تھی وہ اسکی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ چکے تھے۔۔۔ تبھی نرمی سے اسکی ڈھارس بندھاتے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔
کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی وہ انکے پاس گئ۔۔ بیٹا کیا بات ہے آپکو ہم سے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بابا نے شفقت سے اسکی جانب دیکھتے اس سے پوچھا۔۔ سب لوگ اسکے جواب کے منتظر اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
اسنے بامشکل حلق میں پھنسا نمکیں پھانیوں کا گولہ حلق سے نیچے اتارا۔۔۔ اسکی کرواہٹ اسکی پور پور میں بستی اسے نیم مردہ کر رہی تھی۔۔۔
بولی تو لب کپکپا گئے۔۔۔ بابا۔۔۔۔ میں وہاب سے ایک مرتبہ ملنا چاہتی ہوں۔۔ محض ایک مرتبہ۔۔۔ کک۔۔۔ کوئی غلط فہمی ہوئی ہے انہیں شاید۔۔۔ وہ دور کرنی ہے۔۔ پلیز بابا۔۔ منع مت کرنا۔۔۔ مجھے ایک دفعہ ان سے مل لینے دیں۔۔ وہ باپ کے پاس ہی دوزانوں بیٹھتی انکے ہاتھ تھام کر سسک اٹھی۔۔۔ اب اسکا وہاب سے ملنا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔ وہ ایک آخری مرتبہ اس ستم گر سے ملنا چاہتی تھی اسے رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے التماس کرنا چاہتی شاید اسکی یہ ملاقات اسکے لئے کوئی سبب پیدا کر ہی دیتی۔۔۔ صد افسوس کہ رشتوں کو جوڑنا کون چاہتی تھی جو خود ہی انہیں توڑنے کا سبب بنی تھی۔۔۔ تھی نا مضحکہ خیز بات
بابا کی خاموشی انکی نیم رضا مندی تھی وہ انکا فرمابردار بھتیجا تھا انکے لئے انکے بیٹوں سے بڑھ کر وہ خود اس رشتے کے ختم ہونے کے حق میں نہیں تھے شاید اسی لئے وہ چاہتے تھے کہ انکی ملاقات سے شاید اس رشتے کے جڑنے کے کوئی اسباب پیدا ہو جائیں۔۔۔ وہ بھاری دل کیساتھ وہاں سے اٹھ آئی اب اسے جلد از جلد وہاب سے ملنا تھا ناجانے اسکی مراد بھر آتی یا وہ نامراد ہی ٹھہرتی۔۔۔۔
*****
صبح کی سفیدی اونچے ستونوں اور سفید ٹائلز سے مزین اس وائٹ پیلس کے لاوئنج میں مقید اونچی کھڑیوں کے کھلے بلائنڈز سے چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔۔۔ وائٹ پیلس میں بھی معمول کی سرگرمیاں جاری و ساری تھی۔۔ وہاں راتوں میں دن کا ساماں ہوتا جبکہ دن میں زیادہ تر خاموشی کا راج ہوتا۔۔۔ رات رات بھر اپنی خدمات انجام دینے کے بعد وہاں کے باسی دن میں آرام فرماتے تھے۔۔ وہاں سب کے اٹھنے کا وقت مختلف تھا ہر کوئی اپنی سہولت کے مطابق اپنی تھکاوٹ ختم ہونے کے بعد اپنی مرضی سے اٹھتا تھا۔۔
ایسے میں سلمی بجھے چہرے کیساتھ اپنے مخصوص حلیے بلیک ستاری لگی ساڑھی پر اونچا جوڑا کئے ڈارک میک آپ پر میروں لپ سٹک سے ہونٹ رنگے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔
مختلف کمروں کے دروازے کھول کر مختلف لڑکیاں انگڑائیاں لے کر نکلتیں عذرا سے اپنا اپنا مطلوبہ ناشتہ مانگ رہی تھیں۔۔۔ ایسے میں عذرا کی ہر جانب ڈور لگی ہوئی تھی۔۔
سلمی نے ایک نظر ان سب کو دیکھا اور پھر سے ناشتہ کرنے لگی۔۔۔ دفعتاً اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر پری باہر نکلی۔۔۔
نیلی جینز پر سرخ فٹ شرٹ زیب تن کئے جس میں اسکے جسم کے نشیب و فراز مزید دعوت نظارہ پیش کر رہے تھے۔۔۔ بالوں کی ٹیل پونی بنائے نفاست سے کئے میک آپ نے اسکے تیکھے نقوش کو مزید چار چاند لگا دیئے تھے۔۔۔ دونوں ہاتھوں سے موبائل تھامے وہ اس پر کچھ ٹائپ کرتی آ رہی تھی۔۔۔
آ کر دھپ سے سلمی کے پاس تھری سیٹر صوفے پر بیٹھی۔۔
عذرا فریش اورنج جوس لاو۔۔۔
ایک ہاتھ سے موبائل استعمال کرتے دوسرے ہاتھ سے اسنے اپنے کندھے کو دباتے گردن کو دائیں بائیں ہلایا۔۔۔
سلمی گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جسکا چاندنیاں بکھیرتا سراپا دیکھ کر اچھے اچھوں کا ایمان ڈگمگا جاتا تھا۔۔۔ وہ اس وائٹ پیلس کی جان تھی۔۔۔ اپنے دام اچھے سے جانتی تھی۔۔۔ اپنا ریٹ خود فکس کرتی تھی۔۔۔ رقم میں سے ایک روپیہ کم ہونے پر سامنے والے کو ٹکے کا نا جانتی تھی۔
سلمی کے تعلقات اسکی مروتیں گئ تیل لینے۔۔۔ اسکے آ جانے سے سلمی کو بہت فائدہ ہوا تھا۔۔۔ اکثر گاہک پرانی جان پہچان کے باعث اس سے خاصی رعایت لے جاتے۔۔۔ اکثر لوگوں سے تعلقات کی بنیاد پر سلمی باو تاو میں بحث میں نا پڑتی۔۔۔
ایسی سبھی پابندیاں سلمی کے لئے تھیں پری کے لئے نہیں۔۔۔ اسکے لئے سب سے اہم پیسہ تھا۔۔۔ جو پیسہ پھینکتا پری اس کی ہوتی۔۔۔ جس کے پاس پیسے نا ہوتے پری اسکی جانب آنکھ اٹھا کر نا دیکھتی۔۔۔ اپنی ڈن کئے گئے معاوضے میں سے اگر ایک سو بھی کم ہوتا تو پری ڈیل کینسل کر دیتی۔۔۔
بڑے بڑے لوگ اسکے حسن کے سامنے گھائل ہو جاتے۔۔۔ اسے اسکے منہ مانگے دام دیتے۔۔۔ کسی کی ناراضگی کی اسکے پاس کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔ اسکے پاس قدردانوں کی کمی نا تھی۔۔۔ ایک چھوڑ دس گھائل دل لئے اسکے سامنے بچھے پڑے ہوتے۔۔۔ ایسے میں اگر اسکا مزاج ساتویں آسمان کو چھوتا تھا تو کوئی اتنا بے جاں بھی نا تھا۔۔۔
وائٹ پیلس میں موجود دوسری لڑکیاں اسکے خاص پروٹوکول سے جل جل جاتی۔۔ ہر کوئی اسکی ٹانگ کھینچ کر اسکی جگہ لینے کی سر توڑ کوشیشوں میں سرگرم تھا۔۔۔ مگر وہ پری تھی جسے ان لوگوں کی سازشوں کی قطعا پرواہ نا تھی۔۔۔ وہ اپنی مرضی کی مالکن تھی اسکے اپنے ہی اصول و ضوابط تھے۔۔۔
پری۔۔۔ سلمی نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے پکارا۔۔۔
ہمم۔۔۔ اسنے مصروف سے انداز میں زرا کی زرا نگاہیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔۔۔ آج اسکی نگاہوں کا رنگ سبز تھا۔۔۔ کہا نا وہ خوبصورت تھی اور خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہر ہر حربے سے آشنا تھی۔۔۔
میں چاہ رہی تھی کہ تم اپنی یونیورسٹی میں کوئی نیا شکار ڈھونڈو کچھ معصوم اور مڈل کلاس فیملی کی خوبصورت لڑکیوں سے دوستی کانٹھ کر انہیں یہاں تک لے آو آگے کا کام میرا ہے۔۔۔
سلمی کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ لمحوں میں آگ بگھولہ ہوئی۔۔۔
For God sake Salma...
اب میں یہ کام بھی کرنے لگی۔۔۔ انداز خاصا استہزائیہ تھا۔۔۔ یہ جو باقی پوری پلٹون تم نے رکھی ہے۔۔۔ ہاتھ سے ارد گرد آتی جاتی لڑکیوں کی طرف تمسخرانہ اشارہ کیا جس میں سے کچھ نے اسے کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھا مگر کوئی اس سے بھرنے کی جرات نہیں رکھتی تھی سو خاموش رہیں۔۔۔ اسکی جگہ کوئی اور لڑکی یہ کہتی تو شاید اب تک وہاں جنگ چھڑ چکی ہوتی۔۔۔
یہ کس کام کے لئے ہیں ایسے کام ان کے ذمہ لگایا کرو۔۔۔
اب تمہارے خیال میں ۔۔۔ میں ان ٹکے ٹکے کی لڑکیوں کے پیچھے ہلکان ہوتی پھروں۔۔۔ ان سے دوستیاں گانٹھ کر انکی چاپلوسیاں کر کے انہیں یہاں تک لاوں۔۔۔ آہہ۔۔ سلمی ہو کیا گیا ہے تمہیں۔۔ تلخی سے کہتے اسنے ایک انداز سے اپنا سر تھاما۔۔
یہ میرا سٹینڈرڈ نہیں ہے سلمی۔۔ سوری میں ایسے کسی کام میں تمہاری مدد نہیں کر سکتی۔۔۔
ہاں کوئی گاہک ہو تو بتاو اس کے ساتھ میں ڈیلنگ کر لوں گی۔۔۔ وہ بھی ایک ہفتے بعد کیونکہ ایک ہفتے کے لئے میں سیم کے ساتھ نادران ایریاز جا رہی ہوں دس لاکھ ایک رات کے حساب سے ستر لاکھ شام تک تمہارے اکاوئنٹ میں ٹرانسفر ہو جائیں کے باقی حساب کتاب میں تمہارے ساتھ آ کر کر لوں گی۔۔۔ ۔۔ وہ نخوت سے سر جھٹکتی گویا ہوئی
ستر لاکھ کے نام پر سلمی کی بولتی بند ہو گئ تھی۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ پیسوں کے تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کرتی تھی۔۔۔ اور وہ واحد تھی جسکی بدتمیزی سلمی برداشت کر جاتی ورنہ سلمی کی دہشت سے تو وہاں موجود سبھی لڑکیاں لرزتی تھیں۔۔۔ پر ہری اسکے لئے سونے کے انڈے دینے والی مرغی تھی وہ کسی صورت اس سونے کے انڈے دینے والی مرغی سے بگاڑ نہیں سکتی تھی۔۔
اور میرا مخلص مشورہ مونو نا سلمی تو ابھی مزید لڑکیوں پر فوکس کرنے کی بجائے جو اس ہفتے آئی ہیں انکی سیکیورٹی پر دھیاں تو ابھی جو لڑکی تمہاری ناک کے نیچے سے بھاگی ہے نا اسکا سر پیر تو تم ڈھنونڈ نہیں پائی۔۔۔ وہ نخوت سے کہتی اٹھ کر وائٹ پیلس سے ہی نکل گئ۔۔۔ دور تک اسکی ہیل کی ٹک ٹک فضا میں گھونجتی رہی۔۔۔
اسکا اورنج جوس جو ابھی ابھی عذرا وہاں رکھ کر گئ تھی وہیں کا وہں پڑا رہ گیا۔۔۔ سلمی بھی دم سادھے اسکی کہی باتوں پر غور کر رہی تھی۔
*******
No comments