Nam Aankhain novel 4th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 4th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
چوتھی قسط۔۔۔
اسکی جان اسکی پیاری چھوٹی بہن مرحہ کا ساتھ کب اس سے چھوٹا وہ جان کیوں نا پائی۔۔
اسکا دل چاہا وہیں ان درختوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر اپنی جان دے دے۔۔۔
اب وہ کیا کرتی اسے کیا کرنا چاہیے تھا ؟؟؟؟؟
دماغ جھنجھنا اٹھا تھا۔۔۔ ہر سوچ دماغ تک آنے سے پہلے ہی دم تورٹی جا رہی تھی۔۔۔ کسی انہونی کا خوف شدت سے دل میں سر ابھار رہا تھا۔۔۔ واپس جا کر مرحہ کو ڈھونڈتی تو کس بھرتے پر اسے بچا پانے کی بجائے خود ہی انکا شکار بن جاتی۔۔۔
اسے سوچنا تھا۔۔۔ کوئی تدبیر کرنی تھی اپنی مرحہ کو بچانے کے لئے۔۔۔ کوئی صورت نکالی تھی مرحہ کو واپس لانے کے لئے۔۔۔ سب سے پہلے اسے خود کسی محفوظ مقام تک پہنچنا تھا تاکہ پھر کسی سے مدد طلب کر سکتی۔۔۔ مگر وہ کہاں جاتی۔۔۔
اسے کہاں جانا چاہیے تھا۔۔۔ کونسی جگہ اس کے لئے محفوظ تھی۔۔۔ خوف سے دھک دھک کرتے دل پر قابو پا کر اب اسکے حواس کچھ بحال ہو رہے تھے اور حواس بحال ہوتے ہی دماغ میں تانے بانے بنتے خیالات ایک ترتیب سے سر ابھارنے لگے تھے۔۔۔
جو قیامت اس پر ٹوٹ چکی تھی اسکے بعد تو ہر موسم کی شدت اسکے لئے بے مول ہوگئ تھی۔۔۔ سرسراتی ہوائیں کڑکتی بجلی گرجتے بادل کچھ بھی تو اس ہر اثرانداز نا ہو رہا تھا۔۔۔ دل کو تو بس اپنی مرحہ کی فکر تھی ۔۔۔ ناجانے اسکی حالت کیسی ہوگئ۔۔۔ درندوں کے بیچ خود کو جھکڑا پا کر وہ کتنا ڈر گئ ہوگی۔۔
سب سے پہلے وہ ایک درخت کے موٹے تنے کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گئ اپنے کپکپاتے بدن کی لغزش پر قابو پانے کی خاطر اس نے دانتوں پر دانت جما رکھے تھے اور گھٹنے سینے سے لگائے انکے گرد سختی سے بازوں کا حصار قائم کئے وہ مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
اسے وہاں ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے ناجانے کتنی دیر گزر چکی تھی اسے کچھ پتہ نا تھا۔۔۔ بے مہار سوچوں کو کوئی سمت نہیں مل رہی تھی۔۔۔ وہ خود کو بے بسی کی تنہائیوں میں گھرا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ کیا کرتی وہ۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا۔۔۔
اللہ۔۔۔۔ دل کی گہرائیوں سے محض ایک ہی نام نکل رہا تھا۔۔۔ کہاں جاوں اللہ۔۔۔ آنکھیں سختی سے میچ کر کھولتے وہ یاداشت کے پردوں پر ابھی تک اپنے ماں باپ کے تعلقات کنگھال رہی تھی۔۔ اسے کہاں جانا چاہیے تھا جہاں اس خود غرض دنیا میں کوئی اسکا فائدہ اٹھائے بنا اسکی مجبوری سمجھ کر اسکی مدد کرتا۔۔
اب تو انسانیت پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔
یکدم ہی وہ ہلتے ہلتے ٹھہر گئ۔۔۔ گویا ہر چیز ساکت ہوگئ۔۔ سوچ کو کوئی سمت مل گئ ہو۔۔ دماغ میں ایک جھماکا ہوا تھا۔۔۔ سوچ کو ایک نیا در ملا تھا۔۔۔
اسکے جسم میں جیسے بجلی بھر گئ تھی۔۔۔ وہ ایک نئ ہمت سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ اسے جلد از جلد اپنی سوچ پر عمل پیرا ہونا تھا۔۔۔ اے کاش وہ وقت رہتے اپنی گڑیا کے لئے کچھ پائے دل سے محض یہ ہی دعا نکل رہی تھی کہ کہیں دیر نا ہو جائے۔۔ اسکی پھول سی بہن مرجھا نا جائے۔۔۔۔
******
گاڑی روڈ پر فڑاتے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔ مغرب باسی ہو رہی تھی آسمان کی سرخی آہستہ آہستہ دم توڑتی جامنی رنگ سے ہوتی اب سیاہی مائل ہو رہی تھی۔۔۔ روڈ کے اطراف میں لگے درختوں کو گاڑی تیز رفتاری سے پیچھے چھوڑ رہی تھی۔۔۔
گاڑی میں دو نفوس کی موجودگی کے باوجود سناٹے کا راج تھا۔۔۔ وہاب لب سختی سے بھینچے ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتا گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔ سٹرینگ اسکے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں تھا شرٹ بازو سے فولڈ کر کے اوپر چڑھا رکھی تھی۔۔۔ سٹرینگ پر رکھے ہاتھ اور بازو کی صاف رنگت پر نیلی رگیں ابھر کر واضح ہو رہی تھی۔۔۔
ماتھے کے قریب سے ابھر کر پھرکتی رگ اسکے شدید طیش کو ضبط کرنے کی گواہ تھی۔۔۔ آنکھیں سرخی مائل تھیں جیسے کسی بھی پل خون چھلکا دیں گی۔۔۔ چہرے کے مغرور نقوش اس وقت شدید کھینچاو کا شکار تھے
جبکہ ساتھ ہی رشنا سر جھکائے بیٹھی انگلیاں بری طرح مڑوڑ رہی تھی۔۔۔ شرمندگی حد سے سوا تھی۔۔۔ ابھی تک سفر کے دوران دونوں میں کوئی بات نا ہوئی تھی۔۔۔ وہاب شاید اپنا ضبط آزما رہا تھا اور رشنا ۔۔۔ اسکے پاس تو جیسے بات کرنے کو کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔ الفاظ اپنا وجود کھو گئے تھے۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا رشنا۔۔۔ کیا ایک بار صرف ایک بار۔۔۔ تمہیں اور کسی کا تو چھوڑو چچا جان کا بھی خیال نہیں آیا۔۔۔ بہت دیر بعد گاڑی میں ابھرتی وہاب کی شکست خوردہ آواز نے اس سناٹے کو توڑا تھا۔۔۔
رشنا کا جھکا سر مزید جھک گیا۔۔۔ کیا جواب دیتی۔۔۔ اپنی حماقت کا ازالہ کس انداز میں کرتی۔۔۔ اسکا دل جیسے کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔۔۔ آنکھ خاموش آنسو بہانے لگی تھی۔۔۔
وہ ہارٹ پیشنٹ ہیں رشنا۔۔۔ کیا محبت میں اتنی آگے بڑھ گی تھی تم کہ باپ کی زندگی تک کو داو پر لگا دیا۔۔۔ پر نم درد میں ڈوبی آواز میں کہے گئے الفاظ رشنا کو چابک کی طرح لگتے لہولہان کر رہے تھے۔۔۔
ایک بار مجھ سے تو کہا ہوتا رشنا۔۔۔ اتنی دوستی تو تھی ہماری کہ تم مجھ سے کچھ شیئر کر سکتی۔۔۔ میں خود اس لڑکے سے مل کر تمہارے معاملات سیٹ کروا دیتا۔۔۔ تم کچھ بھی کرتی رشنا مگر میرے پرخلوص جذبات کا مذاق نا اڑاتی۔۔۔۔
اب کی بار وار گہرے تھے یا شاید اسے لگ رہے تھے تبھی تو اس بار ٹوٹ کر بکھرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
مجھے معاف کر دیں وہاب مجھے ایک۔۔۔۔
بسسسسس۔۔۔۔۔۔ رشنا بس۔۔۔۔ مزید کچھ نہیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سسکتی ہوئی اسکے سامنے کوئی فریاد کرتی اسنے ہاتھ اٹھا کر سختی سے اسے ٹوکا۔۔۔
تمہیں لگتا ہے کہ جو سب تم کر چکی ہو اس کے بعد اس لفظ کی کوئی گنجائش بچتی ہے رشنا۔۔۔ اذیت کی انتہاوں کو چھوتا وہ پھٹ پڑا تھا۔۔۔
ایک ہفتے بعد شادی تھی ہماری۔۔۔۔ دو سال سے ہمارا رشتہ طے تھا رشنا۔۔۔ تمہیں اپنے دل کے سب سے اونچے سنگھاسن پر بیٹھایا تھا میں نے۔۔۔ دن گن گن کر انتظار کر رہا تھا ہماری شادی کے دن کا۔۔۔
اور تم نے کیا کیا رشنا۔۔۔ داغ مفارقت کر گئ۔۔۔ میری پرخلوص محبت کو روند کر میرے جذبوں کا مذاق اڑا کر میرے پاکیزہ محبت پر کسی دوٹکے کے سستے عاشق کو فوقیت دے کر تم باپ کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔
اب تم اس سے ٹھوکر کھا کر واپس پلٹ رہی ہو۔۔۔
بہت معذرت رشنا پر میرا نا تو ضرف اتنا ہے اور نا ہی میری غیرت یہ گوارا کرتی ہے۔۔۔ میرے پاس ہر چیز کی معافی ہے۔۔۔ تمہارے ہر خطا ہس کر ٹال جاتا کہ اتنی ہی محبت کی تھی تم سے۔۔۔ مگر بے وفائی۔۔
میری زندگی میں بے وفائی کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ میں تو تمہیں نظر بھر کر دیکھتا تک نا تھا رشنا۔۔۔ کہ میری محبت کو بنا کسی حق کے تمہیں نگاہ بھر کر دیکھنا تک گوارا نا تھا۔۔۔ اور تم نے خود کو یوں بے مول کیا۔۔۔ اتنا گر گئ تم۔۔۔
اذیت دکھ تکلیف ملال کیا کچھ نا تھا اسکے بھیگے لہجے میں۔۔۔ رشنا پر نم آنکھیں اٹھائے آس سے اسکی جانب دیکھتی رہی۔۔۔ احساس زیاں پھر سے تازہ ہونے لگا تھا۔۔۔ وہ اونچا لمبا مضبوط ڈیل ڈول اور تیکھے نقوش کا حامل وجیہہ شخص کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہو سکتا تھا۔۔۔ پھر اسنے کیوں اپنی کم عقلی کے باعث اسے خود سے بدزن کر دیا ۔۔۔
کیوں اسنے ہیرے پر کوئلے کو فوقیت دی ۔۔۔ بے بسی سے اسنے گیلی سانس اندر کھینچتے پھر سے سر جھکا دیا۔۔۔
آپ نے گھر میں سب کو سچ بتا دیا۔۔۔ کرب سے آنکھیں میچتے دکھتے دل کے درد کو سہتی وہ مستفسر ہوئی۔۔۔
ابھی تو اس ایک شخص کا سامنا محال ہو رہا تھا کجا کہ باقی سب گھر والے۔۔۔
بابا۔۔۔ وہ بابا کا سامنا کیسے کرتی۔۔۔ اور جب وہ شخص اسے بری طرح دھتکار چکا تھا تو باقی سب کیا کرتے۔۔۔ ایسے میں وہ گھر جا کر کرتی بھی کیا۔۔۔
میری دم توڑتی محبت کو بھی محبت کی ناقدری گوارا نہیں رشنا۔۔۔ وہ محبت جو تمہاری اس گھر کی دہلیز پار کرنے کیساتھ ہی دم توڑ گئ تھی۔۔۔ کیونکہ بے وفا تم نکلی میں نہیں۔۔۔
اسی دم توڑ چکی محبت کے صدقے ایک آخری احسان تم پر ۔۔۔
تم میری نظروں میں اپنا مقام کھو چکی ہو لیکن باقی سب کی نظروں میں تم انکی لاعلمی کے باعث سر اٹھا کر جی سکتی ہو۔۔۔ کیونکہ ظالم تم ہو میں نہیں۔۔۔ اپنے باپ کی زندگی کا خیال تمہیں نہیں پر مجھے میرے چچا جان بہت عزیز ہیں اس لئے میں نے حقیقت ان سے مخفی رکھی ہے۔۔۔
انہیں یہ پتہ ہے کہ کل کالج سے واپسی پر تمہارا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا اور تم ساری رات بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال رہی۔۔۔ تمہیں ہوش آیا تو ہسپتال کے عملے نے تم سے نمبر لے کر مجھ سے رابطہ کیا اور اسی لئے میں تمہیں لینے آیا ہوں۔۔ اور ویسے بھی تمہیں لگی یہ چوٹیں تمہاری حقیقت کو سب سے مخفی رکھنے میں کارآمد ثابت ہونگی۔
رشنا نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس مہربان شخص کو دیکھا جو اسے بھرپور نظر انداز کئے سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔
کیا تھا وہ شخص۔۔۔ اتنی آسانی سے اسے آنے والی زندگی کی تلخیوں میں گھل کر تحلیل ہونے سے بچا گیا تھا۔۔۔ کتنا مہربان تھا وہ اس کے لئے۔۔۔ کیوں وقت رہتے اسنے اس ہیرے کی قدر نا کی۔۔۔ وہ اذیت سے لب چباتی کپکپاتی پلکوں سے اسے یک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہاب۔۔۔۔ انکے گھر کے دروازے کے سامنے گاڑی رکی تو بے ساختہ آخری کوشیش کے طور پر اسنے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلتے وہاب کا بازو تھاما۔۔۔۔ آواز میں شدت تھی ایک تڑپ تھی۔۔۔ جیسے وہ اسے منا لینا چاہتی ہو۔۔۔
دوبارہ ایسی حرکت کرنے سے پہلے ایک مرتبہ ضرور سوچ لینا رشنا ورنہ میں لحاظ نہیں کروں گا۔۔۔ ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ جھٹکتے وہاب نے انگلی اٹھا کر اسے سختی وارن کیا۔۔۔ کئ آنسو بے ساختہ اسکی پلکوں سے ٹوٹتے بے مول ہوئے۔۔۔
انسان پہاڑ سے گر کر تو کھڑا ہو سکتا ہے لیکن نظروں سے گر کر نہیں۔۔۔ اور رشنا عاصف تم میری نظروں سے گر چکی ہو۔۔ چبا چبا کر کہتا وہ ایک جھٹکے سے گاڑی سے باہر نکلا اور ڈھار سے دروازہ بند کیا۔۔۔
گاڑی رکنے کی آواز سے دروازہ کھول کر سب لوگ باہر آ رہے تھے رشنا اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹتی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی
*******
ہلکی ہلکی ہوا چار سو چل رہی تھی۔۔۔ سورج کے نکلنے کے آج بھی کوئی آثار نہیں تھے اگر سورج نہیں نکلا تھا تو دھند بھی نہیں تھی۔۔۔ مطلع قدرے صاف تھا لیکن سردی کی شدت کچھ زیادہ تھی یا شاید اسے ہی لگ رہی تھی۔۔۔
رکشے کے رکتے ہی رکشے سے اتر کر اسنے سر اٹھا کر آفندی ہاوس کی خوبصورت عمارت کو دیکھا اور تھوگ حلق سے اتارتی آفندی ہاوس کے آہنی گیت کے پاس گئ۔۔۔۔
بی بی کس سے ملنا ہے آپکو اسے گیٹ کے پاس آتا دیکھ کر گارڈ چھوٹا گیٹ وا کرتا باہر نکلا اور اسکا سر تا پاوں جائزہ لیتا کڑک انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ی۔۔یہ شازمہ آفندی کا گھر ہے نا مجھے انہی سے ملنا ہے۔۔۔ خوفزدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتے بیا نے خشک پرتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
بی بی میرا کرایہ۔۔۔۔ پیچھے سے رکشے والے نے رکشے سے سر باہر نکال کر جھنجھلاتے ہوئے ہانک لگائی۔۔۔
ای۔۔ایک منٹ بھیا۔۔۔ وہ پیچھے کو مرتی انگلی سے ایک کا اشارہ کرتی ملتجانہ گویا ہوتی پھر سے گارڈ کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
گارڈ اسے سخت جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جو اپنے ہر ہر انداز سے اسے مشکوک لگ رہی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا چاچا آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔۔۔ دفعتاً شہروز فون کان سے لگائے کسی سے فون پر بات کرتا اندر سے باہر نکلا اور گارڈ کو یوں دروازے کے وسط میں کھڑا پا کر گویا ہوا۔۔۔
وہ چھوٹے سر یہ لڑکی بڑی مالکن سے ملنے کے لئے بول رہی ہے۔۔۔ گارڈ شہروز کو باہر آتا دیکھ مودب سا سائیڈ پر ہو کر کھڑا ہوا۔۔۔
شہروز نے فون پر الوداعی کلمات کہہ کر فون پینٹ کی جیب میں ڈالا۔۔ جینز پر سرمئ ڈریس شرٹ کی آستینیں پیچھے موڑے گیلے بال سلیقے سے بنائے وہ فریش ہو کر غالباً کسی سے ملنے جا رہا تھا۔۔۔ اسنے بھی آنکھیں چندھی کرتے اسکا سر تا پیر جائزہ لیا گلابی کھدر کے شلوار سوٹ پر بھوری شال سختی سے اپنے گرد لپٹائے وہ خوفزدہ ہرنی کی مانند دیکھ رہی تھی۔۔۔
کون ہیں آپ اور شازمہ آفندی سے کیا کام ہے آپکو۔۔۔ گارڈ کی نسبت اسکا لہجہ زرا مودب مگر جانچتا ہوا تھا۔۔۔
مجھے شازمہ آفندی سے ملنا ہے کام ہے مجھے ان سے۔۔۔ گارڈ ایک سائیڈ پر کھڑا تھا جبکہ شہروز بھی گیٹ کے باہر اسکے قریب آ چکا تھا اسے اب یوں گیٹ کے باہر کھڑے ہوکر انکی تفتیشی جوابات دینا خاصا جھنجھلا رہے تھے تبھی موقع پا کر سرعت سے شہروز کے قریب سے گزر کر آہنی گیٹ عبور کرتی تیزی سے گویا ہوئی۔۔۔
ارے۔۔ارے۔۔ آپ۔۔ شہروز تو منہ کھولے حق دق رہ گیا تھا۔۔ سر ہم اسے۔۔۔ گارڈ طیش میں کہتا اندر کی جانب بڑھ رہا تھا جب شہروز اسے ہاتھ اٹھا کر رکنے کا اشارہ کرتا خود اسکے پیچھے لپکا۔۔
او بی بی میرا کرایہ۔۔۔ رکشے والے نے یہ سارا ماجرا دیکھتے پیچھے سے اونچی ہانک لگائی۔۔۔
آپ پلیز پہلے اس کرایہ دے آئیں۔۔۔ سیمٹ اور بجری کی بنی روش کو تیزی سے عبور کرتی وہ رکشے والے کی آواز سن کر ایڑیوں کے بل زرا کی زرا گھوم کر شہروز سے مخاطب ہوئی اور پھر سے سیدھی ہوتی تیزی سے آگے بڑھ گئ۔۔۔
شہروز تو اسکی جرات پر عش عش کر اٹھا تھا۔۔۔۔ اسی کے گھر میں کھڑی ہو کر محترمہ اسے کتنے حق سے رکشے والے کو کرایہ دینے کے لئے بول گئ تھی۔۔
*****
شہروز رکشے والے کو کرایہ دے کر داخلی دروازہ وا کر کے اندر آیا تو وہ سہمی ہوئی ہرنی کی مانند پریشان سی چاروں طرف سے لاوئنج کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔
اے خبردار کچھ لوٹنے کی کوشیش کی جو تم نے لٹیرنی۔۔۔ یکدم ہی شہروز کی رگ ضرافت پھرکی تھی لیکن اسکی ڈھار سے مشابہ آواز پر بیا تو اچھل کر رہ گئ ۔۔۔
مم۔۔۔میں لٹیرنی نہیں۔۔۔
مم۔۔۔ میں لٹیرنی نہیں تو بکری ہو کیا۔۔ی ابھی ابھی تم نے میرے پورے دو سو پچاس روپے لوٹے ہیں رکشے والے کو کرایہ دلوانے کے بہانے۔۔۔ چلو نکالو میرے دو سو پچاس روپے ۔۔۔ وہ ماتھے پر بل ڈالے روب سے کہتا اسکی جانب چند قدم بڑھا۔۔
میں آپکے پیسے جلد لوٹا دوں گی شازمہ آفندی سے ملنے کے بعد۔۔۔ وہ اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پاتی ٹھہرے ہوئے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔ اب وہ اسے کیا بتاتی کہ گجرانولہ سے اسلام آباد کا سفر اسنے کیسے طے کیا تھا۔۔۔ کانوں میں باپ کے ڈلائے سونے کے چھوٹے چھوٹے سے ٹاپس ہی تھے محض اسکے پاس جسے بیچ کر اسنے کچھ رقم اکھٹی کی تھی مگر وہ محض اتنے ہی پیسے تھے کہ رات کچھ کھانے کے بعد وہ یہاں تک کا کرایہ لگا پائی تھی رکشے والے کو دینے کے لئے اب اسکے پاس پھوٹی کوری تک نا تھی۔۔۔
بعد میں کیوں محترمہ پہلے میرے دو سو پچاس نکالو۔۔۔ شہروز سمجھ چکا تھا کہ اسکے پاس پیسے نہیں اسی لئے اسے تنگ کرنے کی غرض سے دوبارہ گویا ہوا۔۔
دیکھیں میں آپکے پیسے۔۔۔
ارے انسپیکٹر صاحب یہ ہی ہے وہ لٹیرنی جس نے میرے پیسے لوٹے ہیں اریسٹ کریں اسے۔۔۔ دفعتاً بہروز اپنے مخصوص ایس پی کے یونیفارم میں ڈیوٹی سے واپس لوٹتا گھر داخل ہوا تو شہروز بھاگ کر اسکے پاس آتا گویا ہوا۔۔۔
بیا جھٹکے سے پلٹی اور شہروز کے ساتھ پولیس والے کو کھڑا دیکھ صحیح معنوں میں اسکی جان ہوا ہوئی۔۔
یہ۔۔ یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں میں کوئی لٹیرنی نہیں۔۔۔ خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھتی وہ تھوک نگلتی گویا ہوئی۔۔۔ کس مصیبت میں پھنس گئ تھی وہ۔۔۔ ارے جھوٹ میں نہیں تم کہہ رہی ہو کیا تم نے ٹھگ سے میرے پیسے نہیں لوٹے۔۔۔ وہ آستینیں چڑھاتا اسکے روبرو ہوا۔۔۔ میں آپکے پیسے لوٹا دوں گی۔۔۔ وہ نظریں جھکاتے منمنائی۔۔
دیکھا بھیا مان گئ کہ یہ ٹھگ لٹیرنی ہے۔۔
شیروز نے ہاتھ پر ہاتھ مارتے بھائی کو فاتحانہ نگاہوں سے دیکھتے آنکھ سے اسکی جانب اشارہ کیا۔۔۔
بیا نے اسکی غلط بیانی پر ٹرپ کر اسے دیکھا۔۔۔ جبکہ بہروز خاموشی سے دونوں کو دیکھتا معاملہ سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا
******
جاری ہے
No comments