Header Ads

Nam Aankhain novel 3rd episode by Umme Hania

 

   

 Nam Aankhain novel 3rd episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

تیسری قسط۔۔۔۔
ایک رات پہلے۔۔۔
پری کے وہاں سے جانے کے بعد ان دو خرانٹ عورتوں نے رشنا کو ہیڈ آف دا سٹاف کے حوالے کر دیا تھا جہاں سے وہ اسے اپنے خاص کمرے میں لے گئ۔۔۔ اسکی بالوں کی کٹنگ کے بعد اسکی چیلیاں کتنی ہی دیر تک اسکے ہاتھوں اور پاوں پر طبع آزمائی کرتی رہی تھیں۔۔۔ البتہ چہرے کو چھیرنے سے انہوں نے گریز ہی کیا تھا۔۔۔ کیونکہ رشنا کسی طور انکے قابو نا آتی بھرپور مزاحمت کر رہی تھی اور اسی چکر میں اسے کئ ایک چوٹیں بھی لگ چکی تھیں۔۔۔ سر دیوار سے ٹکرانے کے پاعث پھٹ گیا تھا جس سے خون کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔۔۔ ہاتھا پائی میں اسکے چہرے اور گردن پر جابجا خراشیں آئی تھیں۔۔۔ لیکن اسکی بھرپور مزاحمت کے باوجود ان لوگوں پر رتی برابر اثر نا پڑا تھا۔۔۔ یقیناً وہ اپنے کام کے منجھے کھلاڑی تھے۔۔ اور ایسے کیسز انکے پاس آتے ہی رہتے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ وہ اسے مسلسل نظر انداز کرتے گھونگے اور بہرے بن کر محض اپنا کام کرتے رہے تھے۔۔۔  اسکی کوئی مزاحمت کام نا آئی تھی۔۔۔ ان لوگوں نے اپنا کام مکمل کر کے ہی اسے چھوڑا تھا۔۔۔ 
وہ بھی لگاتار مزاحمت کر کر کے اب نڈھال ہو کر ایک طرف پڑی تھی۔۔۔چیخ چیخ کر گلا بیٹھ چکا تھا۔۔۔ رو رو کر آنکھیں سوجھ گئ تھیں۔۔
مزاحمت کے چکروں میں جسم پر کئ ایک چوٹیں آئیں تھیں جن سے اب درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔ رفتہ رفتہ اسکی پلکوں پر بوجھ بڑھنے لگا اور بھاری ہوتی پلکیں اسکی بصارت پر پردہ گراتی گئ یکدم ہی ہر جانب خاموشی چھاگئ دماغ سکون کی گہرائیوں میں اترنے لگا تھا۔۔۔
نا جانے وہ نڈھال ہو کر سو چکی تھی یا ابے ہوش ہوگئ وہ جان نا پائی۔۔ دوبارہ اسکی آنکھ ایک عجیب سے احساس کے تحت کھلی تھی۔۔۔
آنکھ کھلتے ہی جو احساس اس میں جاگا وہ یہ تھا کہ اسکا جسم اکڑ چکا ہے۔۔۔ بامشکل اسنے حواس یکجا کر کے اٹھنے کی کوشیش کی۔۔۔ وہ یخ بستہ فرش پر گھٹری کی صورت پڑی تھی۔۔۔ شاید جب تک وہ اس حقیقت کو قبول کر کے خود کو ان ظالموں کے رحم و کرم پر چھوڑ نا دیتی اسے یہ سب کچھ سہنا تھا۔۔۔  
عقل و سمجھ نے شعور کی منازل طے کی اور حد بصارت کچھ قائم ہوئی تو اس پر انکشاف ہوا کہ وہ ایک تاریک کمرے میں ہے یا وہ کوئی کوٹھری تھی۔۔۔ منجمند حواس اس چیز کو واضح کرنے میں ناکام تھے۔۔۔ کمرے میں واحد کھلتی کھڑکی سے آتی مدہم چاند کی چاندنی اس کمرے کی تاریکی میں روشنی کی واحد کرن تھی۔۔۔
جلد ہی اسے اپنے قریب موجود کرسی پر کسی سائے کا گمان ہوا۔۔۔ 
ابتدائی فیز سے نکلتے کسی اور وجود کی اپنے قریب موجودگی کا احساس ہی اسکے رونکھٹے کھڑے کر گیا تھا۔۔۔ دل سوکھے پتے کی مانند لرز اٹھا تھا۔۔۔ 
سیاہ رات میں  کرسی پر بیٹھا وہ وجود بھی اسی رات کا ایک حصہ محسوس ہوتا تھا۔۔۔
حواس بحال ہوئے تو سمجھ آیا کہ شاید وہ اسی سائے کے جگانے پر ہوش میں آئی تھی۔۔۔ 
خوف کی ایک لہر اسے ریڈھ کی ہڈی تک سرایت کرتی محسوس ہوئی۔۔۔
جانا چاہتی ہو اس جگہ سے۔۔ اس عقوبت خانے سے نجات چاہتی ہو۔۔۔ عجیب پراسرا آواز تھی اسکی
بادلوں کے پیچھے ہٹنے سے کمرے میں چاند کی چاندنی کچھ زیادہ ہوئی تھی۔۔  رشنا کو بھی روشنی کی ایک کرن دکھائی دی۔۔۔ بنا سوچے سمجھے اسکا سر ہاں میں ہلا۔۔۔
وہ وجود کون تھا اسکی مدد کیوں کر رہا تھا یہ سب جاننا فلحال اسنے ضروری نا سمجھا۔۔۔
کیا کوئی بیک آپ پلان ہے تمہارے پاس۔۔۔ کیا اگر کسی کو تمہارے بارے میں مطلع کیا جائے تو وہ تمہیں یہاں سے لیجانے آ سکتا ہے۔۔۔ کیا تمہارے ماں باپ تمہیں قبول کر لیں گے۔۔  سنجیدگی میں ڈوبی آواز میں پے در پے سوالات کئے گئے تھے جسے سن کر اسکے سبھی حواس الڑٹ ہوئے۔۔۔
اگر وہاب کو میرے بارے میں پتہ چلا تو وہ مجھے لینے آ جائیں گے۔۔۔ کپکپاتے لبوں زبان پھیرتے وہ بعجلت گویا ہوئی۔۔۔ اس کال کوٹھری میں دیکھائی دیتی واحد روشنی کی کرن کو وہ کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔
تم پر یقین ہو کہ وہ شخص آ جائے گا۔۔۔ سنو لڑکی وہ سایہ کچھ آگے کو جھکتا گھٹنوں پر کہنیاں ٹکا کر مزید اسکے قریب ہوا۔۔۔۔
اگر تو تم پریقین ہو کہ وہ شخص تمہارے پکارنے پر یہاں آ کر تمہیں لے جائے گا تو ہی یہ رسک لینا۔۔۔ کیونکہ آج تک اس عقوبت خانے کی فصیلوں کو توڑ کر کوئی یہاں سے نکل نہیں پایا۔۔۔ تم وہ پہلی لڑکی ہوگئ جو یہاں سے بھاگے گی۔۔۔ صبح تک تمہاری غیر موجودگی کے باعث یہاں پر کہرام مچ جائے گا۔۔۔ ایک قیامت بھرپا ہوجائے گی۔۔۔وہ تمہیں ڈھونڈنے میں زمین آسمان ایک کر دیں گے
اور یہ لوگ اتنے پاورفل ہیں کہ اگر تمہارے پیچھے کوئی قابل ذکر سپورٹ نا ہوئی تو باآسانی تمہیں ڈھونڈ لیں گے۔۔۔ کیونکہ بلآخر وہ تمہاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔۔  اور اگر ایک دفعہ پھر سے تم انکے ہتھے چڑھ گئ تو سوچ ہے تمہاری کہ زندگی تم پر کس قدر تنگ کر دی جائے گی اس لئے زرا اچھے سے سوچ سمجھ لو۔۔۔ وہ سایہ اپنا مکمل موقف اسکے گوش گزار کر اب کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر پرسکون ہو کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
اسقدر خوفزدہ حقیقت سن کر رشنا کی گردن میں گلٹی ابھر کی معدوم ہوئی۔۔۔ 
و۔۔۔وہاب آ جائیں گے مجھے لینے۔۔۔ اگر یہ رسک تھا تو اسے لینا ہی تھا۔۔۔ اگر قسمت اسے ایک موقع فراہم کر رہی تھی تو اسے اس سے فائدہ اٹھانا ہی تھا۔۔۔ زندگی تو ویسے بھی گلزار نا رہی تھی۔۔۔ ہر صورت موت تو طے ہی تھی تو پھر لڑ کر کیوں نہیں ۔۔۔ بنا لڑے ہی کیوں۔۔
ٹھیک ہے پھر۔۔   وہ سایہ اٹھ کر اس کمرے میں کھلتی واحد کھڑکی تک گیا۔۔۔ اسکے کھڑکی میں کھڑے ہونے سے چاند کی چاندنی کا اندر داخل ہونے کا راستہ بند ہو گیا تھا۔۔۔ کمرے میں دوبارہ سے تاریکی بڑھنے لگی تھی۔۔۔ 
وہ سایہ اس چاندی میں نہایا کوئی چمکتا ہوا ستارہ معلوم ہو رہا تھا۔۔۔
اگلے دس منٹوں تک وہ اسے اس جگہ سے ان تمام جگہوں کی نشاندہی کرواتا رہا تھا جو وہاں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی حدود سے باہر تھے۔۔۔ تمہارے پاس محض دس منٹ ہیں۔۔ دس منٹوں کے لئے گارڈز اس وقت چائے پینے کے لئے مخصوص جگہ پر  موجود  ہیں۔۔۔  انکے واپس اپنی جگہ سمبھالنے سے پہلے تمہیں کیمروں کی آنکھ کو ڈاج دے کر وہ آہنی گیٹ عبور کرنا ہے۔۔۔ اگر پکڑی گئ تو تمہاری قسمت اور اگر وہ گیٹ عبور کر گئ تو آگے جا کر بائیں جانب میری گاڑی کھڑی ہوگئ تمہیں اس گاڑی میں جا کر بیٹھنا ہے باقی تمہارے اس بندے کے آنے تک تمہاری حفاظت میرے ذمہ ہے۔۔۔ وہ سایہ اسے اس کھرکی سے اشارہ کر کے سب سمجھا رہا تھا۔۔۔
اسنے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا۔۔۔ وہ خوفزدہ سی ایک مرتبہ پھر سے ان تمام راستوں کو حفظ کر رہی تھی جس کی ابھی ابھی اس سائے نے نشاندہی کروائی تھی۔۔۔
اب مجھے اسکا نمبر دو جس سے تمہارے متعلق رابطہ کرنا ہے۔۔۔ اس سائے کے کہنے پر رشنا نے تھوک نگلتے اسے وہاب کا نمبر دیا۔۔۔۔
آپ کون ہیں اور میری مدد کیوں کر رہے ہیں۔۔۔ وہ سایہ اسے اوکے کا سگنل دیتا باہر جانے لگا تھا جب وہ بے ساختہ کب کا دل میں پنپتا سوال پوچھ بیٹھی۔۔۔
وہ سایہ ٹھٹک کر رکا۔۔۔ بلیک روز۔۔۔ اسکی آواز سرگوشی سے زیادہ نا تھی۔۔
بلیک روز۔۔۔ رشنا الجھی۔۔۔ 
ہاں بلیک روز۔۔۔ جو خود تو سیاہ ہوتے ہیں مگر وہ دوسروں کو مہکا جاتے ہیں۔۔۔ عجیب کھوئی سی آواز تھی اسکی۔۔۔ کیا تمہیں یہاں سے نکلنا ہے یا نہیں۔۔ یکدم ہی وہ سایہ غراتا ہوا گویا ہوا۔۔
جج۔۔جی ۔۔۔ نکلنا ہے۔۔۔ اسکے یکدم غصے میں آنے پر رشنا بعجلت گویا ہوئی۔۔ فلحال اپنے تجسس پر اسنے دو حروف بھیجنے ہی ضروری سمجھے۔۔۔۔
اور پھر اگلے دس منٹوں کے اندر اندر وہ اس سائے کے نشاندہی کروائے راشتوں سے گزرتی اس عقوبت خانے کا آہنی گیٹ عبور کر گئ تھی۔۔۔ کہے کے مطابق اسے گاڑی بھی مطلوبہ مقام پر مل گئ تھی جس میں وہ سایہ پہلے سے موجود تھا۔۔۔ وہ سایہ اسے اسی فلیٹ میں لایا تھا جس میں وہ کل رات سے موجود تھی۔۔
اور کل رات سے اب تک جو ڈھرکا اسکے دل کو لگا تھا کہ کہیں یہاں پر بھی اسے کسی دھوکے کا سامنا تو نہیں کرنا ہوگا وہ ڈھرکا اب وہاب کو اس فلیٹ میں دیکھ کر ختم ہو گیا تھا۔۔۔
وہ ایک آگ کا دریا پار کر آئی تھی مگر آگے ابھی ایسے بہت سے دریا اسے جلا کر بھسم کر دینے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔ بلاشبہ وہ آگ سے کھیلی تھی۔۔۔ اسنے جھلسادینے والے راستے کا انتخاب کیا تھا اب شاید جلنا بھی اسکی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا۔۔۔
*******
اس چھوٹے سے تین مرلے کے گھر پر اداسیوں نے ڈیرے جما لیے تھے۔۔۔ خوشیاں جیسے اس گھر سے روٹھ گئ تھیں۔۔۔ باہر دوپہر کے وقت بادلوں نے آسمان پر قبضہ جماتے ہر طرف اپنا سرمئ پن بکھیر دیا تھا دن کے وقت ہی شام کا گمان ہونے لگا تھا۔۔۔
ایسی ہی اداس شامیں اس گھر کے مکینوں پر اتر چکی تھیں۔۔۔ 
بیا اور مِرحہ دونوں ہی صدمے سے نڈھال اپنی اپنی جگہوں پرخاموش ہو کر رہ گئ تھیں۔۔۔ جیسے جینے کی وجہ ہی ختم ہو گئ ہو۔۔۔ جیسے وہ محور ہی ختم ہو گیا ہو جس کے گرد ان دونوں کی ذات گھومتی تھی۔۔۔
وہ دونوں ہی اس حقیقت کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔ آج سہیل صدیقی کو اس دنیا سے گئے تیسرا روز تھا۔۔ لیکن انکا غم صدمے کی پہلی چوٹ کی طرح تازہ تھا۔۔۔ باپ کے بنا گھر بھائیں بھائیں کرتا۔۔۔
زندگی کی تلخ حقیقتوں نے انہیں بہت جلد ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
باپ انکے لئے ایک گنا سایہ دار شجر تھا جسکے جانے کے بعد انکے لئے زندگی کس قدر تلخ ہو سکتی تھی یہ انہوں نے اب جانا تھا۔۔۔
دو تنہا جوان لڑکیاں اکیلے کیسے ایک گھر میں سروائیو کرتیں۔۔۔ معاشرے کے گدھ تو انہیں بے یارومددگار سمجھ کر گھاٹ لگائے شکار پر جھپٹنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔
ایسے میں اسکے باپ کی ایک دور پڑے کی رشتہ دار خاتون نے یتیم بچیاں سمجھ کر انکے سر ہر ہاتھ رکھا۔۔ 
وہ خاتوں زلیخہ انہیں اپنے ساتھ اپنے گھر لیجانے پر بضد تھی لیکن وہ دونوں بہنیں کسی صورت باپ کا گھر چھوڑنے کو تیار نا تھی۔۔۔ مجبوراً زلیخہ کو انکی تنہائی کے خیال سے وہیں رکنا پڑا۔۔۔
پچھلے تین دن سے زلیخا ہی انکا خیال رکھ رہی تھی۔۔۔ اب بھی وہ دونوں بستر پر دراز نیم مردہ سی لیٹی ہوئیں تھیں۔۔۔ جب زلیخہ گرم دودھ کے دو گلاس لئے اندر داخل ہوئی۔۔
ارے بیٹا یوں زندگی نہیں کٹتی۔۔۔ جانے والوں کیساتھ جایا نہیں جاسکتا۔۔۔ یہ رب کی کرنی ہے جسے جھیلنا ہی پڑتا ہے۔ اٹھو شاباش دودھ پیو۔۔۔ پھر بے شک لیٹ جانا۔۔۔ 
زلیخہ نے خوشدلی سے کہتے انہیں اٹھا کر ہی دم لیا اور دودھ کی ٹرے انکے پاس ہی بیڈ پر رکھی۔۔۔
وہ دونوں کسلمندی سے اٹھ بیٹھیں۔۔۔ انہیں لگتا تھا کہ انکا باپ انکی توانائیاں ساتھ ہی لے گیا تھا۔۔۔
دونوں کو دودھ کا گلاس اٹھا کر پیتا دیکھ زلیخا مطمیئن ہو کر باہر چلے گئ۔۔۔

*****
بادل زور سے گرج رہے تھے جیسے کسی انہونی کے لئے پہلے سے باخبر کر رہے ہوں۔۔۔ موسم سرما کی ٹھٹھراتی سراسراتی ہوائیں طوفان کا روپ اختیار کرتی جا رہی تھیں۔۔۔ ایسے میں اسقدر خوفناک موسم میں ہر زی روح اپنے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔۔۔
ہاں ہاں سب ویسا ہی کیا ہے جیسا کہا تھا۔۔۔ ان دونوں لڑکیوں کو دوا ملا کر دودھ دے دیا ہے کچھ ہی دیر میں وہ دونوں گہری نیند میں ہونگی۔۔۔ تم لوگ بس جلدی سے یہاں پر پہنچ جاو  انہیں بے ہوشی میں ہی یہاں سے لے جاو انکی آنکھ انکے اگلے ٹھکانے پر ہی کھلنی چاہیے۔۔  دروازے کی ہلکی سی جھری سے اس عورت کی ہلکی سی آواز کمرے سے باہر نکل رہی تھی جو وہ کسی سے غالباً موبائل پر بات کر رہی تھی۔۔۔
ارے اسکی فکر مت کرو تم
۔۔ لاوارث ہیں دونوں ۔۔۔ ماں پہلے ہی نہیں تھی اور اب تو باپ بھی نہیں رہا۔۔۔ میں نے تو بڑی کوشیش کی تھی کہ انہیں اپنے ساتھ لیجاوں مگر دونوں اول درجے کی ڈھیٹ ہیں بات ہی نہیں سنتی۔۔۔ اسی لئے یہاں سے ہی انکا کام تمام کرنے کا سوچا ہے۔۔۔ تم بس پیسے پورے لانا۔۔۔
ارے مال تو ایسا ہے کہ دیکھو گے تو رال ٹپک پڑے گی تمہاری۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔۔۔
وہ عورت سفاکیت اور خباست سے کہتی کسی سے بات کر رہی تھی اور بیا جو واش روم جانے کی غرض سے دودھ کا گلاس وہیں رکھے باہر آئی تھی اس عورت کی احساس سے عاری باتیں سن کر جہاں کی تہاں رہ گئ تھی۔۔۔اس کے تو وہم و گمان میں بھی ایسی صورتحال نا تھی۔۔۔۔ اسے اپنے بدن پر چیونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔ مطلب کے اب وہ اپنے گھر میں بھی محفوظ نا تھی۔۔۔ اسکا چہرا ہر گزرتے لمحے کیساتھ لٹھے کی مانند سفید پر رہا تھا۔۔۔
وقت کم تھا اسے جلد ہی اس گھٹیا عورت کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے کچھ کرنا تھا۔۔۔
وہ کپکپاتی ٹانگوں کیساتھ واپس کمرے میں بھاگی۔۔۔۔
مرحہ وہ دودھ کا گلاس پی رہی تھی ابھی اسنے چند ایک گھونٹ ہی بھرے تھے۔۔۔ ایک ہی جست میں درمیانی فاصلے عبور کرتی بیا نے جھٹکے سے ہاتھ مار کر مرحہ کے ہاتھ میں تھاما دودھ کا گلاس نیچے پھینکا۔۔۔
بیا یہ کیا۔۔۔ مرحہ اسکی اس حرکت سے حق دق سی اسے دیکھنے لگی۔۔۔ مرحہ جلدی اٹھو ہمیں ابھی کے ابھی یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔۔ بیا اچھا خاصا بوکھلائی ہوئی تھی۔۔۔ جلدی سے جھک کر مرحہ کی چپل باہر نکالی اور بھاگ کر اسکی شال اٹھا کر اسے تھمائی۔۔۔
پر بیا ہوا کیا۔۔۔ مرحہ حیرت سے گنگ بیا کا یہ روپ دیکھ رہی تھی۔۔ بیا نے بعجلت اپنی شال اوڑھتے مختصراً بات مرحہ کے گوش گزاری۔۔۔
مرحہ تو سنتے ہی سکتے میں آگی تھی۔۔۔ بیا اب ہم کیا کریں گے۔۔۔ وہ خوف کے زیر اثر منمنائی۔۔۔
سب سے پہلے ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔۔۔ 
پر ہم جائیں گے کہاں بیا۔۔۔ خوف و ہراس سے مرحہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔ کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی وہ بستر سے اتر کر چپل اڑسنے لگی۔۔ حواس محتل ہو رہے تھے دماغ سن ہونے لگا تھا۔۔ جسم کے اعضا ساتھ چھوڑتے محسوس ہوئے۔۔۔
پتہ نہیں ۔۔  پر پہلے تو یہاں سے نکلنا ہے باقی بعد میں۔۔۔ ابھی بیا بول ہی رہی تھی جب انہیں باہر سے لوگوں کے بولنے کی آوازیں سنائی دی۔۔۔ 
قدموں کے نیچے سے زمین کھسکنا کسے کہتے ہیں یہ ان دونوں نے اس روز جانا تھا۔۔۔ فق چہروں کے ساتھ ان دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
وہ لوگ شاید انہیں سوتا سمجھ کر اسی کمرے کی طرف  آ رہے تھے۔۔۔ بیا نے سب سے پہلے ہوش کرتے کمرے کا گلی کی طرف کھلتا دروازہ کھولا۔۔۔ وہ کمرا بیٹھک کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جہاں اکثر سہیل صاحب کے دوست باہر سے ہی آتے جاتے تھے۔۔۔
مرحہ نے چونک کر بیا کی جانب دیکھا اور بات سمجھ میں آتے ہی اسکے ساتھ ہی باہر کو دوڑ لگا دی۔۔۔
تبھی کمرے کا دروازہ وا ہوا۔۔۔
زلیخہ تم تو کہہ رہی تھی وہ دونوں بے ہوش ہیں۔۔۔ 
پتہ نہیں۔۔۔ لگتا ہے انہوں نے وہ دودھ نہیں پیا۔۔۔ تم لوگ انکا پیچھا کرو زیادہ دور نہیں گئ ہونگی۔۔۔ زلیخہ نے ہواس باختگی سے ساتھ موجود مردوں کو انکے پیچھے بھگایا۔۔۔۔ 
سررررر۔۔۔۔سررررر۔۔۔ کی آوازوں سے چلتی طوفانی ہوائیں عجیب خوفناک منظر پیش کر رہی تھیں۔۔۔ بارش کسی بھی پل برسنے کو بے تاب تھی۔۔۔ لیکن بارش سے پہلے کا یہ طوفان اس قدر روح پرور تھا کہ ہوائیں گویا پورے قد سے جمے درختوں کو اپنے سنگ جڑ سے اکھاڑ لینے جانے کی متمنی ہو۔۔ ہر زی روح اپنے اپنے آشیانوں میں دبکا اس بے وقت موسمی طوفان کے تھمنے کے لئے دعا گو تھا۔۔۔  ایسے میں وہ دونوں بہنیں اس سنسان روڈ پر اندھا دھند بھاگتیں آ رہی تھیں۔۔۔ خوف اور ہراس انکے چہرے سے ہوادیدہ تھا۔۔۔ تیز ہوا کے تھپیرے انکے آنچل اپنے سنگ لہرا کر دور لے جانے کے در پر تھے جسے وہ ایک ہاتھ سے گلے کے قریب سے سختی سے جکڑے بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتیں آگے کو بھاگ رہی تھی۔۔۔ بھاگ بھاگ کر انکی ٹانگیں شل ہونے لگی تھیں سانس دھونکنی کی مانند پھولنے لگا تھا ۔۔۔۔ یکدم اس طوفان میں اپنے پیچھے ابھرتے کئ قدموں کی چاپ کو قریب سے قریب تر ہوتا محسوس کر کے انکی ٹانگوں میں مزید بجلی بھر گئ تھی۔۔۔
ہمت پکڑو مرحہ اور تیز بھاگو ہم انکے ہتھے نہیں چڑھ سکتے بیا نے خوف سے کپکاتی آواز میں پوری ہمت سے بھاگتے اپنے ساتھ بھاگتی مرحہ  کو اونچی آواز میں کہا۔۔۔ طوفان کی تیزی سے چلتی شوریدہ سر ہواوں میں اسکی آواز کہیں دب رہی تھی۔۔۔۔ آنسو موتیوں کی لڑیوں کی مانند پھسل پھسل کر بہتے جا رہے تھے۔۔۔ دل سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا ۔۔۔ یکدم بھاگتے بھاگتے مرحہ کے جوتے کا پٹا ٹوٹا تھا اور وہ پورے قد سے اونڈھے منہ زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔ 
اسکی جوتی نے ساتھ چھوڑ دیا تھا یا شاید اسکی قسمت نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔ کئ بھاگتے قدموں کی آواز قریب سے قریب تر ہوتی چلی گئ تھی۔۔۔ موت سر پر پہنچ چکی تھی عزرائیل جان قبض کر لینے کے در پر تھا۔۔۔ ہراس ۔۔۔
خوف۔۔۔
 ڈر ۔۔۔۔
 سراسیمگی۔۔۔
وحشت ان معصوم آنکھوں سے چھلکتی اسکی ڈھرکن مدہم سے مدہم تر کرتی جا رہی تھی۔۔۔ اسکا بدن خزاں رسید پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا۔۔۔  اسنے ڈبڈبائی آس بھری نگاہوں سے بیا کو دیکھنا چاہا جو ابھی تک اسکی ڈھارس بندھائے ہوئے تھی۔۔۔۔ مگر تیز چلتی ہواوں اور کڑکتی بجلی کی دل دہلوز آوازوں میں شاید بیا کو اسکے پیچھے رہ جانے کی خبر ہی نا ہوئی تھی۔۔  سامنے تا حد نگاہ خالی سڑک تھی بیا شاید بہت آگے تک پہنچ چکی تھی۔۔۔ عزرائیل جان قبض کرنے کو سر پر پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔ بھاگتے قدموں کا سفر تمام ہوتا اسکی ذات تک پہنچ کر تھم چکا تھا۔۔ بجلی زوردار انداز میں چمکی تھی بادل بھی گویا پورے قد سے کڑکڑاتے اس پر
پر ٹوٹ چکی قیامت کے گواہ بنے تھے۔۔۔ وہ گول دائرے میں گِھر چکی تھی۔۔ جہاں چار سو فاتحانہ قہقے گونج اٹھے  تھے ۔ جیسے شکار صیاد میں پھنس چکا ہو۔۔۔  بے بسی سی بے بسی تھی۔۔۔ یکدم کئ ہاتھوں کا لمس اسکے بازوں پر سرسرایا۔۔۔ وہ جی جان سے کپکپا کر رہ گئ۔۔۔ بے تابانہ خود کو انکی گرفت سے چھڑانے کو اپنی پوری طاقت صرف کر ڈالی ۔۔۔ مگر وہ کمزور جان نہتہ تھی اور سامنے ہٹتے کٹے افراد کئ ایک تھے جن کی آہنی گرفت میں اسکی نازک بازو گویا شکنجے میں جھکڑی گئ تھی۔۔۔ جھٹکے سے انہوں نے اسے زمین سے اٹھا کر کھڑا کیا تھا۔۔۔ شوریدہ سر ہوائیں اسکے ابھی تک سر پر جمے آنچل کو ایک ہی جست میں اڑاتی دور تک ساتھ لے کر جاتی اسے درندوں کے درمیاں بے آبرو کر گئ تھی۔۔۔ قسمت کی اس ستم ظریفی پر وہ حلق کے بل چیخی مگر 
ہر کوشیش۔۔۔۔
ہر مزاحمت۔۔۔۔
ہر جوڑ توڑ۔۔۔
ہر حربہ۔۔۔۔
ہر تدبیر۔۔ دم توڑ گئ تھی چڑیا واقعی صیاد میں پھنس چکی تھی۔۔۔ اسکے پر پھڑپھڑا کر بے بس ہو گے تھے۔۔۔ گرفت مضبوط تھی۔۔۔ اور وہ کمزور۔۔۔۔ بہت کمزور۔۔۔۔۔اسے اپنی روح جسم کا ساتھ چھوڑتی محسوس ہوئی۔۔۔ ڈھرکنیں تھمتی محسوس ہوئیں۔۔۔ سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔۔۔ دل خون رسنے لگا۔۔۔ آنکھ آنسو نہیں خون بہانے لگیں۔۔۔ کلیجہ پھٹ گیا۔۔۔ حلق چیخ چیخ کر آواز کھو گیا لیکن ان سب کے باوجود وہ زندہ تھی اور زندان میں گھسیٹی جا رہی تھی۔۔۔۔
******
مرحہ اور تیز بھاگو۔۔۔اسقدر طوفان میں بیا کو بہت آگے جا کر مرحہ کے پیچھے رہ جانے کا احساس ہوا تھا جب خوف سے بند ہوتے دل کیساتھ بھاگتے بھاگتے اسنے اپنے پہلو میں نظر ڈورائی لیکن اپنے ساتھ مرحہ کو موجود نا پاکر وہ بھاگتے بھاگتے لڑکھڑا کر سمبھلی۔۔۔ دل گویا ڈھرکنا بھول گیا تھا۔۔۔ لمبے لمبے سانس بھر کر وہ اپنا سانس ہموار کرنے کی جستجو میں آس سے پیچھے کی جانب دیکھتی کوئی دیوانی معلوم ہو رہی تھی۔۔۔ اسکی جان اسکی پیاری چھوٹی بہن مرحہ کا ساتھ کب اس سے چھوٹا وہ جان کیوں نا پائی۔۔ 
اسکا دل چاہا وہیں ان درختوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر اپنی جان دے دے۔۔۔ 
اب وہ کیا کرتی اسے کیا کرنا چاہیے تھا ؟؟؟؟؟
*******

For best type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4