Nam Aankhain novel 2nd episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 2nd episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
دوسری قسط
سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا جس سے مخالفت مول لیتی ہوائیں سرسرا رہی تھیں۔۔ سورج کی کرنیں اور سرسراتی ہوائیں وائٹ پیلس کے اونچے ستونوں سے ٹکرا کر پلٹ رہی تھیں۔۔۔ وائٹ پیلس میں موجود ہر شخص کو گویا سانپ سونگ گیا تھا۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ وائٹ پیلس میں وہ ہوگیا تھا جسکا کبھی کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ہر نفوس اپنی جگہ گم صم اور ساکت تھا۔ ۔
نیلی جینز کی ٹائٹس اور گھٹنوں تک آتی کھلی فراک نما شرٹ زیب تن کئے مٹے مٹے میک آپ کیساتھ ٹیل پونی بنانے ایک ہاتھ کمر پر رکھے ایک سے ماتھا مسلتی لاوئنج کے بیچ و بیچ پری کھڑی اپنے اشتعال کو کنٹرول کرنے کی جدوجہد میں تھی۔۔۔ باقی تمام افراد ارد گرد ساکت و جامد کھڑے تھے عذرا کچن کے دروازے کیساتھ گم صم کھڑی تھی جبکہ سلمی آتش فشان بنی صوفے پر بیٹھی کسی گہری سوچ میں ڈوبی تھی۔۔۔ سیکیوڑتی ہیڈ واچ مین گارڈز سبھی حواس باختہ سے ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑے تھے۔۔۔ جبکہ وہ خود آتش فشان بنی پھٹ پڑی تھی۔۔۔
آج اسکی آنکھوں کا رنگ کتھی تھا۔۔۔ اتنی سخت سیکیوڑتی کے ہوتے ہوئے وہ یہاں سے بھاگ کیسے سکتی ہے۔۔ آج تک یہاں آئی ہوئی ایک چڑیا تک یہاں سے نکل نہیں پائی۔۔۔ وہ لڑکی رات و رات کہاں غائب ہوگئ۔۔۔ سلمی تم نا بڈھی ہو رہی ہو۔۔۔ تمہارا دم خم کہیں کھو گیا ہے۔۔۔ تمہارے ہوتے ہوئے وہ لڑکی تمہارے ناک کے نیچے سے کیسے نکل گئ۔۔۔ پری کف اڑا رہی تھی غم و غصے سے اسکی آواز پھٹ پڑی تھی جبکہ صوفے پر براجمان سرخ پیور کی ساڑھی میں ملبوس گہرے میک آپ کیساتھ اونچا جوڑا کئے سلمی خاموشی سے پری کی لعن طعن سن رہی تھی۔۔۔
وہ یہاں سے گئ نہیں بھیجی گئ ہے ۔۔۔ کسی غیر مری نقطے کو جانب دیکھتی وہ سوچ سوچ کر گویا ہوئی۔۔۔
کیا مطلب۔۔ پری چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی اور دو قدم اسکی جانب بڑھی۔۔۔
مطلب یہ کہ وہ کسی صورت یہاں سے نکل نہیں سکتی تھی۔۔ کوئی اندر کا شخص اسکے ساتھ ملا ہے جس نے اسے یہاں سے نکلنے میں مدد کی ہے۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔ سلمی کی بات پر اسے چار سو چالس واٹ کا جھٹکا لگا تھا۔۔ کتھی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے سکر گئ تھیں۔۔۔
اتنی سخت سیکیورٹی کی موجودگی میں یہاں سے نکل پانا کسی اکیلی لڑکی جے بس کا کام نہیں۔۔۔ جگہ جگہ ہر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو ڈاج دینا۔۔۔ گیٹ پر پہرے دار موجود ہے کوئی غیر معمولی واقع وقوع پذیر نہیں ہوا۔۔ کوئی جتنا مرضی مائینڈ میکر یا پلانر ہو ایک دن میں اتنی زبردست پلانینگ نہیں کر سکتا کہ ہماری آنکھوں میں دھول جھونک جائے۔۔۔ وہ لفظ چبا چبا کر ادا کرتی پری کے مقابل آئی۔۔۔ اگر اس بات میں رتی برابر بھی صداقت ہوئی نا سلمی تو اا شخص کا قتل اپنے ہاتھوں سے کروں گی سلمی جس نے ہم سے غداری کی۔۔۔ اور اس عذاری کی سزا اتنی عبرتناک ہوگئ کہ اسکی سات نسلیں یاد کریں گی۔۔۔ اسکی زبان شعلے اگل رہی تھی وہاں کھڑے سبھی نفوس پر اسنے ایک کڑی نگاہ ڈالی جس پر سبھی اپنی اپنی جگہ پر کسمسا کر رہ گئے۔۔ اس معاملے کی مکمل تفتیش کر کے رزلٹ میرے سامنے لاو ورنہ اپنی حالت کے ذمہ دار تم خود ہو گئ۔۔۔ انگارے چباتی وہ سیکیورٹی آف ہیڈ کے سامنے جا کر پھنکاری۔۔۔
جج۔۔جی میم۔۔ اسکی منمناتی آواز پر وہ سر جھٹکی واپس پلٹی۔۔۔
رشنا نام لڑکی جسے کل اسکا بوائے فرینڈ یہاں بیچ گیا تھا وہ راتو رات وہاں سے بھاگ نکلی تھی۔۔۔ یہ بات پری سے ہضم نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔۔
غصے سے پیچ و تاب کھاتی وہ پلٹی اور ایک ایک جست میں دو دو زینے عبور کرتی وہ اوپر چڑھ رہی تھی اس سناٹے میں محض اسکی ہیل کی ٹک ٹک ارتعاش بھرپا کر رہی تھی۔۔۔
******
تین مرلے کہ اس چھوٹے سے گھر پر آج صحیح معنوں میں قیامت ٹوٹی تھی۔۔۔ ہر طرف کہرام مچا تھا ۔۔ فضا میں بھی گویا کافور کی بو رچ بس گئ تھی۔۔۔ صحن کے وسط میں چارپائی پر سہیل صدیقی کی کفن میں لپٹی میت پری تھی۔۔۔ چارپائی سے لپٹی بیا کے بین ہر آنکھ اشکبار کر رہے تھے۔۔۔ عورتئن اسے ساتھ لگائے حوصلے اور صبر کی تلقین کر رہی تھیں۔۔۔ ایسے میں واحد وہ تھی جو کسی بت کی مانند ساکت و جامد سی دیوار کیساتھ لگی صدمے سے گنگ یک ٹک باپ کا چہرا دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ یہ سب قبول کرنے سے انکاری تھی کہ ابھی کچھ دیر پہلے اس سے ہس کر باتیں کر کے گھر سے نکلنے والا یہ مہربان چہرا واپس گھر کس حال میں آیا تھا کہ کوئی پکار کوئی التجا کوئی بین کوئی آہ ان پر اثرانداز نا ہو رہی تھی۔۔۔
مرحہ کو بے ساختہ صبح کا وقت یاد آیا۔۔۔ صبح وہ حسب معمول تہجد کے وقت اٹھی تھی۔۔۔ باپ کو پانی گرم کر کے تہجد کا وضو کروانے کے بعد اسنے خود وضو کر کے تہجد ادا کی اور اسکے بعد اپنا تفسیر کا سبق یاد کرنے لگی۔۔۔ فجر کی پہلی اذان کے ساتھ ہی اسنے فجر کی نماز ادا کی اور اپنے جامعہ چلی گئ وہاں سے اسکی واپس صبح سات بجے ہوئی۔۔۔ سردیوں کے باعث صبح سات بجے بھی کوئی خاصے دن کے اثار نمودار نہیں ہوئے تھے۔۔۔
بیا ابھی تک سو رہی تھی آج یہ انکا دن تھا اس لئے اسنے انہیں اٹھانا ضروری نا سمجھا اور ناشتہ بنا کر باپ کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔
بابا یہ لیں گرما گرم ناشتہ اور زرا چکھ کر بتائیں کے کیسا بنا ہے۔۔ آج اسے بنانے کا شرف محترمہ مِرحہ صدیقی کو حاصل ہوا ہے۔۔۔ وہ کمرے کا دروازہ وا کرتی چہکتی ہوئی اندر داخل ہوئی ۔۔۔
سہیل صاحب میز کے سامنے کھڑے فائل میں کاغذات لگا رہے تھے اسے اندر داخل ہوتا دیکھ انہوں نے مسکرا کر فائل بند کی اور چشمہ اتار کر میز پر رکھا۔۔۔
مِرحہ نے اسی میز ہر لا کر ناشتے کی ٹرے رکھی۔۔۔
خیریت۔۔۔ آج کیا ابھی تک بیا نہیں اٹھی۔۔۔ سہیل صاحب نے ایک ہی نظر میں ناشتے کا جائزہ لیا۔۔۔ گرما گرم لچھے دار پڑاتھا بھاپ اڑاتا چائے کا مگ اور ساتھ میں پھولا پھولا سا سنہری آملیٹ وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے مستفسر ہوئے۔۔
بابا۔۔ آپ کو پتہ تو ہے آج کا دن بیا کا ہے۔۔۔ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ کی خاطر انہوں نے دن رات کا فرق مٹائے رکھا۔۔۔ جان سولی ہر لٹکائی رکھی اپنی اس ٹیسٹ کو کلیئر کرنے کی خاطر۔۔۔ اب جبکہ کل رزلٹ دیکھ کر کہ وہ یہ ٹیسٹ کلیئر کر چکی ہیں وہ اسقدر پرسکون ہوگئ کہ انکی مسکراہٹ دیکھ کر بے ساختہ ہی دل سے دعا نکلتی ہے کہ وہ صدا ایسے ہی مسکراتی رہیں۔۔۔ اب جو وہ بے فکری و سکون سے سوئی تو ابھی تک نہیں جاگیں اور یقین مانے بابا میرا بالکل دل نہیں چاہا انہیں اٹھانے کا اسی لئے تو ناشتہ میں بنا لائی۔۔۔ زبان کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ بھی خوب چل رہے تھے۔۔۔ بیڈ سے لحاف اٹھا کر تہہ کرنے کیساتھ ساتھ وہ بستر بھی سیٹ کر چکی تھی۔۔۔ سہیل صاحب مطمیں سے ناشتے سے انصاف کر رہے تھے۔۔۔ ماں تو انکی پانچ برس پہلے ہی فوت ہو چکی تھی اب باپ کے ہی سہارے تو دونوں جی رہی تھیں۔۔۔ دونوں میں محض سال بھر کا تو فرق تھا۔۔ بیا انٹری ٹیسٹ کلیئر کرنے کے بعد اب میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لینے والی تھی اور وہ خود اب فرسٹ ایئر کی امتحانات کے بعد سیکنڈ ایئر کی سٹودینٹ تھی۔۔۔
چھوٹی ہونے کی وجہ سے بیا نے ابھی کوکنگ کی ساری ذمہ داری خود ہی اٹھا رکھی تھی جبکہ وہ اور اوپر کے کاموں میں اسکی بہت مدد کروا دیا کرتی تھی۔۔۔
یہ بات تو ہے بیٹا۔۔۔ بہت اچھا کیا جو آپ نے ابھی اسے نہیں اٹھایا۔۔۔ ایک کام کرتے ہیں آج اسکے لئے دن کو مزید سپیشل بناتے ہیں۔۔ میں آپ دونوں کے لئے ناشتہ باہر سے لے آتا ہوں۔۔۔ بیا کے لئے تحفہ تو میں نے کل ہی خرید لیا تھا مگر اسے دے نہیں پایا۔۔۔ میرے آنے کے بعد ہی آپ اسے اٹھانا ٹھیک ہے۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے سہیل صاحب مسکراتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔ انکے چہرے پر حقیقی خوشیوں کے رنگ تھے۔۔۔
جی یہ ٹھیک ہے بابا۔۔ وہ بھی کھل اٹھی تھی۔۔۔ باپ کے ساتھ ان دونوں کا رشتہ اتنا ہی پیارا تھا۔۔۔
اس دن کی شروعات جتنے خوبصورت انداز میں ہوئی تھا اسکا اختتام اتنا ہی بھیانک تھا۔۔۔
خوفناک ترین ۔۔
رگوں میں خون منجمند کرتا۔۔۔۔
ٹھٹھراتا ہوا۔۔۔
مِرحہ کو اس حقیقت کو قبول کرنے میں تامل تھا۔۔۔ اسکے بابا ہستے ہوئے ناشتہ لینے گئے تھے لیکن دھند کے باعث انکی بائیک کا گاڑی سے زبردست تصادم ہوا تھا جسکے نتیجے میں وہ سر کے بل نیچے گرے ۔۔۔ سر پر لگنے والی چوٹ جان لیوا ثابت ہوئی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔۔۔
ماں پہلے ہی نہیں تھی اور اب تو باپ کا سایہ بھی چھن گیا تھا۔۔۔
جب میت کو آٹھایا گیا تو وہ جو تب سے بت بنی کھڑی تھی اسکے دل کو کھینچ لگی تھی۔۔۔جیسے دل سینے کی حدود میں پھڑپھڑا کر رہ گیا ہو۔۔۔ بے بسی سے اندر ہی اندر سر پٹخ رہا ہو۔۔۔
یہ سوچ ہی جان لیوا تھی کہ وہ اپنے مہربان باپ کو تاعمر اس پوری دنیا میں پھر کبھی نہیں دیکھ پائے گی۔۔ ضبط کی طنابیں چھوٹ گئیں تھی ہر مصلحت بالائے طاق رکھتے وہ یوں ٹوٹ کر بکھری تھی کہ ہر آنکھ اشکبار کر گئ تھی۔۔۔
******
وہ ایک چھوٹا سا مگر نفاست اور خوبصورتی سے سجا فلیٹ تھا۔۔۔ جس کے چھوٹے سے لاوئنج میں موجود صوفے پر وہ سر گھٹنوں میں دیئے بیٹھی تھی۔۔۔ لاوئنج میں نیم تاریکی کا راج تھا کوئی بتی روشن نہیں تھی۔۔۔ کھڑکیوں پر بھی دبیز پردوں نے باہر سے سورج کی روشنی کے اندر آنے کا تمام راستہ مفقود کر رکھا تھا اور جو روشنی ان سے مخالفت مول لیتی ہلکی جھڑیوں سے اندر آ رہی تھی اسی کے باعث لاوئنج میں مدھم روشنی پھیلی تھی۔۔۔
وہ ابھی تک کل والے کالج کے یونیفارم میں ملبوس تھی جو جگہ جگہ سے میلا ہو چکا تھا۔۔۔ بالکل اسکے کردار کی طرح۔۔۔ اسکے کردار کی چادر بھی تو جگہ جگہ سے میلی ہو گئ تھی۔۔۔ بھلے ہی اسکی عزت محفوظ رہی تھی مگر ایک گھر سے بھاگی لڑکی اور رات بھر باہر رہنے والی لڑکی کو معاشرہ کن الفاظ میں یاد کرتا ہے اسکے بارے میں کیا رائے قائم کرتا ہے یہ سوچ ہی اسے نیم مردہ بنا رہی تھیں۔۔۔
کل رات اسکا توکل اللہ پر مزید مضبوط ہو گیا تھا۔۔۔ ابھی اللہ کی بنائی اس دنیا میں نیک لوگ ختم نہیں ہوئے وہ مان گئ تھی کیونکہ ایسے ہی ایک فرشتہ نما انسان کی مدد سے وہ اس عفریت زدہ سے وائٹ پیلس سے رہا ہو پائی تھی۔۔۔
کیا اسکے گھر والے اسے قبول کریں گے یا دھتکار دیں گے۔۔۔ یہ سوچوں کے وہ ناگ تھے جو اسے کل رات سے ہی ڈس رہے تھے۔۔ افسوس صد افسوس کہ وہ اب جن چیزوں کے بارے میں سوچ رہی تھی پہلے کیوں نا سوچ پائی۔۔۔۔ کیوں باپ اور بھائیوں کے سروں ہر خاک ڈالنے سے پہلے اسنے نا سوچا۔۔۔ کیوں گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے وہ یہ نا سوچ پائی کہ اسکے اس عمل سے کیسے اسکے باپ بھائی معاشرے میں سر اٹھا کر جی پائیں گے۔۔۔
اب سوچ رہی تھی تو دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ اب جب کہ وقت سوکھی ریت کی مانند ہاتھوں سے پھسل چکا تھا تو ایسے میں لکیر پیٹنے کا بھلا کیا فائدہ تھا۔۔
وہ ایک عقوبت خانے سے باحفاظت نکل آئی تھی مگر تصور کر سکتی تھی کہ زندگی آگے بھی اسکے لئے خاردار ہی ثابت ہونے والی تھی۔۔۔ سوچوں کے ناگ اندر ہی اندر سر ابھارتے اسے ڈس رہے تھے۔۔۔
تمہیں یقین ہے کہ جسکا نمبر تم نے مجھے دیا ہے وہ تمہیں لینے یہاں ضرور آئے گا۔۔۔
اس نیم تاریک سے لاوئنج کی ایک جانب سے ایک سایہ نمودار ہوا تھا۔۔۔ رشنا نے آواز پر سر گھٹنوں سے اٹھا کر اس جانب دیکھا۔۔
متورم سرخ سوجھی آنکھیں۔۔۔ ناک اور گال مسلسل شدت گریہ سے سرخ ہوئے پڑے تھے۔۔۔ ماتھے پر ایک پٹی بندھی تھی۔۔۔ جبکہ چہرے اور گردن پر بھی جا بجا خراشیں لگی تھیں۔۔ سر پر البتہ وہی سیاہ شال اوڑھ رکھی تھی جسے کل پری اپنے قدموں تلے روند گئ تھی۔۔۔
وہاب ضرور آئیں گے۔۔۔ میں انہیں اچھے سے جانتی ہوں ۔۔ میری اطلاع پا کر ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نا آئیں۔۔۔ دل کا غم ایک مرتبہ پھر سے آنسو بن کر بہہ نکلا تھا وہاب کے ذکر پر چہرے پر اذیت کی ایک نئ داستاں رقم ہونے لگی تھی۔۔۔
ہے کون وہ۔۔۔ اسکے چہرے کا ایک ایک اتار چڑھاو دیکھتے وہ سایہ الجھن زدہ تاثرات لئے مستفسر ہوا۔۔۔
میرا منگیتر ہے۔۔۔ اگلے ہفتے شادی تھی ہماری۔۔۔ رشنا پھر سے چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
اسکی باتیں سن کر وہ سایہ ایک پل کو ٹھٹھکا مگر دوسرے ہی پل خود کو کمپوز کرتے اسنے لاوئنج کی ایک کھڑکی سے دبیز پردا ہٹا دیا جس سے روشنی کو اندر داخل ہونے کا راستہ فراہم ہو گیا اور وہ پورے طمطراق سے لاوئنج میں داخل ہوتی لاونج کو منور کر گئ تھی۔۔۔
اگلے ہفتے شادی تھی تو گھر سے بھاگی کیوں۔۔۔کھڑی کی جانب رخ کئے اس سائے کی سنجیدہ آواز ابھری۔۔۔
ہمارا رشتہ دو سال پہلے بڑوں کی رضا مندی سے طے ہوا تھا۔۔۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔۔۔ ہر مشرقی لڑکی کی طرح مجھے میرے بڑوں کے فیصلے پر کوئی اعتراض نا تھا۔۔۔ مگر پھر میری زندگی میں آفتاب آیا۔۔۔ ہماری بات چیت کی شروعات فیسبک پر ہوئی تھی۔۔۔ وہ باتیں کمال کی کرتا تھا۔۔۔ رفتہ رفتہ میں اسکی خوشنما باتوں کی جال میں پھنستی چلی گئ۔۔۔
مجھے اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا ۔۔۔ میرے دن کی شروعات اس سے بات کر کے ہوتی اور دن کا اختتام بھی اسی سے بات کر کے ہوتا۔۔۔ جس روز میری اس سے بات نا ہو پاتی مجھے وہ دن کاٹنے کو ڈورتا۔۔۔ اسنے مجھے محسوس کروا کہ میں خاص ہوں بہت خاص۔۔ میں اسکی دیکھائی رنگین دنیا میں کھوتی چلی گئ۔۔ حتی کہ اپنی سد بدھ تک کھو گئ۔۔
میری شادی کو محض ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔۔۔ میں جانتی تھی کہ بابا اپنی روایات میں کٹر ہیں زبان کے پکے ہیں اگر آفتاب ہمارے گھر میرا رشتہ لے بھی آتا تو بابا کبھی وہ رشتہ قبول نہیں کرتے کیونکہ میرا رشتہ تو دو سال سے طے تھا۔۔ پھر آفتاب نے مجھے گھر سے بھاگ جانے کی ترغیب دی ۔۔۔ اور میں ۔۔۔ میں بےغیرت بنا حالات کی سنگینی کا احساس کئے بنا سوچے سمجھے اسکے لئے باپ کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔
مجھ جیسیوں کی ساتھ قسمت پھر ٹھیک ہی کرتی ہے۔۔۔ جو لڑکی ماں باپ کے بارے میں نا سوچے دوسرے بھلا پھر اسکے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں۔۔۔ میں نے بھی تو ایک اجنبی پر بھروسہ کیا۔۔ اور دیکھو میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔ اسکی خوشنما باتیں پانی پر بلبلا ثابت ہوئیں ۔۔۔ اسکا مجھے خاص بنانا مجھے پاتال میں گرا گیا۔۔۔
اس محبت کے دعویدار نے کیا کیا۔۔۔ کھلے عام محبت کی دھجیاں اڑائیں۔۔ میرا سودا کر دیا۔۔۔ چند نوٹوں کے پلندوں کے عوض مجھے بیچ دیا۔۔۔ مجھ جیسی بیٹیاں تو پیدا ہوتے ہی مر جانی چاہیں۔۔۔ لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں بوجھ سمجھ کر نہیں روتے بلکہ شاید وہ ان بیٹیوں کے مجھ جیسا بدکراد نکل آنے کے ڈر سے روتے ہیں۔۔۔
جو میں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ کیا اسکی معافی تو شاید ہی مجھے ملے۔۔۔ میں نے ایسا کیوں کیا۔۔ کیوں نا میں اپنے ماں باپ کی عزت کی لاج رکھ پائی۔۔۔ کیوں اس شخص کے چند میٹھے بول مجھے میرے ماں باپ کی مخلص محبت سے بھاری لگے۔۔ کیوں۔۔۔
کیوں میں ایک اچھی بیٹی نا بن پائی۔۔۔ کیوں میں اپنے باپ کا مان برقرار نا رکھ پائی۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ٹھیک کرتے تھے بیٹی پیدا ہوتے ہی دفنا دیتے تھے شاید انہیں پتہ تھا کہ ان میں سے بھی کچھ بیٹیاں مجھ جیسی بد پیدا ہونگی جو ماں باپ کے سروں میں خاک ڈال دیں گی۔۔۔ اسی لئے شاید وہ بیٹی کی پیدائش پر خوفزدہ تھے۔۔۔
اسکا غم ختم ہونے کا نام ہی نا لیتا تھا۔۔۔ دل اپنی حماقتوں کے غم سے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔ پشیمانی حد سے سوا تھی۔۔۔ شرمندگی پلکوں کی چلمن اٹھنے نا دیتی تھی۔۔ دل سے خون رس رہا تھا۔۔۔ اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔
اسکی آہ و بکا اس فلیٹ کی چار دیواری سے سر ٹکرا ٹکرا کر واپس پلٹ رہی تھی۔۔۔
وہ اچھی بیٹی نہیں تھی یہ احساس ہی اسے زندہ درگو کر رہا تھا۔۔۔
آپ نے وہاب سے کیا کہا۔۔۔ رو رو کر جب ہلقان ہو چکی تو۔۔ یاد آنے پر ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی اس سائے سے مستفسر ہوئی۔۔۔
وہی جو حقیقت تھی۔ حرف با حرف۔۔۔۔
کہ کیسے تم ایک اجنبی کی محبت میں گرفتار ہو کر گھر کی دہلیز پار کر گئ۔۔۔ اور کیسے وہ اجنبی تمہاری محبت کا مذاق اڑاتا تمہیں بیچ گیا۔۔۔ سنجیدہ سی ابھرتی آواز پر رشنا نے کرب سے آنکھیں میچیں ۔۔۔ تو یعنی کہ طے ہوا کہ وہ زندگی میں کبھی بھی وہاب درانی کے سامنے سر نہیں اٹھا پائے گئ۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے بہہ نکلے تھے۔۔۔
دروازے کی دستک کی آواز پر اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔
یقیناً درواَزے پر وہاب درانی ہی تھا۔۔۔
اسکا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔
اسے سائے کے دروازہ وا کرنے پر اسے قدموں کی چاپ اندر کی جانب ابھرتی محسوس ہوئی۔۔۔ ابتدائی رسمی بات کی آوازوں سے وہ اسے پہچان چکی تھی بلاشبہ وہ وہاب ہی تھا۔۔۔ اسکا جھکا سر اٹھنے سے انکاری ہو گیا۔۔۔ جسم پر لرزا طاری ہونے لگا تھا۔۔۔ اسے اس وقت وہاب کا سامنا دنیا کا سب سے مشکل ترین امر لگا۔۔۔ دل چاہا کہ وقت کا پہیہ موڑ کر چوبیس گھںٹے پیچھے کر دے تاکہ اس بے پناہ شرمندگی سے بچ سکے۔۔۔ خود کو وہ حماقت کرنے سے باز رکھ سکے۔۔۔ ۔
محض چوبیس گھنٹوں میں اسکی زندگی کیا سے کیا ہوگئ تھی۔۔ کاش۔۔۔۔
کاش۔۔۔۔
کاش۔۔۔
زندگی میں اب لاحاصل کاش کی گردان ہی تو رہ گئ تھی۔۔۔ افسوس صد افسوس۔۔۔
دل سے درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔ کاش کہ اسے کوئی منتر آتا اور وہ خود کو وہاں سے غائب کر سکتی۔۔۔ قدموں کی آواز قریب سے قریب تر ہوتی عین اسکے پاس آ کر تھمی تھی۔۔۔ اس میں اتنی ہمت نا تھی کہ سر اٹھا کر اس مخلص شخص کی جانب دیکھ ہی سکتی جو اسکی اسقدر بےوفائی کے باوجود اسکے بارے میں سن کر اسے یہاں تک لینے چلا آیا تھا۔۔
ورنہ کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے خاندان میں غیرت کے نام پر قتل تک ہو جاتے تھے اور یہاں تو اگر اسے قتل بھی کر دیا جاتا تو وہ ان سب کو حق پر سمجھتی کہ اسکی حرکت ہی ایسی تھی۔۔۔ قدموں کی آواز تھمنے پر اسے اپنی دل کی ڈھرکن بھی تھمتی محسوس ہوئی۔۔۔
*****
جاری ہے
No comments