Nam Aankhain novel 13th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 13th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
تیرہویں قسط
سورج گردش کرتا عین سر پر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ وائٹ ٹائلوں سے مزیں اس وائٹ پیلس میں چہار سو گہما گہمی چھائی تھی۔۔۔ تقریبا وہاں سبھی اٹھ کر اپنے اپنے کمروں کو خیر باد کہتی باہر نکل کر اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو چکی تھیں۔۔۔
کوئی وہاں کی ایکسپرٹس سے اپنی مزید نوک پلک سنوار رہی تھیں تو کئ یونیورسٹی خاص مقصد کے تحت جانے والی یونیورسٹی کے لئے تیار ہو رہی تھیں۔۔۔
کام والیاں سرعت سے ہر کمرے کی صفائی کرنے میں مشغول تھیں کہ دفعتاً ایک کام والی نے اس کمرے کا دروازہ کھولا مگر اندر کے حالات دیکھ کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔
بارہا اسنے کئ کمروں کی صفائی کی تھی مگر ایسی صورتحال کا سامنا کبھی نہیں کیا تھا۔۔۔
سلمی۔۔۔۔ سلمی بائی ی ی ۔۔۔۔ وہ چیختی ہوئی باہر کو بھاگی۔۔۔
کیا ہو کیا گیا ہے۔۔۔ ایسا بھی کیا ہو گیا جو تم یوں۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں جھنجھلائی سی سلمی اسکے سنگ ہیل کی ٹک ٹک بجاتی اسی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
لیکن کمرے کے اندر آ کر وہ بھی ساکت رہ گئ۔۔۔
کارپٹ پر جابجا بکھرا کانچ اور بوتلیں اور انکے درمیاں خود بھی ٹوٹی بکھری سی مرحہ۔۔۔
کمرا اپنے اوپر بیتی تباہ کاریوں کی داستان خود سنا رہا تھا۔۔۔ لیکن اسے چونکانے کا باعث کمرے کی ابتر ہوتی حالت نا تھی کیونکہ کم و بیش صبح کے وقت ہر کمرے کی حالت ایسی ہی ہوتی، بلکہ اسے چونکانے کا باعث بذات خود مرحہ کی اسقدر بکھری حالت تھی۔۔۔
چہرے گلے اور بازوں پر جابجا نوچنے کے نشانات اور ان سے رس رس کر جم چکا خون ۔۔۔ الجھے بکھرے بال۔۔۔ ساکت سی سلمی اسقدر شدت پسندی کو ساکت نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
یہاں آئی بہت سی لڑکیوں کی اکڑ اسنے توڑی تھی۔۔۔ بہت سوں کا پارسائی کا زعم ختم کیا تھا مگر اسقدر شدت پسندی کہیں نا دیکھی تھی۔۔۔ کسی کا ایسا ردعمل نا تھا ۔۔
جاو جا کر ڈاکٹر کو بلا کر لاو۔۔۔ پر سوچ سی سلمی کا ہر عمل خاصا محتاط تھا۔۔۔
******
درانی ہاوس کی فضا میں اس وقت قہقے اور خوشیوں کا راج تھا۔۔۔ نوریں بیگم اور منصور درانی لاوئنج میں براجمان المیر سے ویڈیو کال پر بات کر رہے تھے جسنے جمعے کو آنا تھا۔۔۔ ساتھ ساتھ وہاب کا بھی انتظار ہو رہا تھا۔۔۔ کچھ دیر پہلے ہی منصور صاحب کی اس سے فون پر بات ہوئی تھی کہ وہ بس پہنچنے ہی والا ہے۔۔۔
رشنا نے اپنا ہر کام مکمل کر لیا تھا اور اب المیر سے اسلام دعا کر کے واپس کچن میں چلی گئ ۔۔۔
اسلام علیکم امی جان۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کے اسے لاوئنج میں زندگی سے بھرپور آواز گھونجتی سنائی دی۔۔۔ دل یوں ڈھرکا کہ گویا ابھی پسلیاں توڑ کر بایر آ جائے گا۔۔۔ اسنے کچن کے دروازے کی اوٹ سے باہر جھانکا۔۔۔
جہاں وہ نیوی بلو پینٹ کیساتھ ڈریس شرٹ کی بازو فولڈ کئے کوٹ بازو پر لٹکائے گلے سے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کئے بکھرے بالوں سمٹ خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکا تو کیا کسی بھی لڑکی کا دل ڈھرکا سکتا تھا۔۔۔
وہ جھک کر ماں ملنے کے بعد بابا کی کسی بات پر قہقہ لگاتا ان سے بغلگیر ہوا۔۔۔
ان دونوں سے ملنے کے بعد وہ وہیں انکے پاس ہی صوفے پر ڈھیلے سے انداز میں بیٹھتا باتیں کرنے لگا۔۔۔ نا اسنے رشنا کے بارے میں پوچھا نا ہی وہ خود سے باہر نکلی۔۔۔۔
ارے بیٹا تم جا کر فریش ہو لو کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہو پھر کھانا کھاتے ہیں۔۔۔ نوریں بیگم اسکے تھکے تھکے سے چہرے کو دیکھتیں محبت سے گویا ہوئیں جو ڈھیلے سے اندر میں
صوفے پر نیم دراز ان سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔
کھانا تیار ہے کیا ماں۔۔۔ وہ اچنبھے سے گویا ہوا۔۔۔
ہاں بیٹا کھانا تو تیار ہے بس تم جلدی سے آجاو۔۔۔
جی میں بس دو منٹوں میں آیا آپ تب تک کھانا لگائیں۔۔۔ وہ چٹکی بجا کر کہتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا جہاں رشنا انہیں باتیں کرتا دیکھ پہلے ہی اسکی چیزیں نکالنے کے لئے جا چکی تھی۔۔۔
تیزی سے سیڑھیوں کے زینے عبور کرتا وہ اوپر چڑھا اور بعجلت اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر بڑھا۔۔۔ لیکن سامنے ہی الماری سے اسکے کپڑے نکالتی رشنا کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رکا۔۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر رشنا بھی اس جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ اسے دیکھتے ہی وہ نظریں جھکاتی آہستہ سے گویا ہوئی اور ہاتھ میں ہینگر تھامے آہستگی سے الماری کا پٹ بند کرتی اسکی جانب بڑھی۔۔۔
واعلیکم سلام ۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ اسنے مروت نبھائی۔۔۔ سنجیدہ نگاہیں اسی کے مرجھائے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔ کچھ دیر پہلے نیچے اسکے چہرے پر موجود مسکراہٹ اور شگفتگی اب کہیں مفقود تھی۔۔۔۔
,
جی ٹھیک ۔۔ وہ پھیکی مسکراہٹ زرا کی زرا چہرے پر لاتی جھکی نگاہوں سمیٹ اداسی سے گویا ہوئی۔۔۔ کیا وہ حق رکھتی تھی کہ وہ گزشتہ شب و روز کی داستانیں اسے سنا سکتی اور اگر سنا بھی دیتی تو کیا وہ سنتا۔۔۔ وہ دل مسوس کر رہ گئ۔۔۔ آہستگی سے اسنے ہاتھ مین تھاما اسکے کپروں کا ہینگر اسے تھمایا جیسے وہ خاموشی سے تھامتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
بس اتنی سی ملاقات اور اتنے ہی لفظوں کا تبادلہ۔۔۔ نا مزید وہاب نے کوئی بات کی اور نا ہی رشنا نے اسے مخاطب کرنے کی ہمت کی۔۔۔
اسکے واش روم میں جانے کے بعد وہ لب بری طرح کچلتی آنکھ زور زور سے جھپکتی اندر اٹھتے طوفان پر قابو پا رہی تھی۔۔۔ اللہ ختم کر دے اس آزمائش کو میرے مالک۔۔۔ دل سے ایک آہ نکلی تھی۔۔۔ اگر وہ دوسرے مردوں کی طرح اسے بات بات پر ماضی کے طعنے دے کر اسکی روح کو کچوکے نہیں لگاتا تھا تو معاف کر کے اپناتا بھی نا تھا۔۔۔ پتہ نہیں کیسی محبت تھی اس ظالم کی۔۔۔
لیکن بقول اسکے رشنا کے لئے اسکی محبت اسی روز مر گئ تھی جس روز اسنے باپ کی دہلیز پار کی تھی۔۔۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ محبتیں یوں نہیں مرا کرتی۔۔۔ اگر مر گئ ہوتی تو وہ اسکی پرواہ نا کرتا۔۔۔ اسے یوں ابھی تک زمانے کی سرد و گرم سے نا بچاتا۔۔۔ ہر جگہ اسکی ڈھال بن کر اسے ہر جگہ سرخرو نا کرواتا۔۔۔ ابھی تک اسکا مان برقرار نا رکھتا۔۔۔ ہاں وہ یہ سب کرتا تھا۔۔۔ تبھی تو اسکی بے اعتنائی زیادہ کھلتی تھی۔۔۔ وہ یہ سب کرتا تھا تو دل اسکی جانب آس لگائے لپکتا تھا۔۔۔ یہ سب نا کرتا ہوتا تو دل کو بھی صبر آ جاتا ۔۔ مگر اب کیسے صبر آتا وہ تو مروتیں نبھانا چھوڑتا ہی نا تھا۔۔۔ مروتیں نبھانا چھوڑ دیتا اس سے گھن کھا کر دھتکار دیتا تو شاید دل پیچھے ہٹنے کے بارے میں کچھ انا دیکھا ہی دیتا۔۔۔ اب وہ کیسے انا دیکھاتا۔۔۔۔
نہیں وہ جھوٹ بولتا تھا کہ رشنا کے لئے اسکی محبت مر گئ۔۔ وہ محبت زندہ تھی ہاں زندہ تھی بس روٹھ کر کہیں چھپ کر جا سوئی تھی۔۔۔
اس جگہ کو دھونڈ کر وہ اس سوئی محبت کو جھنجوڑ کر اٹھا لے گی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ یہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ۔۔۔ وہ پر امید تھی۔۔۔
نم آنکھوں کو رگڑ رگڑ کر صاف کرتی وہ نئے عزم سے باہر نوریں بیگم کا ہاتھ بٹانے کی غرض سے نکلی۔۔۔۔
******
چودہویں کا چاند چمک کر ہر جانب اپنی چاندنی بھکیرتا خوبصورت سماں باندھ رہا تھا۔۔۔ مگر آفندی ہاوس کی خوبصورت عمارت کے ٹیرس پر گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی بیا کو آج دنیا کی کوئی چیز خوبصورت نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
اسکا دل نوحہ کناں تھا۔۔۔ جب سے زلیخہ کے مرنے کی خبر سنی تھی تب سے گویا دل سے مرحہ کے ملنے کی آخری امید بھی ختم ہو گئ تھی۔۔۔ دل کا ہر زخم تازہ ہو گیا تھا۔۔۔ دل کرلا رہا تھا۔۔۔ وہ اس سب کے لئے خود کو قصور وار سمجھتی تھی۔۔۔
وہ بڑی تھی اسنے کیوں اپنی گڑیا کا ہاتھ نہیں تھاما تھا۔۔ کیوں بھاگتے بھاگتے اسے مرحہ کے گر جانے کی خبر نا ہو سکی تھی۔۔۔ خبر ہو جاتی تو شاید اپنے ساتھ ساتھ اسے بھی بچا پانے کی کوشیش کرتی۔۔۔
ناجانے اسکی گڑیا کس حال میں ہوگی۔۔۔ کیا کر رہی ہوگی۔۔۔ ماضی کے پچھتاوے اسے جینے نہیں دیتے تھے۔۔۔ دل درد سے پھٹنے کو تھا تبھی تو گھٹنوں میں چہرا دیئے ہچکیوں سے روتی وہ دل کا در آنسوں کے زریعے بہا رہی تھی۔۔۔
دن با دن سخت ہوتی ڈیوٹی کے باعث شہروز جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر واپس آیا تھا۔۔۔ اب فریش ہو کر کسی سے فون پر بات کرتا ٹیرس پر ہی آیا تھا لیکن سامنے ہی گھٹنوں میں چہرا دیئے ہچکیوں سے روتے وجود کو دیکھتے اسے سمجھنے میں دیر نا لگی کہ وہ کون ہے۔۔۔
وہ گہرا سانس خارج کرتا فون بند کر کے جیب میں رکھتا اسی کی جانب چلا آیا۔۔
یہ بن بادل برسات کس وجہ سے ہو رہی ہے بھلا۔۔۔۔
آرام دہ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس گیلے بال ماتھے پر لاپرواہی سے بکھیرے وہ اسکے پاس ہی زمیں پر ایک ٹانگ فولڈ کئے ایک ٹانگ کھڑی کئے کھڑی ٹانگ کے گھٹنے پر کہنی رکھے لاپرواہی سے بیٹھا۔۔۔
بیا نے شدت گریہ سے سرخ پڑتا چہرا اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
مائے گاڈ ۔۔۔ بیا یہ کیا ہے۔۔۔ تم کب سے یہاں بیٹھی یوں رو رہی ہو اور کیوں۔۔۔
سوجھے پیوٹے متورم آنکھیں اور سرخ ناک دیکھ کر لمحوں میں اسکا لاپرواہ انداز غائب ہوا اور وہ تمام حسیات سمیٹ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
شہروز میری مرحہ مجھے مل کیوں نہیں جاتی۔۔۔۔ مجھے اسکی بہت۔۔۔بہت۔۔۔ بہت یاد آتی ہے۔۔۔ آپکو پتہ ہے شہروز میں نے اس کے ملنے کے لئے کتنی دعائیں کی ہیں۔۔۔
بابا اور مرحہ تہجد گزار تھے وہ دونوں ہی وقت پر اٹھ کر تہجد پڑھتے لیکن مجھ سے نہیں پڑھی جاتی تھی۔۔۔ بہت کوشیش کے بعد بھی نہیں۔۔۔ وہ سسکتی ہوئی رفتہ رفتہ اپنے کتاب کے اوراق پلٹ رہی تھی۔۔۔ شہروز نے اسے بولنے دیا وہ اسے سننا چاہتا تھا کہ وہ کیا کچھ اپنے اندر پال رہی تھی۔۔۔
میں ہر کام مرحہ سے بہتر کر لیتی تھی لیکن اس معاملے میں وہ مجھ سے سبقت لے جاتی۔۔۔
لیکن آپکو پتہ ہے شہروز جب سے مرحہ کھوئی ہے تب سے ایک بھی دن ایسا نہیں جب میں نے تہجد نا پڑھی ہو۔۔۔ کہتے ہیں رات کے تیسرے پہر تنہائی اور خاموشی میں دل کی گہرائیوں سے اپنے رب سے جو مانگا جائے وہ ضرور ملتا ہے۔۔۔ اللہ اسے کبھی اپنے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔۔۔
شہروز میں نے اتنی شدت سے کبھی کچھ نہیں مانگا جتنی شدت سے میں نے مرحہ کے ملنے کی دعائیں کی ہیں۔۔ کیونکہ اس معاملے میں میرا دل بے اختیار ہے۔۔۔ اسکا نام آتے ہی وہ تڑپ اٹھتا ہے۔۔۔ اسی تڑپ سے میں نے اسے اپنے سجدوں میں مانگا ہے۔۔۔ پھر مجھے سمجھ نہیں آتا شہروز کی میری دعاوں میں ایسی کیا کمی رہ جاتی ہے جو اتنی دعاوں کے بعد بھی وہ نہیں مل رہی۔۔۔
وہ دلبرداشتہ سی اسکے سامنے ٹوٹ کر بکھر رہی تھی۔۔۔ شہروز لب بھینچے آسمان کے وسط میں چمکتے چاند کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھو بیا کمی تمہاری دعاوں میں نہیں ہے۔۔۔ اب خدارا یہ مت کہنا کہ جو چیز ہمارے لئے بہتر نہیں اللہ باوجود دعاوں کے وہ ہمیں عطا نہیں کرتا۔۔۔ شہروز خدارا یہ مت بولنا میں ایسا کچھ سننا نہیں چاہتی۔۔۔ یکدم ہی وہ بپھر کر چلا اٹھی۔۔۔
میں نے ایسا کب بولا بیا۔۔۔ وہ اداسی سے اسکی جانب دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ وہ اسکی مینٹلی حالت سمجھ سکتا تھا۔۔۔
میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ بعض دفعہ ہم کئ کئ دنوں تک یا مہینوں تک کسی مخصوص کام کے لئے شدت سے دعائیں کرتے رہتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتیں اس لئے نہیں کہ انہیں قبول ہونا ہی نہیں ہوتا یا وہ ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتیں بلکہ اس لئے کہ اللہ نے اس دعا کے قبول ہونے کا ایک مقام رکھا ہوتا ہے ایک خاص مقام جس پر پہنچ کر کن فیاکن کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔۔۔ اسکی بات سنتے بیا کے آنسو ٹھٹھرے۔۔۔۔
وہ ساکت رہ گئ ۔۔۔ گویا فضا میں ہر چیز ساکت رہ گئ ہو۔۔۔۔
مطلب۔۔۔ آہستگی سے اسکے ہونٹ ہلے۔۔۔
مطلب یہ کہ ہوسکتا ہے ابھی تمہاری دعاوں کا مقام یہ ہو اسنے ہاتھ سے گھٹنے کے قریب اشارہ کیا۔۔۔ لیکن وہ مقام یہ ہو جہاں پہنچ کر کن فیاکن کے عمل نے وقوع پزیر ہونا ہو اسنے ہاتھ سے آنکھ کے قریب اشارہ کیا۔۔۔ اس لئے کبھی بھی دعا کرنا ترک نہیں کرنی چاہیے تب تک جب تک وہ کن فیاکن کے مقام تک نا پہنچ جائے۔۔۔ کیونکہ ہر روز کی شدت سے کی جانے والی دعا مزید اگلا قدم ہوتی ہے اس خاص مقام تک پہنچنے کا جہاں کن فیاکن کا عمل وقوع پزیر ہونا ہوتا ہے۔۔۔۔ اگر بیچ میں دلبرداشتہ ہو کر دعا ہی کرنا چھوڑ دی جائے تو سوچو وہ فاصلہ کیسے پاٹے گا۔۔۔
اور پھر حضرت یونس علیہ سلام کی دعاوں نے بھی چالیس سال بعد جا کر کن فیاکن کا مقام حاصل کیا تھا ۔ چالیس سال بعد جا کر انکی دعاوں نے قبولیت کا شرف حاصل کیا تھا اور وہ مچھلی کے پیٹ سے باہر نکلے تھے۔۔۔ بیا یک ٹک اسکی باتیں سننے لگی تھی۔۔۔ کئ دفعہ انسان کو محض جذباتی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں کوئی دوسرا شخص اسکے درد کو سمجھ سکے اسے تسلی دے سکے حوصلہ دے سکے اور یہ سب کام اس وقت شہروز نے بخوبی کئے تھے۔۔ تبھی تو بے سکون دل کو زرا قرار آیا تھا۔۔۔
اور ایک اور بات بیا۔۔۔ اسکے ملنے کی دعاوں کے ساتھ ساتھ اسکے بخیرو عافیت سے ہونے کی دعا بھی کیا کرو۔۔۔ کیا پتہ تمہاری یہ دعائیں اسکے راہوں کے کانٹے چن لے۔۔۔ وہ کھوئے سے انداز میں گویا ہوا تو وہ بھی نم آنکھوں سے سر ہاں میں ہلا گئ۔۔۔
*"*****
وائٹ ٹائلوں سے مزین وائٹ پیلس پر اب دوپہر باسی ہونے لگی تھی سورج کے سائے لمبے ہونے لگے تھے اس مخصوص کمرے میں سبھی کھڑکیاں اور دروازے بند تھے جس سے کمرے میں باہر دن کے سبھی اثرات زائل تھے ایسے میں مرحہ بیڈ کے بیچ و بیچ محو استراحت تھی۔۔۔ پلیکں سختی سے ایک دوسرے میں پیوست تھیں۔۔۔ کندھوں تک لحاف اوڑھا ہوا تھا۔۔ ایک ہاتھ سینے پر جبکہ دوسرا بازو سیدھا بیڈ پر پڑا. تھا جسکے ہاتھ کی پشت پر کینولہ لگا تھا جسکی مدد سے اسے ڈرپ لگائی گئ تھی۔۔۔ پاس ہی کھڑے ڈاکٹر نے کینولہ میں انجیکش انجیکٹ کیا اور سیدھا ہو کر اسکی آنکھوں کی پتلیاں اٹھا کر اسکی سفید پڑتی آنکھوں کا معائنہ کیا۔۔۔ سلمی کچھ ہی فاصلے پر بلیک اور گولڈن ساڑھی میں ملبوس نک سک سے تیار سپاٹ چہرے سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
نروس بریک ڈاوں ہوا ہے انکا۔۔۔ ڈاکٹر گہری سانس خارج کرتا سلمی کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔
کسی چیز کا بہت گہرا صدما لیا ہے انہوں نے جسکی وجہ سے انکی مینٹلی کندیشن بہت ان سٹیبل ہے۔۔۔ کچھ دنوں کے لئے انہیں مکمل بیڈ ریسٹ دیں اور سٹریس ریلیف رکھیں ۔۔۔ جسمانی آرام کیساتھ ساتھ انہیں ذہنی سکون بھی میسر آنا چاہی محض اسی صورت یہ جلدی رکور کر پائیں گی۔ یہ جو میڈیسنز لکھ کر دی ہیں انکا باقاعدگی سے استعمال کروائیں تو انشااللہ جلد ٹھیک ہو جائیں گئیں یہ۔۔۔ ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں اسے سبھی پریکوشنز بتاتا نسخہ اسے تھما کر وہاں سے چلا گیا جبکہ سلمی بھی اس پر ایک نگاہ ڈال کر باہر نکل گئ۔۔۔ اس سے زیادہ وہ اس لڑکی کو اپنا وقت نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔
*******
Aslamulakum!!! Hania hazrat yunas machli key pait Mai 40 saal nhe 40 din rhy thy.
ReplyDelete