Header Ads

Nam Aankhain novel 14th episode by Umme Hania


 

  

 Nam Aankhain novel 14th episode by Umme Hania


Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares  based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "نم آنکھیں"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official


For bestچوھدویں قسط۔۔۔۔

اسکے پیوٹوں میں ہلکی ہلکی جنبش ہوئی کچھ دیر بعد اسنے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو سب سے۔ پہلی نظر خوبصورت سیلنگ سے مزین چھٹ سے ٹکرائی۔۔۔ اسنے آنکھوں کی پتلیوں کو حرکت دیتے سارے کمرے میں نظر ڈورائی وہ اس کمرے سے مانوس ہو چکی تھی۔۔۔اسنے پچھلے ایک ہفتے سے خود کو سوئی جاگی کیفیت میں وہیں پر لیٹتا پایا تھا ۔۔۔ اسے ذہنی سکون فراہم کرنے کے لئے ادوایات اور انجیکشنز لگائے جاتے تھے۔۔۔۔ نیم غنودگی میں وہ سب محسوس کرتی تھی۔۔۔

کسی کا وقفے وقفے سے آ کر اسکی ڈرپ چینج کرنا۔۔۔ اسے انجیکشن لگانا۔۔

کچھ ہوش میں ہوتی تو اسنے اپنے گرد ایک فربہہ سی عورت کو اپنی دیکھ بھال پر معمور پایا جو بعض اوقات اسے چمچ کی مدد سے کچھ کھلا رہی ہوتی۔۔۔

آج پورے ایک ہفتے بعد وہ مکمل طور پر ہوش میں آئی اور ہوش میں آنا ہی اذیت ناک تھا۔۔۔ آنسو ایک مرتبہ پھر سے پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہہ نکلے تھے۔۔۔

دل میں ایک آگ سی لگی تھی کسی طور سکون میسر نا آتا تھا۔۔۔۔ اسکے ساتھ وہ ہو گیا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ اس مسلے پر سوچ کر اسکی سوچیں ایک نقطے پر گویا جم جاتیں کچھ سمجھ ہی نا آتا۔۔۔

وہ وہیں لیٹی لیٹی اپنی اگلی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔

مرحہ نے آنکھیں بند کیں اور گہرا سانس بھرا۔۔۔ جو کچھ اسکے ساتھ ہوا وہ اس سے خود کو بچا نہیں پائی تھی۔۔۔لیکن یہ سب یہیں ختم نہیں ہو جانا تھا بلکہ اب تو یہ سلسلہ چل نکلا تھا۔۔۔

اب اسے ہر رات اسی اذیت سے گزرنا تھا ۔۔۔ اسے ہر رات دلہن کی مانند سجنا تھا۔۔۔ اسے ہر رات اپنی نسوانیت کی دھجیاں اڑتے دیکھنا تھا۔۔۔

وہ تو پہلی بار کے صدمے سے ہی باہر نہیں نکل پائی تھی۔۔۔ وہ تو ابھی تک اس ایک حادثے کو قبول ہی نہیں کر پائی تھی کجا کہ ہر رات۔۔۔ اسنے ایک جھرجھری لی۔۔۔

اسکا مر جانا ہی بہتر تھا اسنے پہلے بھی مرنے کی کوشیش کی تھی مگر ناکام رہی۔۔ وہ ہتھیلیوں پر وزن ڈالتی بمشکل اپنے بے جان ہوتے وجود کو اٹھا پانے میں کامیاب ہوئی۔۔۔

الجھے بھورے بال اسکی کمر پر پھسلتے چلے گئے۔۔۔ اسکی خاموش نگاہیں تیزی سے کمرے کے چاروں اطراف کا جائزہ لیتی کوئی نوکیلی چیز ڈھونڈ رہی تھی جس سے وہ اپنی جان لے پاتی۔۔۔

کتنی بے بسی کا مقام تھا وہ۔۔۔ 

دائیں جانب سے بائیں جانب سفر کرتی اسکی آنکھوں کی پتلیاں یکدم ساکت ہوئیں۔۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے ان میں پانی جمع ہونے لگا۔۔۔۔ وہ کس چیز کی تگ و دود میں اسقدر ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔۔

خود کشی کے لئے۔۔۔ اور خود کشی بذات خود کیا تھی۔۔۔ ایک حرام فعل۔۔۔۔ جسے سر زرد کرنے والا کبھی بخشیش کا حقدار ہوتا ہی نا۔۔۔ 

نیلی سحر طاری کرتی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر دودھیا قندھاری گال پر بہتا چلا گیا۔۔۔

لیکن اگر خود کشی نا کرتی تو کیا کرتی۔۔۔۔ ٹانگیں بستر سے نیچے لٹکائے اسنے کرب سے آنکھیں میچتے دونوں ہاتھوں سے بیڈ شیٹ جھکڑی۔۔۔

حرام موت نا مرتی تو کیا کرتی حرام زندگی جیتی۔۔۔ دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔

 مر جاتی تو ایک ہی دفعہ حرام فعل سر انجام دیتی ۔۔۔ زندہ رہتی تو روز حرام کی مرتکب ہوتی۔۔۔

کیا بہتر تھا ۔۔۔ وہ اذیت سے ہر ہر پہلو پر سوچ رہی تھی۔۔۔

مر جاتی تو ہر اذیت سے نجات پا جاتی۔۔۔ لیکن اگر زندہ رہتی تو روز جیتی روز مرتی ۔۔۔ یہ اذیت اسے سانس نا لینے دیتی۔۔۔ 

حرام موت مرتی تو توبہ کا ہر دروازہ اس پر بند ہو جاتا۔۔۔ زندہ رہتی تو توبہ کا چانس برقرار رہتا۔۔۔

سب سو دو زیاں دو حصوں میں بٹے اسکے سامنے آ موجود ہوئے تھے۔۔۔ ہر ہر پہلو پر بھرپور سوچنے سمجھنے کے بعد بھی زندگی کا پلڑا بھاری آ رہا تھا۔۔۔ زندگی اسے خاردار راستہ منتخب کرنے کی ترغیب دلا رہی تھی۔۔۔

 نیلی آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں رنگت میں بھی ضبط سے سرخیاں گھلنے لگی تھیں لب بری طرح کچلتی وہ بہت اذیت میں تھی۔۔۔

وہ احکام الہی کو دل سے ماننے والی لڑکی تھی۔۔۔ جسکے سینے میں قرآن محفوظ تھا ۔۔۔ ماں باپ کی فرمابردار شرعی پردہ کرنے والی بندی۔۔۔ اگر وہ اس حالوں میں پہنچی تھی تو دل ماننے سے انکاری تھا کہ اسکے پیچھے کوئی ٹھوس وجہ نا ہوتی۔۔۔

بار بار خود کشی کرنے کی کوشیش کے باوجود اسکا زندہ ہونا اس بات کی دلیل تھی کہ اس میں اسکے رب کی کوئی حکمت تھی۔۔۔

بلاشبہ اسکی حکمتیں انسانی سوچ سے بالاتر ہوتی ہیں۔۔۔ لیکن اس سب کے پیچھے اس رب کی کیا حکمت پوشیدہ تھی اسکی سمجھ سے بالاتر تھی۔۔۔

دل پر بوجھ بڑھنے لگا تھا۔۔۔

وہ کسلمندی سے اٹھی۔۔۔ ادھر ادھر دیکھ کر آنچل تلاشا۔۔۔ سامنے صوفے پر نیٹ کا باریک سا آنچل پڑا تھا جسکا مقصد زینت چھپانا ہرگز نا تھا۔۔۔

اسنے پاس جا کر آنچل اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور تھکے تھکے قدم اٹھا کر واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ کہنیوں تک نیٹ کی آستینیں فولڈ کئے گیلے بازوں اور پانی کے قطروں سے تر چہرے کے ساتھ سنگھار میز کے سامنے کھڑی اپنے زرد پڑتے چہرے کو بے تاثر نگاہوں سے دیکھتی اسکے گرد آنچل حجاب کے سٹائل میں لپیٹ رہی تھی۔۔۔

اسکے بعد وہ بنا جگہ کا تعین کئے بنا رخ متعین کئے اور بنا ہی جائے نماز کے سجدے میں سر جھکاتی گڑگڑا دی تھی۔۔۔

اب دل پر بڑھتا بوجھ ناقابل تلافی تھا اور سکون بے شک اسی ایک چیز میں پوشیدہ تھا۔۔۔

وہ شاید پہلی لڑکی تھی جو ایک کوٹھے پر سربسجود تھی۔۔۔

وہ رو رو کر تھک چکی تھی سوچ سوچ کر عقل مفلوج ہوگئ تھی اسی لئے واپس اپنے اصل کی طرف پلٹی تھی جیسے بچہ گر کر ٹھوکر کھا کر چوٹ لگوا کر روتا ہوا ماں کی آغوش میں جا کر اسے شکایتیں لگاتا سکون طلب کرتا ہے۔۔

بالکل ویسے ہی وہ بھی سکون کی تلاش میں بنا سوچے سمجھے اپنے رب سے ملاقات کرنے چل دی تھی۔۔۔ اس بات پر غور کیے بنا کہ وہ جگہ اس قابل ہے بھی کہ وہاں سجدہ کیا جائے وہ ناپاک جگہ تھی اور کلام الہی کے لئے لباس کے ساتھ ساتھ جگہ کا پاک ہونا بھی ضروری تھا۔۔  ان باتوں پر سوچنے کی اسنے کوشیش نا کی تھی کیونکہ سوچتی تو بہت آگے تک سوچتی کیونکہ ناپاک تو وہ خود بھی ہو گئ تھی تو کیا وہ اس قابل تھی کہ رب کے حضور پیش ہو سکتی۔۔  اگر ہاں تو باقی سب پھر ثانوی چیزیں تھیں۔۔۔

اللہ تو شہہ رگ سے بھی پاس ہے نا۔۔۔ جسے یاد کرنے کے لئے اس سے بات کرنے کے لئے کسی مخصوص وقت یا جگہ کا ہونا ضروری نہیں۔۔۔

مجبوری میں تو سب جائز ہوتا ہے نا اسکے پاس بھی تو چوائس نہیں تھی۔۔۔ 

******

فریش ہو کر وہاب نیچے آیا تو رشنا تائی جان کے ساتھ مل کر کھانا لگا رہی تھی۔۔۔

آج کیا پکا ہے امی۔۔۔ وہ ہشاش بشاش سا خوشبوں میں نہایا چمکتی آنکھوں اور چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے بازو فولڈ کرتا کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھا۔۔۔

رشنا نے اسے رشک سے دیکھا وہ کیسے اتنا مطمین رہ لیتا تھا۔۔۔ شاید اسکے ضمیر پر کوئی بوجھ نا تھا۔۔۔ 

وہاب کے حوصلہ شکن رویہ کے بعد رشنا کو نارمل ہونے میں اچھا خاصا وقت درکار ہوتا تھا۔۔۔ آسان نہیں تھا دل دکھی ہو تو چہرے ہر مسکان سجانا لیکن وہ شخص اسکے آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہی سب کے لئے ویسا ہی تھا لیکن اسکے سامنے آتے ہی اجنبی و سنجیدہ ہو جاتا۔۔۔

تمہاری فیورٹ بریانی بنائی ہے اور کڑاہی ساتھ ٹرائفل۔۔۔ نوریں بیگم ڈشز کے دھکن ہٹا ہٹا کر اسے کھانا سرو کر رہی تھیں۔۔۔

اوہ گریٹ امی۔۔۔ بہت بھوک لگی تھی اور اب تو بھوک اور بھی چمک گئ۔۔۔ وہ دلجمعی سے پلیٹ پر جھکتا کھانا کھانے لگا۔۔۔

رشنا بچے تم بھی بیٹھو کھانا کھاو کب سے کھانا تیار کرنے کو کچن میں ہلکان  ہو رہی ہو۔۔۔

نورین بیگم کے خلوص سے کہنے پر وہ پھیکا سا مسکراتی وہاب کیساتھ ہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھی۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد وہ برتن سمیٹ کر کچن میں گئ تو باہر ایک مرتبہ پھر سے باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔۔۔

وہ کچن میں برتن دھوتی باآسانی انکی گفتگو سے مستفید ہو رہی تھی۔۔۔۔

وہاب بیٹا اس بار واپس جاتے ہوئے تم رشنا کو ساتھ لے جانا۔۔۔ بچی بیچاری سارا سارا دن یہاں بولائی بولائی سی پھرتی ہے۔۔۔ ابھی شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔۔۔۔

برتن دھوتے اسے تائی جان کی فکرمندانہ آواز سنائی دی۔۔۔۔ وہ وہیں پر ساکت ہوئی۔۔۔ سارے اعضا کان بن گئے۔۔۔ وہاب کا جواب سننے کی خاطر اسنے پانی کا نل تک بند کر دیا۔۔۔۔

اوہو امی کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔ وہ وہاں اکیلی کیا کرے گی یہاں آپ تو پاس ہیں نا۔۔ وہاب کی جھنجھلائی آوا سنائی دی تو وہ لب چبا کر رہ گئ وہ اسکے تاثرات نہیں دیکھ پائی تھی مگر لہجہ اسکی بے زاری واضح کر رہا تھا۔۔۔

بیٹا جی وہ میرے ساتھ رہنے کے لئے شادی کر کے یہاں نہیں آئی۔۔۔ ہو کیا گیا ہے تمہیں۔۔۔

امی اب اسکے جانے سے آپکو اپنا گھر سونا نہیں لگے گا ایسی ہی بلیک میلنگ کر کے آپ نے شادی کروائی تھی نا کہ آپ سارا سارا دن اکیلی ہوتی ہیں ۔۔ گھر کاٹنے کو ڈوراتا ہے مجھے بیٹی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔۔۔

وہ انکا ہر جواز رد کر رہا تھا۔۔۔ رشنا سے کچن میں کھڑے رہنا محال ہوا ۔۔۔۔

وہ وہیں برتن چھوڑتی مرے مرے قدم اٹھا کر پیچھے کے راستے سے اپنے کمرے میں گئ۔۔۔

جسم بے جان ہونے لگا تھا۔۔۔

ذہنی تھکاوٹ اسے جسمانی طور پر ٹور دیتی تھی۔۔

نیچے انکے درمیان کیا بات چیت ہوئی کیا طے پایا۔۔۔ تائی جان وہاب کو قائل کر پائی یا نہیں وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔۔۔

جانا تو وہ خود بھی نہیں چاہتی تھی وہاب کے ساتھ کیونکہ وہاں اس گھر کی اصلی مالکن موجود تھی۔۔ وہ وہاب کو اپنی دوسری بیوی کیساتھ التفات کرتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔

وہ اس سے دور تو رہ سکتی تھی مگر اسے کسی اور کے سنگ نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔ لیکن ناجانے اسکے انکار پر دل کیوں دکھ رہا تھا۔۔۔ 

وہ وہیں بیڈ پر نیم دراز ہوتی آنکھیں مونڈ گئ۔۔

دفعتاً وہاب کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔ 

اسے اندر آتا دیکھ وہ اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔۔ پہلی رات کی طرح وہ اسے دوبارہ کبھی سوتے رہنے کا تاثر نہیں دینا چاہتی تھی جو بھی تھا وہ اسے اپنی پہلی بیوی کیساتھ فون پر باتیں کرتا بھی برداشت نہیں کر پاتی تھی۔۔۔

وہ سیدھا الماری کی جانب بڑھا۔۔۔ الماری کے پٹ کھول کر وہ کچھ تلاش کر رہا تھا۔۔۔ وہ پٹ بند کر کے اسنے دوسرا پٹ کھولا۔۔۔ شاید اسکی تلاش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔

 رشنا اسے بتانا چاہتی تھی کہ اب الماری کا یہ حصہ اسکے زیر استعمال ہے یہاں اسکی کوئی چیز نہیں مگر خاموش رہی کیونکہ الماری کھول کر وہ اس حصے میں رشنا کی چیزیں دیکھ کر خود ہی وہ پٹ بند کر رہا تھا کہ دفعتاً ہاتھ لگنے سے اسکا ہینڈ بیگ نیچے گرا۔۔۔

وہاب نے جھک کر نیچے سے ہینڈ بیگ اٹھایا جسکی زپ ادھ کھلی ہونے کے باعث اندر سے کچھ چیزیں نیچے گریں۔۔۔

اسنے جھنجھلاتے ہوئے ہینڈ بیگ کے ساتھ وہ چیزیں بھی اٹھا کر الماری میں پٹخی کہ ایک ادھ کھلے کاغز کو نیچے گرا دیکھ اٹھا کر الماری میں رکھتے رکھتے اسکی نظر چند الفاظ پر پڑی۔۔۔۔

رشنا خاموشی سے اسکا جھنجھلایا روپ اور اسکی کاروائیاں ملاخظہ کر رہی تھی۔۔۔

تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہاب نے وہ کاغذ کھولا لیکن کاغذ پر موجود تین حرفی تحریر پڑھ کر اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔ ل

چیرے کے اعضلات تن گئے۔۔۔ اس کاغذ کو مٹھی میں بھینچے اسکی ماتھے اور گردن کی رگیں پھولنے لگیں۔۔۔

یکدم اسکی بدلتی کیفیت دیکھ کر رشنا چونکی اسے خطرے کی گھںٹی محسوس ہونے لگی۔۔۔ 

جب ڈھرلے سے گناہ کئے جائے نا اور پھر ان پر شرمندگی کا ڈرامہ رچایا جائے تو پھر کمال اداکاری دکھانے کو ہوم ورک مکمل کرتے پرانی یادوں کو بھی دفن کر دیا جاتا ہے اور اگر دفن کرنے کا حوصلہ نا ہو تو چھپا دیا جاتا ہے۔۔۔ یوں کھلے عام انکی تشہیر نہیں کی جاتی۔۔۔

کاش کہ میں نے مروت میں بھی تم سے شادی نا کی ہوتی۔۔۔ لال بھبوکا ہوتے چبا چبا کر کہتے لفظوں کی صورت اس پر غصہ نکال کر اسنے ٹرا مڑا کاغذ نیچے پھینکا اور الماری کے کھلے پٹ کو ایک زور دار ٹانگ رسید کرتا تن فن کرتا باہر نکل گیا۔۔۔

اسکے ردعمل سے رشنا کپکپا کر رہ گئ۔۔  اسنے وہاب کو آج تک کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔۔۔

اپنے بدن کی لغزش پر قابو پا کر اسنے سرعت سے وہ کاغذ اٹھا کر کھولا ۔۔ لیکن اوپر نظر پڑتے ہی اسکی نگاہوں کے سامنے زمین و آسمان گھوم گئے۔۔۔۔

چہرا فق ہو گیا۔۔۔

آنسو لڑیوں کی مانند ٹوٹ ٹوٹ کر پھسلنے لگے۔۔۔

رشنا لو آصف ۔۔۔۔ لوکی جگہ دونوں ناموں کے درمیاں دل بنا تھا اور اس تحریر کی خاص وجہ کے اسے کبھی رشنا نے اپنے سستے عاشق پر اپنی محبت واضح کرنے کو ہاتھ پر کٹ لگا کر اپنے خون سے لکھا تھا۔۔  اگر اس تحریر کو پڑھ کر اسکے شوہر کی آنکھوں میں خون اترا تھا تو کوئی اتنا بے جان بھی نا تھا۔۔۔

وہ کپکپاتے ہاتھوں سے وہ کاغذ پکڑے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔  وہ اپنا نامہ اعمال سمیٹتی سمیٹتی ہلکان ہو رہی تھی۔۔۔۔

اس کاغذ کو وہ بلکل بھول چکی تھی اسے عاصف کو واٹس ایپ کرنے کے بعد اسنے شاید تہہ کر کے اپنے ہینڈ بیگ میں ڈال دیا تھا اور اب پچھلی دفعہ جب اپنے گھر گئ تو وہ بیگ ساتھ لے آئی کیونکہ اسے اپنا وہ بیگ بہت پسند تھا مگر نہیں جانتی تھی کہ کس چنگاری کو ساتھ لے کر جا رہی ہے جو اسکے پہلے سے جلتے گھر کو مزید جھلسا دے گی۔۔۔

اب وہاب کے کہے الفاظ پر غور کیا تو سمجھ میں آیا کہ وہ اسے کیا کہہ گیا تھا۔۔۔

اسکا دل چاہا کہ زمین پھٹے اور اس مین سما جائے۔۔۔

کبھی کبھی اسکے دل میں آتا کہ شاید وہ وہاب کے قابل ہے ہی نہیں جو وہاب اسے معاف نہیں کر دیتا۔۔۔ اور اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اسکا گناہ اتنا چھوٹا بھی نا تھا کہ اسے اتنی جلدی معافی مل جاتی۔۔۔

اسکے بعد وہ ساری رات کمرے میں جلے پیر کی بلی کی مانند چکراتی وہاب کا انتظار کرتی رہی کہ وہ اسے اپنی صفائی میں دو بول بول سکے۔۔۔

لیکن اسکا انتظار انتظار ہی رہا کیونکہ وہاب ساری رات کمرے میں نا آیا ۔۔۔ ناجانے کہاں رہا تھا۔۔۔

صبح فجر کے بعد وہ کمرے میں آیا تو رشنا تڑپ کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔

وہاب۔۔۔ میری بات۔۔۔ وہ التجائیہ گویا ہوئی

اور اگر میں کہوں کہ میں تمہاری آواز بھی نہیں سننا چاہتا تو۔۔ سنجیدہ بے لچک لہجہ اسکی ا م سبھی ہمت بہا  لے گیا۔۔  وہ چور سی شرمندگی سے سر جھکا گئ۔۔۔

اسنے اسے مارا نہیں تھا طعنے تشنے نہیں دیئے تھے بس ایک ہی جوتا بھگو کر مارا تھا جسکے بعد وہ اسے مخاطب کرنے کی ہمت بھی نہیں کر پائی تھی۔۔۔

وہ الماری سے اپنی چند اہم چیزیں نکال کر پہلے سے پیک بیک میں ڈال رہا تھا جو ابھی تک اسنے کھولا تک نا تھا جو اس بات کی علامت تھا کہ وہ مزید وہاں رکنا نہیں چاہتا اور واپس جا رہا تھا۔۔۔

رشنا کے دل پر مزید بوجھ بڑھا وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔

******

سر سجدے میں جھکائے وہ اپنے رب سے معافیاں مانگ رہی تھی۔۔۔۔ جو کچھ اسکے ساتھ ہوا اسکے بعد جہاں پوری دنیا سے روٹھی تھی وہیں اپنے رب سے بھی بدگمان ہو گئ تھی۔۔۔ اور اسی بدگمانی میں ناجانے کیا کیا کفر بولتی رہی تھی۔۔۔

اب جب کچھ وقت گزرنے کے بعد شعور نے آگاہی بخشی تو اپنے ساتھ ہوئے ظلم کیساتھ ساتھ اپنی کوتاہیاں بھی یاد آتی گئ۔۔۔

وہ حق نہیں رکھتی تھی اپنے رب سے شکوے کرنے کا۔۔ وہ تو محض التجا کر سکتی تھی گڑگڑا کر مانگ سکتی تھی۔۔۔

وہ عطا کرے تو رحمت نا کرے تو حکمت۔۔۔ شکوہ تو بنتا تھا ہی نہیں۔۔۔ وہ سجدے میں گڑگڑاتی اپنے رب سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ رہی تھی۔۔۔

اللہ تو تو کہتا ہے کہ تو اپنے بندوں پر انکی استطاعت 

سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔۔۔ اللہ ختم کر دے یہ آزمائش میرے مالک اب نہیں سہا جاتا۔۔۔ میں اس آزمائش کے بوجھ تلے دب کر قطرہ قطرہ مر رہی ہوں اللہ۔۔۔ معاف کر دے۔۔۔

وہ اب اللہ سے شکوے نہیں کر رہی تھی بلکہ ایک معصوم بچے کی طرح اللہ کو خود پر ہوئے ظلم کی داستان سنا رہی تھی۔۔۔ 

سسکتی ہوئی خود پر بیتی اذیتیں بتا رہی تھی۔۔۔ اپنا لہولہان ہوا وجود دکھا رہی تھی۔۔۔ وہ اس جگہ سکون تلاش کر رہی تھی جو اسکی زندگی سے روٹھ گیا تھا۔۔۔

کافی دیر تک سجدے میں گڑگڑا کر دعا مانگنے  سے اسکا دل کافی ہلکا ہو گیا تھا اسی لئے اب وہ سنجیدگی سے آگے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ وہ دلدل میں گر گئ تھی جس سے وہ اندر ہی اندر دھنس رہی تھی۔۔۔

دنیا میں ہر لڑکی اپنی عزت محفوظ نہیں بھی رکھ پاتی ۔۔۔ اس معاملے میں کچھ مرحہ جیسی بدقسمت بھی ہوتی تھیں۔۔۔ جو کبھی غیروں تو کبھی اپنوں کے ہی ہاتھوں ذلت کا شکار ہوتی تھیں۔۔  تو ایسے میں کیا انکی زندگی ختم ہو جانی چاہیے تھی۔۔۔

نہیں ۔۔ مانا کے اسنے اپنی ذات کا مان کھو دیا تھا مگر وہ اب ہمت نہیں ہار سکتی تھی وہ بھی تب جب اسکا اسکے رب سے رابطہ بھی دوبارہ استوار ہو چکا تھا۔۔۔

اس معاملے میں جتنا اسنے سوگ منانا تھا منا چکی تھی اب اس سوگ سے نکل کر آگے سوچنے کی باری تھی۔۔۔ وہ ایک رات اسے شعور کی کئ منازل طے کرواگئ تھی۔۔۔ یکدم ہی وہ اپنی عمر سے بہت بڑی ہوگئ تھی۔۔

سر سے حجاب اتارتے وہ ایک نئے عزم سے باہر نکلی کیونکہ آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے کو اسے اس ماحول سے مانوس ہونا تھا۔۔۔ کیونکہ اب وہ لڑنے کی تھان چکی تھی اپنی آخری سانس تک۔۔۔

****


 type of uniqe urdu meterial and  motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4