Nam Aankhain novel 15th episode by Umme Hania
Nam Aankhain novel 15th episode by Umme Hania
Nam Aankhain is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Nam Aankhain is a bitter issue of society and a love story by umme Hania of some charectares based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "نم آنکھیں"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
پندرہویں قسط
گہرا سانس خارج کر کے اسنے کمرے کا دروازہ کھولا اور باہر نکلی۔۔۔۔
باہر نکلتے ہی راہداری میں آمنے سامنے چند کمرے تھے جن کے دروازے اس وقت بند تھے وہ گہری جانچتی نگاہوں سے اردگرد کا جائزہ لیتی راہداری عبور کر کے دائیں جانب مڑی سامنے ہی قیمتی ماربل لگا مختلف آرائشات سے مزین لاوئنج تھا جسکے جدید طرز کے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے کروفر سے بیٹھی سلمی ساڑھی میں ملبوس اونچا جوڑا کئے میک آپ زدہ چہرا اپنے موبائل پر جھکائے سکرولنگ کر رہی تھی۔۔۔
کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔
معمولات کے مطابق لڑکیاں آ جا رہی تھیں۔۔۔
وہ ہر چیز کا جائزہ لیتی اعتماد سے چلتی لاوئنج کے وسط میں آئی اور اسی تھری سیٹر صوفہ پر جہاں سلمی بیٹھی تھی اعتماد سے بیٹھ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھتی کمر صوفے کی پشت سے ٹکاتی آنکھیں موند گئ۔۔۔
اسکے بیٹھنے پر سلمی نے موبائل سے نگاہیں اٹھاتے چونک کر اسے دیکھا۔۔
ایک پل کے لئے اسے خوشگوار حیرت ہوئی لیکن فورا ہی اپنی حیرت پر قابو پاتی وہ واپس سنجیدہ ہوئی۔۔۔
تو آگی یاد تمہیں کہ کمرے سے باہر بھی نکلنا ہے یعنی کہ۔۔۔۔ بھرپور طنزیہ آواز مرحہ نے نہایت ضبط سے جذب کی۔۔۔
ناشتہ کرنا ہے مجھے بھوک لگ رہی ہے کائنڈلی میرے ناشتے کا انتظام کرواو۔۔۔ اسکی بات کاٹ کر وہ آنکھیں موندے ہی سکون سے گویا ہوئی۔۔۔ گویا ساری کشتیاں جلا کر میدان میں اتری ہو۔۔۔
عذرا ناشتہ لاو اس کے لئے۔۔۔ چند پل سلمی نے اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھا جس کے سکون میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا۔۔۔ پھر وہیں سے ہی کچن میں ہانک لگائی۔۔۔۔
میں تم سے کہہ رہی تھی کہ۔۔۔ اسنے وہیں سے سلسلہ کلام جاری کیا۔۔۔ مجھے چینج کرنا ہے اس لئے میرے کپڑوں کا بھی بندویست کرو کوفت ہو رہی ہے مجھے اس حلیے میں۔۔۔
وہ دوبارہ اسکی بات کاٹتی اکتاہت آمیز لہجے میں گویا ہوئی تو سلمی کا ماتھا ہلکا شکن آلود ہوا مگر ضبط کر گئ۔۔۔۔
نیہا۔۔۔ اسے وارڈروب روم دکھاو تاکہ یہ چینج کر سکے۔۔۔ اسنے پاس سے گزرتی جینز اور ٹاپ میں ملبوس ٹپ ٹاپ سی لڑکی کو آواز دی تو مرحہ آنکھیں کھولتی اسکے ساتھ ہوئی۔۔۔ مختلف راہداریوں سے گزر کر وہ اسے ایک بڑے سے ہال میں لائی جسکی چاروں اطراف میں دیوار گیر الماریاں تھیں جن کے دروازوں پر شیشے لگے تھے یعنی کے اس کمرے کے وسط میں کھڑے ہوں تو چہار سو انسان خود کو ہر ہر اینگل سے دیکھ سکتا تھا۔۔۔ اس ہال تک پہنچتے پہنچتے اسے اندازہ ہوا کہ وہ وائٹ پیلس کوئی چھوٹی جگہ نہیں تھی وہ ایک ایسی بھول بھلیاں تھی جسکا نقشہ یاد کرتے بھی اسے کئ دن لگنے تھے۔۔۔
اسنے باری باری سبھی الماریوں کو کھول کر دیکھنا شروع کیا وہاں بہت سے زرق برق لباس لٹک رہے تھے جو شاید کے استعمال شدہ تھے۔۔۔ اتنا بڑا وارڈروب کمرا دیکھ کر اسے سمجھنے میں دیر نا لگی کے یہ یہاں موجود سبھی لڑکیوں کے اجتماعی کپڑے ہیں۔۔۔
کھٹ کھٹ وہ الماریوں کے دروازے کھول بند کر کے کپڑے دیکھ رہی تھی۔۔۔ بلآخر تیسری رو میں دوسرا پٹ کھولتے اسے ایک پیک میکسی دکھائی دی وہ اسے بالکل نئ لگی تبھی وہ اس میکسی کو پکڑے اسی کمرے میں موجود واش روم میں گھسی ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ شاور لے کر پاوں تک چھوتی سلیولیس انگوری رنگ کی دیدہ زیب میکسی زیب تن کئے باہر نکلی۔۔۔
گیلے بال پشت پر بکھرے تھے۔۔۔ کمرے میں چاروں طرف اسکا چاندنیاں بکھیرتا نیم برہنہ سراپا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
اپنے ہی عکس کو دیکھتے اسکی آنکھیں جلنے لگیں۔۔۔ ضبط کی شدت سے اسکے گال دہکنے لگے۔۔۔
سرخ پڑتی آنکھوں سے اسنے نہایت ضبط سے سینے میں اٹکا سانس خارج کیا اور پلکیں جھپک جھپک کر نمکین گولہ بہانے کی بجائے حلق سے اندر سینے میں اتارا اور نئے عزم سے واپس باہر نکلی۔۔۔۔
واپس آ کر وہ اسی صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھی ۔۔۔ سلمی نے نہایت غور سے اسکے رنگ دھنگ دیکھے۔۔۔۔
ناشتہ مل سکتا ہے آج مجھے کیا۔۔۔۔ یا میں بھوکی مر جاوں۔۔۔
غصے سے پھٹ پرٹی وہ کچن کی جانب چہرا کئے چیخی۔۔۔
غذرا بوتل کے جن کی طرح پلیٹوں سے پلیٹیں ٹکراتی وہاں حاضر ہوئی اور نفاست سے بھاپ اڑاتا ناشتہ اسکے سامنے چنا۔۔۔۔
وہ ہر چیز نظر انداز کرتی بھرپور توجہ سے ناشتہ کرنے لگی۔۔۔
تم۔۔۔۔
سکون سے ناشتہ کرنے دو مجھے پھر تمہارے فرمودات بھی سن لوں گی۔۔۔ اس سے پہلے کہ سلمی پھر سے کچھ کہتی اسنے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوکا اور پھر سے کھانے میں مشغول ہوگئ۔۔۔۔
سلمی نے ضبط سے اسکے ناشتہ ختم کرنے کا انتظار کیا۔۔۔
دیکھو تم بہت آرام کر چکی اب کام پر لگو پورا ہفتہ تم نے بہت عیش کر لئے۔۔۔
۔۔ ہیڈ آف سٹاف سے اپنی نوک پلک سنوارو کلر خاصا ڈل ہو گیا ہے تمہارا اور بال بھی مر جھا گئے ہیں تا کے اسکے بعد آج رات۔۔۔
جو کچھ بھی کروانا ہے اور جس سے بھی کروانا ہے۔۔۔ اسے میرے کمرے میں بھیج دینا ابھی نقاہت بہت ہے مجھے اور تمہارے آدھے لاہور پر مشتمل اس بنگلے میں میں خوار نہیں ہو سکتی۔۔۔ وہ صوفے کی پشت پر کہنی رکھ کر ترچھی ہو کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
اور رہی بات آج رات کی ۔۔۔ پاوں جھلاتے اسنے کچھ توقف لیا۔۔۔ تو جہاں پورا ہفتہ تم نے صبر کیا وہاں ایک دن مزید صحیح۔۔۔ مجھے اس کام کے لئے ابھی ضمیر کو مار کر دماغ کو تیار کرنا ہے ویسے بھی یہ کام تو بے ضمیر لوگوں کا ہی یے نا۔۔۔ وہ براہ راست اسکی نگاہوں میں نگاہیں ڈالے بول رہی تھی۔۔۔
لیکن اگر ضمیر زندہ ہو تو روح کو بہت کچوکے لگاتا ہے۔۔۔ اس لئے میری میرے کنسلٹنٹ ڈاکٹر سے ایک اپائمنٹ فکس کروا دو میں اس سے مل کر اپنے کچھ مسائل ڈسکس کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے سب کچھ تہہ کیے بیٹھی تھی اسی لئے طوطے کی طرح بول رہی تھی۔۔۔۔
اور ہاں آخری بات۔۔۔ وہ اٹھتے اٹھتے پھر سے بیٹھ گئ۔۔۔ مجھے کچھ رقم چاہیے۔۔۔
سلمی کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ پھیلی۔۔۔ اور وہ کس لئے اسنے ایک بھنور اٹھاتے اسے طنزیہ دیکھا۔۔۔
خیرات نہیں مانگ رہی۔۔۔ مرحہ کے چہرے پر بڑی دل جلاتی مسکراہٹ ابھری تھی۔۔۔ اجرت مانگ رہی ہوں۔۔۔ اپنے کام کی وہ ٹھہر ٹھہر کر گویا ہوئی۔۔۔
کیا تم یہاں موجود سبھی لڑکیوں سے ان رئیس زادوں کی خدمتیں مفت میں کرواتی ہو ۔۔۔ آج اسکا ہر انداز ہی نرالہ تھا۔۔۔
اس رات تمہارے اس رئیس زادے کو خوش کیا تھا نا میں نے تو میرے پیسے کیا تم خود ہضم کرنا چاہتی ہو وہ گہرے طنز کو مذاق کا روپ دیتی گویا ہوئی
سلمی اسے آنکھیں چھوٹی کئے دیکھ رہی تھی۔۔ جیسے اسکے اندر کیا چل رہا ہے وہ جاننا چاہتی ہو۔۔۔
میری اجرت اسنے بھنور اٹھاتے مومی ہاتھ اسکی جانب بڑھایا ۔۔۔
سلمی کچھ پل اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر سامنے ایک کمرے میں غائب ہوئی۔۔۔ باریک ہیل کے ماربل سے ٹکرانے پر ٹک ٹک کی آواز پیدا ہونے لگی۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد اسکی واپسی ہاتھوں میں دو نوٹوں کی گھٹیوں سمیٹ ہوئی۔۔۔
یہ لو پورے دو لاکھ ہیں۔۔ اسنے قدرے جتاتے ہوئے نوٹ اسکے سامنے موجود کانچ کے میز پر پھینکے۔۔۔
بہت کم ہیں لیکن خیر جلد ہی اس سے دس گناہ زیادہ بھی ہو جائیںگے۔۔۔
وہ نوٹ اٹھا کر انگلی نوٹ کے ایک سرے سے کھینچتی ہوئی آخری سرے تک لائی تو نوٹ تیزی سے ایک سائیڈ سے دوسری سائیڈ پر ہوئے۔۔۔ وہ نخوت ۔سے سر جھٹکتی واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھی جبکے سلمی نے اسے پیچھے سے گھور کر دیکھا۔۔۔
******
رات کی سیاہی صبح کے اجالے میں تبدیل ہو رہی تھی۔۔۔ ہر طرف پرندوں کے چہچہانے کا شور بلند ہونے لگا تھا۔۔ فجر کا وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔۔۔ ایسے میں اپنے کمرے میں موجود سٹڈی ٹیبل کے سامنے کام کرتے بہروز نے کرسی سے ٹیک لگاتے پیچھے سے گردن کو سہلا کر اسے دائیں بائیں جھکایا۔۔۔ اسکے سامنے ایک فائل اور لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا۔۔۔ پاس ہی کافی کے دو تین خالی مگ پڑے تھے جو اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ وہ کافی دیر سے اسی کام میں مشغول ہے۔۔۔
فجر کے گزرتے وقت کا احساس کرتے وہ سرعت سے فائل اور لیپ ٹاپ بند کرتا واش روم کی جانب بڑھا ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک چمک تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد نماز پڑھ کر وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلا۔۔۔ باہر روز کے معمولات جاری و ساری تھے۔۔۔
دونوں بچے صبح صبح اٹھ جاتے تو وہ لاوئنج میں شازمہ بیگم اور بیا کے ساتھ ہی پائے جاتے۔۔ شازمہ بیگم تسبیح کرتیں ساتھ ساتھ ملازموں سے ناشتہ بھی تیار کرواتی جاتیں۔۔۔
ارے بیٹا آج بڑی جلدی تیار ہو گئے۔۔۔ شازمہ بیگم اسے اتنی صبح تیار ہو کر آتے دیکھ مسکرا کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتیں محبت سے مستفسر ہوئیں۔۔۔ وہ اسکی وقت بے وقت ڈیوتی سے واقف تھیں۔۔
ماں ہنگامی صورت پر میرا تبادلہ لاہور ہو گیا ہے اس لئے نو بجے وہاں جوائینینگ دینی ہے ایک خاص مشن کی وجہ سے ۔۔۔ آپ بس دعا کریں کہ اس مشن سے سرخرو لوٹوں۔۔۔
وہ بیا کو سنجیدہ نگاہوں سے دیکھتا ماں سے گویا ہوا۔۔۔
مرحہ کے معاملے کو وہ خاصا سنجیدہ لے رہا تھا اسکے گھر کی لڑکی مسنگ تھی اور اتنی بڑی پوسٹ پر ہوتے وہ کچھ نہیں کر پا رہا تھا یہ بات اسکی غیرت کو تازیانے کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ بیا کو کوئی بھی امید کا سرا تھمائے بنا صبح شام اس کیس میں غرق تھا۔۔۔
کئ کئ انویٹیگیشن۔۔۔ چھوٹے سے چھوٹے سراغ پر بال کی کھال اتارنا وہ کبھی اس کیس کو اتنی سنجیدگی سے نا لیتا اگر معاملہ ذاتی نا ہوتا تو۔۔۔
یہ اسکی ڈیرھ ہفتے کی محنت کا نتجہ تھا کہ وہ وائٹ پیلس کے بارے میں خاصی انفارمیشن حاصل کر چکا تھا اور مرحہ کے وہاں پائے جانے کے قوی امقانات تھے۔۔۔ یہ کیس اسکے سپرد نا تھا لیکن اسنے ذاتی رسک لیا تھا۔۔۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ پچھلے پانچ سالوں سے کوئی اس کیس کو حل نہیں کر پایا تھا۔۔۔ وائٹ پیلس ایک مسٹری تھا جسے حل کرنے والا ہر قابل سے قابل آفیسر ناکام و نامراد ہی ٹھہرا تھا۔۔۔ لیکن اسکے باوجود وہ یہ رسک لینا چاہتا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ اسنے خود ہنگامی صورت میں اپنا تبادلہ لاہور کروایا تھا۔۔۔
اللہ تمہیں تمہارے ہر مقصد میں سرخرو کرے کامیابی تمہارا مقدر ٹھہرے انہوں نے صدق دل سے اسے دعا دی۔۔۔
ناشتہ تو کر لو بیٹا۔۔۔ اسے بعجلت باہر جاتے دیکھ وہ کچن کی جانب بڑھتی گویا ہوئیں۔۔
ماں لیٹ ہو جاوں گا راستے میں ہی ناشتہ کر لوں گا۔۔ وہ پرام پر جھکا بچوں کو پیار کرتا مصروف سے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
تب تک شازمہ بیگم جوس کا جگ اور گلاس تھامے کچن سے باہر نکلیں۔۔۔ انہوں نے جگ سے جوس گلاس میں انڈیلا اور گلاس اسکی جانب بڑھایا۔۔۔ وہ سیدھا ہوتا مسکرا کر گلاس تھام کر جوس پینے لگا۔۔۔
انکا شمار ان ماوں میں سے تھا جو کسی طور بچوں کو گھر سے خالی پیٹ نہیں جانے دیتیں تھیں۔۔
بیٹا پرسوں تو المیر آ رہا ہے اس سے مل لیتے تو۔۔۔ اسنے گلاس خالی کیا تو شازمہ بیگم نے دوبارہ گلاس بھر دیا وہ دونوں لاوئنج میں بچوں کی پرام کے پاس آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔۔ بیا سامنے سنگل صوفے پر بیٹھی مسکراتے ہوئے ماں بیٹے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ کتنا مکمل منظر تھا نا۔۔۔
ماں وہ آ چکا ہے اور میں اس سے مل بھی چکا ہوں۔۔ اسنے جوس پیتے توقف لیا۔۔
کیا۔۔ وہ معتجب ہوئیں۔۔۔ پر وہ تو جمعے کو۔۔۔
ماں ضروری نہیں کہ ہر بار اسکی فلائٹ جمعے کی ہی ہو۔۔ وہ سب کو سرپرائز دینا چاہتا تھا اس لئے اسنے کسی کو کنفرم نہیں بتایا تھا ۔۔۔ ایک دو دن تک آئے گا یہاں بھی سب سے ملنے ۔۔ اسنے خالی گلاس واپس میز پر رکھا اور بچوں کو پیار کرتا ماں کو گلے سے لگا کر باہر نکلا۔۔۔۔
******
درانی ہاوس پر وہ صبح خاصی تلخ اتری تھی جسکی تلخی گویا فضا میں بھی رچ بس گئ تھی۔۔۔
اپنے کمرے میں موجود رشنا بے چینی سے صوفے پر بیٹھی ہاتھ دائیں بائیں رکھے لب چباتی آگے پیھے ہلتی آنسو ضبط کرنے کی کوشیش میں ہلکان لگتی تھی۔۔۔
باہر سے آتی خاصی دیر سے آوازیں ہر پل اسکی آنکھوں کی سرخی مزید گہری کرتی جا رہی تھیں۔۔۔ یہاں سے زرا باہر نکل کر ریلنگ سے نیچے جھانکو تو وہاں لاوئنج کا منظر واضح تھا جہاں وہاب اپنا ہینڈ کیری لئے بے بس سا کھڑا دکھائی دے رہا تھا جبکہ اسکے سامنے نورین بیگم غصے سے بھری کھڑی تھیں لیکن ان دنوں کے برعکس منصور صاحب خاموشی سی انگلی گال تلے ٹکائے ان دونوں کو ملاخظہ کر رہے تھے۔۔۔
ماں میں بتا تو چکا ہوں کہ آفس سے ارجنٹ کال آ گئ ہے جسکی وجہ سے ایمرجنسی میں جانا پڑ رہا ہے اسنے کوئی دسویں بار اپنی وضاحت میں یہ ہی بات دہرائی۔۔
آگ لگے ایسے آفس اور ایسی جاب کو جس میں فیملی کے لئے دو گھڑی وقت نہیں۔۔۔ نہیں میں پوچھتی ہوں آخر کرو گے کیا اتنا کما کر جب اپنوں میں دو گھڑی بیٹھنے کو تمہارے پاس وقت نہیں۔۔۔ نورین بیگم بازو چڑھائے میدان میں اتر چکی تھیں جن پر اب وہاب کی کسی دلیل کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
امی آپ سمجھ نہیں رہیں۔۔۔ وہ جھنجھلایا۔۔۔
میں سب سمجھ رہی ہوں۔۔۔ ہاتھ اٹھا کر سب پر زور دیتیں گویا ہوئیں۔۔۔ پر اب تم میری بات سمجھو۔۔۔ اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جاو۔۔۔ پھر واپس جب مرضی چکر لگانا مجھے کوئی مسلہ نا ہوگا۔۔۔
انکا انداز دو ٹوک اور حتمی تھا۔۔۔
مگر امی۔۔۔۔
کوئی اگر مگر نہیں۔۔۔ اور خبردار اگر میرے فیصلے سے انحراف کرنے کی کوشیش کی تو۔۔ تم نے تو حد ہی ختم کر دی۔۔۔ شادی کے دوسرے روز واپس چلے گئے ایک مہینے بعد آ رہے ہو وہ بھی ایک رات کے لئے۔۔۔ چوبیس گھنٹے پورے نا رہ سکے تم یہاں۔۔۔ وہ خاصا جذباتی ہو رہی تھی۔۔۔ وہ بے بسی سے آنکھیں موند کر سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔
کس جرم کی سزا دے رہے ہو تم اس بچی کو۔۔۔
امی وہ کیا کرے گی ادھر۔۔۔۔ بے بسی ہی بے بسی تھی۔۔۔ جس سے جان چھڑوا کر وہاں سے بھاگ رہا تھا اسے ہی ساتھ باندھ کر بھیجا جا رہا تھا۔۔۔
وہی کرے گی جو ہر بیوی کرتی ہے اور اب کوئی بہانہ نہیں۔۔۔ وہ انگلی اٹھا کر حتمی انداز میں گویا ہوئیں۔۔۔
وہ سر تھام کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
بابا۔۔۔ اسنے مدد طلب نگاہوں سے منصور صاحب کو دیکھا جو اسکے دیکھنے پر شانے اچکا گئے۔۔۔ انداز معذرت خواہانہ تھا کہ وہ جلتی آگ میں نہیں کود سکتے۔۔۔۔
ٹھیک ہے امی اپنی بہو سے کہیں کہ دس منٹ میں سامان پیک کر کے باہر نکلے دس منٹ سے ایک منٹ اوپر ہوا تو میں چلا جاوں گا پھر مجھ سے شکوہ مت کیجیئے گا۔۔۔
ہر طرف سے بے بس ہو کر وہ برہمی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ مطلب کہ حد تھی اسے ہی ہر دفعہ ایموشنل بلیک میل کیا جانا تھا۔۔۔۔
نورین بیگم نے کچھ کہنے کو منہ کھولنا چاہا مگر منصور صاحب نے انہیں اشارے سے منع کرتے رشنا کو لانے کو کہا ابھی کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ رشنا کو ساتھ لیجانے پر راضی ہو گیا تھا۔۔۔
وہاب کی رضا مندی جان کر اندر بیٹھی رشنا کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا۔۔۔ وہ وہاب کیساتھ نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔
وہ کیا کرتی وہاب کیساتھ جا کر۔۔۔ وہ یہاں اسکی بے رخی برداشت نہیں کر پا رہی تھی کجا کہ اسکی بیوی کے سامنے۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔
یہ خود کو جلتے کوئلوں پر گھسیٹنے کے مترادف تھا۔۔۔ وہ کسی صورت وہاب کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی۔۔۔
دفعتاً نورین بیگم کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں ۔۔۔ انکا رخ اسکی الماری کی جانب تھا۔۔۔ پھرتی سے انہوں نے الماری کے اوپر سے بیگ کھینچ کر اتارا اور اسی پھرتی سے الماری سے کپڑے نکال نکال کر اس میں ڈالنے لگیں۔۔۔۔
رشنا کا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ وہ بے طرح ہونٹ چباتی خاصی نروس تھی۔۔۔
تائی جان۔۔۔ تائی جان میں انکے ساتھ جا کر کیا کروں گی۔۔۔ وہ اسکا سامان سمیٹتی تائی کے پیچھے پیچھے ہولی۔۔۔ تائی جان میری بات تو سنیں وہ مسلسل منمنا رہی تھی۔۔۔
دیکھو رشنا وہاب پہلے ہی میرا بہت دماغ خراب کر چکا ہے اب تم مزید کرنا۔۔۔ انہوں نے ایک ہی بار میں بیگ کر زپ بند کی اور اسکا ہاتھ تھامتیں کمرے سے باہر نکلیں۔۔۔ رشنا کو اپنی ٹانگیں کپکپاتی محسوس ہوئیں۔۔
وہ انکے ساتھ گھسیٹتی مسلسل فریادیں کر رہی تھی مگر وہ تو شاید بہری ہو گئ تھیں جو اسکی کسی فریاد پر کان نہیں ڈھر رہی تھی۔۔۔
پورچ میں آتے ہی اسکی نگاہ گاڑی سے ٹیک لگائے بے زار سے وہاب پر پڑی تو دل پر بوجھ کچھ مزید بڑھا۔۔۔
انہیں لاوئنج میں آتا دیکھ وہاب سرعت سے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا۔۔۔
میری بہو کا خاص خیال رکھنا وہاب ۔۔ نورین بیگم نے رشنا کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر گاڑی کے شیشے سے جھکتے ہوئے اسے تاکید کی تو وہ مروتاً بھی مسکرا نا سکا اور گاڑی گیت سے باہر نکالتا چلا گیا۔۔۔
گاڑی روڈ پر فڑاتے بھرتی جا رہی تھی مگر ان دونوں کے درمیان ہنوز خاموشی برقرار تھی۔۔۔
رشنا کے دل میں بہت سے خدشات سر ابھار رہے تھے۔۔۔ وہ اس سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا اسکی بیوی رشنا کے بارے میں جانتی ہے کیا وہ اسکی آمد سے باخبر ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔
مگر وہاب کے سنجیدہ اور غصیلے روپ کو دیکھتے اسکی زبان تالو سے چپک چکی تھی۔۔۔ کاش وہ اس سے پوچھ پانے کی ہمت کر سکتی۔۔۔
ناجانے وہ لڑکی کیسی ہوگی۔۔۔ جس سے بات کرتے ہی وہاب کے لہجے میں مٹھاس گھل جاتی تھی وہ تو اسکی اس قدر محبت اور کیئر پر پھولی نا سماتی ہوگئ۔۔۔ اسکے تو پاوں نا زمین پر ٹکتے ہونگے ۔۔۔
اور پھر سوتن بھلا کون برداشت کرتی ہے ۔۔۔ اور پھر من پسند بیوی ہو کر کوئی ان چاہی سوتن کیسے برداشت کرسکتی یے۔۔۔
وہ تو پل پل اسے جلائے گئ۔۔۔ طنز کے تیز برسائے گی اور اسے سہنا ہو گا کیونکہ اسکے ساتھ تو وہاب کی سپورٹ بھی نا ہوگئ۔۔۔
وہاب کی سپورٹ تو اسی کے ساتھ ہوگئ نا پھر ایسے میں اسے کس کا ڈر ہوگا۔۔۔ آگے کا نقشہ خاصا بھیانک تھا جو ابھی سے اسے نیم جان کر رہا تھا۔۔۔
اسکا دل چاہا کسی طرح سے یہاں سے غائب ہو جائے اسنے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ اسکے ساتھ بیٹھا اسکا ہمسفر اس سے یکسر لاتعلق تھا۔۔۔ جیسے اسے اپنے ساتھ اسکی موجودگی سے قطعاً فرق نا پڑتا ہو۔۔۔
اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں۔۔۔
آنے والا وقت اسے خوفزدہ کر رہا تھا۔۔۔ بہت کچھ کہنے کہ جستجو میں اسکے لب پھڑپھڑا کر رہ گئے۔۔۔
وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھی جب گاڑی فلیٹ کے احاطے کی پارکنگ میں رکی۔۔۔
وہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔۔
وہاب گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو اسنے بھی بعجلت اسکی تلقید کی۔۔۔ دل میں کہیں ڈر بیٹھا تھا کہ وہ اسے یہیں چھوڑ ہی نا جائے۔۔۔
وہ بنا اسکی جانب دیکھے آگے بڑھنے لگا۔۔۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہوئی اسے وہاب کے ہمقدم ہونے کے لئے تقریباً بھاگنا پڑ رہا تھا۔۔۔
ہاتھ میں اپنا بیگ اٹھا رکھا تھا جیسے وہ اسے باور کروا رہا ہو کہ اسے اپنا بوجھ خود ہی اٹھانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔۔
لفٹ میں داخل ہوتے ہی اسنے تین نمبر پریس کیا اور لفٹ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
لفٹ کھلتے ہی وہ باہر نکلا اور راہداری میں دائیں جانب بڑھا وہ انکے پیچھے پیچھے ہی تھی۔۔۔
ایک دروازے کے سامنے رکتے اسنے کی ہول میں چابی گھمائی تو دروازہ ایک کلک کیساتھ کھل گیا۔۔۔ رچنا خاصی گھبرائی ہوئی خوفزدہ سی چاروں جانب دیکھتی اندر داخل ہوئی۔۔۔
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز وہاب آپ اتنی جلدی آگئے۔۔۔ اند داخل ہوتے ہی اسے ایک خوبصورت پرتپاک نسوانی آواز سنائی دی۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک نسوانی وجود بھاگ کر وہاب کی جانب لپکا ۔۔۔ قریب پہنچنے پر وہاب نے اسے خود میں بھینچتے عقیدت سے اسکے ماتھے پر بوسہ لیا۔۔۔ رشنا وہاب کے پیچھے تھی وہ اس وجود کو دیکھ نہیں پائی تھی اور نا ہی اس لڑکی نے ابھی تک رشنا کو دیکھا تھا۔۔۔یہ منظر اسکا پورا بدن جھلسانے لگا تھا۔۔۔ آنکھ ٹپکنے کو بے تاب تھی۔۔۔ وہ بے دم ہونے لگی تھی۔۔۔ اسکے بدترین خدشات حقیقت کا روپ دھارے اسکے سامنے تھے۔۔۔ اسکا دل چاہا وہ یہاں سے بھاگ جائے کہیں دور کہیں بہت دور جہاں کوئی نا ہو۔۔۔
اس کا دل کرلا رہا تھا۔۔۔۔ آنکھ نم تھی مگر ہونٹ قفل زدہ۔۔۔
وہ کیا کہتی ۔۔۔ کیا وہ کچھ کہنے کا حق رکھتی تھی
******

No comments