Header Ads

Hala novel 5th episode by Umme Hania complete online reading


 

 

Hala novel 5th episode by Umme Hania


Hala is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Hala is a love story by Umme Hania of a strong person based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "ہالا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

 پانچویں قسط۔۔۔۔
سحرش بیٹا آپ کچھ لے نہیں رہیں۔۔۔ چاکلیٹ براوں اور وائٹ کلر کی تھیم سے سجے ڈائینگ روم میں اس وقت زہرا بیگم  سنگل صوفے پر براجماں تھیں جبکہ سحرش اور زرش اسکے روبر موجود ڈبل صوفے پر بیٹھی تھیں دونوں کے درمیاں ایک ڈبہ کھلا پڑا تھا جس میں سے سرخ مخمل کا سا کپڑا جھلملا رہا تھا۔۔۔۔  ملازمہ نے انکے سامنے موجود کانچ کی میز پر چائے لا کر پیش کی تو سحرش کو محض چائے پیتا دیکھ زہرا بیگم بول اٹھیں۔۔۔  جی آنٹی میں لے رہی ہوں۔۔۔ اسنے مسجراتے ہوئے کوکیکز اٹھا کر کھائی اور پھر سے اس مخملی کپڑے کو تھامتی زرش سے مخاطب ہوئی۔۔ زرش تمہاری میکسی تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔  ہے نا۔۔۔ مجھے بھی بہت پسند آئی۔۔۔ یہ بھائی نا فرانس سے لائے تھے خاص میرے لئے۔۔۔ چہک کر کہتے زرش کے لہجے میں بھائی کے لئے ایک مان تھا۔۔۔۔  
اسلام علیکم ۔۔۔ سحرش ابھی زرش سے باتیں ہی کر رہی تھی جب اس یونانی دیوتاوں سے حسن رکھنے والے جادوگر کی کانوں میں رس گھولتی  آواز کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ وہ شرٹ کے بازو کہنی تک فولڈ کئے گلے کے دو بٹن کھولے ٹائی ڈھیلی کئے کوٹ بازو پر لٹکائے بکھرے بالوں سمیت اسے بہت تھکا ہوا مگر دل کے بہت قریب محسوس ہوا غالباً وہ آفس سے سیدھا وہیں آیا تھا۔۔۔ اسکے تیکھے مغرور نقوش ہمیشہ سحرش کو اسکا دیوانہ بناتے تھے۔۔۔ یہ لو زری تمہارا پارسل آ گیا۔۔۔  اسنے زرش کے قریب جاتے اسے پارسل پکڑایا وہ شاید وہ پارسل دینے ہی سیدھا وہاں آیا تھا۔۔۔  
امی ایک کپ چائے میرے کمرے میں بھیجوا دیجئے گا۔۔۔ پارسل پکڑا کر سیدھا ہوتے وہ سحرش کو مکمل نظر انداز کرتے ماں سے مخاطب ہوتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔ سحرش نے شکوہ کناں نگاہیں اٹھا کر  زہرا بیگم کی جانب  دیکھا تو وہ بھی اسکی نگاہوں کا مفہوم سمجھتی اسے آنکھوں سے ہی تسلی دے گئ۔۔۔۔
*******
 تم۔۔۔۔ تم یہ کیوں لے کر آئی ہو۔۔۔  دریاب ابھی فریش ہو کر کمرے میں آیا ہی تھا ٹراوزر شرٹ میں اسکی دراز قامت مزید واضح ہو رہی تھی۔۔۔ درواز ناک کر کے چائے کا کپ تھامے اندر  داخل ہوتی سحرش کو دیکھ کر دریاب بالوں کو تولیے سے رگڑتے ہاتھ ٹھٹھکے تھے۔۔۔ صبیح پیشانی پر جابجا شکنوں کا جال بچھا تھا۔۔۔
سحرش اپنا پارس دیکھ رہی تھی تو میں نے سوچا چائے میں ہی لیجاوں۔۔۔ مسکرا کر کہتی وہ اہج سہج کر اسکی جانب بڑھی۔۔۔ بہت شکریہ تم نے اتنا سوچا اب تم جا سکتی ہو۔۔۔ دریاب نے جھٹکے سے ہاتھ میں تھاما تولیہ بیڈ پر پھینکا اور ایک ہی جست میں اسکے مقابل آتا اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ تھام کر صوفے کے سامنے موجود میز پر رکھا اور اسے ہاتھ سے باہر کا راستہ دکھایا۔۔۔
کیوں ہمیشہ مرچیں چبائے رکھتے ہو دریاب کیا تم مجھ سے دو منٹ ہس کر بات نہیں کر سکتے۔۔۔ دریاب واپس پلٹا ہی تھا جب سحرش نے اسکے قریب جاتے اسکی بازو کھینچ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔۔ ایک ہاتھ سے اسکی بازو پکڑے دوسرے ہاتھ سے اسکے سینے سے شرٹ جھکڑے اسکے چہرے کے پاس اپنا چہرا کئے وہ اسکے بے حد قریب کھڑی تھی۔۔۔ کیا میں خوبصورت نہیں دریاب۔۔۔۔ 
How dare you....
 ایک جھٹکے سے دریاب نے اسے کسی اچھوت کی مانند خود سے پیچھے جھٹکا تھا اور وہ بھی کسی کٹے ہوئے شہتر کی مانند پیچھے دیوار سے جا لگتی حیرت و انبساط سے دریاب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جسکا بس نا چل رہا تھا کہ اسکی جان ہی کے لیتا۔۔۔ دریاب کا خون کھول اٹھا تھا اسکی اس بے باک حرکت پر۔۔۔ 
مجھے خوبصورتی نہیں خوب سیرتی اپیل کرتی ہے محترمہ۔۔۔ تم زرش کی ہونے والی نند ہو اور زرش کے حوالے سے میں تمہاری عزت کرتا ہوں لہذا تم بھی اپنی حدود کا تعین کرتے انہیں تجاوز کرنے سے اختیاط برتو وگرنہ بصورت دیگر انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگئ۔۔۔ شعلے اگلتی نگاہوں سے اسے دیکھتے انگلی اٹھا کر چبا چبا کر کہتا وہ گویا ہوا۔۔۔ 
آوٹ۔۔۔ اس بار اسنے محض زبان سے کام نہیں لیا تھا بلکہ باقائدہ اسکا ہاتھ تھامتے گھسیٹتے ہوئے اسے کمرے سے باہر نکالا تھا۔۔۔ یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے دریاب ۔۔  بنا اسکی کوئی بات سنے دریاب نے اسے کمرے سے باہر کرتے زوردارانہ انداز میں کمرے کا دروازہ  بند کیا تھا۔۔۔ اہانت و سبکی سے سحرش کی رنگت دہکنے لگی تھی۔۔۔ طویل راہداری میں دریاب کے کمرے کے سامنے موجود ریلنگ کو زور سے تھامے وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشیش کر رہی تھی جو شتر بے مہار اس وقت ہر جانب تباہی مچا دینا چاہتا تھا۔۔۔ سامنے گلاس ونڈو کے گلاس سے میں اسنے اہنا عکس دیکھا۔۔  جدید تراش خراش کے سنہرے سلیولس دریس میں اسکی اپنی رنگت کندن کی مانند دہک رہی تھی۔۔۔۔  سٹیپس میں کٹے بال اسکے چہرے کے اطراف میں بکھرے اسے مزید جازب نظر بنا رہے تھے۔۔۔۔ لائٹ ست میک اپ پر ڈارک میروں لپ اسٹک اسکے چہرے کو مزید پرکشش بنا رہی تھی۔۔۔ وہ تو جہاں سے گزر جاتی لوگ اسے پلٹ پلٹ کر دیکھتے تھے پر یہ ظالم شخص کس چیز کا بنا تھا جو اسکی طرف متوجہ نا ہوتا تھا۔۔  وہ پروانہ بنی اسکے گرد منڈلاتی تھی مگر وہ اسے نظر بھر کر دیکھتا تک نا تھا۔۔۔
دریاب اگر میں اپنے حصے کی خوشیوں کو نا پا سکی نا تو خدا کی قسم تمہارے گھر والوں کو بھی خون کے آنسو رلا دوں گی۔۔۔ اگر میں برباد ہوئی نا تو آباد تمہاری بہن کو بھی نہیں رہنے دوں گی۔۔۔۔ 
اسکی آنکھوں کا سرد تاثر اور چہرے کی کرختکی کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔
*******
سحرش کی اس بے باکانہ حرکت سے اسکا خون کھول اٹھا تھا۔۔۔ خود کو کمپوز کرتا وہ مسلسل ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔  کچھ دیر تک یونہی مسلسل چکر کاٹنے کے بعد وہ ایک گہرا سانس خارج کرتا لیپ ٹاپ کھول کر وہیں صوفے ہر بیٹھتا اپنا کام کرنے لگا ۔۔۔۔ لیپ ٹاپ کے پاس ہی میز پر پڑا چائے کا کپ کب کا ٹھنڈا ہو چکا تھا اس پر جمی بالائی کی موٹی تہہ اس بات کی گواہ تھی۔۔۔
اسنے باوجود چائے کی شدید طلب کے چائے کے کپ کی جانب دیکھا تک نا تھا۔۔۔ شاید اس میں بھی زیادہ ہاتھ چائے کانے والے کا تھا کہ چائے لانے والی کیطرح ہی اسکی کائی گئ چائے بھی دریاب کی ناپنسدیدہ لسٹ میں شامل ہو گئ تھی۔۔۔۔ 
میلز کھولتے ہی سب سے اوپر ہالہ کی میل تھی۔۔۔۔ ہالہ کو نام پڑھتے ہی جیسے اسکا غصہ اسکا ڈپریشن اسکی کسلمندی کہیں جا سوئی تھی۔۔۔ یکدم الرٹ ہو کر بیٹھتے اسنے میل آنے کا وقت نوٹ کیا میل پانچ منٹ پہلے ہی آئی تھی۔۔۔ اسنے میل اوپن کی۔۔۔ آج صبح آفس میں ہالہ کو دیئے جانے والے پراجیکٹ کی مین ہائ لائٹس کی فائل تھی وہ۔۔۔ ایک آسودہ سی مسکراہٹ نے اسکا احاطہ کیا۔۔۔ اس بندی کی یہ ہی عادت تو اسے پسند تھی کہ وہ اپنے کام سے فیئر تھی۔۔۔ جتنا جلدی ممکن ہو سکتا وہ کام مکمل کر کے  بنا اگلے دن آفس ٹائمنگ کا انتظار کئے اسے اسی وقت ارسال کر دیتی تھی۔۔۔ میلز بند کرتے اسنے واٹس ایپ آن کی وہ آن لائن ہی تھی۔۔۔
کیسی ہو؟؟؟
آپو آپ ہی دریاب کی انگلیوں نے ٹائپ کیا تھا ۔۔۔
جیسی ہمیشہ سے تھی۔۔۔ نینو سیکنڈ میں ریپلائے آیا تھا ۔۔۔۔ کیا ہو رہا ہے ؟؟؟؟ 
کچھ خاص نہیں۔۔۔
ایک بات تو بتاو ہالہ۔۔۔۔
جی پوچھیں۔۔۔ 
جب آپکا دل ویران ہو۔۔۔ اداسیوں نے ڈیرہ جمایا ہو۔۔۔ آپ بے بسی کی انتہاوں کو چھو رہے ہوں۔۔۔ آپکے بس میں آپکے ہاتھ میں کچھ نا ہو۔۔۔ جب سب ہوائیں اپنے مخالف چل رہی ہوں جب دل آہستہ آہستہ ویران ہوتا کھنڈر بن رہا ہو ۔۔۔ جب آپکی من چاہی عزیز از جان ہستی آپ سے دور جا رہی ہو۔۔۔ اسکے دور جانے کا غم اسکا دکھ آپکو خون کے آنسو رلائے۔۔۔ اسکی یاد آپکو دن رات بے چین رکھے ۔۔۔ جب چاہتے ہوئے بھی آپ کچھ نا کر سکتے ہوں تو تب کیا کرنا چاہیے؟؟؟؟
وہ بھی شاید خود سے لڑتے لڑتے تنگ آگیا تھا اسی لئے حکایت دل اسی دشمن جان کو سناتا اسی سے حل تلاش کروانے لگا تھا۔۔۔۔ دوسری طرف ٹائیپنگ شو ہو رہا تھا اور ہر گزرتے لمحے کیساتھ دریاب کے دل کے ڈھرکن بڑھتی جا رہی تھی کہ ناجابے وہ اسے کیا کہنے والی تھی۔۔۔
جب کبھی زندگی میں ایسا مقام آ جائے کہ فیصلے کا اختیار آپکے اختیار میں نا رہے آپ ہر معاملے میں بے بس ہو جائیں۔۔۔ چاہ کر بھی کچھ کر نا پائیں تو ایسے میں پھر فیصلہ اپنے رب پر چھوڑ دینا چاہیے اس یقین کیساتھ کہ آپکا رب کبھی آپکے بارے میں کوئی غلط فیصلہ نہیں کرے گا۔۔۔ اس پوری دنیا میں ہمارے لئے ہمارے رب سے زیادہ کوئی مخلص نہیں ہو سکتا۔۔۔
ہم صرف اس بہتری کو جانتے ہیں جو ظاہری ہوتی ہے لیکن ہمارا رب ہمارے لئے اس بہتری کو بھی جانتا ہے جو باطنی ہوتی ہے۔۔۔ بعض اوقات ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ بہت غلط ہوا لیکن درحقیقت وہی ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے جس سے ہم نابلد ہوتے ہیں۔۔۔۔
اتنے مفصل جواب کو پڑھ کر دریاب کسی سوچ میں گم ہو گیا تھا۔۔۔ 
کیا کوئی ایسا راستہ نہیں ہالہ جو آپکی پسندیدہ چیز کو آپکے حق میں بہتر کر دے اور اللہ اسے آپکی قسمت میں لکھ دے۔۔۔ 
دریاب نے الجھتے ہوئے اگلا سوال ٹائپ کیا۔۔۔۔
ہے نا تہجد میں سجدے بگھونا آپکا مقدر ہی بدل دیتا تھا۔۔۔ اس وقت جب پوری دنیا اپنے مخملی بستروں پر محو استراحت ہوتی ہے اس وقت اپنے رب سے رازونیاز کرنا گڑگڑانا التجاء کرنا آپکے راستے کے پتھر ہٹاتا۔۔۔ راہیں استوار کرتا فیصلے آپکے حق میں کروا دیتا ہے
جیسے اللہ فرماتا ہے۔۔۔
اے ابن آدم۔۔۔۔
ایک تیری چاہت ہے ایک میری چاہت ہے۔۔
ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔۔۔
اگر تونے سپرد کیا خود کو 
اسکے جو میری چاہت ہے
تو میں تجھے وہ بھی دوں گا جو تیری چاہت ہے
اور اگر تو نے مخالفت کی اسکی جو میری چاہت ہے
تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اس میں جو تیری چاہت ہت۔۔۔
پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔۔۔
میسج پڑھ کر دریاب کئ لمحے ساکت رہ گیا تھا۔۔۔ تو کیا اسے اللہ کی رضا سمجھتے نور کو قبول کر لینا چاہیے تھا کیا اسے رب کی رضا کے آگے سر تسلیم خم کر لینا چاہیے تھا۔۔  مگر یہ آسان کام نا تھا۔۔  یہ محض سوچنا ہی اسکا دل کرلا رہا تھا۔۔۔ ہالہ سے دستبرداری ہی اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی۔۔۔ مگر وہ بے بس تھا چاہتا یا نا چاہتا ہونا تو وہی تھا جو اس رب کی رضا تھا۔۔۔ اسنے دکھتے سر کو انگلی کی پوروں سے دباتے سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔۔  جانے آگے اسکی قسمت میں کیا تھا لکھا۔
جاری ہے۔
___
Kindly share your reviews about this novel
#Umme_Hania

#Umme_Hania_Official

For best type of uniqe urdu meterial and such motivational lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4