Hala novel 4th episode by Umme Hania online reading
Hala novel 4th episode by Umme Hania
Hala is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hala is a love story by Umme Hania of a strong person based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "ہالا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
چوتھی قسط۔۔۔۔
اب آپکی امی کی طبیعت کیسی ہے بیٹا۔۔۔ کمال صاحب ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوئے تو وہاں سب کچھ ویسا ہی تھا سامنے نالیوں میں جھکڑا وجود ویسے ہی بے حس و حرکت موجود تھا جبکہ نور بھی انکے پاس ہی بیٹھی سر جھکائے خاموشی سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔۔۔ سر کے گرد لپٹا حجاب کی مانند آنچل اسے مزید پاکیزہ بنا رہا تھا۔۔۔ کمال صاحب نے آگے بڑھتے اسکے سر پر دست شفقت دراز کرتے محبت سے پوچھا۔۔۔ ناجانے انہیں اس لڑکی سے کیسی انسیت ہوتی چلی جا رہی تھی کہ وہ اسے یوں افسردہ اور دکھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔
انکل۔۔۔ شفقت بھرا لمس پاتے ہی آپوں آپ اسکے نین کٹورے پانیوں سے بھرنے لگے تھے۔۔۔ جھلمل کرتی نگاہیں اٹھا کر اسنے کمال صاحب کی جانب دیکھا تو کمال صاحب کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔۔۔ اس حال سے تو وہ بھی گزر چکے تھے ۔۔۔ اپنا وقت اور بے بسی انہیں پوری جزئیات سے یاد آتی جھنجھوڑ گئ تھی۔۔۔۔ آپ ٹینشن نا لیں بیٹی اگر اللہ نے چاہا تو آپکی امی کو انشااللہ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ وہ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔۔ نور تنہائیوں کے بھنور میں جذباتی سہارا ملتے ہی بکھر گئ تھی۔۔۔ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔ اسکی یوں ٹوٹی بکھری حالت دیکھتے کمال صاحب نے اسکا سر تھپتھپاتے اسے دلاسہ دینے کی کوشیش کی۔۔۔
چلیں اٹھیں آپ پہلے ناشتہ کریں ۔۔۔ مجھے پتہ ہے کہ ابھی آپنے ناشتہ بھی نہیں کیا۔۔۔ بنا اپنی پرواہ کئے اور اپنی صحت سے لاپرواہی برتتے آپ بھلا اپنی امی کا خیال کیسے رکھیں گی۔۔۔ آپ مجھ پر یقین کریں۔۔۔ اللہ اپنے کسی بندے پر اسکی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔۔۔ آپ اس رب سے دعا کریں انشااللہ وہ آپکی امی کو جلد شفایاب کرے گا۔۔۔۔ نور کو اس وقت جذباتی سہارے کی ہی ضرورت تھی جو اس سے باتیں کر کے اسکا دل کچھ ہلکا کروا سکتا۔۔۔ اب بھی کمال انکل کی باتیں سن کر اسکی کچھ ڈھارس بندھی تھی۔۔۔۔ وہ کمال انکل کیساتھ ناشتہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی لیکن انہوں نے ہاسپٹل کی کینٹین میں کھانا کھانے کی بجائے کمرے میں واپس آ کر کھانا کھانے کو ترجیح دی ۔۔ ابھی نور نے دوسرا سینڈویچ شروع ہی کیا تھا جب گل بیگم کی درد بھری کراہیں کمرے میں ابھریں۔۔۔ نور ہاتھ میں تھاما سینڈویچ وہیں پٹختی ہواس باختہ سی تیر کی سی تیزی سے ماں کی جانب لپکی۔۔۔۔
آنکھوں کے سامنے اس عورت کی یہ حالت ایک پل کو کمال صاحب کو بھی ہلا گئ تھی۔۔ ڈاکٹر ڈاکٹر۔۔۔۔ ڈاکٹر۔۔۔ وہ ویسے ہی چیختے ہوئے الٹے قدموں ڈاکٹر کو بلوانے کمرے سے باہر بھاگے۔۔۔ کچھ دیرمیں ڈاکٹروں کی ٹیم وہاں موجود تھی۔۔۔ ایک مرتبہ پھر سے انہیں نیند کے انجیکشنز لگائے گئے تھے جس سے وہ لمحوں میں غافل ہوگئ ۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھتے کمال صاحب کے چہرے پر سوچ کی گہری پرچھائیاں تھیں۔۔۔
******
اب کیسی طبیعت ہے آپکی دریاب بیٹا۔۔۔ صبح ناشتے کے وقت دریاب حسب معمول بلیک پینٹ کوٹ میں نک سک سے تیار بال جیل سے سیٹ کئے اپنا آفس بیگ تھامے ڈائینینگ ٹیبل پر موجود تھا۔۔۔ گزری شب کی تباہ کاریوں کا شائبہ تک نا تھا اسکے چہرے پر۔۔۔ وہ یونہی سب اپنے اندر چھپا لیتا تھا رات ناجانے کیسے اتنا بکھر گیا تھا شاید دل کا درد حد سے بڑھ گیا تھا۔۔۔
جی امی اب میں بالکل ٹھیک ہوں اسنے مسکراتے ہوئے ماں کے سامنے جھک کر ان سے پیار لیا ۔۔۔۔ بابا کہاں ہے ۔۔۔ وہ لمحوں میں ڈائینینگ ٹیبل پر باپ کی غیر موجودگی بھانپ گیا تھا۔۔ تمہارے بابا کو کچھ کام تھا اس لئے بنا ناشتہ کئے ہی صبح جلدی نکل گئے۔۔۔ زہرہ بیگم اسے باقاعدہ خود ہر چیز سرو کر رہی تھیں ۔۔
زرش کے سسرال والے شادی کی تاریخ لینے پر زور دے رہے ہیں ناشتہ سرو کرتے زہرا بیگم نے بات آگے بڑھائی۔۔۔ یہ تو اچھی بات ہے نا امی۔۔۔ ویسے بھی پیپرز تو اس کے ہو ہی چکے ہیں باقی اگر مزید پڑھنا چاہے تو شادی کے بعد پڑھ لے۔۔۔ دریاب خاموشی سے سر جھکائے کانٹے سے چیز آملیٹ کھاتی بہن کو دیکھتے ماں سے مخاطب ہوا۔۔۔ ہاں میں بھی یہ ہی سوچ رہی تھی تم اور تمہارے بابا اپنا فارغ وقت دیکھ کر مجھے بتا دو میں انہیں مطلع کر دوں گئ۔۔۔ میں زرش کیساتھ ساتھ تمہاری بھی شادی کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ زرش کے جانے کے بعد اس گھر میں بھی بہو آ جانی چاہیے ورنہ میں تو بالکل تنہا ہو جاوں گی۔۔۔ امی کی شادی کی بات پر چھپاک سے ہسپتال کے اس کمرے کے کونے میں سکڑا سمٹا وجود اسکے تصور کے کنوس ہر ابھرا تھا ۔۔ سحرش اچھی لڑکی یے۔۔۔ زہرا بیگم کے مزید بولنے پر اسکے ناشتہ کرتے ہاتھ بے طرح ٹھٹھکے تھے۔۔۔
For God sake Ammi
کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی نا سحرش سے اور نا ہی کسی اور سے۔۔۔ آپ محض زرش کی شادی کی تیاریاں کریں ۔۔۔ اور ویسے بھی میں کراس میرج کے شروع دن سے حق میں نہیں۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے کرسی دھکیل کر کھڑا ہوتا اپنا آفس بیگ اٹھا کر وہاں سے ہی نکل گیا تھا۔۔۔ اسکا سر درد حد سے سوا ہونے لگا تھا۔۔۔ ناجانے وہ اس سارے میس کو کیسے سمیٹ سکے گا۔۔۔ ناجانے وہ ہالا کو کیسے بھلائے گا۔۔۔ ذہن صرف یہ ہی تانے بانے بننے میں لگا تھا
*****
سوئی رات کے بارہ کا ہندسہ عبور کر رہی تھی جبکہ یوسف ابھی تک گھر واپس نہیں لوٹا تھا۔۔۔ آئتل جلے پیر کی بلی کی مانند یہاں سے وہاں چکراتی یوسف کے خیریت سے گھر لوٹ آنے کی دعائیں کر رہی تھیں ۔۔ اسکا دل کسی انہونی کے ڈر سے سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔۔۔
نگہت بیگم اور نانا کو وہ مطمئن کر کے انہیں انکے کمرے میں چھوڑتی انکی دوائی کھلا کر انہیں سونے کے لئے لٹا چکی تھی۔۔۔
اسکے پاوں یہاں سے وہاں چکر کاٹ کاٹ کر شل ہو چکے تھے جب یوسف اپنے پاس موجود چابی سے بیرونی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر آئتل بھاگ کر اسکی جانب لپکی مگر وہ اسے کمال مہارت سے نظر انداز کرتا لب بھینچے آگے بڑھتا اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔ آپ کہاں چلے گئے تھے یوسف میں نے آپکا کتنا انتظار کیا۔۔۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں کتنا پریشان ہو گئ تھی۔۔۔
یوسف کے حوصلہ شکن رویے کے باوجود وہ بھرپور ہمت مجتمع کرتی اسکے سامنے آئی۔۔۔
جاو یہاں سے آئتل۔۔۔۔ میرا دماغ پہلے ہی بہت خراب ہے یہ نا ہو کہ غصے میں تمہیں ہی کچھ کہہ بیٹھوں۔۔۔۔ گویا اتنی دیر باہر رہنے کے باوجود اسکا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے میں چکر لگاتا وہ ناجانے ضبط کے کونسے مراحل سے گزر رہا تھا۔۔۔
اس سب میں میری کیا غلطی ہے یوسف۔۔۔ آپ مجھ سے کیوں ناراض ہو رہے ہیں۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے۔۔۔ آپکو پتہ ہے نا آپکو ناراض کر کے میں نہیں سو سکتی۔۔۔۔ جب آپ ناراض ہوتے ہیں تو مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا کچھ سجھائی نہیں دیتا کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔۔۔ ہر سو اداسی اور دل کی دیرانی احاطہ کئے رکھتی ہے۔۔۔ کسی چیز میں دل نہیں لگتا۔۔ کوئی کام نہیں ہوتا۔۔۔ پلیز میرے ساتھ ایسا مت کریں یوسف۔۔۔ آپکو ناراض کر کے میں نہیں جی سکتی۔۔۔ یوسف کے اس قدر شدید الفاظ اور ابھی تک اسکا غصہ برقرار دیکھ وہ آگے بڑھتی اسکا بازو اپنے نازک ہاتھوں میں تھامتی سسک اٹھی تھی۔۔۔۔ اسکے رونے پر یوسف نے چونک کر اسکی جانب دیکھا غزال سی آنکھوں سے بہتا شفاف جھرنا اسکے دل پر ٹھنڈی پھوار کی مانند گرتا لمحوں میں اسکا غصہ ارنچھو کر گیا تھا۔۔۔ نہیں ہوں میں تم سے ناراض آئتل تم پلیز رونا بند کر دو یوسف نے بوکھلا کر اسکے چہرے پر بہتے آنسوں کو اپنے ہاتھوں کی پوروں پر چنا۔۔۔
کب منظور تھا اسے اس جان جہاں کا اسکی خاطر یوں آنسو بہانا۔۔۔۔
رولایا بھی آپ نے ہی ہے۔۔۔ وہ بھی بنا میری کسی غلطی کے۔۔۔۔ سوں سوں کرتے شنگرفی لبوں سے فوراً شکوہ برآمد ہوا تھا۔۔۔
اب منا بھی تو رہا ہوں۔۔۔ یوسف نے اسکی تھوڑی پکر کر چہرا اونچا کیا تو آئتل نے شکوہ کناں نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ اچھا نا مجھے غصہ آ گیا تھا کوئی تمہیں یوں بے باک انداز میں دیکھے میں یہ برداشت نہیں کر سکتا یہاں تو پھر معاملہ ہی اور تھا وہ لوگ تمہیں مجھ سے جدا کرنا چاہتے تھے۔۔۔ لیکن میں اپنے غصے میں تمہیں ہرٹ کر گیا ۔۔۔ میں کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا آئتل پلیز تم رویا مت کرو۔۔۔ بے بسی سے وہ اسے حکایت دل سنا رہا اور وہ چپ چاپ نم آنکھوں سمیت اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ صبح ہی میں دادا سے بات کرتا ہوں ان لوگوں میں سے کسی کو بھی میں دوبارہ اس گھر میں دیکھنا نہیں چاہتا۔۔۔
اچھا چلیں ختم کریں اس سب کو۔۔۔ آئیں کھانا کھاتے ہیں آپ بھی بنا کھانا کھائے ہی نکل گئے تھے اور آپکی فکر میں میں نے بھی کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔ وہ اسے واپس اسی موضوع کی طرف پلٹتا اور غصہ کرتا دیکھ بعجلت موضوع بدلتی اسکا بازو کھینچ کر کمرے سے باہر لے گئ۔۔۔
******
جاری ہے
No comments