Header Ads

Hala novel 3rd episode by Umme Hania online reading

 



 

Hala novel 3rd episode by Umme Hania

Hala is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Hala is a love story by Umme Hania of a strong person based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "ہالا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

تیسری قسط۔۔۔۔
وہ کپکپاتی ٹانگوں اور فق چہرا لئے ابھی تک کچن کا دروازہ تھامے لمحوں میں گزری واردات کی تباہ کاریاں ملاخظہ کر رہی تھی۔۔۔ دماغ ابھی تک سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔۔ یہ ابھی لمحوں میں ہو کیا گیا تھا۔۔۔ یوسف درائینگ روم کے دروازہ زور سے پٹختا محض وہاں سے ہی نہیں بلکہ گھر سے ہی نکل گیا تھا۔۔۔ آئتل کا نازک سا دل کپکپا اٹھا تھا۔۔۔
اس نے ماوف ہوتے دماغ کیساتھ کچھ دیر پہلے کے واقعات پر نظر ثانی کرنی چاہی۔۔۔
کتنا خوش تھے وہ دونوں۔۔۔ دونوں نے مل کر مہمانوں کے لئے سارا انتظام کیا تھا۔۔۔ چائے کے ساتھ زیادہ تر آئٹمز بازاری تھی ۔۔۔ چائے بنانے کیساتھ ان تمام اشیاء و خوردنوش کو یوسف نے ہی برتنوں میں ڈال کر ٹرالی سجائی تھی جبکہ آئتل نے تب تک کباب فرائی کرنے کیساتھ ساتھ بیسن کا حلوہ بںا ڈالا تھا ۔۔۔باتیں کرتے یوسف کے چٹکلوں کے دوران لمحوں میں کام مکمل ہو گیا تھا۔۔۔ کاونٹر ٹاپ صاف کر کے وہ ٹرالی گھسیٹتی ڈرائینگ روم کی جانب بڑھی جہاں یوسف کی ممانی کیساتھ انکی نند اور نند کا بیٹا عمران بیٹھا نگہت بیگم اور دادا کیساتھ محو گفتگو تھے۔۔۔
ارے بیٹا آپ نے خوامخواہ ہی تکلف کیا ان سب کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ آئتل کے ٹرالی گھسیٹ کر اندر لانے پر یوسف کی ممانی کی نند نوشین محبت سے گویا ہوئی آئتل نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا اور ٹرالی انکے پاس کرتی انہیں چائے سرو کرنے لگی۔۔۔ 
ان کے گھر آنے سے لے کر اب تک وہ عمران کی مسکراتی نگاہیں بارہا خود پر پڑتی اور ٹھٹھک کر رکتی محسوس کر چکی تھی اور یہ ہی چیز اسے بار بار کوفت میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔   
ارے بیٹا آپ ادھر میرے پاس آ کر بیٹھو ۔۔۔ وہ سب کو چائے سرو کر کے اٹھ کھڑی ہوئی تو نوشین بیگم نے اسے اپنے پاس بلایا لیکن اس سے پہلے وہ یوسف کا خشمگیں نگاہوں سے اسے کمرے سے باہر جانے کے لئے کیا جانے والا اشارہ  بہت اچھے سے دیکھ اور سمجھ چکی تھی۔۔۔ یقیناً عمران کی نگاہیں بارہا آئتل پر اٹھتی اور رکتی وہ بھی محسوس کر چکا تھا۔۔۔ آئتل نے ایک بے بس نگاہ یوسف کو دیکھا جو اسے خشمگین نگاہوں سے گھور رہا تھا اور دوسری نظر نوشین بیگم کو جو محبت سے مسکراتے ہوئے اسے اپنے پاس بلا رہی تھی۔۔۔ وہ شش و پنج میں مبتلا کھڑی تھی کہ کمرے سے باہر جائے یا نوشین بیگم کے پاس ۔۔۔ اسنے مدد طلب نگاہوں سے نگہت بیگم کی جانب دیکھا انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے نوشین بیگم کے پاس جانے کا اشارہ کیا تو وہ مرے مرے قدم اٹھاتی نوشین بیگم کے پاس آکے صوفے پر بیٹھی۔۔ ماشااللہ کتنی پیاری بچی ہے۔۔۔ بزرگو ہم آپ سے کچھ مانگنے آئے ہیں ہم آپکی نواسی آئتل کا ہاتھ اپنے بیٹے عمران کے لئے مانگنے آئے ہیں ۔۔۔ یہ میری ہی نہیں میرے بیٹے عمران کی بھی خواہش ہے ۔۔۔ جب سے عمران نے آئتل کو دیکھا اسکا دیوانہ ہی ہو گیا ہے۔۔۔ ہم یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جائیں گے ۔  آپکو جیسی تسلی چاہیے آپ کروا سکتے ہیں ۔۔۔ ہم ہر طرح کی گارنٹی دینے کو تیار ہیں مگر ہم ہاں کروا کر ہی اٹھیں گے۔۔۔   نوشین بیگم بولنے پر آئیں تو فرط جذبات میں بنا وہاں سب کی متغیر ہوتی رنگت دیکھے بولتی  ہی چلی گئیں جیسے وہ سب کچھ پہلے ہی طے کئے آئی ہوں۔۔۔جبکہ عمران ماں کی باتوں پر مسلسل مسکراتا آئتل کی جانب ہی دیکھ رہا تھا جسکا چہرا نوشین بیگم کی باتیں سن کر خطرناک حد تک سفید پڑ چکا تھا۔۔۔ 
وہ بس جامد و ساکت سی یوسف کی جانب دیکھ رہی تھی جسکی بھینچی مٹھیاں ماتھے پر ابھرتی رگیں  سفید رنگت میں گھلتی سرخیاں اور خون آشام نگاہیں کسی طوفان کی پیش خیمہ تھیں۔۔۔۔ آئتل کے اندر فوراً ہی پکڑ ڈھکر شروع ہو گئ تھی۔۔۔ چہرء کی رنگت متغیر تو دادا تو نگہت بیگم کی بھی ہو گئ تھی جو ان مہمانوں کی یہاں آمد کے مقصد سے ہی نابلد تھے۔۔۔ جانتے ہوتے تو کبھی ایسی جگہ پر یوسف کی موجودگی یقینی نا بناتے کیونکہ وہ یوسف کی آئتل کے لئے ؃دیوانگی سے اچھے سے واقف تھے۔
بات دراصل یہ ہے بیٹا کہ آئتل کا رشتہ بچپن سے ہی یوسف کیساتھ طے ہے۔۔۔تقرہباً یہ بات سبھی کے علم میں ہے شاید آپ تک یہ اطلاع نا پہنچ پائی اس لئے آپ یہاں پر سوالی بن کر آ بیٹھے۔۔۔۔ لیکن ہمارا آئتل بیٹی کی باہر شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔ دادا نے بڑے سبھاو سے اس اتھرے ہوئے گھوڑے کو نکیل ڈالتے بات کو سنبھالنا چاہا ۔۔۔۔۔
 ارے نہیں بھائی صاحب یہ بات ہمارے علم میں ہے لیکن کیونکہ یوسف اور آئتل کی شادی یا نکاح نہیں ہوا محض بات چیت ہی طے ہے نا وہ تو ختم بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔
لہذا میرے بیٹے سے زیادہ آیتل کو کوئی خوش نہیں رکھ سکتا اس لئے آپ اس بارے میں سوچ کر دیکھیں ۔۔۔ وہ عورت بنا یوسف کے تاثرات دیکھے اپنی ہی بولی جارہی تھی دادا نے مٹھیاں بھینچتے کن اکھیوں سے یوسف کی جانب دیکھا جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیتا ۔۔۔۔ 
تم ابھی تک یہاں پر کھڑی کیا دیکھ رہی ہو کیا۔۔۔ ابھی بھی کوئی کسر ہے کچھ  دیکھنے یا سننے کی فوراً یہاں سے باہر جاؤ ۔۔۔ آیتل کو دیکھتا یوسف بولا نہیں تھا بلکہ پھینکا رہا تھا اس کی آواز میں ازدھوں سی پھنکار تھی آئتل نے آج تک اس سے اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔ 
اس کا دل سوکھے پتے کی مانند کپکپانے لگا تھا بے جان ھوتے جسم کو گھسیٹتی گرتی پڑتی  وہ سرعت سے وہاں سے باہر نکلی کہ اگر ابھی بھی وہاں سے نا جاتی تو کچھ بعیدنا تھا کہ یوسف اسے گھسیٹتے ہوئے خود باہر لیجاتا عمران کی نگاہوں سے دور کر دیتا۔۔۔۔ 
ٹھیک ہے بھائی صاحب ہم چلتے ہیں آپ سوچ سمجھ کر ہمیں اس بارے میں جواب دیجیے گا ڈرائنگ روم سے باہر نکلتے ہوئے بھی یہ الفاظ گویا سور اسرافیل کی مانند آئتل کے کانوں میں پھونک دیے گئے ہو ۔۔۔ اسے اپنا جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔۔ مہمانوں کے جانے کے بعد اب ڈرائنگ روم سے یوسف کے چلانے اور چیزوں کو ٹھوکروں کی زد پر رکھنے کی آوازیں  وہ کچن کے دروازے میں کھڑی بآسانی سن رہی تھی۔۔۔
اس نے آج تک یوسف کو کبھی  غصے میں آپے سے باہر ہوتے نہیں دیکھا تھا لیکن وہ اس کے بارے میں اتنا ہی حساس تھا کہ اپنی سدھ بدھ تک کھو جاتا تھا۔۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے مہمانوں کو دوبارہ سے گھر کے اندر داخل ہونے دینے کی ۔۔۔۔ مجھے تو حیرت ہورہی ہے کہ آپ لوگ ان کی فضولیات سننے کے باوجود اتنے تحمل سے کیسے بیٹھے ہیں ۔۔۔
کیسی باتیں کر رہے ہو یوسف بیٹا جس گھر میں بیری ہو وہاں پتھر تو آتے ہی ہیں اس میں اتنا جلال میں آنے کی بھلا کیا ضرورت ہے دادا نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی باتوں کا الٹا ہی اثر ہوا تھا۔۔۔
ہاں میں ہی پاگل ہونا جو بکواس کر رہا ہوں ۔۔۔ باقی سب ٹھیک ہیں۔۔۔لگوائیے لائن یہاں۔۔۔۔روزانہ بلوائیے رشتے والوں کو کہ آ کر وہ میری منگیتر کے لیے پرپوزل پیش کریں اور میں بے غیرتوں کی طرح یہاں پر بیٹھا سب دیکھتا رہوں ۔۔۔۔ درمیانی میز پر پڑا گلدان اٹھا کر اس نے پوری قوت سے زمین پر مارا تھا جس سے وہ گلدان ٹکروں میں بٹتا جا بجا زمین پر بکھر چکا تھا ۔۔۔۔دروازے کو ایک ڈھار سے بند کرتا وہ ڈرائنگ روم سے نکلا اور پھر بنا کسی کی جانب دیکھے گھر سے بھی نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔ جبکہ آیتل اپنے اندر اتنی ہمت بھی مفقود پاتی تھی کہ اسے اتنے غصے میں باہر جانے سے روک سکتی وہ آپنے بے جان ہوتے جسم  پر مزید کھڑی نا رہ سکنے کے باعث وہیں کچن کے دروازے کیساتھ لگتی زمین پر بیٹھ گئ۔۔۔ جابجا آنسو سرخ کندھاری گالوں پر بہتے اپنے نشان چھوڑتے جا رہے تھے۔۔۔ آئتل کا دل شدت سے کسی انہونی کے ڈر سے کپکپا رہا تھا۔
*****
Sorry for the short epi but somthing is better then best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook

          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4