Hala novel 2nd episode by Umme Hania online reading
Hala novel 2nd episode by Umme Hania
Hala is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hala is a love story by Umme Hania of a strong person based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "ہالا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
"ہالا"
" قسط"
ہالا۔۔۔۔۔
ارے دریاب نہیں آیا ابھی تک کیا۔۔۔ پیور کے نفیس سے سوٹ میں ملبوس تیکھے نقوش اور صاف رنگت
کی حامل زہرہ بیگم نے ڈائینینگ ٹیبل کے پاس پہنچتے اپنی کرسی سمبھالنے سے پہلے وہاں دریاب کی غیر موجودگی محسوس کر کے پریشانی سے پانی گلاس میں انڈیلتی زرش سے پوچھا۔۔۔۔ وہ اپنے اکلوتے سپوت کے لئے اتنی ہی حساس تھیں ۔۔۔ انکے بچے انکی کل کائنات تھی انکی زندگی کا محور۔۔ جسکے گرد انکی ذات گھومتی تھی۔۔۔ اب بھی باہر موسم کے حالات دیکھتے وہ لمحوں میں پریشان ہو اٹھی تھی ۔۔۔ موسم کی خرابی میں دوپہر والی شدت تو مفقود تھی البتہ گن گرج و چمک ابھی تک جاری تھی۔۔۔۔بھائی آ چکے ہیں گھر امی زرش نے سالن کا باول اور چاولوں کی ڈش اٹھا کر ماں کے سامنے رکھی۔۔۔۔ آچکا ہے گھر تو ڈنر کرنے کیوں نہیں آیا۔۔۔ پلیٹ میں انکا چاول ڈالتا ہاتھ ساکت ہوا تھا ۔۔۔ کیونکہ ہمیشہ دریاب گھر آنے کے بعد سب سے پہلے ماں کو ہی سلام کرنے آتا تھا لیکن آج ماں کے پاس آنا تو دور انہیں دریاب کے گھر آنے تک کی خبر ہی نا ہو سکی تھی۔۔۔ شاید بھائی کی طبیعت ٹھیک نہیں امی ۔۔۔ جب سے آئے ہیں کمرا نشین ہو کر بیٹھے ہیں۔۔ زرش اپنے ازلی لاپروہ اور کھلنڈری انداز میں کندھے اچکاتی گویا ہوئی۔۔۔
کس کی طبیعت ٹھیک نہیں اور کون گوشہ نشین بنا بیٹھا ہے۔۔۔ تبھی کمال صاحب نے وہاں آتے سربراہی کرسی سمبھالتے بیٹی کی بات اچکی۔۔۔ دوپہر میں دریاب کے نکاح کے بعد وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آئے تھے۔۔۔ سارا وقت وہ ہسپتال کے کمرے میں ماں کے سرہانے ساکت و جامد اور پتھرائی آنکھوں سمیت بیٹھی نور کے پاس اسے حوصلہ دیتے اور اسکی دلجوئی کرتے رہے تھے۔۔۔ اب بھی کچھ دیر پہلے وہ اس سے اپنے نمبروں کا تبادلہ کرتے بروقت ضرورت بلاجھجھک ان سے رابطہ کرنے کی نصیحت کرتے گھر آئے تھے ارادہ کل صبح پھر سے وہاں جانے کا تھا۔۔۔ گھر آنے کی ایک بڑی وجہ دریاب تھا وہ جانتے تھے کہ جن حالات میں اسکا نکاح ہوا ہے یقیبی طور پر وہ مینٹلی بہت دسٹرب ہو گا اور یقینی طور پر انکے خدشات درست تھے۔۔۔
بھائی کی بات کر رہی ہوں بابا۔۔۔ جب سے آئے ہیں کمرے میں بند ہیں۔۔۔۔ انکے خدشات پر یقین کی مہر ثبت ہو چکی تھی۔۔۔ میں اسے دیکھتا ہوں۔۔۔ کچھ پل خاموش رہنے کے بعد وہ ایک گہرا سانس خارج کرتے گویا ہوئے۔۔۔
نہیں آپ کھانا کھائیں میں اسے دیکھتی ہوں۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کھڑے ہوتے زہرا بیگم انہیں ٹوکتی خود اپنا کھانا وہیں چھوڑے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں اب انکا رخ دریاب کے کمرے کی جانب تھا جبکہ کمال صاحب کے چہرے پر گہری سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔
_____________
ہسپتال کی اس یخ بستہ فرش پر آدھی رات کے وقت سر اپنے رب کے حضور میں جھکائے ایک وجود آہستہ آہستہ لرزتا ہچکولے کھا رہا تؑھا۔۔۔ پاس ہی بیڈ پر نالیوں میں جھکڑا ہر جذے و احساس سے عاری وجود محو استراحت تھا۔۔۔
آسے کافی دیر اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے گزر چکی تھی جب کسی کی کراہوں کی آواز پر اسکا اپنے رب سے راز و نیار کا سلسلہ منسوخ ہوا اور وہ تیر کی سی تیزی سے سیدھی ہوتی حواس باختہ سی اس وجود کے پاس آئی۔۔ جو اب درد سے ٹرپتی اپنے ہاتھوں پر لگی نالیوں کو کھینچتی اسکے قابو میں نہیں آ رہی تھیں۔۔۔
امی۔۔۔ امی کیا ہوا۔۔۔۔ کیا بہت درد ہو رہا ہے آپکو۔۔۔ آنسو لگاتار اسکے چہرے کو بگوتے اسکے ماں کے چہرے کو بگو رہے تھے۔۔۔ وہ ماں پر جھکی پوری قوت سے ماں کے دونوں بازو قابو کئے کھڑی تھی۔۔۔ ماں کی یہ حالت دیکھ کر خود اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ سینے میں موجود ننھا سا دل کپکپا اٹھا تھا۔۔۔
نور اب یہ تکلیف برداشت نہیں ہوتی میرے بچے۔۔۔ بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔ ماں کی کرب زدہ آواز سن کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔ وہ انتہا تھی بے بسی کی جب جان سے پیاری ماں جو اپنی ہر چیز پر بیٹی کی خواہش کو ترجیح دیتی آئی تھی آج اسکے سامنے اذیت و تکلیف میں تھی لیکن وہ انکے لئے کچھ کر نہیں پا رہی تھی۔۔۔ آج کل اسکی واحد جائے پناہ اسکے رب کے حضور تھی وہ اس رب سے اپنی ماں کی زندگی مانگ رہی تھی گڑگڑا کر ایریاں ڑگر ڑگر کر۔۔۔ اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ اسنے اپنی زندگی میں کسی چیز کے حصول کے لئے اتنی شدت سے دعا کی ہو جتنی شدت سے وہ آج کل دعا مانگ رہی تھی۔۔۔ آج کل اسے دعا مانگنے کے لئے رونا نہیں پڑتا تھا بلکہ ماں کی اذیت دیکھتے اسکے آنکھوں کے سوتے دن رات خشک ہوتے ہی نا تھے۔۔۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہی محض آنکھ نم نہیں ہوتی تھی بلکہ دل کے نہاں خانوں سے ماں کی تندرستی کے لئے لفظ لفظ اذیت میں ڈوبا دل چیر کر نکلتا تھا فریادیں اور التجائیں۔۔۔سسکیاں اور آہیں کہ کسی نا کسی طرح اس ذات کو راضی کر کے ماں کی اذیت میں کمی کروالی جائے۔۔۔
لیکن ناجانے کونسی حکمت آرے تھی جو اسکی سمجھ سے بالاتر تھی کہ مسلسل دعاوں کے باوجود اسکی ماں کی طبیعت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی۔۔ لیکن اللہ نے اسکے لئے کمال صاحب کی صورت ایک بہت بہترین وسیلہ بنایا تھا کمال صاحب اسکی زندگی میں ایک فرشتہ ثابت ہوئے تھے کہ وہ جو کل تک ماں کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھاتی پھر رہی تھی آج شہر کے سب سے بہتریں ہسپتال میں ماں کے ساتھ موجود تھی جہاں ڈاکٹرز کی پوری ٹیم ہمہ وقت اسکی ماں کے علاج کو موجود تھی۔۔۔ جہاں کل تک اسے اس بے رحم معاشرے میں اپنی عزت کے لالے پڑے تھے وہیں آج کمال انکل کی بدولت وہ ایک تحفظ محسوس کر رہی تھی گو کے انکل کے سنجیدہ اور سڑیل بیٹے سے نکاح جیسے انمول بندھن میں بندھ جانے کے باوجود اسنے کوئی توقعات وابسطہ نا کی تھی لیکن کمال انکل کی موجودگی سے اسے بہت ڈھارس ملتی تھی۔۔۔
ماں کی بگڑتی طبیعت کے باعث راونڈ پر موجود ڈاکٹر نے فورا سے انہیں کچھ انجیکشنز لگائے تھے انکی بیماری اتنی بڑھ چکی تھی کہ اب ان پر پین کلرز اثر نہیں کرتے تھے بلکہ انکی درد کی شدت کو کم کرنے کے لئے انہیں نیند کے انجیکشن لگائے جاتے تھے۔۔۔
انجیکشن لگتے ہی انکا جسم ایک بار پھر سے بے جان ہوتا ساکت ہو گیا تھا۔۔۔ نور باری باری انکے ہاتھوں اور پھر ماتھے کا بوسہ لیتی وہیں انکے پاس ہی بیٹھ کر موبائل پر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی تِھی کیونکہ نیند تو اسکی ویسے ہی اڑ چکی تھی
______
یہ لو محترمہ چائے پیو۔۔۔۔ گھنے سیاہ سلکی بالوں کی آبشار کمر پر پھیلائے۔۔۔ شانوں پر سلیقے سے آنچل اوڑھے وہ فارغ ہو کر ابھی اپنے کمرے میں آئی ہی تھی جب یوسف پیچھے ہی دو کپ چائے ٹرے میں رکھے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
ارے آپکو کیسے پتہ چلا کہ مجھے ابھی چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔۔۔۔ آواز پر خوشگوار حیرت لئے فورا پلٹی۔۔۔۔ بالوں کی آبشار جھٹکے سے پلٹنے پر بکھر کر کچھ آگے آئی تھی جہاں سے ابھی تک پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔۔ وہ غالباً ابھی نہا کے آئی تھی۔۔۔ تھکن اسکے چہرے سے ہی ہوادیدہ تھی۔۔۔۔ دو قدم آگے آ کر اسنے جھٹ سے ٹرے سے کپ اٹھایا اور بیڈ کی پائنتی پر بیٹھتی چائے کی چسکیاں لینے لگی۔۔۔۔ یوسف بھی وہیں اسکے مقابل صوفے پر ٹک گیا۔۔۔
بہت تھک گئ ہو نا۔۔۔ اسکے تھکن زدہ چہرے کو دیکھتے استفسار کیا۔۔۔
ؑہہہتتتتت۔۔۔ بہت کو خاصا لمبا کھینچا۔۔۔۔ آپکو پتہ ہے جس دن گھر کے باقی کاموں میں مشین لگانے کا کام بڑھ جائے اس روز میں ایسے ہی تھک جاتی ہوں پر پتہ ہے کیا ابھی تھکاوٹ کی وجہ اب تک کئے جانے والے کام نہیں بلکہ شام کو آنے والے مہمان ہیں۔۔۔ وہ بات کرتی چہرے کے زاویے بناتی بیزار سے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔ مطلب مہمان تو رحمت ہیں لیکن آ بہت غلط وقت پر رہے ہیں صبح آ جاتے نا ابھی تو میں اتنا تھک چکی ہوں۔۔۔ انکی خاطرمدارت کیسے کروں گی۔۔۔ مامی کی طبیعت کا بھی آپکو پتہ ہی ہے اب انہیں تو کچن میں چولہے کے پاس جانے نہیں دے سکتی نا۔۔۔ اسنے فورا سے اپنی بات کی صفائی پیش کی مبادا یوسف غلط مطلب ہی نا لے لے۔۔۔۔ آخر تھے بھی تو اسکے ننھیالی مہمان۔۔۔۔
تمہیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے آئتل تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔۔۔ اسکی جلدبازی میں دی جانے والی وضاحت پر وہ بے ساختہ مسکراتا اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا۔۔۔ اسکی اسی معصومیت پر ہی تو وہ فدا ہوا تھا۔۔۔ اور یوں فدا ہوا تھا کہ وہ پھولوں سی معصوم اور پاکیزہ لڑکی اسکی نس نس میں بسنے لگی تھی۔۔۔ اسکے دن کی شروعات عائتل کو دیکھ کر ہوتی تھی اور دن کا اختتام بھی اسی پر ہوتا تھا۔
اسنے اس چھوٹی سی ڈری سہمی سی بچی کو جو ماں باپ کو اکھٹے کھو دینے کے بعد اس دنیا کے میلے میں بولائی بولائی سی اور حراساں سی پھرتی تھی اسے ہاتھ پکڑ کر اسکے ہر خوف سے باہر کھینچ کر لایا تھا۔۔۔ عائتل فطرتاً صلح جو خاموش طبیعت اور جلد پسپائی اختیار کر جانے والی لڑکی تھی۔۔۔
یوسف کی صورت اسے اسکا بیسٹ فرینڈ ملا تھا جس سے وہ دل کی ہر بات بلاجھجھک کہہ جاتی تھی۔۔۔ لیکن جو اگر کبھی یوسف کو غصہ آ جاتا تو آئتل کی جان پر بن آتی تھی۔۔۔ جب تک اسے منا نہ لیتی وہ سکون سے نا بیٹھ سکتی تھی۔۔۔ وہ اسکے ناراض ہونے سے ڈرتی تھی وہ اسے کھونے سے ڈرتی تھی۔۔ یوسف کے دم سے اسکی زندگی میں دوسراہٹ کا احساس تھا ورنہ وہ بہت لئے دیئے رہنے والی لڑکی تھی۔۔۔
اچھا چلو ایک کام کرتے ہیں مہمانوں کے ضیافت کا انتظام دونوں مل کر کرتے ہیں۔۔۔ جو جو بنانا ہے بتاو آج دونوں مل کر بنائیں گے۔۔۔ اسکے شگفتہ کھلتے گلاب کی مانند چہرے کی جانب دیکھتے اسنے محبت سے کہتے چٹکیوں میں حل پیش کیا تھا۔۔۔
ایسی پیش کش وہ اکثر اسے کرواتا رہتا ہے اگر وہ کپڑے دھو رہی ہوتی اور یوسف گھر ہوتا تو وہ اسکے دھلے ہوئے کپڑے تاروں پر پھیلاتا جاتا تھا۔۔ اگر وہ برتن دھو رہی ہوتی تو دھلے ہوئے برتن ریک میں سیٹ کردیتا۔۔۔۔ وہ صفائی کرتی ہوتی تو بنا کہے ہی ڈسٹنگ کا سارا چارج خود سمبھال لیتا۔۔۔ آئتل کو بھی اب اسکی ان عنایات کی عادت ہوتی جا رہی تھی اسی لئے وہ بھی اب انہیں حق سمجھتے وصولتی تھی۔۔
کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔ آئتل کو ابھی تک یونہی مدھم مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے خود کو تکتا پا کر وہ ایک بھنور اچکاتا مستفسر ہوا۔۔۔
ہمیشہ میرے ساتھ ایسے ہی رہیں گے نا بدل تو نہیں جائیں گَے۔۔۔
وہ شریر مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے شرارت سے گویا ہوئی کیونکہ جواب اچھے سے جانتی تھی۔۔۔
خادم جان سے جائے مگر زبان سے نا جائے ۔۔۔حسب توقع وہ کورنش بجا لاتا ایک ادا سے گویا ہوا تو کمرے میں آئتل کی ہنسی کی جھنکار گھونج اٹھی۔۔۔
چلو جلدی کرو بہت کام ہے۔۔۔ نسرین ممانی آتی ہی ہونگی۔۔۔ وہ اسکی شفاف ہسی سے نظریں چڑاتا اسکے سر ہر چیت رسید کرتا خود اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ آئتل بھی اسکی تقلید میں سرپٹ باہر کو بھاگی۔۔۔
_____
کیا بات ہے دریاب بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے آپکی۔۔۔ آپ باہر کھانا کھانے بھی نہیں آئے۔۔۔ زہرہ بیگم نے دریاب کے کمرے کا دروازہ دھکیلا تو ایئر کندیشنر کی کولنگ کیساتھ گھپ اندھیرے نے انکا استقبال کیا انہوں نے اندر بڑھ کر اندازے سے دروازے کے پیچھے موجود سوئچ بورڈ کے بٹن دبائے تو یکدم ہی کمرا روشنیوں میں نہا گیا۔۔۔ دریاب اندھیرا کیے بیڈ پر بازو آنکھوں پر رکھے نیم دراز جانے مستقبل کی کن سوچوں کے تانے بانے بننے میں مصروف تھا ۔۔۔ اس اچانک افتاد پر اسنے بازو آنکھوں پر سے ہٹایا تو تیز روشنی کے باعث آنکھیں چندھیا گئ۔۔۔
ماں کو دیکھتا وہ کسلمندی سے اٹھ بیٹھا۔۔۔
کیا ہوا بیٹا۔۔۔خیریت۔۔۔ مجھے آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔ زہرہ بیگم نے پریشانی سے اسکے پاس بیٹھتے اسکی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھتے اسکے ماتھے کو چھوا۔۔۔ دریاب بچے آپکو تو بخار ہے انکی فکرمندانہ آواز سن کر دریاب آنکھیں موندتے انہی کی گود میں سر رکھتا نیم دراز ہو گیا۔۔۔ جانے کیسی طمانیت تھی جو اسے ماں کی آغوش میں آ کر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ یہ گلٹ تھا جو ماں کو بنا بتائے نکاح کرنے کی صورت اسے اندر ہی اندر کچوکے لگا رہا تھا یا ہالا کو کھو دینے کا دکھ اندر ہی اندر اسے کھا رہا تھا۔۔۔ وہ ذہنی طور پر اسقدر ڈسٹرب تھا کہ کچھ سوچ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔
امی سر درد ہو رہا ہے۔۔۔ زہرا بیگم کی گود میں سر رکھے وہ لمبا چورا مضبوط ڈیل ڈول کا حامل شخص اس وقت ایک چھوٹا معصوم سا بچہ لگ رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔
اٹھو پہلے کچھ کھاو پھر بخار کی دوائی لو زہرا بیگم نے محبت سے اسکے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے کہا۔۔
مجھے بھوک نہیں۔۔۔
اگر بھوک نہیں تو پھر دودھ کے ساتھ کچھ اسنیکس لے لو۔۔۔۔ زرش بھائی کے لئے گرم دودھ لاو۔۔ ہنوز اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے انہوں نے زرش کو وہیں سے آواز لگائی۔۔۔
بھئ ماں سے لاڈ اٹھوائے جا رہے ہیں۔۔۔ کمال صاحب نے بھی کھانا برائے نام ہی کھایا تھا بیٹے کی فکر میں وہ بھی جلد ہی اسکے کمرے میں آئے۔۔
ارے کیا ہوا میرے شیر کو۔۔ انہوں نے بیڈ کے پاس آتے اسکا کندھا تھپتھپا کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔ دریاب خاموشی سے انہیں دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ باپ کا پراطمیناں طرزعمل اسے اندر تک شانت کر گیا تھا۔۔ لیکن باپ کی خواہش پوری کرتے وہ ماں کو ناراض کر گیا تھا جو پچھلے دو سال سے اسکی شادی کے خواب دیکھ رہی تھیں۔۔ وہ عجیب دوراہے پر آ کھڑا ہوا تھا
_______
جاری ہے
No comments