Hala novel 1st episode by Umme Hania online reading
Hala novel 1st episode by Umme Hania
Hala is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hala is a love story by Umme Hania of a strong person based upon a beautiful lesson
Online Reading
ناول "ہالا"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
حالا
پہلی قسط
دریاب ایک بیٹا باپ کا مان ہوتا ہے۔۔۔ تم میرے بیٹے ہی نہیں میرے بہتریں دوست اور پرخلوص ہمراز بھی ہو آج تمہارا باپ تم سے کچھ مانگے تو خدارا منع مت کرنا۔۔۔ تمہارا باپ اس وقت بہت مجبور ہے بیٹا وقت بھربھری ریت کی مانند میرے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے ۔۔۔ یہ دیکھو بچے میرے جڑے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لو آج اس بچی سے نکاح کر لو۔۔۔ گلوگیر لہجے میں کہتے کمال صاحب نے حقیقتاً اپنے کڑیل جوان بیٹے کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔۔۔۔
ایک پہاڑ تھا جو دریاب کے سر پر ٹوٹا تھا۔۔۔۔ مختل ہوتے حواسوں کیساتھ اسنے تڑپ کر عزیز از جان باپ کے ہاتھوں کو تھامتے انہیں کھولا ۔۔۔۔
نہیں بابا جان پلیز آواز کپکپا گئ تھی۔۔۔
آج یہاں آنے سے پہلے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے اس کے باپ نے اسے کیوں اتنی ہنگامی صورتحال میں فون کر کے یہاں بلوایا تھا۔۔۔۔ وہ ایک ارجنٹ میٹنگ چھوڑ کر باپ کے ہنگامی بلاوے پر یہاں آیا تھا پر نہیں جانتا تھا کہ یہاں قسمت اسکے ساتھ اتنا بڑا مزاق کرے گی۔۔۔
ابھی تو اسکے چٹانوں سے سخت پتھر دل پر شگاف پڑنا شروع ہوا تھا۔۔۔ ابھی تو کسی نے نہایت آہستگی سے اسکے دل کے قفل زدہ کواروں پر دستک دینی شروع کی تھی۔۔۔ ابھی تو دل نادان نے ٹھیک سے ڈھرکنا بھی شروع نہ کیا تھا کہ دل میں کھلی محبت کی اس ننھی کونپل کو بے دردی سے نوچا جا رہا تھا اس ٹھنڈے میٹھے سے جزبے کی ننھی کونپل کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جا رہا تھا۔۔۔ دل کرلا اٹھا تھا۔۔۔ آنکھیں یک لخت سرخی مائل ہو اٹھیں تھیں۔۔۔ لب سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کئے وہ جیسے قسمت کی اس ستم ظریفی کو سمجھنے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
ایک طرف محبت تھی تو دوسری طرف جان سے پیارے باپ کا التجائیہ بے بس لہجہ۔۔۔ وہ کیا کرتا۔۔۔ کسے چنتا۔۔۔۔ یہ زندگی نے اسے کس دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔۔۔۔ فیصلہ مشکل تھا اور وقت کم۔۔۔ اسے لگا کوئی اسکے دل کو تیز دھار آڑی سے چیر رہا ہو۔۔۔ دل کا درد ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا بابا۔۔۔۔آواز کپکپا اَٹھی تھی جیسے دنیا جہاں کا کرب وہیں آ سمٹا تھا۔۔۔
وہ باپ کی فرمابردار ترین اولاد تھا ایک بار پھر سے اسنے محبت پر باپ کے مان کو ترجیح دی تھی۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے دل کی دنیا کو اجاڑ کر اسے ویران کر ڈالا تھا ۔۔۔ کیا اب اس دل میں کوئی دوسرا سما سکتا تھا بھلا۔۔۔
پر بابا۔۔۔ امی۔۔۔۔وہ حقیقت شناس تھا اس لئے دل کے غم کے بعد حقیقت میں لوٹتا باپ کی توجہ ایک اور اہم مسلے کی جانب دلوا گیا۔۔۔
اسے میں ہینڈل کر لوں گا بیٹا۔۔۔ آپ اسکی فکر مت کریں۔۔۔ بیٹے کی رضا مندی پر کمال صاحب کے چہرے کی رونق بحال ہو اٹھی تھی وہ اسکا کندھا تھپتھپاتے بشاشت سے گویا ہوئے۔۔۔
باہر بادلوں کی گھن گرج جاری و ساری تھی دوپہر میں ہی باہر سیاہی مائل بادلوں اور گھنگور آندھی کے باعث رات کا سماں لگ رہا تھا۔۔۔ دریاب کو لگا ایسی ہی سیاہ رات اسکی قسمت میں بھی نصب ہونے والی ہے۔۔۔
باہر ابر کرم ٹوت کر کر برس رہا تھا ایسا ہی کچھ موسم دریاب کے اندر بھی تھا۔۔۔ سائیں سائیں کرتے دماغ کیساتھ اسنے نکاح نامے پر دستخط کئے۔۔۔ گھٹن کا -احساس بڑھنے لگا تھا وہ اب جلد از جلد یہاں سے فرار چاہتا تھا اس لئے نکاح کے بعد باپ کے بارہا اسرار پر بھی وہ وہاں رکا نا تھا بلکہ بنا موسم کی شدت کی پرواہ کئے ایک نگاہ غلط بھی کمرے کے کونے میں سکڑے سمٹے بیٹھے وجود پر ڈالے بنا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
ہالا۔۔۔۔ زبان بولنے سے انکاری تھی مگر دل بار بار اسی ایک نام کی مالا جپ رہا تھا۔۔۔
اسکے کمرے سے نکلتے ہی بے جان بت کی مانند بیٹھے وجود کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کے اسکی گال پر پھسلا تھا۔۔۔ کسی کی زندگی میں ان چاہا وجود بن کر جانا بھی بہت پراذیت ہوتا ہے اور آج اس اذیت کو شدت سے محسوس کیا تھا نور نے نا جانے آگے اسکی قسمت میں کیا تھا لکھا۔
********
کیا ہو رہا ہے۔۔۔ یوسف نے کچن میں داخل ہوتے ہی کچن شلف پر فائل رکھتے فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالتے وہیں کھڑے کھڑے اسے منہ سے لگایا۔۔ عائتل نے آٹا گھوندتے اسے مڑ کر دیکھا جسکا چہرا گرمی کی تمازت سے دہک رہا تھا سرخ و سپید رنگت پر سرخیاں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔ عائتل نے ایک بھرپور نگاہ اسکے وجیہہ سراپے پر ڈالی جو قدرت کا ایک شاہکار ہی معلوم ہوتا تھا۔۔۔ چہرے کے تیکھے مغرور نقوش اس وقت خاصے تناو کا شکار تھے ماتھے پر کھینچا جابجا شکنوں کا جال اسکے آج پھر سے نامراد لوٹ آنے کی نشاندہی کر رہا تھا۔۔۔
کیا بنا انٹرویو کا۔۔۔ اسکا چہرا ساری کہانی سنا رہا تھا مگر پھر بھی عائتل نے آٹا گھونڈ کر فریج میں رکھتے جی کڑا کر کے پوچھا۔۔۔۔
کیا بن سکتا ہے اس ملک میں خالی ڈگری کا جہاں رشوت اور سفارش کا بول بولا ہو۔۔ وہ خاصا مایوس دکھائی دیتا تھا اس ملک کے نظام پر۔۔۔۔۔ عائتل بھی لب بھینچے خاموش نگاہوں سے اسے تکتی شلف صاف کرنے لگی۔۔۔۔ بولنے کو جیسے کچھ بچا ہی نا تھا۔۔۔ خاموشی کا ایک طویل وقفہ در آیا تھا دونوں کے درمیان۔۔۔ دریاب اگر پریشان تھا تو عائتل بھی لمحوں میں ساری جوڑ توڑ کرتی گم صم رہ گئ تھی۔۔۔۔ جو بھی تھا وہ ہر حال میں صابرو شاکر رہنے والی لڑکی تھی۔۔۔
امی کیا کر رہی ہیں۔۔۔ طویل ہوتے خاموشی کے دورانیے کو دریاب کی آواز نے توڑا تھا۔۔۔ سو رہی ہیں۔۔۔ ضبط کی حدود کو چھوتی پست سی آواز گھونجی۔۔۔۔
عائتل صبح امی غصے میں تھیں تم پلیز انکی کسی بات کا برا نا منانا تم جانتی ہو نا کہ۔۔۔۔
میں مامی کی کسی بات کا برا نہیں مناتی۔۔۔ حیرت ہے آپ نے ایسا سوچا بھی کیوں۔۔۔۔ سنک سے ہاتھ دھو کر وہ پلٹی ہی تھی جب دریاب اسکے قریب آتا گویا ہوا لیکن اسکی بات کاٹ کر الٹا تعجب سے استفسار کرنے پر وہ شش و پنج میں مبتلا ہو اٹھا تھا اسکا مضحمل سے انداز دیکھتے وہ یہ ہی سمجھا تھا کہ وہ امی کے صبح کے رویے کے باعث گم صم ہے ۔۔۔ پھر اتنی پزمردہ کیوں لگ رہی ہو۔۔ وہ مزید دو قدم اسکے قریب ہوتا اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں چہرے پر مسکراہٹ سجاتے اسنے خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرنا چاہا۔۔۔۔ عائتل بچے آج کھانا مل جائیگا نا۔۔۔۔ جی نانا بس ابھی لائی۔۔۔ آواز پر وہ ہڑبڑا کر پلٹتی ریک سے باول اٹھا کر اس میں نانا کا پرہیزی کھانا ڈالنے لگی۔۔۔۔ ساتھ ہی اسنے روٹیاں بنانے کی غرض سے توا چولہے پر رکھتے چولہا جلایا۔۔۔
لاو یہ میں لیجاتا ہوں تم آرام سے روٹیاں بنا لو۔۔۔۔ یوسف نے اسے کچن سے باہر جانے سے روکتے اس کے ہاتھ سے باول تھاما جو وہ نانا کو دینے جا رہی تھی اور خود باہر نکل گیا۔۔
*****
جب سے اسنے نکاح نامے پر دستخط کئے تھے تب سے ہی ایک عجیب سی ویرانی اسکا احاطہ کئے ہوئے تھی۔۔۔ دوپہر سے رات کے نو بجنے کو آئے تھے۔۔۔ مگر وہ ابھی تک ویسے ہی اپنے آفس میں براجماں مسلسل درد کرتے سر کو تھامے بیٹھا تھا۔۔۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہوتی چلی جا رہی تھیں۔۔۔۔
کاش اس کے باپ نے اسکے ساتھ اس نکاح کے حوالے سے کوئی زور زبردستی یا دھونس جمائی ہوتی تو وہ کبھی انکی بات نا مانتا۔۔۔ ہر حال میں اپنی محبت کے لئے سٹینڈ لیتا لیکن یہ ہی تو بات تھی اسکے باپ نے اس پر اپنا حکم صادر نہیں کیا تھا بلکہ التجا کی تھی ایسی التجا اور مان بھرا لہجہ کہ وہ شدید خواہش کے باوجود بھی باپ کو انکار نا کر پایا تھا۔۔۔ لیکن اس دل کا کیا کرتا جو اسکی کوئی بھی بات سننے کو تیار ہی نا تھا وہ کوئی ٹین ایجر لڑکا نا تھا جو وقتی دل لگی کو دل کا روگ بنا لیتا نا ہی وہ حسن پرست تھا ہوتا تو سحرش جیسی طرحدار لڑکی جو ہمہ وقت اسکی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی مانند گرنے کو تیار تھی اسے مسلسل نظر انداز نا کرتا۔۔۔۔
پوری زندگی میں پہلی مرتبہ اسکا دل کسی کی جانب کھینچا تھا اس دل نے کسی کی تمنا کی تھی کسی کو اپنانے کی چاہ کی تھی ہالا کی جانب متوجہ وہ اسکی ذہانت اپنے کام میں یکسوئی اور ایمانداری کی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔
وہ جس کام میں ہاتھ ڈالتی ایسے ایسے آئیڈیاز اور تخلیقی کام کرتی کہ دریاب دھنگ رہ جاتا۔۔۔ زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی نے اسے متاثر کیا تھا اور اتنی بری طرح متاثر کیا تھا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ مزید اسکی جانب کھنچتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ دل نادان ہر دم اسکے ساتھ کی تمنا کرنے لگا تھا۔۔۔ ہالا بہت لئے دیئے رہنے والی لڑکی تھی اسکا گریز اسکا اپنے کام سے کام رکھنا باتوں میں کھڑا ہونا اور حق بات منہ پر مارنے کی عادت دریاب کو اسکے بارے میں مزید پر تجسس بناتی تھی۔۔۔۔ عہد و پیمان یا وعدے وعید دونوں جانب سے نا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود دریاب کو اس سے بات کر کے اچھا محسوس ہوتا تھا۔۔۔ دونوں میں شروعات میں عام رسمی گفتگو کے سوا کوئی بات نا ہوتی تھی لیکن اسکی شخصیت سے متاثر ہو کر دریاب نے اس کے بارے میں مزید جاننے کی غرض سے کام کا لبادہ اوڑھا کر اس سے چھوٹے چھوٹے سوالات پوچھنے شروع کئے اب صورتحال یہ تھی کہ دریاب کو اس سے بات کئے بنا چین نا آتا تھا اور ہالا وہ خود سے شروعات نا کرتی تھی لیکن دریاب کی بات کرنے پر اسے ٹوکتی بھی نا تھی۔۔۔۔ ایک دوستی کا رشتہ دونوں میں پروان چڑھ چکا تھا لیکن اس سے زیادہ دونوں نے ایک دوسرے سے نا تو اظہار کی خواہش ظاہر کی اور نا ہی اقرار کی
مگر اب دریاب کو لگ رہا تھا کہ سوچ سوچ کر اسکے دماغ کی شریان پھٹ جائے گئ ۔۔ ہالا سے بات کرنے کی شدید خواہش کے باوجود وہ دکھی دل کیساتھ آفس سے اٹھ گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ آگے ایک محاز تھا جو اسے سر کرنا تھا۔۔۔ گھر میں اسکی ماں کو جو اسکے یوں نکاح کا علم ہوتا تو جو طوفان اٹھتا اسکا انداہ وہ ابھی سے لگا سکتا تھا۔۔
******
آئتل کہاں ہے۔۔۔ کھانے کے دسترخواں پر صرف یوسف اور نگہت بیگم کو بیٹھے دیکھ پاس ہی براجمان کرسی پر صبح کا اخبار پڑھتے نظیر احمد نے کڑک لہجے میں ماتھے پر بل ڈالے استفسار کیا۔۔۔
ماں کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے یوسف کے ہاتھ بے طرح ٹھٹھکے تھے۔۔۔ وہ بس آ رہی ہے دادا آخری روٹی سینک رہی تھی۔۔۔ یوسف سالن کا باول نیچے رکھتا آہستگی سے گویا ہوا۔۔۔
اب اگر بچی کے ماں باپ نہیں رہے اور وہ یتیم نانا کے در پر آں پڑی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ جب جسکا دل چاہیے اسے جھاڑ کر رکھ دے میں اسکے ساتھ یوں غیر مصنفانہ رویہ ہرگز روا نہ رکھنے دوں گا۔۔۔ نانا نے ایک کینہ توز نگاہ نگہت بیگم پر ڈالی مطلب وہ انکا صبح والا آئتل سے روا رکھے جانے والا رویہ ہرگز نا بھولے تھے۔۔۔
دادا کی بات سن کر جہاں یوسف نے لب بھینچتے کھانے سے ہاتھ کھینچے وہیں نگہت بیگم آنچل آنکھوں پر رکھتی چہکوں پہکوں رونے لگی تھی۔۔۔۔
ارے مامی کو کیا ہوا کچن سے روٹیاں لے کر آتی آئتل نے نگہت بیگم کو روتے دیکھ حیرت و تعجب سے استفسار کیا۔۔
۔ روٹیوں کو یوسف کے سامنے پڑے ہاٹ پاٹ میں رکھا اور خود گھٹنوں کے بل نگہت بیگم کے سامنے بیٹھی تعجب سے انہیں دیکھتی انکے آنسو صاف کرنے لگی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے نا بچے جب میرا بی پی ہائی ہوتا ہے تو کچھ سمجھ نہیں آتا غصے میں کیا کیا اول فول بول جاتی ہوں۔۔۔ ورنہ تم جانتی ہو نا تم تو میرے جگر کا ٹکرا ہو۔۔۔ بہتے آنسوں سمیت نگہت بیگم نے آئتل کا پھول سا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور اسکے ماتھے کا بوسہ لیتیں مزید شدت سے رو دیں۔۔۔ صبح وہ واقعی آئتل کے ساتھ غصے میں زیادتی کر گئیں تھیں جسکا احساس انہیں کچھ دیر بعد ہی ہو گیا تھا اب مزید نظیر صاحب کی باتوں نے سونے پر سہاگے کا کام کیا تھا۔۔۔ کیا ہو گیا ہے مامی آپکو صبح جو بھی ہوا اس میں غلطی میری ہی تھی مجھے پتہ ہے کہ آپ ذیابطیس کی مریض ہیں آپکو ہر دو گھنٹوں بعد کچھ کھانے کو چاہیے ہوتا ہے لیکن صبح میں وقت پر کھانا لانا بالکل بھول گئ مزید بی ہی ہائی ہونے کے باعث آپکو غصہ آ گیا اور جو کچھ آپ نے مجھے کہا وہ حق تھا آپکا مائیں بیٹیوں پر غصہ نکال ہی لیتی ہیں اس میں وضاحت دینے والی تو کوئی بات نہیں آئتل انکے ہاتھوں کا بوسہ لیتی انہیں باری باری دونوں آنکھوں سے چھو کر انکا مان بڑھا گئ تھی۔۔۔ میرے یوسف کیساتھ صرف تم ہی جچتی ہو آئتل ایسے ہی تو میں نے تمہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ نہیں کیا اللہ تم جیسی فرمابردار بیٹی ہر ماں کو دے۔۔۔ نگہت بیگم کے فرط جذبات سے کہنے پر ان دونوں کی نظریں ملیں یوسف اسکے بالکل سامنے ہی بیٹھا کھانا کھا رہا تھا نظریں ملنے پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ نے یوسف کے ہونٹوں کا احاطہ کیا جبکہ اسکی بولتی پرشوخ نگاہوں کی تاب نا لاتے آئتل نے باعجلت نظریں نیچے جھکائیں۔۔۔۔
نظیر صاحب اب مسکراتے ہوئے ان تینوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
آئتل کے والدیں کا انتقال اسکے بچہن میں ہی ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں ہو گیا تھا جس کے بعد آئتل کی ذمہ داری بھی اسکے نانا پر آ گئ۔۔۔ نگہت بیگم نے چھے سالا گول مٹول سی آئتل کی زمہ داری قبول کرتے اسے خوشی سے گلے لگایا اور اسکی حقیقی ماں بن کر دکھایا ۔۔۔ ایک تو انکی اپنی کوئی بیٹی نہ تھی دوسرا انہیں عائتل کا محض چھے برس کی عمر میں یتیم ہوجانا خون کے آنسو رلاتا تھا اس لئے انہوں نے ہر ممکن کوشیش کی کہ وہ آئتل کو کبھی ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں۔۔۔ آئتل انہیں یوسف سے بھی پیاری تھی۔۔۔ کئ بار اسکے لئے تو وہ یوسف سے بھی لڑ پڑتیں تھی۔۔۔ اور یوسف وہ تو خود بچپن سے ہی اسکا دیوانہ تھا۔۔۔
اسے اپنی یہ کزن شروع سے ہی پسند تھی لیکن جب وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انکے گھر رہنے آ گئ تو یوسف بہت خوش ہوا۔ اس وقت یوسف کی عمر بارہ سال تھی اور وہ پروانہ بنا اسکے گرد گھومتا رہتا۔۔۔ دونوں کی آپسی انڈرسٹینڈنگ اتنی بہتریں تھی کی دونوں ہی ایک دوسرے کی نگاہوں کے مفہوم کو پڑھ لیتے تھے۔۔۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ بانڈنگ مز#ید مضبوط ہوتی چلی گئ تھی۔۔۔ ان دونوں کی آپسی انڈرسینڈنگ دیکھتے ہی دونوؑں کو ایک دوسرے سے منسوب کر دیا گیا تھا جس پر وہ دونوؑں ہی دل و جان سے راضی تھے۔۔۔ یوسف کا ایم بی ایے مکمل ہو چکا تھا اور وہ پچھلے دو سال سے نوکری کے لئے جوتیاں گھسیٹ رہا تھا لیکن ابھی تک ناامید ہی تھا۔۔۔ یوسف کے مرحوم باپ کی پنشن اور دادا کی پینشن پر گھر کا گزارا ہو رہا تھا۔۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ پر مطمیئن تھے یہ جانے بنا کے قسمت کے پنوں میں کیا داستان ہے رقم کون جانے۔
________
جاری ہے

No comments