Header Ads

Guman say Agay novel 16th episode by Umme Hania online reading

  



Guman say Agay   novel 16th episode by Umme Hania


Guman say Agay is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Guman say Agah is a motivational  and encourgious story by Umme Hania of a strong person 

         Online Reading

 ناول "گمان سے آگے"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

سولہویں قسط۔
شمائل اکیڈمی سے نکل کر بنا پیچھے مڑ کے دیکھے اندھا دھند روڈ پر بھاگ رہی تھی۔۔۔ شام کا سرمئ پن تیزی سے رات کی چادر تلے دب رہا تھا۔۔۔ اسکا دماغ ابھی تک سائیں سائیں کر رہا تھا قدم رکھ کہیں رہی تھی پڑ کہیں رہا تھا۔۔۔  بنا سمت کا تعین کئے وہ بس بھاگ رہی تھی جب ٹھوکر لگنے پر زمین بوس ہوئی۔۔۔ وہ وہیں زمین پر گرے ڈھاریں مار مار کر رو دی ۔۔۔ کسی انہونی کے ڈر سے اسکا دل ابھی تک لرز رہا تھا۔۔۔ کیا اتنا ہی مشکل تھا اس بے رحم دنیا میں جینا۔۔۔
پاس سے آتی جاتی گاڑیوں کے ہارن کی آواز سن کر وہ ہوش کی دنیا میں لوٹی۔۔۔ اسے جلد از جلد ہاسٹل پہنچنا تھا یہاں رہنا بھی محفوظ نہیں تھا۔۔۔۔
بمشکل خود کو کمپوز کئے وہ اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹتی اٹھی۔۔۔
منتشر ہوتے حواسوں کو یکجا کر کے وہ جیسے تیسے کر کے ہاسٹل پہنچی۔۔۔ ہاسٹل داخل ہونے سے پہلے وہ اپنے کپڑوں کو اچھے سے جھارتی اپنے اوپر موجود چادر کو اچھے سے خود پر پھیلائے چہرے پر نقاب کرتی گویا کچھ دیر پہلے درپیش واقعے کے اثرات خود پر سے مٹا دینا چاہتی تھی۔۔۔
ہاسٹل پہنچتے ہی وہ بنا کسی سے ملے سیدھی واش روم میں گھسی تھی۔۔۔ وہ کسی کو اپنے ساتھ درپیش واقعے کی بھنک بھی نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی اسے اپنی عزت اتنی ہی عزیز تھی۔۔۔ کافی دیر بعد وہ فریش ہو کر واش روم سے نکلی تو بہت حد تک اس واقعے کے نقش خود پر سے مٹا چکی تھی ۔۔۔  اسنے اپنے کمرے میں آ کر سب سے پہلے اپنی یو ایس بی کو موبائل سے کنیکٹ کیا ابھی وہ زرا پرسکون بھی نا ہوئی تھی جب ہاسٹل کی ایک لڑکی اسکے پاس آئی۔۔۔ شمائل تمہیں واردن اپنے کمرے میں بلا رہی ہے تم جس اکیڈمی میں کام کرنے گئ تھی اسکے آنر مسٹر عدنان آئے ہیں ۔۔۔ معاملہ کافی گھمبیر لگ رہا ہے وارڈن خاصے غصے میں تمہیں بلا رہی ہے۔۔۔وہ لڑکی خاصے پراسرا انداز میں گویا ہوِئی تو بے ساختہ شمائل کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
وہ اس شخص سے اتنی دیدہ دلیری کی توقع نہیں کر سکتی تھی کہ اکیدمی میں اسکے ساتھ دست درازی میں کامیاب نا ہونے کی صورت وہ اسکے پیچھے اسکے ہاسٹل تک پہنچ جائے گا۔۔۔ شمائل کا دماًغ تیزی سے چل رہا تھا اگر وہ گھٹیا شخص اسکا پیچھا کرتا کرتا وہاں تک پہنچ گیا تھا تو ضرور  کسی منصوبے کے تحت ہی آیا تھا۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں الجھتی ہوئی وارڈن کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔ نا جانے کیوں اسکا دل اسے کسی انہونی کا احساس دلا رہا تھا۔
******
گاوں بھر میں فاطمہ نے زنیرا کی شادی کے سندیسے کیساتھ میٹھائی بجوائی تھی۔۔۔ جس جس کو اس بات کی اطلاع ملی وہ حیرت زدہ سا دوڑتا ہوا انکے گھر فاطمہ سے اس بات کی تصدیق کرنے آیا۔۔  
لڑکا کرتا کیا ہے فاطمہ۔۔۔ آج کل دنیا میں دھوکہ بھی بہت ہوتا ہے کہیں اونچی اڑان بھرنے کے نتیجے میں  منہ کے بل نہ گرنا پر جائے۔۔۔ سب سے پہلے آنکے گھر اس بات کی تصدیق کرنے آنیوالوں میں سے رقیہ پیش پیش تھی اور اب وہ فاطمہ سے کھرچ کھرچ کر سوال پوچھ رہی تھی۔۔ اسکی بعد وہاں عورتوں کا ایک مجمع لگ گیا تھا۔۔۔
لوگوں کو یقین کرنا مشکل تھا کہ عام سے شخص جسکی محض بیٹیاں ہی تھیں مستقبل کا کوئی سہارا نہیں تھا ۔۔۔ جیسے لوگوں نے وارث نا ہونے کے باعث ہمیشہ تحقیرانہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔ جس کے متعلق اسکی سب سے چھوٹی بیٹی کی بغاوت اور خودسری کے باعث سب اپنے تعیں یہ سوچ بیٹھے تھے کہ اسکے گھر شاید ہی کوئی بارات اترے  اس حقیر سے شخص کے گھر شہر سے ایک پروفیسر کا رشتہ آیا تھا۔۔۔
شادی کے دن خوبرو اور نفیس سے فرقان کو دیکھ ان لوگوں کا اخلاق اور سادگی دیکھ سب لوگ زنیرا کی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔۔۔ زنیرا پوری عزت کے ساتھ پورے گاوں کے سامنے اپنے بڑوں کی دعاوں کے سائے تلے پیا دیس سدھار گئ تھی۔۔۔ 
فرقان بھیا کیسے ہیں آپی۔۔۔ زنیرا شادی کے بعد پہلی دفعہ مائیکے آئی تھی  جب سے وہ یہاں آئے تھی گاوں سے کوئی نا کوئی اس سے ملنے آیا ہوا تھا اب وہ ان سب کے جانے کے بعد فارغ ہوئی تو گڑیا زرا فرصت سے اسکے پاس بیٹھی۔۔۔ فرقان کا باپ جس افسر کا ڈرائیور تھا فرقان اسکی گاڑی میں زنیرا کو اسکے مائیکے چھوڑنے آیا تھا  اور یہ اس گاڑی کا کمال تھا کہ اس گاوں کا ہر شخص فرقان سے مرغوب دکھائی دیتا تھا۔۔۔ فرقان نے فاطمہ اور آفتاب کو حقیقی بیٹا بن کر دکھایا تھا۔۔۔ وہ چونکے اچانک وہاں آئے تھے تو پہلی بار داماد کو بنا اطلاع کے گھر آئے دیکھ فاطمہ کے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے تھے وہ تو اسکے لئے ناجانے کون کونسے انتظام کرنے کے بارے میں سوچے ہوئی تھی۔۔۔ کوئی دس طرح کے پکوان بنائے کی لسٹ تیار کئے بیٹھی تھی۔۔۔ لیکن بیٹی اور داماد کو فروٹ اور میٹھائی کے شاپروں سمیٹ لدے پھندے آتے دیکھ انکی شرمندگی کی انتہا نا رہی کیونکہ کھانے کا وقت ہو رہا تھا اور  انہوں نے عام روٹین کے مطابق محض آلو شوربہ ہی بنایا تھا۔۔۔ جلدی جلدی بھی بھلا وہ کیا بنا سکتی تھی وہ بھی تب جب گھر میں کوئی سامان بھی موجود نا تھا۔۔۔
اسی شش و پنج میں وہ کچن میں کھڑی تھیں۔۔۔ یہ کیا حرکت کی تم نے زنیرا۔۔۔ آنے سے پہلے بندہ مطلع تو کرتے ہیں نہ۔۔ اب فرقان بیٹا پہلی مرتبہ سسرال آیا ہے اور گھر میں کچھ دھنگ کا پکا بھی نہیں کیا سوچے گا وہ بھی۔۔۔ زنیرا کو کچن میں آتا دیکھ فاطمہ نے اچھی خاصی ناراضگی کا اظہار کیا انہیں اپنی اتنی سمجھدار بیٹی سے اتنی حماقت کی توقع نہ تھی ۔۔۔ اب ایک کام کرتی ہوں۔۔ بالے سموے والے سے کچھ سموسے پکورے منگوا لیتی ہوں پہلے چائے کیساتھ وہ پیش کر دیتے ہیں تب تک تمہارے ابا شہر سے پھر پکا پکایا کھانا لے آئیں گے۔۔۔ وہ سوچ سوچ کر بولتیں خاصی بوکھلائی ہوئی تھیں۔۔۔
 .  . 
ارے اماں جی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ اسی تکلف سے بچنے کے لئے تو آپکو مطلع نہیں کیا تھا آنے سے پہلے ۔۔۔ تبھی فرقان باہر سے انکی باتیں سنتا کچن میں آیا اور فاطمہ بیگم کو انکے کندھوں سے تھامتا مان بھرے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
کیا آپ مجھے اپنا بیٹا نہیں سمجھتیں۔۔۔ اگر سمجھتی ہوتیں تو یوں غیروں جیسی باتیں نہ کرتیں۔۔۔
ارے ایسے کیسے بیٹا۔۔۔ تم ہی تو میرے بیٹے ہو اللہ عمز دراز کرے تمہاری  ۔۔اللہ تم دونوں کی جوری سدا سلامت رکھے فاطمہ نے آنکھوں کی نمی صاف کرتے فرط جذبات سے اسکے سر پر پیار دیا۔۔۔ تو بس پھر ٹھیک ہے جلدی سے کھانا لگائیں مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔۔ اور اگر آپ نے کوئی اضافی تکلف کرنے کی کوشیش کی تو میں سچ میں آپ سے ناراض ہو جاوں گا۔۔۔  وہ جلدی جلدی کا شور مچاتا کچن سے نکلتے نکلتے بھی انہیں پیار بھری دھمکی دینا نا بھولا تھا۔۔۔ اور پھر اسنے انکے سادہ سے کھانے کو واقعی ہی نہایت رغبت سے کھایا تھا۔۔۔  فاطمہ بیگم بار بار نم آنکھیں صاف کرتیں بیٹی کی اسقدر اچھی قسمت پر اپنے رب کا شکر ادا کرتے نا تھکتی تھی۔۔
وہ بہت اچھے ہیں گڑیا۔۔۔ بالکل ایک دوست کی طرح ایک ایسے دوست کی طرح جس سے بات کرنے کے لئے آپکو سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی جس سے آپ کبھی بھی کچھ بھی شیئر کر سکتے ہیں۔۔۔ صرف فرقان ہی نہیں انکی پوری فیملی ہی بہت اچھی ہے۔۔۔ آنٹی انکل اور انکی چھوٹی بہن عدن۔۔۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آتا کہ دنیا میں اتنے اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔۔۔ سب نے مجھے ہتھیلی کا چھالا بنایا ہوا ہے۔۔ تمہیں پتہ ہے کئ بار فرقان چڑ کر مذاق میں کہہ دیتے ہیں کہ مجھے تو لگتا ہے کہ زنیرا آپکی بہو نہیں بلکے میں آپکا داماد ہوں۔
اور تمہیں پتہ ہے گڑیا وہاں نا اگر رات میں باتیں کرتے کرتے وقت زیادہ ہو جائے اور بھوک لگنے لگے تو وہاں آدھی رات کو بھی سب کچھ پکا پکایا ملتا ہے۔۔۔ وہاں رات میں روڈ پر گاڑی میں گھومنا وہاں کی لائیٹینگ خوبصورت جگہیں۔۔۔ تمہیں کیا بتاوں گڑیا وہ دنیا ہی اور ہے جس کے بارے میں میں پہلے ناواقف تھی۔۔۔ زنیرا کے چہرے پر سچی خوشیوں  کی چمک تھی آواز کی کھنک اسکی آسودہ زندگی کی گواہ تھی۔۔ وہ پر اشتیاق انداز میں اسے ایک ایک بات بتا رہی تھی۔۔۔ گڑیا نے صدق دل سے اسکی دائمی خوشیوں کی دعا کی کیونکہ حالات اور مصلحتوں کے تقاضے نبھاتی ہمیشہ چپ چپ رہنے والی اسکی۔آپی محض چند ہی دنوں میں ہسنا بولنا اور چہکنا سیکھ گئ تھی۔
*****
شمائل مرے مرے قدم اٹھاتی واردن کے کمرے میں گئ تو وہاں عدنان کیساتھ ساتھ دو تین پولیس اہلکاروں کو کھڑے دیکھ اسے حالات کی سنگینی کا احساس ہوا۔۔۔ اسے اریسٹ کریں آفیسر یہ ہی ہے جو میرے آفس سے پچاس لاکھ چوری کر کے بھاگی ہے نیز میرے اسے رنگے ہاتھوں پکڑنے پر اسنے گلدان سے میرے سر پر حملہ کر کے مجھے زخمی کیا اور موقع کا فائدہ اٹھاتی بھاگ نکلی۔۔۔
 .  . 
شمائل کو اندر آتا دیکھ عدنان غصے سے کھڑا ہوتا اسکی جانب اشارہ کرتا ساتھ آئی لیڈی اہلکار سے گویا ہوا۔۔۔ اسقدر مبالغہ آرائی اور بازی کے پلٹ جانے پر شمائل کی آنکھوں کے سامنے زمین و آسمان گھوم گئے تھے۔ عدنان اسے تمسخرانہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ کہا تھا نا کہ میری بات مان جاو گئ تو سب صیغہ راز میں رکھوں گا اور نہیں مانو گی تو سب کے سامنے رسوا کر کے رکھ دوں گا۔۔۔ شمائل نے نم آنکھوں کیساتھ واردن کی جانب دیکھا جو خونخوار  نگاہوں سے اسے ہی تک رہی تھی۔۔۔ بے ساختہ اسنے کمرے کے کھلے دروازے سے باہر دیکھا جہاں لڑکیاں ایک دوسرے سے اچک اچک کر اندر لگا تماشا دیکھ رہی تھیں۔۔۔  بے بسی کے آنسووں کو بہنے سے پہلے ہی وہ ضبط سے پی گئ۔۔۔
اسکے اندر کی خودسر و باغی لڑکی انگرائی لے کر بیدار ہوئی تھی۔۔۔ ابھی تک وہ اس واقعی کو کور کر رہی تھی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ بات منظر عام پر آتی لیکن آگر وہ شخص ایسا چاہتا تھا تو ایسا ہی سہی۔۔۔
مجھے آپ سے اکیلے میں کچھ بات کرنی ہے سر۔۔۔ یکدم وہ خود کو کمپوز کرتی خوداعتمادی سے عدنان سء گویا ہوئی۔۔۔
لیکن مجھے تم جیسی گھٹیا لڑکی سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔ آفیسر آریسٹ ہر ۔۔۔ وہ تنفر و حقارت سے کہتا لیڈی اہلکار  کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے سر جیسے آپکی مرضی مگر میں نے آپکی رقم نہیں چرائی۔۔۔ آپکو ایک ویڈیو واٹس ایپ کر رہی ہوں اسے چیک کر لیں شاید آپکو یقین آ جائے کہ  میں نے یہ چوری نہیں کی وگرنہ بصورت دیگر مجھے انسپیکٹر صاحب کو یہ ویڈیو دکھا کر اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہوگئ۔۔۔ شمائل کے اعتماد میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا وہیں کھڑے کھڑے اسنے موبائل کی ٹچ سکرین پر کچھ ٹائپ کیا تھا۔۔۔ اسکا سکون اور اسقدر اعتماد عدنان کے اندر کسی خطرے کی گھنٹیاں بجانے لگا تھا۔۔۔ اسنے الجھ کر موبائل پر آئی ویڈیو کو پلے کیا۔۔۔ مگر ویڈیو چلتے ہی اسکی ابھرتی آواز نے گویا اسے دنگ مارا ہو اسنے بدک کر موبائل کی آواز میوٹ کی۔۔۔ جیسے جیسے وہ ویڈیو دیکھتا جا رہا تھا اسکے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔ گھبراہت۔۔۔ ہراس اور وحشت اسکے چہرے سے صاف ہویدہ تھی۔۔۔
شمائل چبھتی نگاہیں اسی کے چہرے پر گاڑے اسکا ایک ایک انداز نوٹ کر رہی تھی۔۔۔۔ 
یہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔ چوری اس نے نہیں کی۔۔۔ مجھے ہی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ میں اس کیس کی تفتیش دوبارہ سے کروانا چاہتا ہوں ۔۔۔ ایم سوری میم آپکا قیمتی وقت برباد کرنے کے لئے۔۔۔ میں اب چلتا ہوں۔۔۔ یکدم ہی عدنان کی حالت غیر ہونے لگی تھی۔۔۔ اسنے جیب سے رومال نکالتے کپکپاتے ہاتھوں سے ماتھے کا پسینہ صاف کیا اور ٹوٹے پھوٹے لہجے میں کہتا آخر میں باعجلت واردن سے معذرت کرتا یوں وہاں سے بھاگا جیسے اسنے بھوت دیکھ لیا ہو۔۔۔
سوری بیٹا۔۔۔ یہ سب بس ان امیر لوگوں کے چونچلے  ہیں۔۔۔ اسکے جانے کے بعد واردن نے سر جھٹکتے شمائل سے معذرت کی۔۔۔ بھیر اب چھٹنے لگی تھی۔۔ وہ سرخرو ہوتی واپس اپنے کمرے میں آئی مگر اسکا دل ابھی بھی اسے کچھ غلط ہونے کا شدت سے احساس دلا رہا تھا جیسے نوفل درانی ابھی بھی کچھ کرنے والا ہو۔
******
اسکے ماتھے پر جابجا شکنوں کا جال بچھا تھا پچھلے آدھے گھنٹے سے ایک ہی نشست میں بیٹھے وہ اس ویڈیو کو کوئی دسویں بار دیکھ رہا تھا۔۔۔ جس میں عدنان کی حور کیساتھ دست درازی اسکے ساتھ واحیات باتیں کرنا اور تہہ خانے کا راز افشاں کرنا سب بالکل واضح تھا اور یہ ہی چیز اسکے غصے کے گراف کو مزید بڑھا رہی تھی۔۔۔ کیا چیز تھی وہ لڑکی۔۔۔ ہر بار وہ نوفل درانی کو غلط ثابت کر جاتی تھی۔۔۔ کیا تھا اسکے پاس ایسا جس سے وہ بر وقت ہر واقع کو ریکارڈ کر لیتی تھی۔۔۔ پہلے علایہ والا واقعہ اور اب یہ۔۔۔ کیا وہ ہمیشہ اتنا ہی ایکٹو رہتی تھی۔۔۔
 .  .  . 
دیکھ میرے یار۔۔۔ تیری لئے میں بہت نقصان اٹھا چکا ہوں۔۔  یہ ویڈیو اس لڑکی کی جانب سے ایک واضح دھمکی ہے کہ اب اگر میں نے مزید اس واقع کو اچھالا تو وہ مجھے کس کس انداز میں دسکلوز کر سکتی ہے۔۔۔ اس لئے اب تو مجھے تو معاف ہی رکھی ۔۔۔ نوفل درانی کے پاس ہی بیٹھا عدنان اسکے سامنے زوردارانہ انداز میں ہاتھ جوڑتا اکتاہت سے گویا ہوا۔۔۔ اور میری مان تو تو بھی اس سرپھری کا خیال دماغ سے نکال دے۔۔۔
یہ ہی بات نوفل درانی کے اندر دہکتے شعلوں کو ہوا دیتی تھی کہ وہ دو ٹکے کی لڑکی جسکی اسکی نظر میں کوئی اہمیت ہی نا تھی وہ نوفل درانی کے لئے ناقابل تسخیر نہیں ہو سکتی تھی۔
نہیں عدنان اتنی آسانی سے نہیں۔۔۔ ابھی یہ کیس مت اٹھانا ۔۔۔ یہ خاصا مضبوط کیس ہے اس لڑکی کو اسی کیس میں پھنسا کر اسکی اوقات یاد دلوائی جا سکتی ہے۔۔۔ وہ دور کسی غیر مری نقطے کی جانب دیکھتا پر اسرا انداز میں گویا ہوا۔۔۔
مطلب کیا ہے تیرا۔۔۔ اسکے پاس میری ویڈیو۔۔۔ .  
ویڈیو کی فکر تو چھوڑ دے۔۔۔ اب تک اس پر کئے جانے والے سبھی وار تمہاری جانب سے تھے اسی لئے چوک گئے۔۔۔ اس پر یہ آخری وار نوفل درانی کی جانب سے ہوگا جو کہ یقیناً قاری ثابت ہوگا۔۔۔ فکر مت کر کل تک وہ ویڈیو تمہارے پاس ہوگئ اور مزے کی بات پتہ ہے کیا ہے۔۔۔ وہ عدناں کی بات کاٹتا اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پراسرار انداز میں گویا ہوا۔۔۔ شمائل حسن وہ ویڈیو بذات خود مجھے دے گِئ۔۔۔
So Just wait and watch becaus now its my turn...
وہ قہقہ لگاتا پیچھے کو ہو کر بیٹھا۔۔۔
شمائل ڈیئر جتنے مرضی ہاتھ پیر چلا لو۔۔۔ آخر پھنسنا تمہیں میرے ہی جال میں ہے۔۔۔
******


<دdiv>

For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


No comments

Powered by Blogger.
4