Header Ads

Hala novel 6th episode by Umme Hania online reading

  


Hala novel  6th episode by Umme Hania


Hala is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Hala is a love story by Umme Hania of a strong person based upon a beautiful lesson

         Online Reading

 ناول "ہالا"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

چھٹی قسط۔۔۔
گرمیوں کی صبح سات بجے ہی سورج سوا نیزے پر چڑھتا ہر جانب آگ کے گولے برسا رہا تھا۔۔۔ موسم کی حدت کے اثرات ہر زی روح کے مزاج پر بھی وقوع پزیر ہونے لگے تھے۔۔۔ ایسے میں اگر اس گنجان آباد علاقے کے متوسط سے گھر میں جھانکو تو آئتل بھوکھلائی سی کچن میں ناشتہ تیار کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھی۔۔۔ نانا جان صحن کے وسط میں پیڈسٹل فین چلائے آج کی تازہ اخبار پڑھنے میں مشغول تھے جب جھنجھلایا سا یوسف ماتھے پر سینکڑوں  بل ڈالے ہاتھ میں شرٹ  تھامے کچن میں داخل ہوا۔۔۔
آئتل اسکا بٹن ٹوٹ گیا ہے پلیز زرا پہلے اسکا بٹن تو لگا دو۔۔۔
 پڑاٹھا بنانے کیساتھ ساتھ آئتل آملیٹ پھینٹ رہی تھی جھنجھلائی سی آواز پر اسنے پراٹھا پلٹتے مصروف سے انداز میں اسکی جانب دیکھا۔
اچھا زرا ایک منٹ رکیں۔۔۔ پراٹھے کو چنگیر میں رکھتے اسنے بعجلت آملیٹ کا مکسچر  پین میں انڈیلا اور آنچ ہلکی کرتی اس پر ڈھکن دے کر پلٹی۔۔۔ پاس پڑی چیزوں کو ڈھانپتے اسنے چہرے پر بکھرے بالوں کو  ہاتھ کی پشت سے پیچھے کیا اور سنک کی ٹونٹی چلا کر ہاتھ دھونے لگی۔۔ کچن کی کھلی کھڑکی سے داخل ہوتی سورج کی کرنیں براہ راست اسکے چہرے اور بالوں پر پڑ رہی تھی جس سے اسکی رنگت سنہری گندم کی مانند دہکنے لگی تھی۔
تیزی سے قدم اٹھاتی وہ ممانی کے کمرے میں گئ جہاں ممانی ابھی تک دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔۔ کل رات سے ہی انکی طبیعت خراب تھی۔۔۔ اسنے الماری کے اوپر پڑا  چھوٹا سا سوئیوں اور نلکیوں والا ڈبہ اچک کر اٹھایا اور ویسے ہی دبے قدموں ممانی کی  خراب ہونے کے ڈر سے بنا چاپ کئے باہر نکل گئ۔۔۔
کیا بات ہے آئتل اتنی بوکھلائی سی کیوں ہو۔۔۔  شرٹ پر بٹن لگا کر آئتل نے اسکا دھاگا اپنے دانت سے توڑا تو یوسف نے اسکے ہاتھ سے شرٹ تھامتی۔۔۔ 
آپکو پتہ ہے یوسف اس جمعے خالہ کی بیٹی زوئی یہاںن رہنے آ رہی ہے۔۔۔سر جھکائے ہونٹ چبا کر  کہتی وہ اسے کسی گہری سوچ میں غرق لگی۔۔۔ تو اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔۔۔ یوسف شرٹ وہیں برآمدے میں پڑی کرسی پر رکھتا مکمل طور پر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ مہینے کا آخر چل رہا ہے یوسف۔۔۔ گھر کا سارا راشن تقریباً ختم ہی ہے۔۔۔ ممانی کی دوائیاں بھی ختم ہو چکی ہیں اسی وجہ سے تو رات انکی طبیعت خراب ہوگئ تھی۔۔۔
 ماموں اور نانا کی پنشن سے گھر کا خرچ کھینچ تان چلتا ہے۔۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی یوسف ممانی کی طبیعت بھی فن بدن مزید خراب ہوتی جا رہی ہے میں چاہتی تھی کہ اگر انکا کسی اچھے ڈاکٹر سے چیک آپ کروا لیا جاتا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ وہ بے بسی سے وہیں بات ادھوری چھوڑی بامشکل ضبط کئے آنسووّ کو چھلکنے سے روکنے کی خاطر واپس کچن کی جانب بڑھی۔۔۔ اب کی بار یوسف کے چہرے پر بھی گہری سوچ کی پرچھائیاں تھی۔۔۔ وہ بھی اسکے پیچھے ہی ہو لیا۔۔ تم فکر مت کرو آئتل اللہ کوئی نا کوئی سبب بنا ہی دے گا۔۔۔ تم صرف دعا کرنا میرے حق میں کہ آج کے انٹرویو میں بات بن جائے۔۔۔ اگر آج میری نوکری لگ گئ تو ہمارے تقریباً آدھے مسلے حل ہو جائیں گے۔۔۔ وہ وہیں کچن کے دروازے میں ہی رک گیا تھا کیونکہ اندر کا درجہ حرارت باہر کے درجہ حرارت سے خاصہ گرم تھا۔۔۔۔
آمین ۔۔۔ پین سے پھولا پھولا سنہری آملیت نکال کر پلیٹ میں رکھتے وہ صدق دل سے دعاگو ہوئی۔۔۔
یوسف پچھلے تین سالوں سے یونہی مختلف جگہوں پر انَٹرویو دے رہا تھا مگر بنا رشوت اور سفارش کے بھلا وہاں کیا ہوسکتا تھا۔۔۔ اگر کسی پرائیویٹ فرم میں بھی کوشیش کرتا تو وہ لوگ پہلے تجربہ مانگتے ۔۔۔ اسے کوئی پہلا موقع دینے کو تیار ہی نا تھا ہر کسی کو اپنی کمپنی کے لئے تجربہ کار اور اس کام میں ماہر امپلائے ہی چاہیے ہوتا۔۔۔ ہر روز کی طرح وہ آج بھی ہرامید سا ہی گھر سے نکلا تھا کہ شاید وہاں کوئی بات بن ہی جاتی۔
******
امی۔۔۔ امی آنکھیں کھولیں امی۔۔۔ کیا ہوا ہے آپکو۔۔۔ آپ میری جانب دیکھ کیوں نہیں رہیں۔۔۔ امی۔۔۔ امی ی ی ی ی۔۔۔۔۔ ساری رات  ماں کی بے چینی دیکھتی نور ایک پل کو بھی ان سے جدا نا ہوئی تھی۔۔۔ کبھی انکا سر دباتی کبھی انکی ٹانگیں دباتی ماں کی بے چینی دیکھتی وہ خود بھی بے چین ہی رہی تھی۔۔۔وہ بے طرح تھک گئ تھی رات بھر جاگنے اور ماں کی طبیعت کی پریشانی کیوجہ سے اسکے جسم سے درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھی۔   اب بھی وہ ماں کی سرہانے بیٹھی انکا سر دبا رہی تھی جب کچھ پلوں کے لئے  وہ 
گنودگی میں گئ ہوا میں معلق سر کو جھٹکا لگنے پر ہڑبڑا کر اسنے آنکھیں کھولیں۔۔۔  آنکھیں کھولتے ہی اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ جیسے کوئی انہونی ہو گئ ہو۔۔۔ اسنے سوکھے پتے کی مانند کپکپاتے دل اور لرزتے جسم کے ساتھ ماں کا موازنہ کیا اور یہ بات دماغ کے ڈی کوڈ کرتے ہی کہ اسکی ماں اب نہیں رہی وہ وہیں فرش پر ڈھتی ڈھاریں مار مار کر رو دی۔۔۔۔ سینے میں موجود ننھا سا دل جیسے اس عظیم نقصان پر پھڑپھڑا اٹھا ہو۔۔۔وہ بھی شدت غم سے پھٹ جانا چاہتا ہو  آج وہ صحیح معنوں میں یتیم ہوئی تھی۔۔۔۔  بھری دنیا میں اکیلی رہ گی تھی۔۔۔ اسے لگا اسکی دنیا ختم ہوگئ ہو۔۔۔ ماں کیساتھ ہی وہ بھی مر جائے گئ۔۔۔  سٹاف کی کچھ ہمدرد اور غمگسار ڈاکٹرز نے اسے سمبھالا تھا ۔۔۔۔ اسے کسی چیز کا ہوش نا رہا تھا کہ وہاں کیا ہو رہا تھا کیسے ہو رہا تھا کون کر رہا تھا۔۔۔ کس نے اس سے کیا پوچھا اسنے کیا کہا۔۔۔اسکا دماغ مفلوج ہو رہا تھا۔۔
سٹاف کے کمال صاحب کو انفارم کرنے پر وہ بجلی کی سی تیزی سے وہاں پہنچے تھے۔۔۔ گل کے بے جان وجود کے پاس آتے وہ کئ لمحوں تک یک ٹک سے اسکا چہرا دیکھتے چلے گئے باوجود ضبط کے ایک آنسو ٹوٹ کر انکی گال پر پھسلا مگر وہ ضبط کرتے انکی آخری رسومات کی تیاری کرنے لگے کیونکہ نور کو تو اپنا بھی ہوش نا تھا ۔۔۔
*******
نور کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ایک آرام دہ بستر پر محو استراحت پایا۔۔۔ حواس بحال ہوتے ہی اسنے ارد گرد کا جائزہ لینا چاہا۔۔۔ وہ ایک خوبصورت ویل فرنشڈ کمرا تھا ۔۔۔ دبیز پردے اس وقت کھڑکی سے پیچھے ہٹائے گے تھے جس سے باہر سے سورج کی روشنی چھن چھن کمرے میں آتی صبح کے ہونے کا عندیہ دے رہی تھی۔۔۔
وہ کس جگہ پر تھی۔۔۔یہاں کیسے آئی کون لایا اسے یہاں کئ طرح کے سوالات اسکے ذہن میں کلبلانے لگے تھے۔۔۔ اسنے اٹھنے کی کوشیش نہیں کی تھی کیونکہ وہ خود میں اس وقت اتنی نقاہت اور کمزوری محسوس کر رہی تھی کہ اٹھنے کی ہمت ہی خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔
پچھلے تمام مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلنے لگے تھے۔۔۔ اسکی امی کی دیتھ ۔۔۔ کمال انکل کا آنا۔۔۔ اسکا بار بار غشی کھا کر بےہوش ہونا۔۔۔ لوگوں کا ہجوم۔۔۔  اسکی امی کو انکی آخری آرام گاہ کی جانب لے کر جانا اور اسکا وہیں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر گر جانا۔۔۔ ماضی کے لمحات یاد آتے ہی آنسو قطار در قطار لکیر کی مانند اسکے بالوں میں جذب ہوتے جا رہے تھے۔۔  وہ خاصی صابرو شاکر بندی تھی۔۔۔ اللہ کی رضا میں راضی رہنے والی۔۔۔ اسنے ماں کی صحتیابی کے لئے بہت دعائیں کی تھیں۔۔ اس امید پر کہ دعائیں قسمتیں بدل دیتی ہیں ۔۔ لیکن اسکی کوئی دعا قبولیت کا شرف حاصل نہیں کر پائی تھی۔۔ اسکا رب کے حضور سسکنا بلکنا اور تڑپنا بھی اسکی ماں کی قسمت میں مزید زندگی کے پل نہ لکھوا سکا تھا۔۔۔ 
اللہ میں کیا کروں میرے مالک۔۔۔ میری امی ی ی ی۔۔۔ میں کیسے رہوں گی انکی بنا۔۔۔ گھٹ گھٹ کر روتی منہ پر ہاتھ رکھے وہ اپنی سسکیاں روکنے کی کوشیش کر رہی تھی جب کمرے میں آتی ملازمہ نے اسے جاگتا دیکھ باہر جا کر کسی کا نمبر ملایا اور فون اٹھائے جانے پر اسکے ہوش میں آنے کا عندیہ سنایا۔۔۔
*******
آج تو چھٹی ہے نا کمال پھر آپ آج کہاں جا رہے ہیں۔۔۔ آپکی اور دریاب کی چھٹی کے حساب سے تو میں نے زرش کے سسرال والوں کو شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کے لئے آج لنچ پر بلایا ہے۔۔ اور آپ ہیں کے آج پھر سے جا رہے ہیں۔۔ ملازموں کے سر پر کھڑے ہو کر سارے کام کرواتی زہرہ بیگم نے چھٹی کے روز بھی شوہر کو تیار ہو کر باہر نکلتا دیکھا تو سب کچھ چغوڑ چھاڑ فوراً انکے پاس آئی۔۔۔۔ 
کچھ کام ہے مجھے زہرا میں مہمانوں کے آنے سے پہلے واپس آ جاوں گا۔۔ ویسے بھی دریاب تو ہے نا گھر پر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو اسے کہہ دینا میں بھی جلد از جلد واپس آنے کی کوشیش کروں گا۔۔۔۔۔پرسوچ انداز میں ماتھے کو کھرچتے وہ آگے کا سارا لائحہ عمل سیٹ کرتے گھر سے باہر نکل گئے۔
******
جاری ہے۔۔۔اگلی قسط انشااللہ ایک دن بعد

For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


                       


No comments

Powered by Blogger.
4