Hamsafar novel 38th episode by Umme Hania Online Reading
Hamsafar novel 38th episode by Umme Hania
Hamsafar is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hamsafar is a motivational and encourgious story of a strong person
Online Reading
ناول " ہمسفر "۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
ارتیسویں قسط۔۔۔۔
شام تک اریبہ نے دوبارہ اپنے کمرے کا رخ نہیں کیا تھا۔۔۔ گیسٹ روم میں ہی فریش ہو کر وہ شام میں اپنے کمرے میں گئ۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی اسے منیب بیڈ پر سر ہاتھوں مِیں تھاما پشیمان سا بیٹھا دکھائی دیا۔۔۔ جیسے وہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہو۔۔۔ دروازہ وا ہونے کی آواز پر اسنے سر اٹھا کر اریبہ کی جانب دیکھا۔۔۔۔
آگر صاحب بہادر کے غصے کا گراف زرا نیچے آ گیا ہو تو کیا کنیز کو کمرے میں آنے کی اجازت ہے۔۔۔ بھرپور طنزیہ لہجہ تھا۔۔۔ شرمندہ مت کرو اریبہ تب میں غصے میں تھا۔۔۔ وہ پشیمان سا گویا ہوا۔۔
نہیں۔۔۔ بتادیں زلے الہی ورنہ میں پھر سے کہیں خوامخواہ ہی آپ کے عتاب کا نشانہ نہ بنو۔۔۔ کہ پھر سے مجھے بکواس بند کرنے اور کمرے سے نکل جانے جیسے اعزازت سے نوازا جائے۔۔۔
جن سے محبت کی جائے انکی پھر زرا سی بے اعتنائی بھی کُھلتی ہے۔۔۔ یہ ہی حال اریبہ کا تھا وہ صبح سے ناجانے کیسے ضبط کئے بیٹھی تھی۔۔۔ اب کیسے اسے اتنی آسانی سے جانے دیتی۔۔۔
کہا نہ شرمندہ مت کرو اریبہ۔۔۔ وہ کوفت سے بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ پہلے ہی اپنی صبح کی حرکت پر جی بھر کر تاو آ رہا تھا کہ وہ واقع امرحہ کیساتھ زیادتی کو مرتکب ہوا تھا اوپر سے اریبہ کے طنز اس پر گھڑوں پانی ڈال رہے تھے۔
تمہیں شرمندہ ہونا بھی چاہیے مسٹر منیب شاہ۔۔۔ وہ شاید اسے رعایت دینے کے موڈ میں نہ تھی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہاتھ میں تھاما ہیئر برش زور سے ڈریسنگ ٹیبل پر پٹختی وہ جھٹکے سے پلٹی تھی۔۔۔ تمہاری حرکتیں ہی شرمندہ ہونے والی ہیں۔۔۔ میری ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ کا وقت گزر رہا ہے اگر بادشاہ سلامت کو زحمت نہ ہو تو مجھے لیجائیں بصورت دیگر میں خود بھی جاسکتی ہوں۔۔۔ واپس ڈریسنگ ٹیبل کی طرف مڑتی اسنے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائی تھی اور سٹالر گلے میں ڈالتی وہ بنا اسکی جانب دیکھے باہر نکل گئ۔۔۔
منیب سرعت سے واش روم کی جانب بڑھا بعجلت دو چار چھپاکے منہ پر پانی کے مار کر وہ باہر کی جانب بھاگا تھا کیونکہ واقعی اس سر پھری سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ بنا اسکے ہی ڈاکٹر کے کلینک چلی جاتی۔۔۔
*******
رکو۔۔۔ دوسری سیٹ پر بیٹھو کار ڈرائیو میں کروں گا۔۔۔ تقریباً بھاگتے ہوئے وہ کارپورچ میں پہنچا تھا اریبہ ڈرائیونگ ڈور کھول رہی تھی جب منیب نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے کار کی چابی تھامی۔۔۔ وہ خاموشی سے پیسنجر سیٹ پر جا کر بیٹھی۔۔۔
چلو ختم کر دو اب ناراضگی اریبہ ہو گئ غلطی اب معاف بھی کردو۔۔۔ وہ مسلسل اسے موڈ بنائے دیکھ جھنجھلا اٹھا تھا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے منیب۔۔۔ امرحہ مجھے پسند نہیں ہے کوئی بھی لڑکی اپنی سوتن کو پسند نہیں کرتی ہوگی۔۔۔ میں اسے تمہاری زندگی سے نکال باہر کرنا چاہتی تھی۔۔۔ مجھے یہ شراکت بھی گوارا نہیں۔۔۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود آج تم نے امرحہ کے ساتھ جو کیا اس پر مجھے دلی افسوس ہے۔۔۔ تمہیں اس کے ساتھ اسقدر روڈ ہوتے ہوئے زرا خیال نہیں آیا کہ وہ کس حالت میں ہے۔۔۔ وہ واقعی نہایت کمزور دل لڑکی ہے اور آج اسکی جو حالت میں نے دیکھی ہے نہ اسکے بعد یہ ہی کہوں گئ کہ تم مزید تھوڑا سا شرمندہ ہو ہی لو کیونکہ آج کی تمہاری حرکت اسی کے قابل ہے۔۔۔ منیب لب بھینچے خاموشی سے کا ڈرائیو کرتا اسے سن رہا تھا۔۔۔جو بلاجھجھک دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔۔
اس چیز سے تو وہ خود بھی اعتراف کر رہا تھا کہ اسنے امرحہ کے ساتھ زیادتی کی ہے حالات جو بھی ہوتے اسے یوں ٹمپر لوز نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔ جب سے وہ اٹھا تھا مسلسل اسی نہج پر سوچ رہا تھا۔۔۔ وہ اسکے پاس جا کر اسے منا کر اونلائن شاپنگ کروانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اریبہ کی اپائنمنٹ کے خیال سے پہلے اسکے ساتھ آ گیا۔۔۔
وہ اسقدر حراساں اور حواس باختہ ہو گئ کہ۔۔۔
میں جا کر اس سے ایکسکیوز کر کے اسے منا لوں گا۔۔۔ اس سے پہلے کہ اریبہ اپنی بات مکمل کرتی منیب نے بیساختہ اسکی بات کاٹی۔۔۔
منانا۔۔ ہنہہ۔۔۔ تم صرف اسے جا کر یہ ہی کہہ دو کہ تم اس سے ناراض نہیں اسکی جان میں جان آ جائے گئ۔۔۔ وہ استہزائیہ گویا ہوئی۔۔۔ منیب نے کرب سے آنکھیں بند کئیں۔۔۔
اریبہ کے طعنے مسلسل اسے کچوکے لگا رہے تھے ۔۔ آج وہ واقعی زیادتی کا مرتکب ہوا تھا۔۔۔
پہلے مجھے کچھ کھلواو۔۔۔ بھوک سے میری جان نکل رہی ہے پہلے ہی تمہارے صبح کے رویے کے باعث میں نے دوپہر میں کچھ کھایا نہیں۔۔۔ اریبہ کا غصہ ابھی بھی مکمل طور پر اترا نہیں تھا مگر دل کی بھراس نکال لی تھی تو بھوک کا احساس ہونے لگا تھا۔۔
کھایا تو میں نے بھی نہیں کچھ دوپہر میں۔۔۔ اور قوی امکان ہے کہ امرحہ بھی بھوکی ہی ہو گئ۔۔۔ اسکی پریگنینسی میں تو پہلے ہی بہت سی پیچیدگیاں ہیں مزید اسکا یوں پورا دن ٹینشن میں اور بھوکا رہنا۔۔۔ فکر اور پریشانی سے وہ بات ادھوری چھوڑ گیا تھا۔۔
ہنہہ۔۔۔ اتنی پرواہ تمہیں اسکی حالت کی۔۔۔
For God sake Areeba...
ہوگئ غلطی مجھ سے اور میں اسکے لئے پشیمان ہوں۔۔۔ اب خدارا مجھے کچوکے لگانا بند کرو۔۔۔ ایک کام کرتا ہوں بیکری سے کچھ پیک کروا لیتا ہوں۔۔۔ تم راستے میں ہی کچھ کھا لینا اور ہم پہلے امرحہ کو پارسل دے کر واپس کلینک چلے جائیں گئے۔۔۔ تمہاری اپائنمنٹ کا ٹائم بھی نہیں نکلے گا اور میں زرا امرحہ کی جانب سے بھی بے فکر ہو جاوں گا۔۔۔ وہ الجھا ہوا سا سوچ سمجھ کر آگے کا لائحہ عمل بنا رہا تھا کہ کس طرح ایک ہی وقت میں دونوں کام ہو جائیں۔۔۔
اریبہ بنا بولے خاموش بیٹھی رہی۔۔۔ منیب نے بیکری کے سامنے گاڑی روکی اور اسے انتظار کرنے کو بولتا خود گاڑی سے نکل کر بیکری میں داخل ہوا۔۔۔
ابھی اسے گئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اریبہ کو گاڑی سے کسی موبائل کی رنگ ٹیون بجنے کی آواز سنائی دی اس نے آگے پیچھے چہرا گھما کر آواز کا منبع تلاشنا چاہا۔۔۔ آواز ڈرائیونگ سیٹ کے نیچے گرے موبائل سے آ رہی تھی اریبہ نے جھک کر موبائل نکالا وہ منیب کا موبائل تھا۔۔۔ غالباً صبح ہی وہ وہاں گرا تھا اور اسکے بعد سے منیب کو اپنا ہوش تک نہ تھا کجا کہ موبائل کا کرتا۔۔۔
سکرین پر امرحہ کالنگ کے حروف جگمگا رہے تھے۔۔۔ اریبہ نے دو پل کو رک کر سوچا کہ کیا اسے فون اٹھانا چاہیے یا نہیں۔۔۔ کہیں اسکی طبیعت ہی خراب نہ ہو۔۔۔ اس سوچ کے آتے ہی اریبہ نے جھٹ سے فون اٹھایا مگر تب تک فون بند ہو چکا تھا۔۔ فوراً سے اسنے بیک کال کی مگر دوسری جانب فون بند جا رہا تھا۔۔ الجھتے ہوئے اسنے لینڈ لائن پر کال ملائی مگر وہاں بھی بیل جا رہی تھی پر کوئی فون اٹھا نہیں رہا تھا۔۔۔
اسکا دل بے طرح گھبرانے لگا۔۔۔ اگر امرحہ ابھی اسے کال ملا رہی تھی تو پھر اب وہ فون اٹھا کیوں نہیں رہی تھی۔۔۔اور اسکا موبائل بند کیوں جا رہا تھا۔۔۔۔ کہیں تو کچھ گڑبڑ تھی مگر کیا وہ سمجھے سے قاصر تھی۔۔۔
اسے بیکڑی کے گلاس ڈور سے اندر کھڑا منیب کاونٹر سے شاپر اٹھاتا نظر آ رہا تھا مطلب وہ باہر ہی آ رہا تھا وہ ہونٹ چباتی مضطرب سی اسکی منتظر تھی۔
********
گھر بھر میں عالیہ کی شادی کے ہنگامے عروج پر تھے۔۔۔۔ سب کچھ بہت عجلت میں ہوا تھا۔۔۔ زکیہ بیگم اور سجاول جا کر لڑکے والوں کے گھر بھی ہو آئے تھے ۔۔ لڑکے والوں کو بھی لڑکی پسند تھی۔۔۔
گھر میں شادی کی تیاریاں ڈھرا ڈھر ہو رہی تھیں۔۔۔ ایک مہینہ بعد کی تاریخ رکھی گئ تھی تا کہ عتیقہ کا بھی سوا مہینہ مکمل ہو جاتا۔
عتیقہ کہیں آ جا نہیں سکتی تھی جبکہ عالیہ تو یوں گوشہ نشین ہوئی تھی جیسے شادی اسکی نہیں کسی غیر ضروری شخص کی ہو۔۔۔ زکیہ بیگم کے ہی ڈھرا ڈھر بازار کے چکر لگ رہے تھے۔۔۔ دوسراہٹ کے احساس کے تحت وہ شازمہ بھابھی کو اپنے ساتھ لیجا رہی تھیں ۔۔ اور شازمہ بھابھی بھی اپنی پرخلوص نیچر کے باعث بنا تھکے بنا رکے انکے ہر کام میں پیش پیش تھی۔۔۔
ذکیہ بیگم تو بیٹی کا رویہ سمجھنے سے قاصر تھیں جو کسی صورت بھی شادی کی تیاریوں میں نام کی بھی دلچسپی نہیں دکھا رہی تھیں۔۔۔ شاپنگ کی دلدادہ نا تو خود شاپنگ کرنے جا رہی تھی اور نہ ہی کی ہوئی شاپنگ کو دلچسپی سے دیکھتی تھی۔۔۔
اب بھی زکیہ بیگم شازمہ بھابھی کے ساتھ شاپنگ پر جانے سے پہلے اسکی اچھی خاصی کلاس لے کر گئ تھیں۔۔۔
اس لڑکی نے تو مجھے پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔ اور کچھ نہیں تو اپنی شادی کا جوڑا ہی خود اپنی پسند سے خرید لو۔۔۔
مجھے آپکی پسند پر پورا اعتماد ہے۔۔۔ صوفے پر بیٹھی میگزین کی ورق گردانی کرتی وہ لاپرواہی سے گویا ہوئی۔۔۔۔
شازمہ بھابھی انکا ذہن دوسری چیزوں کی جانب مبذول کرواتی انہیں اپنے ساتھ لے گئیں تھیں۔۔۔ جبکہ آج عتیقہ اسکا دماغ ٹھکانے لگانے کا سوچ چکی تھی۔۔۔
قربانی دینے کا اتنا ہی شوق ہے تو خاموشی سے دو نہ یوں واویلا مچا کر ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کیوں کر رہی ہو کہ جیسے تم پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہوں۔۔۔
بھابھی۔۔۔۔
ان لوگوں کے جانے کے بعد یکدم ہی عتیقہ نے گولا باری کا رخ اسکی جانب کیا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ حیرت زدہ سی میگزین سامنے موجود میز پر رکھتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
کیا مطلب۔۔ اسکے لبوں سے سرسراتے لفاظ ادا ہوئے۔۔
مطلب یہ کہ تمہاری یہ آدم بیزاری اور غیر دلچسپی تمہیں سب کی نظروں میں مشکوک بنا رہی ہے کہ شاید تمہارے ساتھ زبردستی کی جا رہی ہے۔۔۔
آگر ولید کو چھوڑنے کا فیصلہ کر ہی چکی ہو تو اس فیصلے پر عملدرامد ہونے کے لئے حوصلہ بھی دکھاو۔۔۔۔ لمحوں میں عالیہ کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں۔۔۔
نہیں تو ایک بار اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لو۔۔۔ اور مجھ پر بھروسہ رکھو میں سب فکس کر دوں گئ۔۔۔ اسکی نم ہوتی آنکھیں دیکھ کر عتیقہ بھی نرم پڑی تھی۔۔۔
راستے الگ کرنے کی خواہش آپکے بھائی کی تھی میں نے تو بس اسکا احترام کیا ہے۔۔۔
مجھ پر بھروسہ رکھو عالیہ اسکا ایسا دماغ ٹھکانے لگاوں گی کہ دوبارہ ایسی بات بولنا بھول جائے گا۔۔۔ عتیقہ اسکے پاس ہی صوفے پر بیٹھتی اسکے ہاتھ تھامتی لجاہت سے گویا ہوئی۔۔
نہیں بھابھی۔۔ نم آنکھوں سے اسنے نفی میں سر ہلایا تو ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
مجھے بھیک یا خیرات میں ملی محبت منظور نہیں۔۔۔ اگر وہ میرے بنا رہ سکتا ہے تو میں اسکے سامنے کبھی نہیں جھکوں گئ۔۔۔ میری انا کا پرچم اس سے بھی بلند ہے۔۔۔ مجھے دل کا درد منظور ہے مگر عورت ہو کر جھکنا نہیں۔۔۔ اسکے لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی۔۔۔ ارادے اٹل اور مضبوط تھے۔۔ ان آنسووں کا کیا ہے یہ تو بہتے ہی رہتے ہیں۔۔۔ بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
اور اگر پہل وہ کر لے تو۔۔۔
تو بھی میری طرف سے نا ہے۔۔۔ عالیہ شاہ اتنی گئ گزری نہیں کہ جب دل چاہا اسے ریجیکٹ کر دیا اور جب دل چاہا تو اپنا لیا۔۔۔ وہ بنا پلٹے سختی سے گویا ہوئی۔۔۔
اب تم زیادتی کر رہی ہو عالیہ ۔۔ اگر اسے اپنی غلطی کا احساس ہو تو۔۔۔
تو بھی میرا فیصلہ نا ہے۔۔ وہ عتیقہ کی بات کاٹ کر ترشی سے کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی جبکہ عتیقہ پیچھے سر تھام کر رہ گئ۔
********
پورا دم امرحہ نے کھانے کے نام پر پریشانی فکر اور غم ہی کھایا تھا جو اب اسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا۔۔۔ بار بار وہ منیب کا ردعمل یاد کرتی رونے لگتی تھی۔۔۔ کبھی بیٹھتی کبھی چکر کاٹتی وہ مسلسل ایک بےچینی بھری اذیت میں مبتلا تھی۔۔۔ بس وہ ہر حال میں منیب کو منا لینا چاہتی تھی۔۔۔ کیسے بھی کر کے ورنہ یہ دکھ اسکی جان لینے کے در پر تھا۔۔
سارے دن کی بھوک پیاس فکر غم اور پریشانی مل کر اس پر حملہ آور ہوتے اسے ادھ موا کر رہے تھے۔۔۔ وہ جو تب سے جلے پیر کی بلی کی مانند ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی اب خود میں کھڑے ہونے کی ہمت بھی مفقود پاتی تھی۔۔۔
اسنے گاڑی کے سٹارٹ ہونے کی آواز سنی تو اپنی ساری ہمت مجتمع کرتی باہر کی جانب بھاگی ۔۔۔ وہ منیب کو روک لینا چاہتی تھی۔۔۔ اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی اسے اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ کھڑے ہونے پر اسے چکر آ رہے تھے سانس اٹک اٹک کر آتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ مگر اسکا اتنا تردد کرنا فضول گیا تھا ۔۔۔ جب تک وہ لاوئنج میں پہنچی منیب کی گاڑی گھر سے نکل چکی تھی۔۔۔ تیزی سے امرحہ نے کچھ سوچتے منیب کو کال ملانے کا سوچا۔۔۔ کیونکہ نجانے کیوں اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اب اسنے منیب سے بات نہ کی تو پھر کبھی اس سے بات نہ کر سکے گئ۔۔ اسے پاس ہی کانچ کی میز پر اپنا پرس ڈھرا دکھائی دیا جو اس نے صبح صوفے پر بیٹھتے وہاں رکھا تھا۔۔۔ لمحے کی تاخیر کئے بنا اسنے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے بیگ کو کھولا اور اپنا موبائل نکال کر منیب کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔
بار بار وہ اپنے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔۔۔ آنکھوں کے آگے دھند کی دبیز تہہ جمنے لگی تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں اس وقت دنیا میں موجود اسکے واحد محرم رشتے کی شبیہ لہرا رہی تھی جس سے وہ ہر حال میں بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔ بیل جا رہی تھی مگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔
آنسو بھل بھل بہنے لگے تھے۔۔۔ معاف کر دیں منیب۔۔۔ وہ سسکی۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا تھا۔۔۔ کپکپاتے ہاتھ میں موجود موبائل ہاتھ سے لڑکھتا ماربل کے فرش پر گرتا کئ حصوں میں بٹا تھا۔۔۔
اس نے سہارے کی غرض سے صوفے کو تھامنا چاہا مگر تھام نہ سکی ڈھرام کی آواز سے وہ زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔ آنکھوں کی پتلیوں پر موجود منیب کی شبیہ دھندلانے لگی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں مکمل اندھیرا اس شبیہ پر حملہ آور ہو گیا تھا۔۔۔ خوف و ہراس سے پر آنکھیں پرسکون ہو کر بند ہو گئیں تھیں۔۔۔ پلکوں کی بار پر ابھی بھی ایک ننھا شبنم کا قطرہ موجود تھا۔۔۔۔
******
منیب امرحہ کا فون آ رہا تھا مگر اب میں اسے کال ملا رہی ہوں تو اسکا فون بند جا رہا ہے اور وہ لینڈ لائن سے بھی فون نہیں اٹھا رہی۔
منیب نے آکر ابھی بیک سیٹ پر تمام شاپر رکھتے ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی ہی تھی کہ اریبہ نے اپنی پریشانی اسکے گوش گزاری۔۔۔
اسنے بھی پریشان ہوتے سرعت سے ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھاتے امرحہ کا نمبر ملایا مگر فون بند۔۔۔
اسنے تیزی سے گاڑی ریورس کی تھی۔۔ خدا خیر کرے کہیں اسکی طبیعت خراب نہ ہو گئ ہو۔۔۔ منیب کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔۔ انتہائی ریش ڈرائیونگ کرتے وہ مسلسل گھر کے لینڈ لائن پر فون کر رہا تھا۔۔۔ امرحہ فون نہین اٹھا رہی مگر گل کو تو فون اٹھانا چاہیے ۔۔ وہ کہاں مر گئ ہے۔۔۔
گل تو دوپہر میں ہی چھٹی لے کر چلے گئ تھی۔۔۔ اسکے بیٹے کی طبیعت خراب تھی۔۔۔ اریبہ نے تھوک نگلتے انکشاف کیا۔۔۔
کیاااا۔۔۔ وہ شاک کی کیفیت میں گویا ہوا۔۔۔ تم پاگل ہو اریبہ ۔۔۔ تمہیں مجھے یہ بات پہلے بتانی چاہیے تھی۔۔۔ تم اسکی حالت جانتی ہو پھر تم اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہو۔۔۔ ہم کیسے اسے اس حالت میں تنہا گھر چھوڑ کر آ سکتے ہیں۔۔۔ طرح طرح کے وسوسے اسکے دل میں سر ابھارنے لگے تھے۔۔۔ اریبہ کو بھی شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔۔ وہ بالکل ہی بھول چکی تھی کہ گل گھر پر نہیں ہے۔۔۔ گاڑی کو ہواوں میں اڑاتا وہ گھر پہچا تھا۔۔۔ گاڑی کارپورچ میں کھڑا کرتا وہ جھٹکے سے کار کا دروازہ کھولتے بھاگتا ہوا اندر جا رہا تھا اریبہ نے بھی اسی سپیڈ سے اسکی پیروی کی۔۔۔
لڑکی کا منقش دروازہ کھول کر اسے اپنے پاوں کو گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھنے سے روکنا پڑا تھا۔۔۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اسے لگا تھا جیسے کسی نے اسکے جسم سے روح کھینچ لی ہو۔۔۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ تھی۔۔۔
وہ سرعت سے اس تک پہنچتا گھٹنوں کے بل ڈھے گیا تھا۔۔۔
امرحہ۔۔۔ مرحہ۔۔۔ امرحہ آنکھیں کھولو۔۔۔۔ وہ اسکا سر اپنی گود میں رکھتا دیوانہ وار اسکا چہرا تھپتھپاتا اسے ہوش میں لانے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔
منیب یہ وقت نہیں ہے یوں بیٹھنے کا اسے اٹھاو ہسپتال چلیں۔۔۔ حواس باختہ سی اریبہ نے اسے جھنجھوڑ کر صورتحال سے آگاہ کیا جسکی حالت کسی دیوانے سے کم نہ تھی۔۔
ہہ۔۔ہہ۔۔ہاں اسنے ہکلاتے ہوئے امرحہ کو بازوں میں اٹھایا جبکہ اریبہ نے بھاگم بھاگ جا کر گاڑی کا دروازہ کھولا
*******

Zaberdsst novel amazing
ReplyDeleteBht acha hai novel
ReplyDelete