Header Ads

Hamsafar novel 37th episode by Umme Hania Online reading

  





 

Hamsafar  novel 37th episode by Umme Hania

Hamsafar is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Hamsafar is a motivational  and encourgious story of a strong person 

         Online Reading

 ناول " ہمسفر "۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

سینتیسویں قسط۔۔۔۔
تم آج بوتیک جاو گئ۔ ۔۔  منیب امرحہ کو لے کر شاپنگ پر جانے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور ابھی ابھی وہ امرحہ کو جلد از جلد باہر آنے کا کہہ کر اس کے کمرے سے باہر نکلا تھا جب لانچ میں بیٹھی اریبا کو دیکھ کر اس نے استفسار کیا ۔۔۔
میری کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو ابھی تو وہاں جانے کا کوئی ارادہ نہیں اگر طبیعت کچھ ٹھیک ہوئی تو پھر بعد میں چکر لگا لوں گئ۔۔۔ وہ پزمردگی سے صوفے پر نیم دراز تھی۔۔۔  چلو پھر پہلے تمہیں ڈاکٹر کو چیک کروا لیتے ہیں اس کے بعد ہم شاپنگ پر چلے جائیں گے وہ لمحوں میں پریشان ہو اٹھا تھا کب منظور تھی اسے اریبہ کی ایسی حالت ۔۔۔۔
نہیں اب اتنی بھی طبیعت خراب نہیں کہ ابھی ڈاکٹر کے پاس جایا جائے بس کچھ تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔ اور ویسے بھی شام کی اپاائنٹمنٹ ہے ڈاکٹر سے تو شام کو چک آپ کے لیے جائیں گے ابھی تم جاؤ وہ مسکرا کر اسے دیکھتی گویا ہوئی ۔۔۔
وہ کچھ دیر اسے سوچتی نگاہوں سے دیکھتا رہا اور امرحہ کے کمرے سے آنے کے بعد سر ہاں میں ہلاتا باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔
امرحہ بہت خوشگوار موڈ میں منیب کے ساتھ ہلکی پھلکی باتیں کرتی شاپنگ کے لیے جا رہی تھی مال کے سامنے گاڑی روک کر منیب  گاڑی سے ابھی باہر  نکلا ہی  تھا کہ  کئ ایک لڑکیوں کا جمگھٹا اس کے گرد یوں لگا تھا جیسے شہد کی مکھیاں چھتے پر بیٹھی ہوں  ۔۔۔۔   
سر سر۔۔۔ ایک سلفی۔۔۔۔  منیب سر آٹوگراف پلیز۔۔۔  میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں منیب شاہ۔۔۔  طرح طرح کی آوازیں  اس جمگھٹے میں سے مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی مانند امرحہ کو سنائی دے رہی تھی وہ ابھی تک ہنوز گاڑی میں ہی بیٹھی تھی منیب کے لیے یہ سب کچھ نیا نہیں تھا  ۔۔۔ اس فیلڈ میں آنے سے پہلے بھی وہ اس گلیمر کا عادی تھا مگر جب سے وہ پروفیشنلی اس فیلڈ میں آیا تھا تب سے یہ اس کے ساتھ روز کا کام تھا۔۔۔  وہ جہاں بھی جاتا لوگ اسے پہچان لیتے تھے اور پھر یوں ہی اس کے گرد جمگھٹے لگتے تھے اور اس کا کتنا ہی وقت یوں ہی صرف ہو جاتا  ۔۔۔  شہرت اور عروج کا ایک نقصان یہ ہی ہوتا ہے کہ انسان کی پرائیویسی ختم ہو کر رہ جاتی ہے ۔۔۔  اب بھی منیب نارمل انداز میں سب کو ڈیل کر رہا تھا جب کہ امراحہ اس اچانک افتاد پر ہراساں ہو چکی تھی وہ تو اپنے اس بے ڈول سراپے کے ساتھ پہلے ہی کہیں آنے جانے کے لیے ہزاروں عذر تلاش کرتی تھی اب جو وہ اپنے بچے کی شاپنگ کے نام پر خوشی خوشی آنے کے لئے راضی ہوئی تھی اب ایک دم سے اتنی نگاہوں کا محور بنتے ہوئے ایک عجیب سی ہے جھجھک لاج اور حجاب اس پر در آیا تھا۔۔۔
تقریبا دس سے پندرہ منٹ لگے تھے منیب کو اس جمگھٹے سے فارغ ہوتے ہوتے اور وہاں سے فارغ ہوتے ہی وہ گھوم کر اس کی طرف کا دروازہ کھولے اس کے باہر آنے کا منتظر تھا ۔۔۔
شاہ میرا دل گھبرا رہا ہے پلیز ہم واپس چلتے ہیں مجھے شاپنگ نہیں کرنی وہ عجیب سے مخمصے میں گھری اسے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔۔  تمہارا  دماغ خراب تو نہیں ہوگیا چلو شاباش باہر نکلو اب تمہارے خیال سے  یہاں پر مال کے دروازے تک پہنچ کر یہاں سے ہم شاپنگ کئے بنا ہی واپس پلٹ آئیں گے ۔۔۔  ایک دم اس کا پارہ ہائی ہوا تھا لیکن امرحہ کی نیچر کو سمجھتے ہوئے اس نے ضبط سے  اپنے غصے  پر کنٹرول کرتے نرمی سے کہا ۔۔۔۔۔۔
نہیں شاہ پلیز ہم واپس چلتے ہیں ہم گھر سے ہی آن لائن شاپنگ کر لینگے ہمیشہ اس کی ہر بات کو ماننے والی اب ایک بے تکی بات پر اڑ چکی تھی وہ لڑکیوں کا ایک اور ٹولااس کی طرف آتا دیکھ چکی تھی جو کہ مال سے نکلا تھا اور اب منیب کو دیکھ کر وہ آپس میں مسکراتی نگاہوں سے ایک دوسرے کو اشارے کرتیں اسی جانب آ رہی تھین۔۔  الٹرا مارڈرن اور ہائی سوسائٹی سے تعلق رکھتی ہر ایک کو جوتے کی نوک پر رکھتی وہ لڑکیاں امرحہ کو عجیب مخمضے میں ڈال رہیں تھیں۔۔۔اور اب وہ جلد از جلد اس ماحول سے فرار چاہتی تھی ۔۔ تم اکیلی نہیں ہو امرحہ میں تمہارے ساتھ ہوں اس لئے فورا باہر آؤ جب ہم یہاں تک آئے ہیں تو شاپنگ کر کے ہی واپس جائیں کے وہ بہت ضبط سے اپنی آواز کو بلند ہونے سے روکتا چبا چبا کر گویا ہوا ۔۔۔
ہائے منیب ۔۔۔ منیب سر آٹو گراف۔۔۔ منیب سیلفی۔۔۔ پھر سے چند لڑکیوں کا جھرمت اسکے گرد بن گیا تھا جبکہ وہ ان سب کو ہاتھ کے اشارے سے روکتا سنجیدہ و سخت نگاہوں سے امرحہ کو دیکھتا دوسرا ہاتھ اسکی طرف بڑھا چکا تھا کہ وہ اسکا ہاتھ تھام کر  باہر نکلتی اور وہ اس ہجوم کو چیڑتا آگے بڑھ جاتا۔۔۔  وہ کار کے دروازے کے سامنے اس طرح سے ایستادہ تھا کہ کوئی اور امرحہ کو دیکھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔
امرحہ شش و پنج میں مبتلا کبھی منیب اور کبھی ہجوم کو دیکھ رہی تھی اتنی بھگڈر دیکھ کر اسکا دل ویسے ہی گھبرانے لگا تھا۔۔۔
اسنے لاچاری سے سر نفی میں ہلایا تو  کئ آنسو پلکوں کی بھاڑ پھیلانگتے بہہ نکلے۔۔۔
منیب نے لب بھِینچے نہایت طیش کے عالم میں گاڑی کا دروازہ ایک زوردار دھماکے سے بند کیا تھا کہ کار میں بیٹھی امرحہ کا دل بھی ایک پل کو ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔ وہ سب کو نظر انداز کرتا سخت تاثرات و  سنجیدگی سے گھوم کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی۔زن سے بھگا لے گیا۔۔۔
******
شش۔۔۔شاہ۔۔۔  وہ لب بھینچے شعلے برساتی نگاہیں ونڈ سکرین پر جمائے انتہائی ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا اور یہ اسکے سخت اشتعال میں ہونے کی نشانی تھی۔۔۔۔  وہ جو اسکی معمولی ناراضگی تک برداشت نہ کر پاتی تھی  اب اسے یوں اتنے اشتعال میں دیکھ اسکی جان ہوا ہونے لگی تھی تبھی وہ ہمت کرتی گویا ہوئی تھی۔۔۔
سس۔۔۔ سوری۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔ پاگل ہوں میں بے وقوف ہوں۔۔۔  اسکے لہجا آگ کو مات دے رہا تھا۔۔۔ جس میں امرحہ کو اپنا آپ جھلستا محسوس ہوا تھا۔۔۔  وہ حق دق اسکا یہ جنونی انداز دیکھ رہی تھی اسنے ابھی تک اسے محض ایک ہمدرد اور نرم سائباں کی مانند دیکھا تھا اسکا یہ روپ امرحہ کے لئے اجنبی تھا۔۔۔
وہ غصے سے پاگل ہونے کے در پر تھا۔۔۔  اپنے بیس کام چھوڑ کر میں تمہیں ساتھ لئے آیا تھا اور تمہاری بدگمانیاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔۔۔۔  کیا میں تمہیں اس بھیڑ کے حوالے کیے خود کہیں جا رہا تھا۔۔۔  ہم جیسا احمق عظیم بھی کوئی ہو گا جو شاپنگ کی غرض سے مال کے دروازے تک پہنچ کر بنا شاپنگ کئے واپس پلٹ آئے۔۔۔۔
اسکے لہجے میں ازدھوں کی پھنکار تھی۔۔۔ زبان کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی شعلے برسا رہی تھیں۔۔۔ اسنے کئ ایک خطرناک موڑ اسی غصے میں کاٹے تھے۔۔۔
خوف سے امرحہ کی ریڈ کی ہڈی تک سنسا اٹھی تھی۔۔۔ منیب اس وقت اپنی حسیات میں نا رہا تھا شاید۔۔۔
شہرت کے اس مقام تک  پہنچنے کے بعد ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے آج تمہاری اس بد گمانی و بے اعتباری کے باعث ناجانے  میرے بارے میں کیا خبریں وائرل ہو چکی ہونگی۔۔۔۔ تماشا بنا کر رکھ دیا ہے تم نے میرا۔۔۔ اسنے ایک زوردار مکہ سٹیرنگ پر مارا تھا امرحہ کو اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئیں۔۔۔   وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔  نہیں جانتی تھی کہ اتنی چھوٹی سی بات کا اتنا بڑا اشو بن جائے گا۔۔۔
رونا بند کرو۔۔  مجھے ڈرامے لگا کر نہ دکھاو ورنہ چلتی گاڑی سے باہر پھنک دوں گا۔۔۔ اسکے رونے نے الٹا ہی اثر کیا تھا وہ اسکی جانب دیکھتا پھنکارا تھا دھیاں ہٹنے سے گاڑی نے ایک زوردار جھٹکا کھایا تھا بروقت اسنے اسٹرینگ پر گرفت مضبوط کرتے  گاڑی سمبھالی تھی۔۔۔ جبکہ امرحہ اب کسی خوفزدہ ہرنی کی مانند سانس بھی رک رک کر لیتی سیٹ کر ساتھ چپک چکی تھی۔۔۔۔
گیٹ سے اندر گاڑی داخل ہوتے ہی زن سے سے اسنے گاڑی کار پورچ میں روکی تھی۔۔۔  اور خود بنا اسکا انتظار کیے دروازہ کھول کر ایک ٹھاہ کی آواز کیساتھ دروازہ بند کرتے وہ لمبے لمبے ڈگ بڑتا اندر چلا گیا تھا۔۔۔ جبکہ امرحہ اپنے اندر اتنی ہمت بھی مفقود پاتی تھی کہ اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹ کر باہر ہی لیجاتی۔۔
*****
اریبہ جو ابھی لاوئنج سے اٹھ کر کمرے میں جانے کے ارادے سے اٹھی ہی تھی منیب کی گاڑی کے ٹائر کے چڑچڑانے کی آواز سن کر ماتھے پر بل ڈالتی الجھی سی باہر کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔ کہ ابھی تو وہ گئے تھے اور گئے بھی شاپنگ کے ارادے سے تھے پھر اتنی جلدی واپسی ۔۔۔ وہ  مخمضے کا شکار باہر کی جانب ہی دیکھ رہی تھی جب نہایت طیش کے عالم میں منیب لب بھینچے لمبے لمبے ڈگ بھرتا  اندر داخل ہوا تھا وہ بنا اسکی جانب دیکھتے سیدھا کمرے کی جانب بڑھا ۔۔ اریبہ نے چونک کر اسکا یہ طرز عمل دیکھا جبکہ پیچھے ہی فق ہوتی رنگت کیساتھ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ شکستہ حال سی امرحہ اندر داخل ہوئی۔۔۔
یقیناً کوئی بڑی بات ہوئی تھی ان دونوں کے رویے اریبہ کو الگ ہی فسانے سنا رہے تھے۔۔۔  اس نے بھاگ کر امرحہ کو تھاما جو بری طرح لڑکھڑا کر گرنے کے در پر تھی ۔۔۔ ادھر بیٹھو تم۔۔۔ گل پانی کا گلاس لاو۔۔۔  اریبہ نے اسے سہارے سے لاتے صوفے پر  بیٹھایا۔۔۔ جو اب سہارا ملنے پر  کسی  خوفزدہ بچے کی مانند اریبہ کے ہی سینے سے ہی  لگتی  سسک سسک کر رو دی تھی۔۔۔
اریبہ تو اسکی حرکت سے ساکت ہی رہ گئ تھی۔۔۔ اسکی حالت دیکھتی یکدم ہی اسکا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسلہ تھا۔۔۔ اس وقت وہ اسکی سوتن بن کر نہیں بلکہ ایک لڑکی بن کر سوچ رہی تھی۔۔۔ کیونکہ سوتن بن کر سوچتی تو شاید اسے امرحہ کی یہ خستہ۔حالت سکون فراہم کرتی مگر وہ بے چین ہو اٹھی تھی۔۔۔
تبھی گل کے آنے پر اسنے پانی کا گلاس تھام کر امرحہ کے منہ سے لگایا۔۔۔ 
بی بی جی کیا ہوا آپ اتنا رو کیوں رہی ہیں۔۔  گل بھی پریشان ہوتی استفسار کرنے لگی۔۔۔ یہ تمہارا مسلہ نہیں تم جا کر اپنا کام کرو۔۔۔ اریبہ نے سختی سے گل کو جھڑک کر وہاں سے بھیجا۔۔۔
اب بتاو ہوا کیا۔۔۔ گل کے جانے کے بعد اریبہ نے اسکے آنسو صاف کرتے نرمی سے پوچھا۔۔۔
شاہ ناراض ہو گئے ہیں مجھ سے اریبہ آپی۔۔  بہت زیادہ ناراض۔۔۔ انہوں نے مجھے بہت ڈانٹا ہے۔۔۔ میں کیا کروں آپی۔۔۔  اللہ کے بعد ایک شاہ ہی کا تو سہارا ہے میرے پاس۔۔۔ وہ بھی اگر ناراض ہو گئے تو میرا تو دل ہی بند ہو جائے گا۔۔۔ آنسو ضبط کرنے کی کوشیش میں بھل بھل بہنے لگے تھے۔۔۔۔  پنکھری سے لب کپکپانے لگے تھے۔۔۔ آنکھوں سے آس و نراس اور حراس و وحشت ٹپک رہی تھی۔۔۔ اریبہ کو جی بھر کر اس پر ترس آیا۔۔۔ 
بات کیا ہوئی ہے یہ تو بتاو۔۔۔۔  اسکی ڈگرگوں حالت دیکھتے اریبہ نے بیساختہ اسکے خزان رسید پتے کی مانند کپکپاتے وجود کو  اپنے حصار میں لیتے اسے تحفظ دینے کی ایک لاشعوری کوشیش کی۔۔۔ وہ بھی اسے ہچکیوں کے درمیان سارا معاملہ بتاتی گئ۔۔۔ ساری بات سن کر اسنے ایک گہری سانس  خارج کی۔۔۔۔۔
کوئی ایسی بات نہیں ہے امرحہ۔۔۔  منیب کی عادت ہے یہ پہلے تو اسے غصہ کبھی آتا نہیں اور بالفرض اگر آ جائے تو وہ بہت جنونی ہو جاتا ہے تم فکر مت کرو شام تک اسکا غصہ اتر جائے گا تو اسے اپنی غلطی کا احساس بھی ہو جائے گا ۔۔۔۔  اریبہ نے اسے تسلی دیتے اسکے کمرے میں چھوڑا  اور اسے آرام کرنے کا کہتی خود باہر آئی۔۔۔
ناجانے کیوں امرحہ کا دل اریبہ کی کوئی دلیل کوئی وضاحت ماننے کو تیار نہ تھا۔۔۔ دل بے طرح گھبرا رہا تھا  جیسے کچھ برا ہونے والا ہو بہت برا۔۔۔ وہ افسردہ دل کیساتھ بیڈ پر لیٹ گئ۔۔۔ لیکن آنکھوں کے سوتے تھے کہ خشک ہونے کا نام ہی نا لے رہے تھے۔۔۔ دل کو ایک عجیب سی بے چینی لگی تھی جسے وہ کوئی بھی نام دینے سے قاصر تھی۔
********
امرحہ کو اسکے کمرے میں بھیج کر اریبہ خود اپنے کمرے میں آئی تھی جہاں منیب جوتے سمیت پاوں بیڈ پر رکھے یوں نیم دراز تھا کہ ایک پاوں بیڈ پر  جبکہ دوسرا پاوں بیڈ سے زرا نیچے ہوا میں معلق تھا۔  ہاتھ کی مٹھی بنائے بند آنکھوں سے وہ بار بار اپنے ماتھے پر مارتے گویا اپنے اندر اٹھتے اشتعال پر قابو پانے کی سعی میں تھا۔۔ بیڈ پر موجود پاوں مسلسل ہلاتے وہ اپنے اندر موجود خلفشار کی نشاندہی کر رہا تھا۔ 
میرے خیال سے ایک بے تکی بات کو اشو بنا کر تم اتنا جذباتی ہو ہورہے ہو منیب۔۔۔ اگر وہ تمہارے ساتھ شاپنگ کرنے نہیں گئ تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسے تم پر یقین یا اعتماد نہیں۔۔۔ اسکا سیدھا سا مطلب یہ ہی ہے کہ وہ اس ماحول کی پروردہ نہیں۔۔۔ یہ سب اسکے کے لئے اجنبی اور نیا ہے۔۔ کچھ وقت لگے گا اسے ان سب میں ایڈجسٹ ہونے میں۔۔ آج واقعی تم نے زیادتی۔۔۔
شٹ آپ۔۔۔۔ اینڈ آوٹ۔۔۔۔ اریبہ کمرے میں آتی حسب معمول اسے اسکی غلطی نوٹ کروا رہی تھی۔۔۔ اور ایسا ہمیشہ سے تھا۔۔۔  ان میں اتنی بے تکلفی ضرور تھی کہ وہ کسی بھی موضوع پر بلا جھجھک بات کرتے تھے۔۔۔۔ مگر آج شاید واقعی منیب اپنے حواسوں میں نہ تھا جو ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتا وہ اریبہ پر ڈھارا تھا اور انگلی سے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔۔۔ آنکھوں سے شرارے لپک رہے تھے جیسے ابھی آنکھوں سے نکل کر اریبہ کو بھسم کر ڈالیں گئے۔۔۔ اریبہ کچھ دیر خاموشی سے اسے یونہی دیکھے گئ اور پھر چپ چاپ بنا کوئی بات کئے کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔ اگر وہ منیب کی عادت سے واقف نہ ہوتی تو یقیناً جھگڑا لازم تھا مگر اتنے عرصے کے ساتھ میں وہ اتنا تو جان ہی گئ تھی کہ اسے غصہ کم کم ہی آتا ہے اور جب آتا ہے تو ریکارڈ توڑ دیتا ہے اور ایسے موقع پر وہ اس سے بحث کر کے بات بڑھانے کی بجائے  خاموش ہو کر اسکے غصے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کرتی تھی اور اسکا غصہ ٹھنڈا ہونے پر اسے وہ بھگو بھگو کے  مارتی تھی کہ منیب کو ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگنی پڑتی تھی۔۔۔
اب بھی منیب کا ایسا رویہ اسے چھبا تو بہت تھا مگر وہ خاموشی سے وقت گزرنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔ اسے حقیقتاً امرحہ کے لئے بھی افسوس ہو رہا تھا جسکی نگاہوں میں دم ٹورٹی آس و امید اور زندگی کی ڈور کو وہ باخوبی جانچ چکی تھی۔۔۔ وہ لاکھ مضبوط اور باہمت صحیح مگر اندر سے وہ بہت نازک دل کی ٹین ایجر تھی جو منیب کے رد عمل کا بہت اثر لے چکی۔۔۔   ناجانے اب آگے کیا تھا قسمت میں لکھا۔۔۔
*******


For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


No comments

Powered by Blogger.
4