Hamsafar novel 36th episode by Umme Hania online reading
Hamsafar novel 36th episode by Umme Hania
Hamsafar is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hamsafar is a motivational and encourgious story of a strong person
Online Reading
ناول " ہمسفر "۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
چھتیسویں قسط۔۔۔
منیب نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ وا کیا تو نیم تاریکی نے اسکا استقبال کیا۔ ۔۔ کمرے کے حالات شام سے یکسر مختلف نہ تھے۔ ۔۔ امرحہ ویسے ہی کندھوں تک لحاف اوڑھے محو استراحت تھی۔ ۔۔
منیب نے پریشانی سے اسے دیکھتے مڑ کر دیوار پر موجود سوئچ بورڈ سے کمرے کی لائٹ جلائی۔ ۔۔ یکدم ہی کمرا روشنیوں سے نہا کر گیا تھا ۔۔۔
امرحہ اٹھو وہ قدم با قدم چلتا اس کے قریب گیا اور وہیں بیڈ کے کنارے پر ٹکتا اس کے گال تھپتھپا کر اسے اٹھانے کی سعی کرنے لگا۔۔۔۔
امرحہ ۔۔ امرحہ۔۔۔۔ امرحہ کو کہیں دور کھائی سے کوئی آواز سنائی دے رہی تھی ایک نامحسوس سا لمس محسوس کرکے اس نے آہستگی سے اپنی آنکھیں وا کیں تو نظر اس پر جھکے منیب سے ٹکرائی ۔۔۔
کیا بات ہے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔۔ اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھتے منیب کے لہجے میں تشویش در آئی تھی ۔۔۔جی میں بالکل ٹھیک ہوں امرحہ نے کسلمندی سے چہرے پر در آئے بالوں کو پیچھے کیا البتہ اس نے اٹھنے سے گریز ہی کیا تھا ۔۔۔۔
چلو اٹھو آؤ شاباش آ کر کھانا کھاؤ ۔۔۔ پھر تم نے دوائی بھی لینی ہے ۔۔۔ منیب اس کی مضحمل سی حالت دیکھ کر پریشان ہو اٹھا تھا ۔۔۔۔
میرا دل نہیں چاہ رہا کھانا کھانے کو شاہ۔۔۔۔مجھے نیند آرہی ہے میں سونا چاہتی ہوں سر اور آنکھوں پر بہت بوجھ محسوس ہو رہا ہے ۔۔۔ امرحہ نے اپنی نیم وا ہوتی آنکھوں کو بے طرح مسل کر نیند بھگانے کی کوشش کرتے منیب سے کہا ۔۔۔
پہلے کھانا کھاؤ اس کے بعد سو جانا اور میرے خیال سے تمہارا بی پی لو ہے جس کے باعث تمہیں مسلسل نیند آ رہی ہے ۔۔۔ دوپہر میں لنچ کیا کیا تھا تم نے ۔۔۔۔ تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہر دو گھنٹے بعد کچھ نہ کچھ لیتی رہنا ۔۔۔ ہر بات چپ چاپ مانتے ہوئے تم اپنے بارے میں اتنی لاپرواہ کیوں ہو جاتی ہو امرحہ۔۔۔۔ تمہاری جان سے ایک ننھی جان بھی نتھی ہے تمہیں یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی ۔۔۔
وہ سمجھ چکا تھا کہ اس نے ضرور اپنے ساتھ کھانے پینے میں کوئی لاپرواہی کی تھی جس کے باعث اب اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی ۔۔۔ کیونکہ بقول ڈاکٹر کے وہ پہلے ہی بہت کمزور تھی اور اسے ایک اچھی اور پراپر ڈائٹ کی سخت ضرورت تھی ۔۔۔
اسی وجہ سے اب وہ اس پر برہم ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اب وہ اسے کیا بتاتی کہ وہ دوپہر میں کھانا بنانے ہی گئ تھی لیکن شاید یہ حالات کا تقاضا تھا اور کچھ اسکی ناساز طبیعت کے باعث کہ اب وہ بہت کم ہمت اور کمزور دل ہونے لگی تھی ۔۔۔ اسی لئے اریبہ کے سخت لہجے پر وہ ہراساں ہوتی کمرے میں آ گئی تھی اور کتنے ہی دیر رو رو کر دل کا غبار ہلکا کرتے وہ وہیں سر تھامے سو گئی تھی ۔۔۔
وہ ایک مثبت سوچ کے حامل ہر چیز کا مثبت پہلو سوچتی ایک باہمت لڑکی تھی ۔۔۔ لیکن آج کل کے جو حالات تھے وہ خود کو بہت اکیلا ہ
اور تنہا محسوس کرنے لگی تھی ۔۔۔۔ اریبہ سامنے نہیں تھی تو اسے سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا لیکن اب اریبہ اور منیب کو اکٹھے خوشحال خوش و خرم اور چاند سورج کی جوڑی کی مانند دیکھتے اس کے دل میں شدت سے یہ خیالات سر ابھارنے لگے تھے کہ وہ غاضب ٹھہری ہے ایک پیارے سے جوڑے کے درمیان وہ خود آئی ہے اس نے اریبہ جیسی مکمل لڑکی کا حق مارتے اسے ایک ادھوری زندگی جینے پر مجبور کیا ہے تو دوسری جانب دل کے کسی نہاں خانے سے آواز آتی کہ وہ ناشکرے پن کی مرتکب ہو رہی ہے۔۔۔ اسکا اور منیب کا ساتھ روز اول سے طے تھا۔۔۔ یہ خدا کا بنایا رشتہ ہے جس کی وہ نفی کر رہی ہے۔۔ اپنی اس بنتی بگڑتی حالت سے وہ خود ہی خوفزدہ ہو اٹھتی تھی۔۔۔
کبھی وہ سوچتی کہ وہ اریبہ کے لئے بالکل بے ضرر ثابت ہوگئ۔۔۔ کبھی اسکے اور منیب کے درمیاں نہیں آئے گئ مگر منیب کو دیکھتے ہی اسکا دل منیب کی ہمراہی کے لئے ہمکنے لگتا تھا۔۔۔
اب بھی منیب کا نرم اور ہمدرد لہجہ سن کر اسے اچھا لگا تھا منیب کی ڈانٹ بھی اسے بھلی محسوس ہوتی تھی۔۔ لیکن جو بھی تھا وہ اریبہ کی احسان مند تھی وہ اسکے بڑے پن کی قائل ہوئی تھی جس نے حالات سے سمجھوتا کرتے اسے قبول کر لیا تھا چاہیے منیب سے کی جانے والی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہی سہی مگر اسکے دل میں اریبہ کی عزت بہت بڑھ گئ تھی۔۔۔ وہ اسے اسکے ہر عمل کے لئے حق بجانب سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
آپ مجھے دو منت دیں میں بس ابھی فریش ہو کر آئی۔۔ منیب کو غصے میں دیکھ اسکی جان ہوا ہونے لگی تھی اسی لئے وہ اپنی حالت کو پس نظر کرتی بات کو ختم کرنے کی غرض سے بعجلت بیڈ سے اترتی واش روم کی جانب بڑھی۔۔۔
ان دونوں کو ڈائینیگ ٹیبل کی طرف آتا دیکھ اریبہ نے کن اکھیوں سے منیب کی جانب دیکھا مگر اسے بالکل نارمل انداز میں کرسی پر بیٹھتے کھانا کھاتے دیکھ اریبہ نے چونک کر امرحہ کو دیکھا جو جاموشی سے سر جھکائے کھانا کھا رہی تھی۔۔۔
اسنے منیب سے کچھ کہا نہیں کہ منیب نے سن کر کوئی ردعمل نہیں دیا۔۔۔ کانٹا پلیٹ میں گھماتی وہ الجھی سی سوچ رہی تھی۔۔
گل بی امرحہ کے کمرے سے اسکی دوائیاں لے کر آئیں اور دو گلاس نیم گرم دودھ کے بھی۔۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر منیب نے برتن سمیٹتی گل سے کہا۔۔۔ اریبہ کھانا کھا کر وہیں لاوئنج میں موجود صوفے پر بیٹھتی اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرنے لگی تھی۔۔۔
یہ دودھ پیو۔۔۔ امرحہ کو دوائی دینے کے بعد وہ اب دودھ کا گلاس ہاتھ میں تھامے اریبہ کے سر پر کھڑا تھا اریبہ نے لیپ ٹاپ سے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا اور اسکے ہاتھ میں تھاما دودھ کا گلاس دیکھ کر اسنے چہرے کے ایسے زاویے بنائے جیسے اس ابکائی آ رہی ہو۔۔۔
میں یہ نہیں پی سکتی منیب تمہیں پتہ ہے دودھ مجھے بالکل پسند نہیں۔۔۔ وہ بدک کر صوفے سے اٹھتی منیب سے دو قدم پیھے ہٹ کر یوں کھڑی ہوئی جیسے وہ اسے زبردستی دودھ پلا دے گا۔۔۔
میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوں اریبہ کہ میں اس معاملے میں بحث کا بالکل بھی متحمل نہیں دودھ تمہیں صبح و شام پینا پڑے گا ہس کر یا رو کر۔۔۔ چلو شاباش جلدی سے ختم کرو اسے۔۔۔ منیب کا لہجہ بے لچک تھا۔۔۔
منیب اب تم میرے ساتھ ایسا کرو گئے وہ اسکا اٹل انداز دیکھتی روہانسی ہو اٹھی تھی۔۔۔ نا کرو اریبہ یار۔۔۔ پلیز پی لو۔۔۔ کیا تم میرے لئے ایک دودھ کا گلاس نہیں پی سکتی۔۔۔ اسے رونکھی صورت بنائے دیکھ منیب نے لجاہت سے اسے قائل کرنا چاہا۔۔۔
وہ شد و مد سے منیب کے ہاتھ میں تھامے گلاس کو دیکھ کر یوں اسکی جانب بڑھی جیسے اسکے ہاتھ میں دودھ کا گلاس نہ ہو بلکہ کوئی زہریلا جانور ہو۔۔۔
ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھی دودھ پیتی امرحہ نے اریبہ کو یوں دیکھ سر جھکا کر اپنی بے ساختہ امڈتی مسکراہٹ کو روکا تھا۔۔۔
اریبہ نے جھنجھلا کر اسکے ہاتھ سے دودھ کا گلاس تھاما اور آنکھیں زور سے میچتی ایک ہی سانس میں دودھ کا گلاس غٹاغٹ ختم کرتے اسنے گلاس زور سے کانچ کی میز پر پٹختے اپنا رکا سانس بحال کیا تھا۔۔۔
بے ساختہ اسکی جانب دیکھتا منیب مسکرا دیا تھا۔۔۔
نہایت برے انسان ہو تم۔۔۔ وہ خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتی واپس صوفے پر بیٹھتی اپنا لیپ ٹاپ سمبھال چکی تھی۔۔۔۔
منیب مسلسل مسکرا رہا تھا۔ تم کہاں جا رہی ہو۔۔۔ منیب نے دودھ کا گلاس ختم کر کے آہستگی سے وہاں سے اپنے کمرے کی جانب جاتی امرحہ سسے استفسار کیا۔۔۔
اپنے کمرے میں۔۔۔ وہ حیرت سے مڑی تھی۔۔۔
وہاں بعد میں جانا۔۔۔ پہلے کچھ دیر یہیں بیٹھو ہمارے پاس۔۔۔ منیب کے کہنے پر اسنے آہستگی سے ایک چور نگاہ اریبہ پر ڈالی جو لیپ ٹاپ پر ہاتھ روکے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ امرحہ نے سٹپٹا کر نظریں جھکائیں اور مرے مرے قدم اٹھا کر وہاں آتی سنگل صوفے پر بیٹھی۔۔۔
ناجانے کیوں وہ اریبہ کی موجودگی میں خود کو بہت غیر آرام دہ محسوس کرتی تھی۔۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ ابھی بھی خاموشی سے وہاں سے ہٹتی اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی۔۔۔
تمہیں ڈاکٹر نے واک کرنے کو کہا ہے لیکن میں نے تمہیں کبھی واک کرتے نہیں دیکھا۔۔۔ منیب دیکھ رہا تھا کہ وہ وہاں پر غیر آرام دہ تھی اور اسکی ایسی حالت اس گھر میں آنے کے بعد سے تھی۔۔۔
اب بھی وہ سر جھکائے انگلیاں مسلتی وہاں یوں بیٹھی تھی جیسے کسی نے اسے زبردستی وہاں بیٹھایا ہو۔۔۔
مجھ سے واک نہیں ہوتی بہت جلد تھک جاتی ہوں۔۔۔ وہ بنا منیب کی جانب دیکھتی منمنا کر گویا ہوئی۔۔۔ اریبہ ان دونوں سے بے نیاز اپنا کام کر رہی تھی۔۔
یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔۔۔ ہم نے تھوڑی نہ اولمپکس میں ٹرافی لینی ہے۔۔۔ جتنی دیر آسانی سے واک کر سکتی ہو اتنی دیر تو کرو جب تھک جاو تو ترک کر دینا۔۔۔ چلو اٹھو شاباش لان میں ہی کچھ دیر واک کرو۔۔۔ آو میں بھی تمہارے ساتھ واک کرتا ہوں۔۔۔ منیب اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اب اسکے اٹھنے کا منتظر تھا۔۔۔ امرحہ تھوک نگلتی آہستگی سے کھڑی ہوئی۔۔۔
آو اریبہ تم بھی ہمیں جوائن کرو۔۔۔۔ آپ لوگ چلیں میرا کچھ کام رہتا ہے میں وہ مکمل کر کے آتی ہوں۔۔۔ منیب کے کہنے پر وہ منیب کی جانب دیکھتی مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
امرحہ کیا بات ہے یار کیوں اتنا ٹینس دکھائی دے رہی ہو۔۔۔ لان میں امرحہ کے سنگ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا وہ اس سے مستفسر ہوا تھا۔۔۔
نن۔۔۔ نہیں تو ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔ منیب کے اتنے درست تجزے پر اسکی زبان لڑکھڑا گئ تھی۔۔۔
ٹھیک ہے کل ناشتے کے بعد تیار رہنا ہم شاپنگ پر چلیں گئے۔۔۔ ویسے بھی اب تو ہمارے بے بی کے آنے میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اور ہم نے ابھی تک اسکی شاپنگ بھی نہیں کی۔۔۔ کچھ دیر تک امرحہ کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھتے رہنے کے بعد وہ بات کا رخ بدل گیا تھا۔۔۔ اور تب سے اسنے پہلی مرتبہ امرحہ کے چہرے پر سچی خوشیوں کے رنگ کھلتے دیکھے تھے۔۔۔۔
ہر بات میں باہر آنے جانے سے آنا کانی کرنے والی امرحہ اپنے بچے کی شاپنگ کے نام پر خوشی خوشی جانے کے لئے راضی ہو اٹھی تھی۔۔۔ اپنے بچے کے لئے تو وہ خود بھی ہر ماں کی طرح اسکی ہر چیز بہتر سے بہترین خریدنے کی خواہشمند تھی۔۔۔
شاہ میں اب تھک گئ ہوں میں کمرے میں جاوں۔۔۔ وہ اریبہ کو لان کی جانب آتا دیکھ چکی تھی اسی لئے وہ اب منیب سے اجازت طلب کرتی واپس جانا چاہتی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے تم اب آرام کرو۔۔ چلو میں تمہیں کمرے میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ منیب اسکی اندرونی کیفیت سے بے خبر اسکے گال تھپتھپاتا گویا ہوا۔۔۔
نہیں میں چلی جاوں گئ۔۔۔ آپ واک کریں۔۔۔
ٹھیک ہے پر صبح یاد سے تیار رہنا۔۔۔
وہ مسکرا کر سر ہلاتی واپسی کو پلٹی تھی۔۔۔ لکڑی ک منقش دروازہ کھولنے سے پہلے اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا جہاں منیب مسکرا کر اریبہ سے بات کرتا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا وہ اسے مسکرا کر دیکھتی اندر بڑھ گئ۔۔۔ اب اسکی رات اچھی گزرنے والی تھے کہ آخر صبح وہ اپنے بےبی کے لئے شاپنگ کرنے جانے والی تھی اور ابھی اسے ایک لمبی لسٹ بنانی تھی تاکہ کوئی چیز چھوٹ نا جاتی۔
*******
عتیقہ تو دل کا غبار نکال کر سو گئ تھی لیکن سجاول کی ساری رات آنکھوں میں کٹی تھی۔۔۔ وہ مسلسل اپنا محاسبہ کر رہا تھا۔۔ عالیہ اسکی چھوٹی بہن تھی اسے بیٹیوں سے بڑھ کر عزیز تھی۔۔۔ اور ولید اسکا شوخ و چنچل اور چلبلا سا کزن بھی اسے بے حد پسند تھا۔۔۔ اسکے دو عزیز ترین رشتے محض اسکے غصے اور جذباتیت کے باعث اپنے راستے الگ کر رہے تھے یہ بات اسے مضطرب کئے ہوئی تھی۔۔۔ مسلسل اسی نہج پر سوچتے اسے رات سے صبح ہو چکی تھی مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔۔۔
بلآخر ایک نتیجے ہر پہنچتا وہ آفس جانے کے لئے تیار ہونے لگا تھا۔۔۔
صبح عتیقہ کی آواز پریشے کے رونے کے باعث کھلی تھی۔۔۔ رات پریشے زکیہ بیگم کے پاس ہی ہوتی تھی وہ ابھی ابھی اسے سلا کر عتیقہ کے پاس لٹا کر گئ تھیں۔۔۔ عتیقہ نے اٹھ کر اسے فیڈ کروایا تو اسکی نظر ڈریسنگ کے سامنے تیار ہوتے سجاول پر گئ جو پریشے کے رونے پر اسکی جانب متوجہ ہوا تھا مگر عتیقہ کے اسکے ساتھ مصروف ہو جانے پر وہ بھی اپنی توجہ اپنی تیاری کی جانب مبذول کر چکا تھا۔۔۔
عتیقہ کو وہ بہت الجھا الجھا اور غیر حاضر لگا۔۔۔۔
اپنی تیاری مکمل کر کے وہ عتیقہ کی طرف آیا تھا۔۔۔۔ اسنے جھک کر عتیقہ کی گود میں سوئی اپنی شہزادی کا بوسہ لیا اور وہیں انکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔
عتیقہ میں اپنے ماضی کو بدلنے پر قادر نہیں ہوں مگر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اپنے حال اور مستقبل کا مزید ایک پل بھی اپنی جذباتیت کی نظر نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ دیر سے ہی سہی مگر مجھے سمجھ آ گئ ہے کہ ہر رشتے کی اہمیت الگ ہوتی ہے۔۔۔ بہن اور بیوی دو الگ الگ اور انتہائی مقدس رشتے ہیں انکا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔ ہر رشتے کے اپنے تقاضے ہیں۔۔۔ میں پاگل تھا جو دو الگ الگ رشتوں کو آمنے سامنے لے آیا۔۔۔
وہ پشیمان تھا سر جھکائے عتیقہ کا ہاتھ تھامے آہستہ سے ہر بات کا اعتراف کرتا۔۔۔ اپنی ہر خطا قبول کرتا۔۔۔ اسکے حرف حرف سے سچائی چھلک رہی تھی۔۔۔
عتیقہ خاموشی سے سر جھکا گئ۔۔۔ نا یقین نا تردید۔۔۔ سجاول کو اسکا رویہ خاصا نا فہم لگا۔۔۔ کیا ہوا عتیقہ کچھ تو کہو۔۔۔
میں کیا کہوں سجاول۔۔۔ میں ہر بات بھلا چکی ہوں آپ کے ساتھ مطمیئن ہوں۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں مگر اب اس الفاظی پر یقین نہیں رہا۔۔۔ ایسے ہی وعدے آپ شادی کی پہلی رات بھی کر چکے تھے مگر اگلے ہی روز وہ سب بھربھری ریت کے توڈے ثابت ہوئے۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں مگر میں اپنے دل مین بھی کوئی خوش فہمی پالنا نہیں چاہتی۔۔۔ ہر طرح کے حالات کے لئے تیار رہنا چاہتی ہوں کیونکہ جب دل خوش گمان کی خوش گمانیاں ختم ہوتی ہیں تو تکلیف بھی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔۔۔ اور میں دوبارہ اس تکلیف سے گزرنا نہیں چاہتی۔۔۔ سر جھکائے کرب سے کہتے ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا تھا۔۔۔
صحیح وقت کے آنے پر وہ اس سر پھرے انسان کو اسکی ایک ایک خطا گنواتی خود پر بیتی کیفیت پرت در پرت ظاہر کرتی اسے دکھ و پشیمانی کی اٹھاہ گہرائیوں میں دکھیل گئ تھی۔۔۔ وہ طنز نہیں کر رہی تھی نا ہی اسکی لہجے میں کوئی شکوہ تھا بس وہ صحیح وقت پر درست طریقے سے بات کرنے کے ہنر سے آشنا تھی۔۔۔
سجاول نے لب بھینچے سرخ ہوتی نگاہوں سے اسے دیکھا وہ اس کے لئے کتنا نا قابل اعتبار ہو چکا تھا جو وہ اس پر اعتبار کرنے سے بھی گھبرا رہی تھی۔۔۔ وہ شاید درست تھی اب وقت الفاظی کا نا رہا تھا اب تو وقت تھا اسے عملی طور پر ہر چیز کر کے دکھانے کا۔۔۔
میں کوشیش کروں گا عتیقہ کہ جلد ہی تمہیں اپنی ذات کا مان بخش کر تمہارا اعتبار حاصل کر سکوں۔۔۔
وہ بیڈ سے اٹھتا جھک کر اسکے ماتھے پر ایک مہر محبت ثبت کرتا بوجھل قدموں سے کمرے سے نکلا تھا۔۔۔ جبکہ پیچھے عتیقہ ساکت رہ گئ تھی۔۔۔ کب دیکھا تھا اسنے سجاول کا ایسا روپ۔۔۔ بے ساختہ اسکا دل سجاول کی ہر بات پر یقین کرنے کو چاہا۔۔۔
عالیہ اسے ڈائینینگ ٹیبل پر ہی مل گئ تھی۔۔۔ سجاول نے اسکا غور سے جائزہ لیا وہ اسے پہلے سے کمزور دکھائی دی مگر بظاہر وہ دل کا درد دل میں ہی چھپائے ہشاش بشاش تھی۔۔۔
عالیہ تمہارے لئے ایک پرپوزل آیا ہے میرے دوست کے بھائی کا۔۔۔ تم ایک دفعہ لڑکے سے مل لو تو ۔۔
اسکی ضرورت نہیں ہے بھیا۔۔۔ مجھے آپکی پسند پر اعتماد ہے۔۔۔ آپ انہیں ہاں کہہ سکتے ہیں۔۔ عالیہ نے اسکی بات بھی مکمل نا ہونے دی تھی جب وہ اسکی بات کاٹتی مسکرا کر کہتی وہاں سے اٹھ گئ تھی۔۔۔
*******

No comments