Hamsafar novel 35th episode by Umme Hania Online Reading
Hamsafar novel 35th episode by Umme Hania
7e4efc19b9628695a3833bea9586da90
Hamsafar is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hamsafar is a motivational and encourgious story of a strong person
Online Reading
ناول " ہمسفر "۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
پینتیسویں قسط۔۔۔۔
اریبہ لاوئنج میں بیٹھی شام کی چائے پی رہی تھی مگر اسکی مکمل توجہ امرحہ کے کمرے کی جانب ہی تھی۔۔۔ جو دوپہر سے ابھی تک باہر ہی نہیں نکلی تھی۔۔۔ اریبہ نے دوپہر سے بارہا اپنا دھیان بٹانے کی کوشیش کی تھی مگر ہر بار مرحہ کا ہراساں چہرا سوچ کے کینوس پر ابھر کر اسے مضطرب کر جاتا۔ ۔۔
پتہ نہیں اسنے لنچ کیا بھی ہے یا نہیں ۔۔۔۔ ویسے جتنی سیدھی دکھتی ہے اتنی ہے نہیں ۔۔۔ یقینی بات ہے ضرور یہ منیب سے لگائی بجھائی کرے گئ۔ ۔۔۔ وہ مسلسل امرحہ کے کمرے کے دروازے کی جانب دیکھتی اسے ہی سوچ رہی تھی۔۔۔ چائے ختم کر کے اسنے کپ سامنے موجود کانچ کی میز پر رکھا اور خود فریش ہونے کی نیت سے اپنے کمرے کی جانب بڑھئ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد کارپورچ میں منیب کی گاڑی کے ٹائر چڑچڑانے کی آواز آئی تھی۔۔۔ امرحہ سے کئے گئے وعدے کے مطابق وہ سرشام ہی اپنے سبھی کام نبٹاتا گھر پہنچ چکا تھا۔۔
اپنی زندگی کو مزید مشکلات اور الجھنوں کی نظر ہونے سے بچانے کے لئے منیب نے ایک ایک ہفتہ ان دونوں کے ساتھ رہنے کا شیڈیول بنایا تھا۔۔۔ بقول اسکے مکمل انصاف کر پانا تو شاید ہی کسی انسان کے بس کا کام ہوتا ۔۔۔ وہ بھی انصاف کے تقاضوں پر پورا اترنے کی مکمل کوشیش کرنا چاہتا تھا۔۔ تاکہ اسکی دونوں بیویاں اس سے خوش اور مطمیئن رہتیں۔۔۔
باقی اسکا ایمان تھا کہ نیت اچھی ہو تو راستے بھی خودبخود بنتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالی اعمال کی بجائے نیتوں کو دیکھتا ہے۔۔۔ ابھی تک چونکہ وہ امرحہ کے ساتھ رہا تھا اس لئے اب یہ ہفتہ اسنے اریبہ کے لئے مختص کیا تھا۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہی چار سو خاموشی نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔۔۔ وہ سیدھا اریبہ کے کمرے میں ہی گیا تھا۔۔۔۔ کمرے میں آتے ہی اسنے کوٹ اتار کر صوفے پر اچھالا اور اپنی ٹائی ڈھیلی کی۔۔۔ اریبہ کمرے میں نہیں تھی کمرے سے ملحقہ واش روم سے پانی گرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔۔ وہ انہی قدموں پر واپس پلٹا تھا اسنے واپس آنے سے پہلے امرحہ کی خیریت دریافت کرنے کو اسے فون کیا تھا مگر امرحہ نے فون نہیں اٹھایا اسی غرض سے اب اسکا رخ امرحہ کے کمرے کی جانب تھا۔۔
کمرے کا دروازہ وا کرتے ہی نیم اندھیرے نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔۔ اس نیم تاریکی میں بھی وہ باخوبی دیکھ سکتا تھا کہ امرحہ بیڈ پر کندھوں تک لحاف اوڑھے محو استراحت تھی۔۔۔ گھنیری پلکیں کندھاری گالوں پر سایہ فگن تھیں۔۔۔۔۔ منیب کو سوتے میں بہت معصوم لگی وہ بنا چاپ کئے اسکی جانب بڑھا اور اسکے ماتھے پر بکھرے بال ہٹاتے نرمی سے اس پر جھکتے اسکے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا۔۔۔ وہ نیند میں ہلکا سا کسمسائی تھی جب منیب سرعت سے پیچھے ہٹا۔۔۔ وہ اسکی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اچھی بات تھی کہ وہ ایک پرسکون نیند لیتی اسی غرض سے وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی بنا چاپ کئے واپس پلٹ گیا مگر جاتے جاتے بھی وہ کمرے کا دروازہ بند کرنا نا بھولا تھا۔۔۔
موبائل سے اپنی نئ آنے والی میلز موصول کرتا وہ مصروف سے انداز میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔
سامنے ہی اریبہ شاور لے کر نکلی تھی گیلے بال پشت اور کندھوں پر بکھرے تھے جن سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے جبکہ چہرے پر بھی پانی کے قطرے شبنم کے موتیوں کی مانند چھب دکھلا رہے تھے۔۔۔۔ وہ اس وقت سفید کیپری اور ہلکے انگوری رنگ کی شارٹ شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔ یہ رنگ اسکی گوری رنگت پر مزید جچ رہا تھا۔۔ منیب کو کمرے میں آتا دیکھ وہ مسکراتی ہوئی اسکی جانب بڑھی۔۔۔
بس کر دیں محترم۔۔۔ مانتی ہوں کہ آپ بہت محنتی اور وقت کے پابند بن چکے ہیں مگر گھر آنے کے بعد آفیشلی کوئی کام نہیں ہو گا۔۔۔ اسنے روبدارانہ انداز میں منیب کے ہاتھ سے موبائل جھپٹتے تحکم سے کہا اور موبائل آف کر کے بیڈ پر پھینکتے وہ مکمل طور پر اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کروا گئ تھی۔۔۔
منیب اس اچانک افتاد پر بوکھلا گیا تھا مگر اب اسنے اسکی جانب دیکھتے فرصت سے اسکا جائزہ لیا تھا جو بہت روب سے اسکی سامنے ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔۔ یکدم ہی منیب کی نگاہوں میں ستائش ابھری تھی۔۔۔
کیا کرنے کے ارادے ہیں محترمہ۔۔۔ وہ شریر ہوا تھا۔۔۔۔
فلحال تو تمہیں سرپرائز دینے کے ارادے ہیں۔۔۔ وہ کندھے اچکاتی اترائی تھی۔۔۔
واقعی۔۔۔ ایک خوشگوار حیرت نے اسکا احاطہ کیا۔۔۔ جی بالکل جب تم مجھے سرپرائز دے سکتے ہو تو ایک آدھ سرپرائز دینا میرا بھی تو بنتا ہے نا۔۔ وہ منیب کی بازو میں بازو حائل کرتی اسے ساتھ لئے صوفے پر آ کر بیٹھی۔۔۔
تمہیں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کا بہت شوق ہے نہ تو تمہاری ذمہ داریاں بڑھنے والی ہیں۔۔۔ منیب کی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی اسکے چہرے پر ایک الوہی چمک تھی۔۔۔
مطلب۔۔۔ منیب ناسمجھی سے گویا ہوا۔۔۔ مطلب یہ کہ ۔۔۔ وہ کچھ توقف کو رکی۔۔۔
I am expected ....
آہستگی سے کہتی وہ منیب کے سینے میں چہرا چھپا گئ تھی۔۔۔ واقعی۔۔۔ اسنے حیرت سے اریبہ کو دونوں بازوں سے پکڑ کر خود سے الگ کرتے اپنے سامنے کیا۔۔۔۔
Ohh my God.....
اسکی خوشی دیدنی تھی ایک مرتبہ پھر سے اسنے پوری شدت سے اریبہ کو خود میں بھینچا تھا۔۔۔
Thank you so much for this good news sweat heart...
ویسے تم بہت لاپرواہ بندی ہو۔۔۔ تم پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔۔ وہ اب صوفے سے اٹھتا اسکے سامنے کھڑا ہوتا ناقدانہ نگاہوں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔
جبکہ اریبہ نے ہونق بن کر اسے دیکھا۔۔۔ سب سے پہلے تو یہ ہیلز پہننا بند کرو۔۔۔ وہ اسکے پاوں کی جانب دیکھتا جہاں دودھیا پاوں پینسل ہیل میں مقید تھے شو ریک کی جانب بڑھا اور وہاں سے دوپٹی کی فلیٹ جوتی اٹھا کر لایا اور دوزانو اسکے پاس بیٹھ کر اسکے جوتے تبدیل کرنے لگا۔۔ جبکہ اریبہ منہ کھولے تعجب سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اب تم بلاوجہ باہر گھومنے نہیں جاو گئ۔۔۔ زیادہ سفر سے ڈاکٹر منع کرتے ہیں اس لئے آج سے لانگ ڈرائیو بند۔۔۔ اب ڈائیٹنگ کا تو سوال ہی نہیں تم ہیلڈی اور پراپر ڈائٹ لو گئ۔۔۔ ریسٹ کرو گئ اور۔۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔ وہ اسکے پاس ہی بیٹھا اسے انگلیوں پر گن گن کر سب سمجھا رہا تھا جب وہ مزید سنے بغیر ایک دم بول اٹھی۔۔۔
میں نے تمہیں اتنی خوشی کی خبر سنائی اور تم مجھ پر اتنی پابندیاں کس خوشی میں لگا رہے ہو۔۔۔
تیوریاں چڑھاتی وہ بھی فل فارم میں آئی تھی۔۔۔
سویٹ ہارٹ یہ پابندیاں نہیں بلکہ تمہاری اور ہمارے آنے والے بےبی کی بھلائی کے لئے چند ہدایات ہیں۔۔۔
منیب نے محبت سے اسکے پھولے ہوئے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔۔
اچھا جی۔۔ یہ ہدایات تمہیں میرے لئے ہی نظر آ رہی ہیں اپنی اس ہوتی سوتی پر تو تم نے ایسی کوئی پابندیاں نہیں لگائیں۔۔۔ منیب نے اسکا یہ روپ دیکھتے بامشکل اپنی ہسی ضبط کی۔۔۔
یار وہ تمہارے جتنی ضدی اور اپنی منوانے والی نہیں ہے نا وہ تو ایک بار کی کہی بات کو یوں پلے سے باندھتی ہے کہ کہنے والا بھول جائے مگر وہ نہیں بھولتی۔۔۔ اب بھلا ایسے میں اس پر کیا پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔۔۔ منیب نے اسکے لال بھبھوکا چہرے پر بکھرے بال ہاتھ سے پیچھے ہٹائے۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی اریبہ کو اسکی بات کا قائل ہونا پڑا کیونکہ اسکا ایک عملی نمونہ وہ صبح دیکھ چکی تھی۔۔۔
ہم ان چیزوں کے متبادل تلاش کر لیتے ہیں۔۔۔ لانگ ڈرائیو کی بجائے ہم قریبی آئسکریم پارلر سے آئس کریم کھانے جایا کریں گئے۔۔۔ ہیلز کی بجائے ہم فلیٹ شوز کی نئ کلیکشن خرید لیں گئے۔۔۔ تمام غیر ضروری جگہوں پر جانے کی بجائے محض بوتیک کا چکر لگائیں گئے۔۔۔ اور ڈائیٹنگ کے ریکارڈز ہم بے بی کے آجا نے کے بعد ٹورینگے۔۔۔ وہ اب نرمی سے اسے بہلا رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اریبہ من موجی بندی ہے اور بالخصوص حد درجہ کی ڈائٹ کانشیئس اسی لئے وہ اسے نرمی سے رام کر رہا تھا۔۔۔
اب اسکا دماغ منیب کی باتیں قبول کرتا کچھ پرسکون ہوا تھا۔۔
******
عتیقہ کا چونکہ نارمل کیس تھا اس لئے شام کو اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔۔۔ اسے گھر لے آنے کے بعد بھی ولید اور عالیہ تو مسلسل اس ننھی پری کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے سالوں بعد اس گھر میں ایک ننھا مہمان آیا تھا۔۔۔ انکی خوشی دیدنی تھی۔۔۔۔
عالیہ اور ولید کو یوں ساتھ ساتھ مگر ایک دوسرے سے بیگانہ دیکھ کر بار بار عتیقہ کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔۔۔۔
بھیا اس پرنسس کا نام کیا سوچا ہے آپ نے۔۔۔ ولید نے اسکے ننھے ننھے ہاتھوں کا بوسہ لیتے صوفے پر بیٹھے سجاول سے استفسار کیا۔۔۔
اس کا نام میں رکھوں گئ۔۔۔ عالیہ کے چہک کر کہنے پر عتیقہ سمیت سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔
ارے ایسے کیسے تم رکھو گئ۔۔۔ تمہاری بھتیجی ہے تو میری بھی بھانجی ہے۔۔۔ میں رکھوں گا اسکا نام۔۔۔۔ عالیہ کے حق جتانے پر ولید بھی اپنی پرانی جوں میں لوٹا تھا۔۔۔ عتیقہ کو بہت دیر بعد اس میں اپنے پرانے بھائی کی جھلک نظر آئی تھی۔۔
سب بڑے انکی نوک جھوک سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔ انکی بحث طول پکڑتی دیکھ قرعہ کے ذریعے نام منتخب کیا جانا طے پایا تھا۔۔۔ کیونکہ ننھیال اور ددھیال دونوں میں عرصے بعد آنے والی ننھی مہمان وہی تھی تو اسکا اہتمام بھی خاص تھا۔۔۔
سب بڑے سے لے کر چھوٹوں تک نے اپنے اپنے پسندیدہ نام پرچیوں پر لکھ کر ایک باکس میں ڈالے تھے اس باکس کو اچھے سے ہلا کر گھر کے سب سے چھوٹے بچے یعنی کےعالیہ نے اس باکس سے پرچی نکالی تھی۔۔۔ پرچی کھولتے ہی وہ خوشی سے چیخ اٹھی تھی کیونکہ پرچی اسی کے منتخب کردہ نام کی تھی۔۔۔
کیا فائدہ ہوا تمہاری اتنی محنت کا ۔۔۔ نام تو پھر بھی میرا منتخب کردہ ہی نکلا نا۔۔۔ عالیہ نے اسے زبان چڑھاتے بے بی کو کاٹ سے اٹھایا۔۔۔ تم تو روز اول سے ہی چورنی ہو آج بھی داندلی سے ہی جیتی یو۔۔۔ ولید کے منہ بسورنے پر سب کا قہقہ مشترکہ تھا۔۔۔
یوں اس ننھی پری کا نام پریشے طے پایا تھا۔۔
رات دیر تک وہاں محفل جمی رہی تھی۔۔۔ سب کے اٹھ کر جانے کے بعد اب سجاول کو عتیقہ سے بات کرنے کی فرصت ملی تھی۔۔۔
وہ بیڈ پر آنکھیں موندے چٹ لیتی تھی جبکہ پاس ہی کاٹ میں پریشے پرسکوں نیند کی وادیوں میں اتری ہوئی تھی۔۔۔
سجاول نے اسکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھتے اسکی روشن پیشانی پر مہر محبت ثبت کی تو عتیقہ نے آہستگی سے آنکھیں وا کیں۔۔۔
مجھے دنیا کا سب سے خوبصورت تحفہ دینے کے لئے تمہارا بہت بہت شکریہ۔۔۔ وہ محبت سے لبریز نگاہوں سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو طواف کرتا جذبات سے چور لہجے میں گویا ہوا تو اپنے آپ ہی عتیقہ کی آنکھیں بھرانے لگی تھیں۔۔۔
کیا بات ہے عتیقہ۔۔۔ کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔۔ ڈاکٹر نے بھی یہی کہا تھا کہ تم نے کوئی ٹیشن لی ہے جسکے باعث تمہارا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔۔۔ سجاول اسکی نم آنکھیں دیکھتا تڑپ کر گویا ہوا تو وہ نفی میں سر ہلاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔ جبکہ اب حقیقی معنوں میں سجاول کے ہاتھوں کے طوطے اڑے تھے۔۔
عتیقہ کیا تم میرے ماضی میں تم سے روا رکھے جانے والے رویے کی وجہ سے خفا ہو۔۔۔ سجاول ہمت پکڑتا گویا ہوا۔۔۔ اگر ایسی بات ہے تو میں تم سے۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے سجاول۔۔ سجاول کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ اسکی بات کاٹتی گویا ہوئی۔۔۔
ماضی میں جو بھی ہوا وہ شاید کے اس وقت کے حالات کے تقاضے تھے۔۔۔ ہاں آپ نے میرے ساتھ جو کیا وہ غلط تھا مگر میں اپنی بیٹی کے صدقے آپکو مقافات عمل بھی معاف کر چکی ہوں کیونکہ میں کبھی نہیں چاہوں گئ کہ آپکے کسی نادانستگی میں کئے گئے عمل کی ہلکی سی پرچھائی بھی میری ننھی جان پر پڑے۔۔۔ کیونکہ سب بھول سکتے ہیں پر میرا اللہ نہیں بھولتا وہ ایک ایک چیز ایک ایک بات سے واقف ہے۔۔۔
سجاول اسکی اتنی گہری بات سن کر ساکت رہ گیا تھا۔۔ وہ اس گہرائی تک کبھی کیوں نا اتر پایا تھا زبان تالو سے لگ چکی تھی۔۔۔
تو پھر ۔۔۔ بامشکل وہ خود کو کمپوز کرتا گویا ہوا۔۔۔ جسکے نتجے میں عتیقہ اسے عالیہ اور ولید کے بارے میں ایک ایک بات حرف با حرف بتاتی چلی گئ۔۔۔
عتیقہ کے منہ سے یہ انکشافات سن کر سجاول کو لگا کہ جیسے اسکی قوت گویائی ضبط کر لی گئ ہو۔۔۔
اپنی جذباتیت میں وہ اور کچھ کیوں نا سوچ پایا تھا۔۔۔ ایک بہن کی خوشیوں کی خواہش کرتا کرتا کیا وہ اپنی دوسری بہن کی خوشیاں اپنی جذباتیت کی نظر کر چکا تھا۔۔۔ سوچوں کی گہری کھائیاں تھیں جن میں وہ اترتا جا رہا تھا۔۔
******
ڈائینیگ ٹیبل پر وہ ادھیر عمر عورت گل کھانا سرو کر رہی تھی جب منیب وہاں پر آیا۔۔۔ اریبہ پہلے ہی وہاں پر موجود تھی۔۔۔
امرحہ نہیں آئی کھانے پر۔۔۔ کرسی سمبھالتے ہی منیب نے اسکی غیر موجودگی محسوس کرکے سب سے پہلا سوال ہی یہ کیا۔۔۔۔
اریبہ نے ایک چور نگاہ اس پر ڈالتے کندھے اچکاتے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔
میں بلا کر لاتی ہوں صاب۔۔۔۔ گل کھانا سرو کر کے امرحہ کے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔ اریبہ بھی کہیں کہیں نظریں چرا کر منیب کو دیکھتی چھوٹے چھوٹے نوالے کھانے لگی تھی جبکہ منیب امرحہ کے انتظار میں ابھی ایسے ہی بیٹھا تھا۔۔۔
صاب جی وہ بی بی جی سو رہی ہیں۔۔۔ کیا۔۔۔ وہ ابھی تک سو رہی ہے۔۔۔ گل کے کہنے پر وہ معتجب ہوا۔۔۔ میں خود دیکھتا ہوں اسے۔۔ منیب خود سے بڑبڑاتا اٹھ کر اسکے کمرے کی جانب بڑھا جبکہ اریبہ نے بے چینی سے منیب کی جانب دیکھا۔۔۔ ناجانے اب اسکا ردعمل کیا ہونے والا تھا۔
********

No comments