Header Ads

Hamsafar novel 39th episode by Umme Hania online Reading

   





  

Hamsafar  novel 39th episode by Umme Hania

Hamsafar is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Hamsafar is a motivational  and encourgious story of a strong person 

         Online Reading

 ناول " ہمسفر "۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania Official

انتالیسویں قسط۔۔۔
منیب بار بار بیک مرر سے بے سدھ پڑی امرحہ جس کا سر اریبہ کی گود میں تھا کو دیکھتا  ہواوں میں گاڑی اڑا رہا تھا۔۔۔۔  اس وقت وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا تھا۔۔۔ نہیں جانتا تھا کہ اس سے سرزرد ہونے والے آج کے عمل کے باعث اسے ناقابل تلافی خسارہ اٹھانا  پڑے گا۔۔۔ 
ہسپتال میں پہنچتے ہی وہاں ایمرجنسی  نافز ہو گئ تھی۔۔۔ کچھ منیب کی پہچان اور کچھ امرحہ کی غیر ہوتی سیریس کندیشن کے باعث ڈاکٹروں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔۔۔
سر آپکی مسز کی حالت سخت تشویش ناک ہے بی پی اور شوگر لیول بے حد لو ہوگیا ہے۔۔۔  انکی ڈیلیوری میں پہلے ہی بہت سی پیچیدگیاں تھیں  مزید ذہنی دباو اور کمزوری کے باعث انکی حالت بہت خراب ہے ۔  کائنڈلی آپ ان پیپرز  پر ستخط کر دیں۔۔۔  
اسٹریچر پر امرحہ کے نیم مردہ جسم کو آپریشن ٹھیٹھر لیجایا جاچکا تھا منیب پتھرائی نگاہوں سے ارد گرد دیکھتا آپریش ٹھیٹھر کے باہر نصب بینچ پر بیٹھا تھا جب ایک نرس نے وہاں آتے کچھ کاغذات اسکی جانب بڑھاتے خالص پیشہ ورانہ انداز میں کہا۔۔۔
کس چیز کے پیپرز ہیں یہ۔۔۔۔ سمجھ تو منیب بھی چکا تھا کہ یہ کس چیز کے کاغذات ہیں۔۔۔ ایسے سین شوٹنگ کے دوراں وہ بارہا کر چکا تھا وہ ایک بہتریں اداکار تھا لوگ اسکی اداکاری کو سراہتے تھے لیکن ایسا کوئی سین حقیقی زندگی میں بھی اس سے نتھی کر دیا جائے گا وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔  اس نے شدت سے دعا کی کہ جو وہ سوچ رہا ہے ویسا کچھ نہ ہو۔۔۔
یہ اجازت نامہ ہے سر۔۔۔ ہم آپکی مسز کو بچانے کی بھرپور کوشیش کریں گئے مگر اگر خدانخواستہ آپریشن کامیاب نہ رہا تو۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا سر۔۔۔۔ جس کا ڈر تھا وہی ہوا تھا۔۔۔ وہ نرس منیب کی حالت دیکھتی مزید کچھ سخت دلبرداشتہ کہنے سے خود کو روک گئ تھی۔۔۔
منیب لب بھینچے سرخ ہوتی نگاہوں سے ان کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔۔
سر پلیز زرا جلدی کریں پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے ہم مزید دیر نہیں کر سکتے۔۔۔ منیب کو یک ٹک ویسے ہی کھڑا دیکھ وہ نرس پھر سے گویا ہوئی۔۔۔
ریسیپشن سے واپس آتی اریبہ نے نرس کے آخری الفاظ سنے تھے۔۔ ساری فارمیلیٹز اور وہاں کی بھاگ ڈور اریبہ نے ہی سمبھالی تھی منیب کو تو اس وقت اپنا ہوش تک نا تھا۔۔۔  پچھتاوے کے ناگ بار بار سر ابھارتے اسے نئ اذیت سے دوچار کر رہے تھے۔۔۔۔ اریبہ  نے منیب  کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے آنکھوں ہی آنکھوں  میں سائن کرنے کو کہا۔۔۔۔  منیب نے  کپکپاتے ہاتھوں سے نرس سے کاغذات تھامتے ان پر سائن کیا 
تھا۔۔۔
اسے آپریشن ٹھیٹر کے باہر بینچ پر سر جھکائے بیٹھے کتنی دیر ہوئی تھی وہ نہیں جانتا تھا  بس اسکا دماغ مفلوج ہو گیا تھا۔۔۔
بھائی۔۔۔ تبھی اسے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباو محسوس ہوا تو اسنے غائب دماغی سے سر اوپر اٹھا کر دیکھا۔۔۔ فکر مت کریں بھائی انشااللہ بھابھی کو کچھ نہیں ہوگا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ولید نے اسکے ساتھ ہی بیٹھتے پر خلوص لہجے میں تسلی دی تو منیب بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔ اسے غالباً اریبہ نے اطلاع دی تھی۔۔۔
تبھی آپریشن ٹھیٹھر سے ڈاکٹر برآمد ہوئی تو منیب بے چینی سے اسکی جانب لپکا۔۔۔
مبارک ہو مسٹر منیب۔۔۔ بیٹا ہوا ہے۔۔۔  ڈاکٹر کی بات سن کر اریبہ اور  ولید نے مسکراتی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔۔ مگر منیب کا دل نجانے کیوں ڈوب رہا تھا۔۔
اور میری وائف ۔۔۔۔ اسنے خشک  پڑتے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔
سوری مسٹر منیب۔۔۔۔ پیشنٹ کی کندیشن بہت کڑیٹیکل ہے  وہ انڈر ابزرویشن ہیں۔۔۔ اگلے چوبیس گھنٹے ان کے لئے بہت اہم ہیں۔۔۔ ہم دوا کر رہے ہیں آپ دعا کریں۔۔۔ ڈاکٹر بنا لگی لپٹی رکھے اسے سب بتاتی وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔ چھن سے منیب کے اندر کچھ ٹوٹا تھا جسکی چھبن شدید تھی۔۔۔۔ 
*******
بہت مبارک ہو برخوردار ۔۔۔۔ آج ہمارے گھر کا وارث اس دنیا میں آیا ہے۔۔۔ کئ برسوں بعد شاہ ولا میں اسکے وارث کی کلکاریاں گھونجے گئیں۔۔۔ اسی بدولت آج ہم ساری  قدورت اور بدگمانیاں بھلائے خود تمہارے لئے اپنی باہیں وا کئے آئیں ہیں۔۔۔
منیب دل کا غم دل کے نہاں خانے میں چھپائے  نرسری اپنے ننھے شہزادے سے ملنے آیا تھا جسکا اسکی ماں کو بے صبری سے انتظار تھا۔۔۔ جس کے لئے اسنے ہزاروں خواب سجائے تھے جسکے لئے وہ ہر چیز بہتر سے بہتریں خریدنا چاہتی تھی اور جب وہ اس دنیا میں آیا تھا تو وہ روٹھ گئ تھی۔۔۔ کون کہتا تھا کہ منیب شاہ ضدی ہے۔۔۔ آج تو امرحہ نے ضد میں اسکے ریکارڈ بھی توڑ دیئے تھے جو اٹھ کر اپنے ننھے شہزادے سے بھی نہیں مل رہی تھی۔۔۔ کم از کم منیب کو تو ایسا ہی لگ رہا تھا۔۔۔  اپنے معصوم شہزادے کی جانب دیکھتے اسنے ہاتھ کی پشت سے اپنی نم آنکھوں کو صاف کیا جب اس عقب سے وجاہت شاہ کی آواز سنائی دی۔۔۔
منیب نے تعجب سے اس جانب دیکھا جہاں وجاہت شاہ خوشی سے ٹمٹماتے چہرے کیساتھ باہیں وا کئے کھڑے تھے۔۔۔ منیب لمحے کی تاخیر کئے بنا انکی کھلی باہنوں میں سما گیا۔۔۔
ہم بہت خوش ہیں آج ۔۔۔ پورے ہسپتال میں میٹھائیاں بٹواو ولید۔۔۔ بلکہ آج اس شہر میں کوئی ایسا نہیں رہنا چاہیے جس کا منہ نا میٹھا کروایا جائے۔۔۔ وہ اپنے ساتھ ہی اندر آتے ولید سے گویا ہوئے جو اب بچے کی کاٹ پر جھکا اسے پیار کر رہا تھا۔۔۔
نہیں بابا جان۔۔۔ ابھی نہیں ۔۔۔ ابھی میرے بیٹے کی ماں اندر آئی سی یو میں زندگی اور موت کی کشمکش میں گھری ہے۔۔  ایسے میں مجھے ایسا کوئی عمل زیب نہیں دیتا۔۔۔ وہ یہ کس دل سے گویا ہوا تھا وہ جانتا تھا یا اسکا خدا ۔۔۔ بیٹے کی خوشی اسے بھی بے پناہ تھی مگر اس بیٹے کو اس دنیا میں لانے والا وجود ہی اس وقت زندگی اور موت کی  جنگ لڑ رہا تھا تو وہ کیسے پر سکون ہوتا اسے تو ابھی دنیا کا ہر رنگ پھیکا محسوس ہو رہا تھا۔۔
میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں منیب۔۔۔ اور امید کرتا ہوں کہ تم بھی میرے جذباتوں کی قدر کرو گئے۔۔۔۔  یہ سب کچھ اس شہزادے کے لئے اسکے دادا کی طرف سے ہے۔۔۔ تم اپنے بیٹے کا جشن اسکی ماں کے صحتیاب ہونے کے بعد منا سکتے ہو۔۔۔ انکی آنکھوں کی چمک اور آواز کی کھنک بتا رہی تھی کہ منیب انہیں قائل نہیں کر پائے گا۔۔ اور قائل تو وہ انہیں کسی بھی بات کے لئے نہیں کر پایا تھا اس لئے بوجھل دل کیساتھ نرسری سے نکل آیا۔۔۔  ولید کے بعد اس گھر میں آنے والا وہ پہلا مہمان تھا وجاہت شاہ کا ردعمل فطری تھا پچھلے سات سالوں سے ذوہیب بھائی اور شازمہ بھابھی اس نعمت سے محروم تھے  لیکن اس سب کے باوجود انسانیت کے بھی کچھ تقاضے تھے ۔۔۔ لیکن اس وقت انکے لئے انکی خوشی سب سے بڑھ کر تھی۔۔۔
*****
منیب کچھ کھا لو پلیز تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔  منیب آئی سی یو کے کمرے سے باہر کھڑا دروازے میں نصب چھوٹے سے گلاس کے چوکھٹے سے اندر بیڈ پر دراز نیم مردہ سی امرحہ کو دیکھ رہا تھا جسکا  نالیوں میں جھکڑا وجود اسے ازسر نو تکلیف سے روشناس کروا رہا تھا جب اریبہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے اپنی جانب متوجہ کروایا۔۔۔۔ وہ ہاتھ میں  کچھ ڈسپوزیبل ڈبے شاپر کی قید میں مقید پکڑے کھڑی تھی غالباً وہ ابھی کینٹین سے ہی آئی تھی۔۔۔۔ تھکن اسکے چہرے سے عیاں تھی۔۔۔ اسکی بھی صبح سے طبیعت خراب تھی  وہ  اسی کے  چیک آپ کی خاطر جا رہے تھے مگر پھر یہ حادثہ رونما ہو گیا۔۔۔ اس سب کے باوجود وہ بنا ماتھے پر شکن لائے پل پل منیب کے ساتھ کھڑی رہی تھی ایک سچے دوست اور ہمدم کی طرح اسکا ساتھ دیتی سب بھاگ دوڑ کر رہی تھِی۔۔۔   منیب کا شدت سے دل چاہا کہ وہ انکار کر دے مگر اس کی حالت کے ہیش نظر خاموش ہو گیا کیونکہ جانتا تھا کہ  اس نے بھی کچھ نا کھایا ہوگا۔۔ 
وہ اسے لئے  ہسپتال کے ساتھ بنے چھوٹے سے لان میں لے آیا تھا۔۔۔۔  یہ پکڑو پہلے تم کھاو۔۔۔ منیب نے  سینڈویچ اور  جوس نکال کر پہلے اسے تھمایا اور ہھر اسکا ساتھ دینے کی خاطر خود بھی کھانے لگا۔۔۔ 
تم گھر چلی جاو اریبہ۔۔۔ جا کر کچھ دیر آرام کرو۔۔۔ تمہاری خود کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ تھکن تمہارے چہرے سے عیاں ہے۔۔۔ ایک شدید نقصان سے ہمکنار ہوا ہوں مزید میں ایسا کوئی نقصان نہیں برداشت کر سکتا اس لئےاپنا خیال رکھنا  تم میرے لئے بہت قیمتی ہو۔۔۔ اس لئے خدارا اپنی ذات  کے حوالے سے یہ لاپرواہیاں ختم کردو۔۔۔ اپنے لئے نہیں تو میرے لئے ہی صحیح۔۔۔  امرحہ کی ایسی حالت  اسکے لئے خاصا اعصاب شکن مرحلہ تھا جس کی بدولت وہ اب  اریبہ کو بھی نصیجت کرنا نا بھولا تھا۔۔۔  ۔۔ میں رات یہیں رکوں گا۔۔۔۔  گھر میں تم اکیلی ہو گئ تو چاہو تو شاہ ولا چلی جاو یا بڑی امی کی طرف۔۔۔  ایک سینڈویچ اور جوس کے چند گھونٹ زہر مار کرنے کے بعد وہ اریبہ سے مخاطب ہوا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے میں ولید کے ساتھ چلی جاتی ہوں پر خدارا تم ٹینشن مت لو۔۔۔ انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ 
********
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے برخوردار۔۔۔  منیب ابھی ابھی ڈاکٹر سے مل کر اسکے کیبن سے نکلا ہی تھا جب وجاہت شاہ اسکے پاس آئے۔۔۔  دن میں زاہدہ بیگم شازمہ بھابھی اور بشری بیگم کسیاتھ ساتھ عالیہ اور زکیہ بیگم بھی آکر اسے حوصلہ دیتیں اس ننھے شہزادے سے مل کر گئیں تھیں۔۔۔ مگر رات تک سبھی واپس جا چکے تھے اور مزید وہاں کسی کے رکنے کی ضرورت بھی نا تھی کیونکہ امرحہ تو خود زندہ لاش بنی پڑی تھی۔۔۔ منیب جتنی بار آئی سی یو کے دروازے سے اسے دیکھتا اسکا دل کرلاتا تھا۔۔۔۔
جی کہیے بابا۔۔۔ منیب کے کہنے پر وجاہت شاہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے زرا پرسکون گوشے میں لے گئے۔۔۔ دیکھو منیب تم ہمیں بہت پیارے ہو۔۔۔ میں پچھلی سبھی ناراضگیاں ختم کر کے تمہیں واپس گھر لیجانے آیا ہوں۔۔۔  اس گھر کا وارث شاہ ولا میں ہی پلے گا۔۔۔ مگر میری ایک شرط ہے۔۔۔  منیب جو سر جھکائے خاموشی سے باپ کی باتیں سن رہا تھا اسنے جھٹکے سے  سر اٹھاتے باپ کو دیکھا۔۔۔  
کیسی شرط۔۔۔  
دیکھو منیب۔۔۔ ذوہیب تمہارا بڑا بھائی ہے اور وہ پچھلے سات سالوں سے اس خوشی سے محروم ہے۔۔۔  میں چاہتا ہوں کہ تم اپنا بیٹا اسے دے دو۔۔۔ جب ایک ہی گھر میں وہ ہوگا تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ تمہارے پاس رہے یا اسکے پاس۔۔ ہوگا تو تمہاری نظروں کے سامنے ہی۔۔۔ یوں پھر۔۔۔۔
منیب ساکت سا مٹھیاں بھینچے ضبط سے باپ کی باتیں سن رہا تھا جب سختی سے وہ انکی بات کاٹتا نہیں مزید بولنے سے روک گیا۔۔۔
بابا۔۔۔ میرے بیٹے کی ماں اندر آئی سی یو میں موت کی دہلیز پر کھڑی ہے۔۔۔  نو ماہ اسنے اس بچے کو اپنے خون سے سینچا ہے۔۔۔ پل پل اسکا اس دنیا میں آنے کا بے صبری سے انتظار کیا ہے۔۔۔ کیا آپکو میں اسقدر ظالم لگتا ہوں کہ اسکی بے ہوشی کا فائدہ اٹھا کر اس پر ظلم کے پہاڑ توڑتے  اس قدر سخت فیصلہ لیجاوں گا۔۔۔ اپنے اندر سر ابھارتی طوفان کی طلاتم بھرپا کرتی شوریدہ سر  و شرکش لہروں پر بند باندھتا وہ ضبط سے گویا ہوا۔۔۔
تم جذباتیت کا شکار ہو رہے ہو منیب۔۔۔۔ اس لڑکی کی اتنی اوقات نہیں کہ اس بارے میں بول سکے میں صرف تم سے پوچھ رہا ہوں  کیونکہ تم باپ ہو اس بچے کے۔۔۔ 
میں باپ یوں تو وہ ماں ہے اسکی۔۔۔ اور مجھ سے زیادہ حق رکھتی ہے بچے پر۔۔ آپکا دل نہیں کانپا بابا۔۔ اتنا سخت بولتے ہوئے وہ چٹخ ہی تو اٹھا تھا دل چاہا کہ سب کچھ تہس نہس کر دے مگر لحاظ ملحوظ خاطر تھا۔۔۔
اس لاوارث کو اور کیا چاہیے کہ اسکے حوالے کے ساتھ شاہ خاندان کی بہو  کا ٹیگ لگ جائے۔۔۔ 
اس لاوارث کی شناخت اور پہچان کے لئے اس کے نام کے ساتھ منیب شاہ کا حوالہ کافی ہے ۔۔۔ اور اس سے بڑھ کر بھی اس لاوارث کا کوئی  حوالہ ہوگا کہ شاہ خاندان کے وارث نے اسی لاوارث کے بطن سے جنم لیا ہے۔۔۔۔ کیا آپکو نہیں لگتا بابا جان کہ اس حوالے کے بعد گزشتہ سبھی حوالاجات ہیچ ہو جاتے ہیں۔۔۔
تم بات کو غلط رخ دے رہے ہو منیب۔۔۔ جب وہ لڑکی تمہارے لئے صرف ذمہ داری  ہے تو اسے ذمہ داری کی  حد تک ہی رکھو۔۔۔  اسکی ضروریات کا خیال رکھو  اور بس۔۔۔ ابھی تم غصے میں ہو ٹھنڈے دماغ سے اس بارے میں سوچنا صبح ملاقات ہوگئ۔۔۔  وہ منیب کی آنکھوں میں سرکشی دیکھ چکے تھے اس لئے انہوں نے ابھی بات سمیٹنا ہی بہتر جانا۔۔
*****
منیب نے آہستہ سے آئی سی یو کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ ڈاکٹر سے آئی سی یو میں آنے کی ہی اجازت طلب کر کے آ رہا تھا۔۔۔  عمومی طور پر کسی کو  آئی سی یو میں مریض کے پاس آنے کی اجازت نا تھی۔۔۔ مگر یہاں پر بھی منیب کا نام اسکی پہچان اسکی شہرت نے کام دکھایا تھا جو اسے اجازت مل گئ تھی۔۔۔۔
نم آنکھوں سمیت وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر آ کر بیٹھا   جو ابھی ابھی نرس وہاں بلخصوس منیب کے لئے ہی رکھ کر گئ تھی۔۔۔ منیب کی نگاہیں اسکے زردیاں گھلے چہرے پر ہی تکی تھیں۔۔۔ معصوم سا شفاف چہرا آکسیجن ماسک کی زد میں تھا۔۔۔ ہاتھ پر بھی ڈرپ لگی تھی۔۔۔
اسنے امرحہ کے نازک مگر بے جان ہوتے ہاتھ کو اپنے بھاری مردانہ ہاتھوں میں تھامتے اپنی گال سے لگایا۔۔۔  صبح سے سب کے سامنے خود پر  چڑھایا مضبوطی کا خول اس وقت چٹخ گیا تھا۔۔۔خاموش آنسو قطار در قطار پلکوں کی بار پھیلانگتے بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔
بس  کر دو نا امرحہ یار اب اتنی ضد بھی اچھی نہیں ہوتی اٹھ کر ہمارے شہزادے سے تو مل لو۔۔۔  میں نے  تو تمہارے ساتھ غلط کیا میرے لئے تو چلو یہ سزا بنتی ہے مگر ہمارے بیٹے کی کیا غلطی ہے۔۔۔  جب پہلے میری کہی ہر بات تمہارے لئے حرف آخر ہوتی تھی تو اب اتنا کیوں روٹھ گئ ہو۔۔۔۔   
بابا کہتے ہیں کہ تم میری ذمہ داری ہو مگر یہ کسیے ممکن ہو کہ کوئی شخص آپکے ساتھ رہتا ہو آپ اسکی اچھائیوں کے معترف ہو اور آپکو اس سے محبت نہ ہو۔۔۔  محبت تو پاس رکھ کر پالنے ولے جانور سے بھی ہو جاتی۔۔۔۔ تم بھی میری اندر قطرہ قطرہ کر کے  کسی ڈرگ کی طرح سرائیت کر گئ ہو۔۔۔ رفتہ رفتہ مجھے اپنا عادی بناتی  میری رگوں میں خون کے ساتھ گردش کرنے لگی ہو۔۔۔  محبت تو نکاح کے دو بولوں کے ساتھ دو دلوں میں ایک دوسرے کے لئے خدا کی طرف سے وارد کر دی جاتی ہے۔۔۔ آج مجھے تم سے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ منیب شاہ تم سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔ ہاں اب تم یہ سوچ رہی ہوگی کہ کتنا تھرکی شخص سے کل تک اریبہ سے محبت کا پرچار کر رہا تھا آج اسے مجھ سے محبت ہوگئ۔۔۔ وہ امرحہ کے چہرے کی جانب دیکھتا خود سے بڑبڑاتا استہزائیہ ہسا تھا۔۔۔
اریبہ کی جگہ مصمم ہے امرحہ۔۔۔ اس جیسا ہمسفر قسمت والوں کو ملتا ہے جو ہر دم ہر جگہ ہر حالت میں آپکے ساتھ کھڑا رہے۔۔۔ اور الحمدللہ میں خوش قسمت ہوں کہ اریبہ میرا انتخاب ہے۔۔۔ مگر تمہارا مقام الگ ہے۔۔۔ میری زندگی میں بھی اور میرے دل میں بھی۔۔۔
تم دعا کرتی تھی نا کہ اللہ میرے دل میں تمہارے لئے نرم گوشا بنا دے تاکہ تمہاری ناراضگی بھی مجھ پر اثرانداز ہو۔۔۔ تو دیکھو آج اللہ نے تمہاری یہ دعا پوری جزئیات سمیت قبول کر دی۔۔۔  اب تو یوں لگتا ہے تمہاری یہ ناراضگی یہ بے رخی و بے اعتنانی میری جان نکال کر ہی دم لے گئ۔۔۔۔ کب تک ہمارا بےبی نرسری میں نرسوں کے حوالے رہے گا  اسے تملری ضرورت ہے یار۔۔۔۔۔  رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی اور وہ ہنوز راز و نیاز میں مشغول تھا۔
******،

For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


No comments

Powered by Blogger.
4