Hamsafar novel 2nd Last episode by Umme Hania Online reading
Hamsafar novel 2nd Last episode by Umme Hania
Hamsafar is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Hamsafar is a motivational and encourgious story by Umme Hania of a strong person
Online Reading
ناول " ہمسفر "۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania Official
چالیسویں قسط۔۔۔۔
ساری رات منیب کی آنکھوں میں کٹی تھی ۔۔۔ امرحہ کے پاس ہی وہاں کرسی پر بیٹھا وہ کبھی اس پر قرآنی آیات کا ورد کر کے پھونکتا کبھی اس سے رازونیاز کرتا وہ بہت بے چین دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔ اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ کبھی اس نے کسی چیز کو پانے کے لیے اتنی تڑپ سے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعا کی ہو جتنی تڑپ سے وہ اس پوری رات امرحہ کے صحت یاب ہونے کی دعا کرتا رہا تھا ۔۔۔۔
صبح ڈاکٹر کے راؤنڈ پر آنے کے بعد وہ آئی سی یو سے نکلا تھا ۔۔۔۔ وہ ابھی باہر نصب بنچ پر آ کر بیٹھا ہی تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا جیب سے موبائل نکال کر اس نے دیکھا تو کال اریبہ کی تھی ۔۔۔۔
کیسے ہو منیب ۔۔۔۔اور امرحہ کی کوئی پروگریس ۔۔۔۔۔یقینی بات ہے کہ تم نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا ہوگا تھوڑی دیر تک میں تمہارا ناشتہ لے کر آ رہی ہوں۔۔۔۔ فون کان سے لگاتے ہی اریبہ کی بے تابانہ آواز ایئرپیس سے ابھری تھی ۔۔۔۔ اگر رات منیب نے کانٹوں پر بسر کی تھی تو پرسکون اریبہ بھی نہ رہ سکی تھی ۔۔۔
وہ اپنی اس دیوانی کی فکرمندی پرنم آنکھوں سے مسکرا دیا تھا ۔۔۔۔ وہ لڑکی پل پل اسے ورطہ حیرت میں دھکیلتی اسے مزید اپنا گرویدہ بنا رہی تھی ۔۔۔ بھلا کیا کوئی اتنا بھی اچھا ہو سکتا تھا۔۔۔
کیوں ہو تم اتنی اچھی اریبہ۔۔۔۔اس کی آواز میں نمی کی آمیزش تھی جسے سنتی وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔۔۔ جان تو پہلے ہی تم میں بستی ہے اب تو بے مول ہی خرید رہی ہو ۔۔۔۔ لہجے کے بھاری پن میں بھی احساس تشکر اور ممنونیت کی آمیزش تھی۔۔۔
For God sake Muneeb....
کیا ہو گیا ہے تمہیں ۔۔۔کیسی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔۔میں بس پندرہ منٹ تک تمہارے پاس پہنچ رہی ہوں۔۔۔۔ وہ اس کی پریشانی اچھے سے سمجھ رہی تھی۔۔۔۔
اس لیے بنا مزید بحث میں وقت برباد کئے اس نے فون کاٹا تھا ۔۔۔ منیب بینچ پر بیٹھتا آنکھیں موندے سر دیوار سے ٹکا گیا ۔۔۔۔
نہ جانے اسے یوں بیٹھے کتنی دیر گزر گئی تھی جب نرس اس کے پاس آئی ۔۔۔۔ سر آپ کا نام شاہ ہے۔۔۔۔ نرس کے کہنے پر وہ جھٹکے سے سیدھا ہوا تھا۔۔۔۔ اسنے ناسمجھی سے سر ہاں میں ہلایا کیونکہ بلاشبہ وہ شاہ تھا مگر اسے شاہ محض امرحہ ہی بلاتی تھی۔۔۔
پیشنٹ کو ہوش آ رہا ہے۔۔۔۔
Now she is out of danger .....
مگر وہ بار بار آپ کو پکار رہی ہیں ابھی کچھ دیر تک انہیں کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
نرس نے اسے گویا اطلاع نہیں پہنچائی تھی بلکہ اس کے تن مردہ میں ایک نئی روح پھونک دی تھی اس کی خوشی دیدنی تھی ۔۔۔۔ وہ وہیں پر سجدہ شکر بجا لایا تھا سب سے پہلے اس نے جیب سے موبائل نکالتے یہ اطلاع اریبہ کو ہی دی تھی کیونکہ اسکے خیال میں وہی اسوقت سب سے پہلے اس اطلاع کو جاننے کی حقدار تھی جو کل سے اب تک پل پل اسکے ساتھ اس معاملے کی سنگی بنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
******
شش۔۔۔ شاہ۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے ۔۔۔معاف۔۔۔ کر دیں۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی امرحہ کے لبوں سے نیم بے ہوشی کی حالت میں ادا ہوتے یہ الفاظ منیب کا دل چیر گئے تھے۔۔۔۔
او میرے خدایا یہ ابھی تک اسی فیز میں موجود ہے۔۔۔۔منیب نے کرب سے آنکھیں میچیں ۔۔۔۔۔
شش۔۔۔ شاہ۔۔۔ امرحہ۔۔۔۔ امرحہ۔۔۔۔ ادھر دیکھو میری جانب۔۔۔۔۔ منیب نے اس کے پاس جاتے اس کے گال تھپتھپاتے اسے ہوش میں لانا چاہا ۔۔۔۔۔
یہ لمس اور یہ آواز وہ ہزاروں کے مجمعے میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔ امرحہ نے دقت سے اپنی بند ہوتی آنکھوں کو نیم وا کیا۔۔۔
میں تم سے ناراض نہیں ہوں امرحہ بالکل ناراض نہیں ہوں بلکہ میں تم سے اپنے اس روز کے رویے کے لئے معذرت خواہ ہوں خدارا اب تم بھی ناراضگی دور کر دو ۔۔۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھرے اسکی آنکھوں میں دیکھتا محبت نرمی اور لجاحت سے گویا ہوا ۔۔۔۔
لمحے کے ہزارویں حصے میں امرحہ کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔۔ ایک پرسکون اور آسودہ مسکراہٹ نے اسکے ہونٹوں پر چھب دکھلائی تھی۔۔۔۔
کوئی ایسا بھی کرتا ہے امرحہ جیسے تم نے کیا۔۔۔۔ کوئی اتنے سے غصے کی بھلا اتنی سخت سزا بھی دیتا ہے کہ کل سے ہمارا بیٹا اپنی ماں کے لمس کو محسوس کرنے کو ترس رہا ہے اور تم ہو کہ۔۔۔۔ منیب اسکے زردیاں گھلے چہرے کو دیکھتا کہہ رہا تھا جبکہ امرحہ ہمارے بیٹے کے ذکر پر بے طرح چونکی تھی۔۔۔۔
ہمارا بیٹا۔۔۔ لبوں سے لفظ سرسراتے ہوئے ادا ہوئے تھے ۔۔۔ جیسے یہ اطلاع اسکے لئے نئ ہو۔۔۔۔جبکہ منیب کھل کر مسکرا دیا تھا ۔۔۔ ہاں ہمارا بیٹا ابھی تک نرسری میں ہے تم دو منٹ انتظار کرو میں اسے ابھی لے کر آتا ہوں ۔۔۔ منیب مسکراتا ہوا اس سے انگلی سے دو کا اشارہ کرتا بعجلت کمرے سے نکلا کچھ ہی دیر بعد وہ ایک ننھے وجود کو باہوں میں اٹھائے واپس کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔
میرا بیٹا ۔۔۔ میرا شہزادہ۔۔۔۔ میری جان۔۔۔
منیب نےامرحہ کا بیڈ سائیڈ پر لگے ہینڈل سے گھما کر سر کی جانب سے تھوڑا اونچا کیا اور بچے کو اسے تھمایا تو امرحہ فرط جذبات سے اس ننھے وجود کو خود سے لپٹائے رو دی تھی ۔۔۔
*******
امرحہ کے ہوش میں آنے کا سن کر شاہ ولا سے شاہدہ بیگم اور بشری بوا بھی اریبہ کے ساتھ ہی ہسپتال آئے تھے ۔۔۔۔ امرحہ کچھ دیر تک ہی ہوش میں رہی تھی دوائیوں کے زیر اثر وہ ایک دفعہ پھر سے سو چکی تھی ۔۔۔۔
وہ لوگ بھی کچھ دیر تک امرحہ کے پاس رک کر واپس چلے گئے تھے شام میں امرحہ نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونا تھا ۔۔۔۔۔
منیب ہسپتال کے سبھی بل بھرتا اور فارمیلیٹیز پوری کرتا اس کی ڈسچارج سلپ بنوا رہا تھا جب ایک نرس اس کے پاس آئی۔۔۔۔ سر آپکی مسز آپ کو بلا رہی ہیں اس نرس کے کہنے پر منیب سب کچھ وہیں چھوڑتا امرحہ
کے کمرے کی جانب گیا تھا کیونکہ کافی دیر سے وہ دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔۔۔ اب وہ ہوش میں آئی تھی تو اس نے سب سے پہلے منیب کو ہی طلب کیا تھا ۔۔۔۔
شاہ اگر آج میں آپ سے کچھ مانگو تو کیا آپ مجھے دیں گے ۔۔۔ بیڈ سر کی جانب سے اونچا تھا جس کی بدولت وہ بیڈ پر نیم دراز منیب کی جانب دیکھتی اس سے استفسار کر رہی تھی جو کہ ابھی ابھی کمرے میں آ کر اس کے پاس ہی موجود کرسی پر بیٹھا تھا۔۔۔۔ پاس ہی انکا ننھا شہزادہ امرحہ کیساتھ محو استراحت تھا اسے غالباً نرس نے ہی امرحہ کو لا کر تھمایا تھا۔۔
کیوں نہیں امرحہ تم مانگ کر تو دیکھو وہ اس کی بات سنتا مسکرا دیا تھا۔۔ سوچ لیں شاہ یہ نہ ہو کہ بعد میں آپ مکر جائیں۔۔۔ امرحہ نے سنجیدگی سے کہا تو اس نے امرحہ کی بات کو مذاق میں اڑاتے بچے کے چہرے پر جھک کر پیار کیا جس سے وہ کسمسایا تھا اس کے اٹھنے کے خیال سے وہ سرعت سے پیچھے ہٹا۔۔۔۔
ایسا کیا مانگنے والی ہو تم مجھ سے جس کیلئے تم اتنے تحفظات کا شکار ہو ۔۔۔۔۔
شاہ میں ہمارا بیٹا شازمہ بھابھی کو دینا چاہتی ہوں ۔۔۔ امرحہ کے کہنے پر یکدم جیسے منیب کے سر پر جیسے کوئی بمب پھٹا تھا مسکراتے لب سمٹ گئے تھے۔۔۔۔۔ یہ بات بھلا اس کے دماغ میں کیسے آئی جبکہ صبح تک اس کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا ۔۔۔ وہ تو اپنے بیٹے کو پا کر بہت خوش تھی پھر ایک دم ان چند گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا تھا وہ اچھا خاصہ الجھ کر رہ گیا تھا ۔۔۔
یہ بات تمہارے ذہن میں کیونکر آئی امرحہ۔۔۔ بلآخر وہ اپنی الجھن کو زبان دے ہی گیا تھا۔۔۔
شازمہ بھابھی بہت اچھی ہیں شاہ۔۔۔ شاہ ولا رہتے ہوئے بھی میرے ان سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔۔۔ میرے خیال سے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ بچہ میرے پاس رہے یا انکے پاس۔۔۔۔ زرا سوچ کر دیکھیں ۔۔۔ اریبہ آپی کا بے بی بھی تو ہمارا ہی ہے لیکن شازمہ بھابھی کے پاس تو یہ نعمت ہے ہی نہیں۔۔۔۔ آپ نے کہا ہے کہ میں جو آپ سے مانگوں گئ آپ مجھے دیں گئے۔۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ اپنا نقطہ نظر اس پر واضح کر رہی تھی۔۔۔ جبکہ منیب کرسی کی ہتھی پر کہنی ٹکائے ہاتھ کی گول مٹھی بنائے ہونٹوں سے لگائے سنجیدگی سے۔اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
امرحہ چاہ کر بھی اسے یہ بات بتا نہ پائی تھی کہ بشری بوا کی زبانی وہ وجاہت شاہ کی اس بچے کے حوالے سے رکھی گئ شرط جان چکی ہے اور اب منیب کا اسے یوں دیکھنا اسے الجھن میں مبتلا کر رہا تھا کہ کہیں منیب اسکے چہرے کے ذریعے سے اسکے دل کے حال کو نا پا جائے۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں شاہ۔۔۔ وہ نظریں چراتی مستفسر ہوئی۔۔۔ یہ ہی دیکھ رہا ہوں کہ یہ سب باتیں تمہارے دماغ میں آ کہاں سے رہی ہیں۔۔۔ باقی میرے خیال سے اس بچے پر مجھ سے زیادہ حق تمہارا ہے۔۔۔ اور بحثیت ماں اس بچے کے بارے میں تم کوئی بھی فیصلہ لے سکتی ہو۔۔۔ منیب نے گہرا سانس خارج کرتے گویا ہر طرح کا اختیار اسکے ہاتھ میں تھمایا تھا۔۔۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔ تبھی شازمہ بھابھی اور عالیہ چہکتی ہوئی کمرے میں آئی تھیں۔۔۔ دونوں سے ہی امرحہ کے بہت اچھے تعلقات رہے تھے۔۔۔۔ انہیں دیکھ وہ بھی کھل اٹھی تھی۔۔۔۔
پیچھے ہی شاہ ولا کے تقریباً سبھی مقین اندر داخل ہوئے تھے وہ لوگ غالباً اسکے ڈسچارج ہونے کا سن کر آئے تھے۔۔۔۔
شازمہ بھابھی نے اسکے قریب آتے امرحہ کو مبارکباد دیتے جھک کر اسکے ماتھے کا بوسہ لیا تھا۔۔۔۔
بھابھی۔۔۔ وہ سیدھی ہوتی پیچھے ہٹیں ہی تھیں کہ امرحہ نے انہیں آواز دے کر روکا۔۔۔ بھابھی کیساتھ ساتھ باقی سب بھی اسکی جانب متوجہ ہوئے تھے۔۔۔
امرحہ نے لب بھینچتے اختیاط سے اپنے ساتھ لیٹے اپنے جگر گوشے کو اٹھا کر شازمہ کی جانب بڑھایا تھا۔۔۔۔
آج سے یہ آپکا بیٹا ہے بھابھی۔۔۔۔ نم آنکھوں سے مسکراتے جتنی آسانی سے امرحہ نے یہ بات کہی تھی شازمہ بھابھی کے لئے اس بات کو قبول کرنا اتنا ہی مشکل تھا۔۔۔
وہ تو کھلے منہ اور کھلی آنکھوں سمیت ساکت ہی رہ گئِیں تھیں۔۔۔
بھلا کب سوچا تھا انہوں نے ایسا۔۔۔ اور وہ خود پچھلے سات سالوں سے اس محرومی کی اذیت میں مبتلا تھیں۔۔۔ بھلا اب کیسے ایک ماں کی پہلی اولاد ہی اس سے لیتی اسے اذیت میں مبتلا کر دیتی۔۔۔۔
نہیں امرحہ۔۔۔ یہ تمہارا بیٹا ہے۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔ انکے تو حواس ہی گم ہونے لگے تھے۔ سمجھ ہی نا آ رہی تھی کہ اس موقع پر کیا کہیں۔۔۔ باقی سب بھی خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
ہاں اسے جنم میں نے دیا ہے مگر یہ بیٹا آپ ہی کا ہے۔۔۔ اب اسے پکڑ بھی لیں میں اتنی دیر تک اسے اٹھا نہیں سکتی۔۔۔۔ امرحہ نے ہلکے پھلے انداز میں انہیں کہتے انکی توجہ اپنی حالت کی جانب مبذول کروائی تو شازمہ بھابھی نے تھوک نگلتے ہراساں نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔۔۔
منیب نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے نم آنکھوں سے مسکرا کر بچے کی جانب اشارہ کیا تو بھابھی نے کپکپاتے ہاتھوں سے بچے کو تھاما۔۔۔۔ اس ننھے سے وجود کو سینے سے لگائے اس احساس کو محسوس کرتے وہ یوں ٹوٹ کر روئی تھی کہ وہاں موجود ہر آنکھ آشکبار کر گئ تھی۔۔۔ یہاں تک کہ ذوہیب بھائی کو انہیں اپنے حصار میں لیتے سمبھالنا پڑا۔۔۔
تمہارا بہت بہت شکریہ امرحہ۔۔۔۔ تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی سے نوازا ہے میری دعا ہے میرے اللہ سے کہ تمہاری جھولی کو خوشیوں سے بڑھ دے۔۔۔ کوئی دکھ کوئی تکلیف تمہارے پاس بھی نا بھٹکے۔۔۔ آج جو احسان تم نے مجھ پر کیا ہے میں تمہیں اس کا صلہ نہیں دے سکتی۔۔۔ اسکا اجر تمہیں میرا اللہ دے گا۔۔۔ آج تم نے میرے راستے کے کانٹے ہٹائے ہیں میرا یہ یقین ہے کہ میرا اللہ تمہارے راستے کی سبھی رکاوٹیں دور کر دے گا۔۔
بھابھی اس ننھے وجود کو خود سے لپٹائے روتے ہوئے مسلسل اسے دعائیں دے رہی تھیں جبکہ امرحہ نے آسودگی سے آنکھیں بند کر لیں۔
_______
چلو منیب۔۔۔۔
امرحہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔۔۔ سب واپسی کے لئے تیار تھے جب ذوہیب بھیا نے باعجلت کمرے میں داخل ہوتے کہا۔۔۔۔
کہاں بھیا۔۔۔ منیب نے تعجب سے استفسار کیا۔۔۔ شاہ ولا اور کہاں۔۔۔
ایک منٹ بھیا۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا انکے قریب گیا ۔۔۔۔ اس غلط فہمی میں قطعی مت رہیے گا کہ بابا کی کسی شرط کے باعث ہم نے اپنا لخت جگر آپکو سونپا ہے۔۔۔۔ ہم نے ایسا اس لئے کیا ہے کیونکہ مجھے اور امرحہ کو آپ پر اور بھابھی پر خود سے زیادہ اعتماد ہے۔۔۔ کہ آپ اس ننھی جان کو ہم سے زیادہ بہتر طریقے سے پال سکیں گئے اور یہ فیصلہ امرحہ کا ہے۔۔۔۔
صرف آپکی دعائیں چاہیے بھیا۔۔۔ باقی خدا کا دیا سب کچھ ہے اب ہمارے پاس۔۔۔ سنجیدگی سے کہتا وہ وہاں موجود ہر شخص کو ورطہ حیرت میں دھکیل گیا تھا۔۔۔۔ وہ واقعی اپنے نام کا ایک تھا جو سوچتا تھا وہی کرتا تھا۔۔۔ سب کو ویسے ہی کھڑا چھوڑ وہ اریبہ کی مدد سے امرحہ کو وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔
*****
تم نے دوائی کی ایک ڈوز مس کی ہے اریبہ اور یہ قطعاً اچھی بات نہیں۔۔۔۔
گھر آ کر منیب نے امرحہ کو اپنے زیر نگرانی پرہیزی کھانا کھلا کر دوائی دی تھی جس کے باعث اب وہ دواوں کے زیر اثر سو رہی تھی۔۔۔ اور اب وہ زرا فرصت سے اریبہ کے پاس تھا جو پچھلے دو دنوں میں خود گھن چکر بن گئ تھی۔۔۔
وہ ہاتھ میں اسکا میڈیکل باکس تھامے جائزہ لے رہا تھا۔۔
افف منیب تم تو اس معاملے میں ہٹلر کو بھی پیچھے چھوڑ رہے ہو۔۔۔ کل رات میں گھر نہیں تھی تو اس وجہ سے ایک ڈوز مس ہو گئ۔۔۔۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی چہرے کی کلینزنگ کرتی اریبہ نے چڑ کر اسے دیکھا۔۔۔
وہ اسے یوں چڑتا دیکھ مسکراتا ہوا میڈیکل باکس وہیں رکھتا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ اریبہ بھی سر جھٹکتی واش روم کی جانب بڑھی۔۔ کبھی کبھی یہ شخص اس کے لئے سمجھ سے باہر ہو جاتا تھا۔۔۔
ابھی وہ واپس روم میں آتی ٹاول سے چہرا خشک کر رہی تھی جب منیب ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھامے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی اریبہ نے برے برے منہ بنانے شروع کر دیئے تھے۔۔۔۔
No excuse ....
یہ ابھی بھی پینا ہے اور آدھا گھنٹہ بحث کے بعد بھی پینا ہی ہے۔۔ اریبہ کو کچھ کہنے کے پر تولتے دیکھ اسنے انگشت اٹھا کر حد بندی متعیں کرنا چاہی۔۔۔
ہمیشہ ہر بات میں اسکی رائے کو اولیت دینے والا شخص اس معاملے میں جلاد کو پیچھے چھوڑ دیتا تھا۔۔۔ اریبہ نے اسے خونخوار نگاہوں سے دیکھتے دوائی کھانے کے بعد ایک ہی سانس میں دودھ کا گلاس ختم کیا تھا۔۔۔۔
کیا مطلب اب تم مجھ سے بھی ناراض ہو کر سو گئ ۔۔۔ اسے دودھ پینے کے بعد بنا کوئی بات کئے موڈ بنا کر بیڈ پر جا کر لیٹتے دیکھ وہ مسکراتا ہوا اسکے پاس ہی بیڈ پر بیٹھتا گویا ہوا مگر جواب ندارد۔۔۔۔
اچھا میری طرف دیکھ تو لو۔۔۔ اسنے محبت سے اسکی آنکھوں پر دھری اسکی دودھیا بازو کو ہٹایا۔۔۔
کبھی کبھار تم بہت روڈ ہو جاتے ہو منیب۔۔۔ جہاں تم نے اور بہت سی چیزوں کی ریپلیسمنٹ بتادی ہے وہیں اس ایک چیز کو بھی کسی جوس سے ریپلیس کر دو مگر میں یہ روز روز نہیں پی سکتی ۔۔۔ وہ منیب سے اچھا خاصا ناراض ہو گئ تھی اسی لئے نڑوتھے پن سے گویا ہوئی۔
اچھا بابا۔۔ سوری۔۔۔ اور اتنی ناراضگی کے بعد تو ریپلیسمنٹ کے لئے سوچا جاسکتا ہے۔۔۔ وہ کان پکڑتا مسکینیت سے گویا ہوا تو اریبہ بھی مسکرا دی۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ وہاں بیٹھا اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا رہا تھا۔۔۔ اریبہ کے سونے کے بعد وہ اس پر لحاف دیتا کمرے کی لائٹ بند کرکے باہر نکلا ۔۔۔۔
اب اسکا رخ کچن کی جانب تھا۔۔۔ کچن سے سوپ اوون میں گرم کر کے وہ سوپ کا باول ٹرے میں رکھے امرحہ کے کمرے میں آیا تھا مگر پہلے ہی قدم پر اسے ٹھٹھک کر رکنا پڑا تھا۔۔۔ وہ ارد گرد سے بے نیاز کسی غیر مری نقطے کو دیکھتے خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ وہ بوجھل قدموں سے چلتا اسکے قریب آیا اسنے باول سائیڈ ٹیبل پر رکھا تو امرحہ چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ منیب کی موجودگی کو محسوس کرتے اسنے سرعت سے اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔
یہ فیصلہ تمہارا اپنا تھا امرحہ پھر یہ اداسی کیوں۔۔۔ وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتا اسکے پاس ہی بیٹھتا مستفسر ہوا۔۔۔
کیا اب میں اداس بھی نہیں ہو سکتی۔۔۔ نم غمگین لہجہ تھا۔۔۔ اور یہ آنسو۔۔۔۔ اسی سنجیدگی سے اگلا سوال آیا۔۔۔
میں انسان ہی ہوں شاہ۔۔۔ اور میرا یہ ردعمل بھی قدرتی ہے۔۔۔ نو ماہ میں نے اس بچے کو اپنی کوکھ میں پالا ہے۔۔۔ پل پل میں نے اسکی آمد کا انتظار کیا ہے۔۔۔ بے شک یہ فیصلہ میرا اپنا ہے اور مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں۔۔۔ لیکن میں قدرت سے ہٹ نہیں سکتی۔۔۔ کچھ وقت تو لگے گا نا سب سیٹ ہوتے ہوتے۔۔۔مجھے اس چیز کا عادی ہوتے ہوتے۔۔۔ ابھی فلحال تو مجھے اسکی یاد ستا رہی ہے نا۔۔۔ اور ویسے بھی کہتے ہیں کہ دل پر بوجھ ہو دل غمگین ہو تو کسی کے سامنے نہیں لیکن تنہائی میں رو لینا چاہیے۔۔۔ اس سے دل ہلکا ہو جاتا ہے۔۔۔ دل کا غبار نکل جاتا ہے۔۔۔ تو کیا میں اب رو بھی نہیں سکتی۔۔۔ وہ بہت مشکل سے خود پر ضبط کرتی نم آنکھوں سے مسکرا رہی تھی۔۔۔
رو لو۔۔۔ منیب کی اپنی آنکھیں نم ہو اٹھی تھیں۔۔۔ اس کا اتنا کہنا ہی بہت ثابت ہوا تھا۔۔۔ امرحہ اسی کے کندھے پر سر ٹکاتی سسک سسک کر رو دی تھی۔۔۔ اپنے ہر دکھ پر ہر محرومی پر۔۔۔۔۔۔۔
********
صبح امرحہ کی آنکھ ایک الگ قسم کے شور اور ہلچل سے کھلی تھی۔۔۔۔ اسنے لیٹے لیٹے ہی آوازیں پہچاننے کی کوشیش کی لاوئنج سے منیب اور اریبہ کی آوازوں کے سوا اسے شازمہ بھابھی کی آواز بھی آ رہی تھی لیکن اسے اس معاملے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔۔۔ تبھی شازمہ بھابھی بچے کو گود میں اٹھائے مسکراتی ہوئی اسکے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔
لو بہن۔۔۔ فیڈ کرواو ہمارے شہزادے کو۔۔۔ بھابھی نے آتے ہی مسکراتے ہوئے بچے کو امرحہ کے ساتھ لیٹایا تھا۔۔۔ وہ تو حیرت سے گنگ ہوتی بھابھی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
رات بھر تو ڈبے کا دودھ پی لیا شہزادے نے لیکن دن میں تو مدر فیڈ بنتا ہے نا۔۔۔ بھابھی اپنایت و محبت اور خوشدلی سے ہشاش بشاش سی کہتی اسکے پاس ہی بیڈ پر نیم دراز ہوِئیں۔۔۔
ویسے بھی رات بھر بہت تنگ کیا ہے اسنے تو میں نے سوچا اب یہ تھوڑا اپنی دوسری ماں کو بھی تنگ کر لے۔۔۔ شام تک سمبھالو اسے میں اب کچھ دیر آرام کروں گئ۔۔۔ بھابھی شرارت سے اسے کہتی وہیں لیٹ کر آنکھیں موند گئیں تھی۔۔۔ ویسے یہ ہمارے گھر کا پہلا وارث ہے تو بابا نے اسکا نام پہلاج رکھا ہے۔۔۔ یاد آنے پر بھابھی آنکھیں کھول کر اس سے مخاطب ہوئِیں مگر جلد ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئیں۔۔۔ وہ واقعی تھکی ہوئیں تھیں۔۔۔
رات جسے یاد کرتی وہ سوئی تھی صبح سب سے پہلا ٹکراو ہی اس سے ہوا تھا کیا دعائیں یوں اتنی جلدی بھی قبول ہو جاتی ہیں۔۔۔ امرحہ نے مسکراتے ہوئے پہلاج کے ماتھے کا بوسہ لیتے اسے خود میں بھینچا تھا۔۔۔ دل کو عجیب سی تمانیت ملی تھی۔۔۔
کچھ دیر تو پہلاج اسکے ساتھ کھیلتا رہا ہے لیکن جلد ہی وہ رونے لگا تھا۔۔۔ امرحہ کو اسے سمبھالنا جوئے شیر لانے کے مترادف رکھا تھا۔۔۔ بچہ سمبھالنے کا یہ اسکا پہلا تجربہ تھا لیکن اسے ایک ہی دن میں اس چیز کا اعتراف ہو گیا تھا کہ بچہ سمبھالنا کوئی آسان کام نہیں۔۔۔
جلد ہی بھابھی اٹھ گئ تھی انہوں نے بھی اسکی کافی مدد کروائی تھی اور سر شام ہی وہ پہلاج کو لئے واپس چلی گئ تھیں۔۔۔ اور پھر یہ معمول بن گیا تھا بھابھی روز دن میں اسے وہاں امرحہ کے پاس لے آتیں کچھ دیر وہاں رکتی اور پھر پہلاج کو اسکے پاس ہی چھوڑ جاتیں پھر سرشام ہی آ کر اسے لے جاتی تھیں۔۔۔ یوں وہ ایک ننھی جان دو ماوں کی ممتا کی پیاس بجھا رہا تھا۔۔۔ منیب بھی اس طرز عمل سے خوش تھا کیونکہ یوں اسے بھی روزانہ اپنے شہزادے سے ملنے کا اس سے کھیلنے کا موقع مل رہا تھا۔۔
*******
اگلے ہفتے ولید کی شادی ہے۔۔۔ بھیا کا فون آیا تھا ۔۔ منیب ابھی ابھی شوٹنگ سے لوٹا تھا لاوئنج میں ہی صوفے پر بیٹھتے وہ اریبہ سے گویا ہوا جو اسکی گاڑی کو کارپورچ میں رکتا دیکھ اس کے لئے گل سے فریش جوش بنوا کر لائی تھی۔۔۔
ہاں میری بھی چھوٹی امی سے بات ہوئی تھی۔۔۔ بتا رہی تھیں کہ بہت آدم بیزار ہوا پڑا ہے۔۔۔ کسی چیز میں دلچسپی نہیں دکھا رہا الٹا ہر رسم سے منع کر دیا ہے کہہ رہا ہے کہ محض نکاح کی رسم ہی ہوگئ۔۔۔ کافی پریشان تھیں وہ۔۔۔ اریبہ بھی ٹرے وہیں رکھتی اسکے پاس ہی بیٹھ گئ تھی۔۔۔
ناجانے کونسا روگ پال کر بیٹھا ہے ۔۔۔ کرتا ہوں اس سے بھی بات۔۔۔ ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا جب اسے شہریار کی کال آئی وہ فون اٹھا کر بات سنتا سنتا باہر لان میں آ گیا تھا۔۔۔ شہریار اسے ملنے کے لئے بلا رہا تھا وہ ابھی کچھ دیر تک اسے آنے کا کہتا واپس پلٹا۔۔۔
منیب میں کافی دنوں سے تمہیں کہہ رہی ہوں کہ کسی مالی کا انتظام کرواو یہ جھاڑیاں بہت بڑھ چکی ہیں سب پودوں کی کانٹ چھانٹ ہونے والی ہے یہ کام جتنی جلدی ہو اتنا اچھا ہے ورنہ برسات کا موسم ہے سو کیڑے مکوڑے نکل آتے ہیں۔۔ اریبہ وہیں اسکے پیچھے پیچھے ہی آ گئ تھی اور وہیں لان کے وسط میں نصب گول دائرے میں لگی کرسیوں اور ٹیبل کی ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔۔
افف میں واقعی بھول گیا تھا۔۔۔ ابھی شہریار کو کہتا ہوں۔۔۔ اسنے وہیں کھڑے کھڑے شہریار سے رابطہ کر کے مالی کا بندوبست کیا تھا۔۔۔۔ صبح تک آ جائے گا مالی۔۔۔ وہ وہیں فون ٹیبل پر رکھتا اسے کہتا مڑا تھا۔۔تبھی گل چائے لے آئی تھی اریبہ حسب معمول وہیں بیٹھی چائے پیتی موبائل پر سرچنگ کر رہی تھی یہ اسکا روز کا معمول تھا۔۔۔
شہریار کے پاس جانے سے پہلے منیب امرحہ کے پاس آیا تھا۔۔۔
اگلے ہفتے ولید کی شادی ہے اور میں تمہارے ساتھ نا چلنے کے حوالے سے کوئی بہانہ نہیں سنوں گا۔۔۔ امرحہ ابھِی ابھی اپنی آنلائن کلاس لے کر فارغ ہوئی تھی۔۔۔ میز پر ایسے ہی لیپ ٹاپ اور جرنل کھلے پڑے تھے جب وہ وہاں آیا۔۔۔ وہ اسکی نیچر سمجھ چکا تھا اسی لئے بنا لگی لپٹی رکھے پہلے ہی وارن کرنے آیا تھا۔۔
بالکل میں جاوں گئ شاہ۔۔۔ ولید بھائی تو میرے لئے بھائیوں سے بڑھ کر ہیں پھر میں بھلا کیوں نہیں جاوں گئ انکی شادی پر۔۔۔ وہ خودشدلی سے کہتی چیزیں سمیٹنے لگی تھی۔۔۔ شکر ہے تم میں بھی کوئی عقل نام کی چیز آئِی۔۔۔ وہ اب کچھ مطمئن دکھائی دے رہا تھا
آپ بیٹھیں ںآ۔۔ نہیں ابھی مجھے جلدی ہے میں شہریار کے پاس جا رہا تھا۔۔۔
ویسے تمہارا گھر تیار ہو گیا ہے۔۔۔ صبح چل کر ایک نظر دیکھ لینا اگر کوئی تبدیلی وغیرہ کروانی ہوئی تو۔۔۔ پھر ایک دو روز تک وہاں شفٹنگ ہو جائے گی۔۔۔ منیب نے اسے اطلاع بہم پہنچاتے اسکے چہرے پر حقیقی خوشیوں کے رنگ کھلتے دیکھے تھے۔۔۔ امرحہ تو جیسے کھل اٹھی تھی اس خبر سے۔۔ لمحوں میں اپنے گھر کے حوالے سے اسنے کئ خواب سجا لئے تھے ۔۔۔ دور کھڑی قسمت اسکی نادانی پر مسکرا رہی تھی۔۔۔ بھلا قسمت پر بھی کسی کا زور چلا ہےا کبھی۔۔۔
وہ بھی نادان نہیں جانتی تھی کہ اسے اس گھر میں جانا شاید کبھی بھی نصیب نہیں ہونے والا تھا۔۔۔
وہ منیب کیساتھ باتیں کرتی اسکے ساتھ ہی کار پورچ تک آئی تھی۔۔۔ منیب کے کار لے کر نکل جانے کے بعد وہ واپس پلٹنے کو تھی جب اسکی نظر لان میں بیٹھی موبائل پر مصروف اریبہ پر پڑی تو وہ اسکی طرف بڑھی۔۔۔
اریبہ مگن سی موبائل پر کام کر رہی تھی جب اسے اپنے پاس کسی کے پھنکارنے کی آواز آئی اسنے سرعت سے موبائل سے نگاہیں ہٹاتے آواز کے تعاقب میں دیکھا اس سے کچھ فاصلے پر ایک موٹا سانپ اپنے پن پھیلائے بیٹھا تھا۔۔۔
اسے دیکھتے لمحوں میں اریبہ کے حواس گم ہوئے تھے۔۔ ایک دلخراش چینخ مارتی وہ کرسی سے اٹھی تھی۔۔۔ موبائل وہیں زمین بوس ہو گیا تھا۔۔۔ سانپ سرعت سے اسکی جانب بڑھا تھا وہ پوری قوت سے اریبہ پر حملہ آور ہوا تھا اریبہ نے فلک شگاف چینخیں مارتے دونوں ہاتھ سر پر رکھتے بازوں میں منہ چھپاتے اپنے گرد منڈلاتے خطرے کو دیکھ کر کبوتر کی مانند آنکھیں بند کئیں تھیں لیکن لمحے کے ہزارویں حصے میں امرحہ کی چینخیں سنتے اسنے آنکھیں کھولیں ۔۔ فقط کچھ سیکنڈ لگے تھے اسے صورتحال سمجھنے میں۔۔۔
امرحہ دور سے ہی سانپ کو اسکے پاس دیکھ چکی تھِی اور اب وہ بعجلت اس جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ ارادہ سانپ پر اپنا آنچل پھینک کر کچھ سیکنڈ تک اسے الجھا کر اریبہ کو وہاں سے لے کر بھاگنے کا تھا لیکن عین وقت پر اریبہ کی چینخ نے کام خراب کیا تھا سانپ اپنی پوری حسیات سمیت اریبہ پر حملہ آور ہوا تھا۔۔۔ صورتحال نے امرحہ کے بھی حواس صلب کر لئے تھے۔۔۔ بنا سوچے سمجھے امرحہ نے سانپ کو اریبہ سے دور کرنے کی غرض سے جھٹکے اسے پکڑتے جھاڑیوں کی جانب پھینکا تھا مگر اسے ہاتھ لگاتے ہی اسنےمر کر امرحہ کو ڈسا تھا۔۔۔ یہ سب لمحوں کا کھیل تھا۔۔
اریبہ صدمے کی کیفیت میں نیچے گری امرحہ کو تڑپتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔
امرحہ۔۔۔ اس کی حالت دیکھتے اریبہ کو چکر آنے لگے تھے۔۔۔
اسکی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں۔۔۔ بازو پر نیلاہٹ ہر لمحہ بڑھتی جا تھِی۔۔۔ منہ سے جھاگ نکلنے لگئ تھی۔۔۔
اریبہ کے اپنے جسم پر کپکی طاری ہو نے لگی تھی۔۔ کچھ سمجھ نا آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔
چینخوں کی آواز سنتی گل بھی باہر بھاگ آئی تھی۔۔۔
امرحہ آنکھیں کھولو۔۔۔ خدارا آنکھیں بند مت کرنا۔۔ کھولو آنکھیں۔۔۔ امرحہ کی آنکھیں ہر گزرتے لمحے کیساتھ بند ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔ اریبہ کی اپنی حالت کسی دیوانی کی سی تھی وہ امرحہ کو جھنجھوڑتی کباحی اسکا چہرا تھپتھپاتی اسے آنکھیں کھولنے کی تاکید کر رہی تھی۔
***********

No comments