khuab_e_janoon novel 55th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 55th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
55th episode...
پاکستانی وقت کے مطابق ٹھیک دس بجے منیبہ کی فلائیٹ ائیرپورٹ پر لینڈ کر گئ تھی۔۔۔
گھر میں اسکے استقبال کی تیاریاں زورو شور سے جاری تھیں۔۔۔ ماں اور عفرا کے تو قدم ہی زمین پر نا ٹک رہے تھے۔۔۔
ماں کل آدھی رات تک اسکے آنے کی تیاریاں کرتی رہیں۔۔ صبح بھی فجر کے بعد وہ کچن میں گھس گئیں۔۔۔ آخر کو بیٹی چار سال بعد آ رہی تھی۔۔ وہ اسکی پسند کی ایک ایک ڈش بنا لینا چاہتی تھیں۔۔
عفرا بھی خالہ کے ساتھ پیش پیش تھی۔۔۔ اسنے پوری دلجمعی سے ملازموں کیساتھ مل کر منیبہ اور معید کے ویلکم کے لئے گھر کو غباروں اور پھولوں سے ڈیکوریٹ کیا تھا۔۔۔
منیبہ کے لئے ویلکم کیک خود بیک کیا تھا۔۔۔۔۔
ننھے معید کے استقبال کے لئے اسکی تیاریاں الگ ہی تھیں۔۔۔
کتنا خوبصورت احساس تھا کہ ایک ننھا سا وجود اسکی باہوں میں ہوگا۔۔۔ جو اسے ماں بولے گا۔۔۔
اللہ نے کتنا خوبصورت وسیلہ بنایا تھا اسکے لئے۔۔۔۔
کل سے جیسے منیبہ کے الفاظ نے اسکے اندر ایک نئ روح پھونک دی تھی۔۔۔
بار بار اسکی آنکھیں نم ہو اٹھتیں۔۔
وہ شدت سے ان لوگوں کے گھر پہنچنے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
اپنے کام میں مشغول بار بار دروازے کی جانب دیکھتی۔۔
دل چاہتا کے وقت کو پر لگ جائیں اور اڑ کر منیبہ اور معید اسکے پاس پہنچ جائیں۔۔۔
وہ معید کو سینے سے لگانا چاہتی تھی۔۔۔ ممتا کے اس احساس کو دل سے محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔۔
کس قدر خوش کن احساس تھا وہ۔۔۔
معید اسکا بیٹا ہے۔۔۔ اسکا۔۔۔ وہ بارہا خود کو یقین دلاتی۔۔۔۔
وہ خوش تھی ۔۔۔ بے انتہا خوش۔۔۔۔
امان نو بجے ہی ایئر پورٹ منیبہ کو رسیو کرنے جانے کے لئے تیار تھا۔۔
آج اس گھر کی خوشی کا ماحول ہی الگ تھا ۔۔۔
دفعتاً اچانک ہی غیر متوقع طور پر خالہ کی طبیعت بہت خراب ہوگئ۔۔۔
غالباً شوگر لیول لو ہو گیا تھا یا بی پی کا مسلہ تھا لیکن وہ لہرا کر زمین پر جا گریں۔۔۔
بیٹی کے آنے کی خوشی میں انہوں نے بہت کام کیا تھا۔۔۔ آدھی رات تک لگی رہیں اور صبح بھی جلدی اٹھ کر کچن سنبھال لیا۔۔۔
کام کا اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے شاید وہ بے ہوش ہو گئی تھیں ۔۔۔ لیکن انہیں یوں نیچھے گرتا دیکھ امان کے تو ہاتھ پاوں ہی پھول گئے تھے۔۔۔
وہ سب چھوڑ چھاڑ بروقت انہیں ہسپتال لے کر پہنچا۔۔۔ جبکہ عین وقت پر اسنے منیبہ کو رسیو کرنے کے لئے درائیور اور گاڑی بھیج دی تھی۔۔۔
منیبہ کے ساتھ بھی وہ رابطے میں تھا ۔۔۔ اسکی فل
ائیٹ لینڈ کر گئ تھی۔۔۔ اسنے منیبہ کو پہچان کے لئے ڈرائیور اور گاڑی کی فوٹوز واٹس ایپ کر دیں تھی۔۔۔
ماں کو ڈریپ لگی تھی جو اب اپنے آخری مراحل میں تھی۔۔۔۔ ماں کا واقع ہی اوور لوڈ کاموں کی وجہ سے شوگر لیول لو ہو گیا تھا جسکے باعث انکا بی پی بھی خطرناک حد تک لو ہو گیا تھا۔۔۔ ورنہ ماں کا بی پی اس عمر میں ہمیشہ ہائی ہی ہوا تھا۔۔۔ڈریپ ختم ہونے کے بعد وہ ماں کو لے کر جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔
*****
آج صحیح معنوں میں اس گھر پر قیامت ٹوٹی تھی۔۔۔ ہر طرف بین تھے سسکیاں تھیں۔۔۔ اسقدر جوان موت پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔۔۔ صحن کے وسط میں پڑی چارپائی میں کفن میں لپٹے وجود کو دیکھ کر اس منظر پر خواب کا گمان ہوتا تھا۔۔۔
ایسے کیسے ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔
کیا یہ ممکن تھا۔۔
اس سارے منظر سے الگ کونے میں کھڑی عفرا پھٹی پھٹی آنکھوں میں بے یقینی سموئے اس جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اس حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری تھی۔۔۔
کیا زندگی اتنی ہی غیر متوقع چیز تھی۔۔۔ اسقدر غیر متوقع کے لمحوں میں پانسہ ہی پلٹ گیا تھا۔۔۔
یوں بھی ہوتا ہے بھلا۔۔۔
کچھ دیر پہلے تو اس گھر میں کس قدر خوشی کا موقع تھا۔۔ ڈرائیور منیبہ کو لینے گیا تھا۔۔۔ چند منٹ پہلے۔۔۔
محض چند منٹ پہلے ہی تو اسکی منیبہ سے بات ہوئی تھی۔۔۔ وہ راستے میں تھی۔۔ گھر آ رہی تھی۔۔۔
ساتھ ہی اسے اسکے گود میں کھیلتے معید کی کلکاریاں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔
لیکن بات کرتے کرتے اچانک ہی اسے ایک دھماکے کی آواز آئی تھی۔۔۔ جس کے بعد اسکا منیبہ سے رابطہ منقطع ہو گیا لیکن کال چل رہی تھی اسکے باوجود اسے منیبہ کی کوئی آواز نا سائی دے رہی تھی۔۔۔ وہ دیوانوں کی مانند ٹرپتی بلکتی ہیلو ہیلو۔۔۔ پکارتی منیبہ کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہتی تھی۔۔۔
وہاں سے اسے شور سنائی دے رہا تھا۔۔ بھانت بھانت کی بولیاں۔۔۔ لوگوں کی آوازیں۔۔۔ اور ان سب میں سب سے نمایاں معید کی دلخراش دل کو چیرتیں چیخیں۔۔۔
وہ نا اس فون کو بند کر پا رہی تھی۔۔۔ نا ہی کسی سے بات کر پا رہی تھی۔۔۔
فون بند کرتی تو امان کو فون کرتی۔۔۔ بند کر دیتی تو وہاں سے رابطہ منقطع ہو جاتا۔۔۔۔ جس کے لئے کرلاتا دل بھی مان نہیں رہا تھا۔
فون سے آتی آوازیں سن سن کر ہی وہ نیم جان ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
پھر کیا ہوا اسے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں۔۔۔ شاید اسنے فون بند کر دیا تھا۔۔۔ یا نہیں کیا تھا۔۔۔ کیسے اسکا امان سے رابطہ ہوا۔۔۔
کیسے خالہ بلکتی ہوئیں گھر آئیں۔۔۔
کیسے وہاں لوگ اکھٹے ہونے لگے۔۔۔
کیسے وہاں ایک کی بجائے دو دو لاشے آئے۔۔۔۔
جن کا انتظار کل سے کیا جا رہا تھا وہ کس انداز میں اس گھر میں آئے۔۔۔ کوئی ایک چیز بھی تو اسکے دماغ میں واضح نہیں ہو پا رہی تھی۔۔۔
وہ ننھا معید جسے اسنے سینے میں بھینچنا تھا۔۔۔ جسے محسوس کرنا تھا وہ اسکے پاس آنے کی بجائے ماں کے پہلو میں لیٹا کیا کر رہا تھا۔۔۔۔
یہ کونسا خواب تھا جو وہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ اس خواب سے جاگ جانا چاہتی تھی۔۔۔
اس خواب کو دیکھتے اسے تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔
وہ آنکھیں کھولنا چاہ رہی تھی۔۔
لیکن وہ اس خواب سے جاگ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
اسنے ارد گرد دیکھا وہاں ہر طرف روتے کرلاتے لوگ تھے۔۔۔ خالہ کی سسکیاں تھیں۔۔۔
کوئی اسے اس خواب سے جگا کیوں نہیں دیتا۔۔۔
کاش کوئی اسے جگا دے اسے اس ماحول سے وحشت ہونے لگی تھی۔۔۔
اندر انواع و اقسام کے کھانے منیبہ اور معید کا انتظار کر رہے تھے ۔۔۔ مگر وہ آنکھیں موندے کیوں لیٹے تھے۔۔۔ اٹھ کر اندر کیوں نہیں جا رہے تھے۔۔۔
فریج میں انکا ویلکم کیک پڑا تھا جسے اسنے دو گھنٹے کی محنت کے بعد بنایا تھا ۔۔
انکی تیاریوں میں سجے پھول مرجانے لگے تھے ۔۔۔ وہ کیوں نہیں اند آ رہے تھے ۔۔۔
کوئی کیوں اسے جگا نہیں رہا تھا۔۔۔
دفعتا اسنے دھندلائی نگاہوں سے صلہ کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا۔۔
جو اس سے لپٹتے ہی شدت سے رو دی۔۔۔
اور یہیں پر۔۔۔ یہیں پر اسکا سکتا ٹوٹ گیا۔۔۔۔
یہ خواب نہیں تھا۔۔۔ یہ حقیقت تھی۔۔ لیکن کیا حقیقت اتنی بھیانک بھی ہوتی ہے۔۔۔ اتنی بھیانک بھی۔۔۔
وہ سب کو پیچھے دھکیلتی دیوانہ وار منیبہ اور معید کی جانب بھاگی
*****
یہ وقت امان پر بہت کڑا آ پڑا تھا۔۔۔۔
چھوٹی بہن جو اتنے عرصے بعد ان سے ملنے آ رہی تھی وہ اس سے کس انداز میں ملا تھا۔۔۔
اور سب سے بڑھ کر اسکے پہلو میں آنکھیں میچے لیٹا وہ ننھا معصوم وجود دل پر نشتر چلا رہا تھا۔۔۔
باوجود ضبط کے ایک آنسو امان کی آنکھ سے ٹوٹ کر پھسلا۔۔۔
اسنے حسرت سے بہن کے زندگی سے عاری چہرے کو دیکھا۔۔۔
اگر قیامت یہاں ٹوٹی تھی تو ایک قیامت امریکہ میں بھی ٹوٹی تھی۔۔۔ نعمان اور مغیث کے لئے بھی یہ خبر طوفان کا پیش خیمہ تھی۔۔۔
وہ پل پل امان کے ساتھ رابطے میں تھا۔۔۔
پہلی فلائیٹ سے ہی وہ دونوں پاکستان آ رہے تھے۔۔۔
اس خبر نے امان کی دنیا ہی ہلا ڈالی تھی۔۔۔
منیبہ کے آخری سفر کی تیاری جاری تھی بس نعمان کے پہنچنے کا انتظار تھا۔۔۔
عفرا منیبہ کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی معید کو اٹھا کر سینے میں بھینچتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
کئ عورتوں نے اسے ساتھ لگاتے اس سے معید کو لے کر واپس لٹانا چاہا مگر وہ اسے چھوڑنے سے انکاری تھی۔۔۔
منیبہ آپی یہ کیا ۔۔۔ آپ تو یہاں مجھے معید دینے آ رہی تھی نا پھر اپنے ساتھ ہی لے گئیں۔۔
ایسے کوئی کرتا ہے بھلا۔۔۔
ہم سے ملی بھی نہیں۔۔ وہ دیوانہ وار معید کو چومتی بلک رہی تھی۔
بس بیٹا اسکی موت ہی اسے پاکستان کھینچ لائی تھی۔۔۔ کسی عورت کی آواز اسکے کان میں پڑی۔۔۔ وہ مزید شدت سے رو دی۔۔۔
اتنے کم وقت میں معید کے ساتھ الگ ہی انسیت جڑ گئ تھی۔۔۔
نعمان کے پہنچتے ہی تڑپتی بلکتی عفرا کے ہاتھ سے معید کو لے کر جنازہ اٹھایا گیا۔۔۔۔
جبکہ خالہ وہیں بے ہوش ہو چکی تھیں۔۔۔
******
بیٹا اتنی جلدی واپس جا رہے ہو۔۔۔۔
وہ سب خاموشی سے ڈنر کر رہے تھے جب نعمان کی بات سن کر خالہ پوچھ اٹھیں۔۔۔
منیبہ کو گئے ہفتہ ہو چکا تھا۔۔۔ لیکن ان سب کی زندگیاں جیسے رک گئیں تھیں۔۔۔۔
سب خاموش ہو کر رہ گئے تھے جیسے انکے پاس بات کرنے کو کچھ رہا ہی نا ہو۔۔
خالہ بھی دنوں میں ہی بوڑھی لگنے لگی تھیں۔۔۔
ممانی۔۔۔ جانے والی تو چلی گئ پر شاید جاتے ہوئے زندگی کا ہر رنگ ساتھ لے گئ۔۔۔ اب پاکستان میں بچا ہی کیا ہے جو یہاں رہا جائے۔۔۔
یادیں ہی ہیں یہاں اس بے وفا کی جو بروقت بے وفائی دکھا گئ۔۔۔ جھکے چہرے سمیت پلیٹ میں چمچ چلاتے نعمان کی آواز بھرا گئ تھی۔۔۔ جبکہ اسکی بات پر سب کی آنکھوں میں نمی سمٹ آئی۔۔۔
میں نے کہا تھا اسے کہ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے مت جاو۔۔۔ پتہ نہیں کیوں دل کو پہلے ہی ایک بے چینی لگ گئ تھی کے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔۔ پر شاید اسکا وقت ہی اتنا لکھا تھا۔۔۔
اب میں وہیں رہنا چاہوں گا۔۔۔ مجھے واپس نہیں آنا یہاں۔۔۔ مغیث بھی کھانے سے ہاتھ روکے دکھ سے باپ کو دیکھنے لگا۔۔۔
صحیح کہہ رہے ہو بیٹا ۔۔ یہ بچوں کے کام ہوتے ہیں ماں باپ کو تیار کر کے انکے آخری سفر پر روانہ کرنا۔۔۔
ماں باپ کے لئے یہ کام بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔۔
لیکن موت کہاں ترتیب دیکھتی ہے۔۔۔
خالہ کی آنکھیں چھلک گئی تھیں۔۔۔
بیٹا مغیث کو چھوڑ جاو یہیں پر۔۔۔ وہاں بن ماں کے کیسے رہے گا۔۔۔۔
خالہ نے مغیث کی معصوم اتری اتری صورت آنکھوں میں بسائی۔۔۔
نہیں ممانی۔۔ اب ہم دونوں کا ہے ہی کون ایک دوسرے کے سوا۔۔۔ قدرت نے ماں تو اس معصوم سے لے لی۔۔۔ میں خود کو اس سے دور نہیں کروں گا۔۔۔
اب تو جینے کا مقصد ہی یہ ہے ۔۔۔ اسی کے سہارے تو شاید میں بھی زندگی کے اس فیز سے نکل آوں۔۔۔
نعمان نے خود پر قابو پاتے بیٹے کو خود میں بھینچا اور اسکے سر پر شدت سے بوسہ دیا۔۔۔
جبکہ عفرا اپنے آنسو پیتی چہرا جھکائے ضبط سے بیٹھی تھی۔۔۔۔
*****
صلہ بچیوں کو سلا کر پانی کا جگ لے کر کچن سے پانی لینے آئ تھی جب لاوئنج سے گزرتے کمرے سے آتی آوازوں پر ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
بالاج کا نام آنے پر وہ غیر محسوس انداز میں رک کر باتیں سننے لگی۔۔۔۔
ارے شکر کرو۔۔ بالاج بھائی کو عقل آگئ۔۔۔ مان گیا ہے شادی کو۔۔۔ اس جمعے کو شادی تو انکی فکس ہے مشل سے کل رات تک آجائیں گے وہ پاکستان ۔۔۔ شکر ہے اللہ کا یہ معرکہ سر ہو تو ہماری بھی دال گلے۔۔۔
اندر سے کرن کی سرگوشیوں کی مانند آواز ابھر رہی تھی لیکن وہ آواز قطرہ قطرہ صلہ کے جسم سے روح کھینچتی جا رہی تھی۔۔۔ صلہ دھک سے رہ گئ تھی۔۔۔ جیسے یکدم دل ڈوب کر ابھرا ہو
جیسے خار دار جھاریوں پر کپڑا رکھ کر اسے دھیرے دھیرے کھینچا جائے۔۔۔ بالکل ویسے ہی ابھی وہ اپنے وجود کے ادھرنے کے درد کو دانتوں پر دانٹ جمائے سہنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔
یار خالہ کی یہ ہی شرط تھی نا ہماری شادی کے لئے۔۔۔ تو مبارک ہو۔۔ ہو رہی ہے پوری یہ شرط بھی پھر تو ہماری راہ میں کوئی رکاوٹ نہی نا۔۔۔ وہ کھلکھلا کر ہسی۔۔۔۔
اس سے زیادہ سننا صلہ کے بس میں نا تھا۔۔۔
وہ اپنے کپکپاتے وجود کو گھسیٹتی واپس کمرے میں آئی۔۔۔ اسے پیاس لگی تھی یا اسنے پانی پینا تھا وہ یکسر فرموش کر بیٹھی تھی۔۔
ابھی تک اسکے کان سائیں سائیں کر رہے تھے۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھی دونوں ہاتھوں میں شدت سے صوفہ دبوچے کپکپاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھتی ہر چیز پر غور کر رہی تھی۔۔۔
کیا اسے کرن کی باتوں پر یقین کرنا چاہیے یا نہیں۔۔۔
یقین کرنے کی کوئی وجہ یا یقین نا کرنے کی کوئی وجہ۔۔۔
وہ مسلسل سوچ رہی تھی۔۔۔
یہ سب باتیں تو گھر میں بہت عرصہ سے چل رہی تھیں۔۔۔ لیکن ابھی تک ایسا کچھ نا ہوا تھا۔۔۔
لیکن اس بات کی کیا گارنٹی کے اگر ابھی تک کچھ نہیں ہوا تھا تو آگے بھی نا ہوتا۔۔۔
اندر سے جیسے کسی نے جھنجھوڑا تھا۔۔ اور وہ لرز کے رہ گئ۔۔
لیکن بالاج کی کسی بات سے اسے ابھی تک ایسا کچھ محسوس نا ہوا تھا۔۔۔
وہ تو آج بھی ویسا ہی تھا اول روز جیسا۔۔۔ پھر۔۔۔
وہ اپنا دکھتا سر ہاتھوں میں تھام گی۔۔۔
کیا وہ واقعی کل آ رہا تھا پاکستان۔۔۔
لیکن ابھی تو اسکی بالاج سے بات ہوئی تھی۔۔۔ اسنے تو ایسا کچھ نا کہا تھا۔۔۔ نا ہی اسکے لہجے سے اسے ایسا کچھ محسوس ہوا تھا۔۔۔ پھر۔۔۔۔
اسے کل تک کا انتظار کرنا تھا۔۔۔ وہ شدت سے دعا گو تھی کے کرن کی باتیں محض ہوا میں تیر ہی ہوں۔۔۔ مگر اگر سچ ہوئی تو۔۔۔ اندر سے کسی نے سوال ابھارا تھا۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔
اسکا دل ماننے سے انکاری تھا۔۔۔
اسے کل کا انتظار تھا۔۔۔ لیکن آج کی رات کا بھی ایک ایک لمحہ اس پر بھاری تھا۔۔۔۔
بہت بھاری۔۔۔
******

No comments