Header Ads

khuab_e_janoon novel 54th episode by Umme Hania online reading


 

khuab_e_janoon novel 54th episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

54th episode....
 عفرا سے بات کرنے کے بعد سے منیبہ مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
معمولات کے کام سر انجام دیتے بھی وہ کہیں کھوئی کھوئی سی تھی۔۔
معید کو فیڈ کروا کر اسے تیار کرتء۔۔ مغیث کو سکول کے لئے تیار کرتے اور کچن میں سب کا ناشتہ بناتے وہ مسلسل کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔
باہر ڈائینینگ ٹیبل پر مغیث اور نعمان کی کسی بات کو لے کر بحث ہو رہی تھی۔۔۔ وہ زور و شور سے باپ سے بحث کرنے میں مشغول تھا۔۔۔
معید بھی پاس ہی پرام میں لیٹا ہاتھ میں پکڑے کھلونے سے کھیل رہا تھا۔۔۔ 
وہ ایک پرفیکٹ فیملی پکچر تھی۔۔ منیبہ نے ایک کھوئی کھوئی سی نگاہ ان تینوں کے ہستے مسکراتے چہروِں پر ڈالی اور ناشتے کی ٹرے لئے باہر آگئ۔۔۔
نعمان مجھے پاکستان جانا ہے۔۔۔ 
ان دونوں کو ناشتہ سرو کر کے وہ معید کو سیریلیک کھلاتے  کھوئی کھوئی سی گویا ہوئی۔۔۔ معید اب سہارے سے چلنے لگا تھا وہ ایک بہت شرارتی بچہ تھا۔۔۔
نعمان نے چونک کر اسے دیکھا وہ اسے خاصی الجھی الجھی سی لگی۔۔۔
شاید وہ  اپنوں کو مس کر رہی تھی۔۔۔  چار سال کا عرصہ کم تو نہیں ہوتا دیار غیر میں اپنوں سے دور۔۔۔۔ وہ اسکی فیلنگز باخوبی سمجھ سکتا تھا۔
اگلے مہینے چلیں گے منیبہ۔۔۔ ویسے بھی اب یہاں میری برانچ سٹیبلش ہوگئ ہے تو کچھ ضروری کام ہے جو نبٹانے ہیں پھر پیچھے سب چلتا ہی رہے گا۔۔۔ اور مغیث کے سکول کے ڈاکومینٹس وغیرہ بھی کلیئر کروانے ہیں۔۔
وہ گھونٹ گھونٹ جوس پیتا متانت سے گویا ہوا۔۔
مغیث کی سکول بس آگئ تو وہ باپ کے بعد ماں سے گلے ملتا بیگ اٹھا کر باہر بھاگ گیا۔۔۔
آپ اور مغیث اگلے مہینے آ جانا پاکستان۔۔۔
مجھے اور معید کو آپ آج شام کی یا کل صبح کی فلائیٹ میں ٹکٹس بک کروا دیں۔۔۔
وہ الجھی سی ہونٹ چباتی پلیٹ میں چمچ چلا رہی تھی۔۔۔ نعمان کو وہ بہت الجھی اور غیر خاصر لگی۔۔۔
سب خیریت ہے نا منیبہ۔۔ کوئی بات ہوئی ہے کیا۔۔۔
نعمان نے جوس کا گلاس واپس میز پر رکھتے پریشانی سے دریافت کیا۔۔۔
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے نعمان۔۔۔ میرے اپنوں کو میری ضرورت ہے۔۔۔
میں پہلے ہی انکی ضرورت کے کسی وقت بھی وہاں موجود نا تھی۔۔۔
حتی کہ ماں سی خالہ کی وفات پر بھی وہاں وقت پر پہنچ نا سکی۔۔۔
اب میرے دل کو بہت بے چینی ہے۔۔۔
آپ پلیز مجھے جانے دیں نعمان۔۔۔ 
ہماری ٹکٹس کروا دیں۔۔۔۔
عفرا کو میری ضرورت ہے۔۔۔ اور ہاں میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔ مجھے امید ہے کہ آپ میرے اس فیصلے میں میرا ساتھ دیں گے۔۔۔ منیبہ نے بھرائی نگاہیں اٹھا کر نعمان کو دیکھا تو وہ کئ پلوں کے لئے شاک رہ گیا۔۔۔۔
ناجانے کیوں اسکی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔۔
کیسا فیصلہ ۔۔۔ اسکے لبوں سے سرسراتے الفاظ نکلے۔۔۔
*****
صبح گیارہ بجے تک عفرا ہنوز اپنے کمرے میں ہی لیٹی رہی۔۔۔ اسقدر پروڈکٹو رہنے کے بعد اب یوں بستر پر بے مقصد لیتے رہنا بھی اسے عجیب لگ رہا تھا۔۔۔۔
امان صبح اسے ناشتہ اپنی زیر نگرانی کروانے کے بعد آفس جا چکا تھا اب شاید یہ اسکی باتوں کا اعجاز تھا کہ وہ دماغ میں سر ابھارتے زہریلی سوچوں کے ناگوں  کا سر حوصلے سے کچل رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ کسلمندی سی اٹھی اور فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
لاوئنج میں ہی خالہ سر پر آنچل لپیٹے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے غالباً تسبیح پڑھ رہی تھیں۔۔۔
خالہ کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں نمی سمٹ آئی۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی انکے پاس آئی۔۔۔
اپنی گود میں ایک لمس محسوس کر کے خالہ نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ اورچونک کر متوجہ ہوئیں۔۔۔
عفرا خالہ کی گود میں سر رکھے نیچے بیٹھی تھی۔۔۔ اسے یوں اپنے پاس بیٹھا دیکھ ایک اداس مسکراہٹ خالہ کے چہرے پر ابھری۔۔
سوری خالہ۔۔۔ میں غصے میں بہت کچھ غلط کہہ گئ۔۔۔ پلیز آپ مجھے معاف کردیں۔۔۔
پر اس وقت مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔۔۔ یوں لگا جیسے کوئی برچھی سے میرے دل کو کاٹ رہا ہو۔۔۔ وہ تکلیف برداشت سے باہر تھی اس لئے جو منہ میں آیا اول فول بکتی چلی گئ
وہ خالہ کی گود میں منہ گھسائے بھرائی آواز میں آہستگی سے کہہ رہی تھی۔۔ اسکے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر خالہ کی گود بھگو رہے تھے۔۔۔
خالہ کی اپنی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔۔۔ وہ محبت سے اسکے بال سہلانے لگیں۔۔۔
بچے میں تمہارا دکھ سمجھتی ہوں۔۔۔ یہ فیز آسان نہیں ہوتا۔۔۔ اس وقت جو بھی ہوا غلطی جسکی بھی تھی لیکن تمہاری باتیں مجھے جھنجھوڑ گئ عفرا۔۔۔
شاید تم نے ٹھیک ہی کہا تھا۔۔۔ تمہیں بیٹی کہنے کے باوجود میں نے محض بیٹے کی ماں بن کر ہی سوچا۔۔۔ تمہاری جگہ شاید منیبہ ہوتی تو میں اسکے لئے ایسے الفاظ کبھی اپنی زبان سے ادا نا کرتی۔۔۔
چاہیے غصے میں کہا تم نے جو کہا۔۔۔ لیکن کہا جھوٹ نہیں۔۔۔
میں رات سے اپنا محاسبہ کر رہی تھی اور جب خود کو تمہاری جگہ رکھ کر دیکھا تو بچے تمہیں حق پر پایا۔۔۔ مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔
شاید میں ہی خود غرض ہوگئ تھی اپنے آنگن میں امان کے بچوں کو کھیلتا دیکھنے کے لیے۔۔
انکی آواز میں پشیمانی تھی۔۔۔ عفرا نے انکی گود سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔
آپ غلط نہیں تھیں خالہ۔۔۔ شاید آپکی جگہ میں ہوتی تو اپنے بیٹے کے لئے ایسا ہی سوچتی۔۔۔ میں نے فیصلہ کیا ہے خالہ۔۔۔ اسنے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔ کہ میں اپنے دل میں گنجائش نکالوں گی۔۔۔ ہاں یہ مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں۔۔۔
امان جیسا قدر دان شوہر ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔۔۔۔ تو ایسے میں میرا فرض بنتا ہے کہ میں انہیں پے بیک کروں۔۔۔ انکی قدر کروں۔۔۔
میں اپنے ہاتھوں سے امان کی شادی کرواوں گی۔۔۔ 
میں یہاں پر خودغرضی دکھاتی امان کو انکی خوشیوں سے محروم نہیں ہونے دوں گی۔۔۔
میں نے اس بارے میں بہت سوچا خالہ۔۔۔ جب ایک چیز میں امان کو دے ہی نہیں سکتی تو کیوں میں اس چیز کا خوف پالوں کے کہیں میرا شوہر کہیں کسی اور کو میرے مدمقابل نا لے آئے۔۔۔
کیوں نا میں اس خوف کا گلا اپنے ہاتھوں سے ہی گھونٹ دوں۔۔۔
جو تکلیف ہونی ہے ایک ہی بار میں سہہ لیں گے۔۔۔ کیا اس تکلیف کو روز روز پال کر ناسور بنانا۔۔۔
ہے نا خالہ۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے مسکراتی خود اذیتی سے کہہ رہی تھی جبکہ خالہ شاک سے اسے دیکھتی رہ گیں۔۔
وہ اسے اپنے بیٹے کے خیالات تک سے واقف نا کروا پائیں۔۔۔
دفعتاً لاوئنج کا دروازہ کھول کر امان اندر داخل ہوا۔۔۔ دونوں نے بیک وقت چونک کر اس جانب دیکھا۔۔۔ وہ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کرتا مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا لیکن ان دونوں کو وہاں اکھٹے بیٹھا دیکھ ایک دلکش مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر رینگی۔۔۔
اچھا لو پہنچ گیا ہوں گھر ۔۔۔کر لو بات۔۔۔
دونوں ساس بہو غالباً اپنے اپنے موبائل کمروں میں رکھے رازو نیاز میں ملبوس ہیں وہاں بھلا ہم غریبوں کی کس نے سننی ہے۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا ماں کے پاس آ کر صوفے پر بیٹھا۔۔۔
لیں ماں منیبہ کی کال ہے۔۔۔ اسنے موبائل کا سپیکر آن کر کے موبائل ماں کو پکڑایا۔۔۔
ماں ہمیشہ سپیکر آن کر کے ہی بات کرتی تھیں۔۔۔
عفرا وہیں ماں کے پاس زمیں پر ہی بیٹھی تھی۔۔۔ آثار بتا رہے ہیں کہ مذاکرات خوش اسلوبی سے اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔۔۔ وہ زرا سا جھک کر عفرا کے قریب چہرا کرتا سرگوشانہ رازدرانہ انداز میں گویا ہوا۔۔۔ جبکہ عفرا کے گھور کر دیکھنے پر مسکراتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا۔۔
ماں میں کل صبح آپکے پاس پاکستان پہنچ رہی ہوں۔۔۔ سلام دعا کے بعد منیبہ کے کہنے پر تینوں نے چونک کر موبائل کی جانب دیکھا۔۔۔
میں اور معید آ رہے ہیں۔۔۔ نعمان اور مغیث اگلے مہینے آ جائیں گے۔۔۔ ماں کے پوچھنے سے پہلے ہی وہ تفصیلاً گویا ہوئی کیونکہ سبکو انکے اگلے مہینے پاکستان واہس آنے کا پتہ تھا۔۔۔
ماں عفرا میری چھوٹی بہن ہے اور اس موقع پر میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔ منیبہ کے اپانیت سے کہنے پر اسکی آنکھیں چھلک پڑیں۔۔۔
زندگی میں اگر دھوکے باز لوگ تھے تو قدرت نے اسے بہت سے مخلص رشتوں سے بھی نوازا تھا۔۔۔
ماں کل آپ نے اپنے نواسے سے ملنے کی تیاریاں نہیں کرنی بلکہ کل آپ نے اپنے پوتے کا استقبال کرنا ہے۔۔۔
کیونکہ معید اب سے میرا نہیں عفرا کو بیٹا ہے۔۔۔ منیبہ کی بات نے گویا وہاں دھماکے کا کام کیا تھا۔۔۔ عفرا تو ساکت رہ گئ تھی۔۔۔ کسی برف کے مجسمے کی مانند۔۔ سٹل۔۔۔ منجمد۔۔۔
منیبہ یہ تم کیا بول رہی ہو۔۔۔ نعمان نے۔۔۔
امان بالوں میں ہاتھ چلاتا بے چینی سے گویا ہوا۔۔۔
گویا یہ بات اسکے لئے بھی انکشاف تھی۔۔۔۔
نعمان کو کوئی اعتراض نہیں بھیا۔۔۔ ویسے بھی میں اپنے بچے کو کسی غیر کو نہیں سونپ رہی انہیں دے رہی ہوں جنکے بارے میں مجھے خود سے زیادہ یقین ہے کہ وہ مجھ سے بڑھ کر میرے بیٹے کی تربیت کریں گے۔۔۔
آپ بس کل کا انتظار کریں۔۔
انشااللہ کل صبح ہم دونوں آپ کے پاس ہونگے۔۔۔
کچھ دیر مزید بات کرنے کے بعد منیبہ نے فون بند کر دیا۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔ پاس ہی بیگ کھلا پڑا تھا جہاں بہت سے کپڑوں کو تہہ لگا کر رکھا گیا تھا جبکہ کچھ ابھی ہنوز ایسے ہی پڑے تھے۔۔۔ 
الماریوں کے پٹ بھی وا تھے۔۔۔ غالباً وہ پیکنگ کرتے کرتے سب چھوڑ کر ماں سے بات کرنے لگی تھی۔۔۔
پاس ہی بستر پر ننھا معید بازو اور ٹانگیں پھیلائے محو استراحت تھا۔۔۔
منیبہ نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اپنے ننھے شہزادے کو دیکھا اور جھک کر اسکے چہرے پر مہر محبت ثبت کی۔۔۔
سنو۔۔۔ آج سے تمہاری ایک نہیں دو مائیں ہیں۔۔ اور یقین مانو وہ تمہیں مجھ سے بھی زیادہ پیار دے گی۔۔۔
وہ اس پر جھکی سرگوشانہ گویا ہوئی۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر معید کے چہرے پر گرا جسے اسنے سرعت سے صاف کیا اور تھکے سے انداز میں بیڈ کراون سے ٹیک لگا گئ۔۔۔
صبح کے مناظر ایک مرتبہ پھر سے اسکی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگے۔۔۔
آپ میرے اس فیصلے میں میرا ساتھ دیں گے نا نعمان۔۔۔ وہ بہتی آنکھوں سے اسکے سامنے سراپا سوال تھی جب وہ اپنی کرسی سے اٹھتا اسکے مقابل آیا۔۔۔
دیکھیں نعمان آپکی اجازت کے بنا میں کچھ نہیں کروں گی۔۔۔ لیکن میں حقیقتاً ایسا چاہتی ہوں۔۔۔ عفرا کی سسکیاں مجھے سے سنی نہیں گی۔۔۔ اسکی محرومی مجھے خون کے آنسو رلاتی ہے نعمان پلیز۔۔۔ 
نعمان نے اسے شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔ میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں منیبہ۔۔۔۔۔ اور پھر امان کوئی غیر تو نہیں۔۔ میرے لئے میرے سگے بھائی سے بڑھ کر ہے۔۔۔ اور جس ممانی نے ماں باپ کے گزرنے کے بعد مجھے سمیٹ لیا انکے پاس معید یقیناً بہت خوش رہے گا۔۔۔ ۔
نعمان کے مثبت جواب نے اسکا سیروں خون بڑھا دیا تھا۔۔۔
باہر سے نعمان اور مغیث کی آوازیں آنا شروع ہوئی تو وہ بعجلت کمرے سے نکلی۔۔۔ غالباً نعمان مغیث کو سکول سے واپس گھر ڈراپ کرنے آیا تھا۔۔۔ یہ اسکی روز کی ڈیوٹی تھی۔۔۔
منیبہ بات سنو۔۔۔
انہیں لنچ کروانے کے بعد وہ واپس کمرے میں آکر پیکنگ کرنے لگی تو نعمان بھی پیچھے ہی آ گیا۔۔
جی وہ ہاتھ روکے اسکی جانب متوجہ ہوئی۔۔
اگلے مہینے اکھٹے چلتے ہیں نا۔۔ تمہیں یوں اکیلے بھیجنے میں دل نہیں ماں رہا۔۔۔ وہ اس کے بالوں سے کھیلتے سرگوشانہ گویا ہوا۔۔۔
رہنے دیں آپ مسٹر نعمان۔۔ پچھلے چار سالوں سے آپکی ہی مان رہی ہوں۔۔۔ اب زرا آپ میری ماں لیں۔۔۔
وہ نڑوتھے پن سے کہتی واپس الماری کی جانب مڑی۔۔۔
یار نا جاو۔۔ دل نہیں ماں رہا ۔۔ عجیب بے چینی سی ہو رہی ہے۔۔۔ وہ منہ بسور کر گویا ہوا۔۔۔
اور ایسا کب نہیں ہوتا آپکے ساتھ۔۔۔
کم از کم جب جب میں پاکستان جانے کا نام لیتی ہوں یہ سب ہوتا ہے آپکے ساتھ۔۔۔ وہ قہقہ لگا کر کہتی سب پر زور دیتی  پیکنگ مکمل کر کے بیگ کی زپ بند کر گئ۔۔۔۔
جبکہ نعمان اسے تاسف سے دیکھتا رہ گیا۔۔۔
***
آج صحیح معنوں میں اس گھر پر قیامت ٹوٹی تھی۔۔۔  ہر طرف بین تھے سسکیاں تھیں۔۔۔ اسقدر جوان موت پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔۔۔ صحن کے وسط میں پڑی چارپائی میں کفن میں لپٹے وجود کو دیکھ کر اس منظر پر خواب کا گمان ہوتا تھا۔۔۔
ایسے کیسے ہو سکتا تھا بھلا۔۔۔
کیا یہ ممکن تھا۔۔
اس سارے منظر سے الگ کونے میں کھڑی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں میں بے یقینی سموئی اس جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اس حقیقت کو قبول کرنے سے انکاری تھی۔۔۔
کیا زندگی اتنی ہی غیر متوقع چیز تھی۔۔۔ اسقدر غیر متوقع کے لمحوں میں پانسہ ہی پلٹ گیا تھا۔۔۔
یوں بھی ہوتا ہے بھلا۔۔۔۔
*****
اینی گیسیز ۔۔۔ یہ سین کا گھر کا اور کس کریکٹر کا ہے ؟؟؟؟

No comments

Powered by Blogger.
4