Header Ads

khuab_e_janoon novel 53rd episode by Umme Hania۔

 

khuab_e_janoon novel 53rd episode  by Umme Hania۔

Online Reading

 ناول "خوابِ جنون"۔

  مصنفہ "ام ہانیہ"۔

Official pg : Umme Hania official

53rd episode...
 امان صوفے پر بیٹھا صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیڈ پر دراز کندھوں تک لحاف اوڑھے لیٹی عفرا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
رات ڈاکٹر آکر اسکا چیک آپ کرنے کے بعد اسے انجکشن لگا کر گیا تھا کہ وہ صبح تک ہوش میں آ جائے گی کیونکہ وہ شدید ذہنی دباو کے باعث بے ہوش ہوگئ تھی۔۔۔ اور اب رات کا آخری پہر تھا تب سے اب تک امان مسلسل اسی کے رویے کو سوچتا وہیں بیٹھا تھا۔۔۔۔دور کہیں سے فجر کی اذانوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں تھیں۔۔۔۔
دفعتاً عفرا کے جسم میں نحیف سے حرکت ہوئی تو امان سرعت سے اٹھ کر اسکے پاس گیا۔۔۔
اب کیسی طبیعت ہے عفی پرنسس۔۔۔ امان نے اسکے پاس ہی بیٹھتے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے محبت سے دریافت کیا۔۔۔
عفرا نے خوابیدہ نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھا اور ناراضگی سے نظروں کا رخ بدل گی۔۔۔
جبکہ امان اسکے یوں نظریں پھیرنے پر لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔اسنے ہتھیلیوں پر وزن ڈال کر اٹھنا چاہا تو امان نے اسے اٹھنے میں مدد دی اور وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہوگی۔  
دونوں کے درمیان خاموشی کا وقفہ در آیا۔۔۔ 
بہت سے الفاظ ابل ابل کر باہر آنے کو عفرا کے لبوں تک آتے لیکن مچل کر رہ جاتے کیونکہ وہ وہیں نیم وا  ہونٹوں کو آپس میں پیوست کر جاتی۔۔۔  
ایک بات پوچھوں امان۔۔۔
کچھ دیر بعد اس خاموشی کو عفرا کی آواز نے توڑا۔۔۔ وہ بہت ہمت مجتمع کر کے بلآخر بول ہی اٹھی۔۔۔
ہمم پوچھو۔۔
اگر آپکو اپنی ماں اور مجھ میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو۔۔۔
وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔ وہ جو سوچ رہی تھی سمجھ رہی کاش کے کبھی کسی کو سمجھا سکتی۔۔۔
امان نے خاموشی سے اسے دیکھتے اسے اندر تک پڑھنے کی کوشیش کی کہ آخر اسکے اندر چل کیا رہا ہے۔۔۔ کیونکہ کم از کم وہ عفرا سے اسقدر احمقانہ سوال کی توقع نہیں رکھتا تھا۔۔۔
ظاہر سی بات ہے عفرا ماں۔۔۔ بنا سوچے سمجھے ماں۔۔۔۔
دنیا کا ہر رشتہ مل سکتا ہے لیکن کیا کہیں ماں کا نعمل بدل ہے جو تم مجھ سے یہ بات پوچھ رہی ہو۔۔۔ وہ سنجیدگی سے دل کی بات لبوں پر لے آیا۔۔۔
عفرا نے کرب سے اسے دیکھا۔۔۔
تو مطلب آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔۔۔ آنکھوں میں نمی سمٹنے لگی تھی۔۔۔
اور میں ایسا کیوں کروں گا عفرا۔۔۔ کیا میرے ماتھے پر بے وقوف کا ٹیگ لگا ہے جو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔۔۔ کیا تمہیں واقع نہیں لگ رہا کہ تم احمقانہ سوال پوچھ کر مجھے گھیرے میں لینا چاہتی ہو۔۔۔۔
جس معاشرے میں آپ نے مرد کو ڈومینینٹ دیکھا ہو نا امان۔۔۔ جہاں مرد حاکم ہو۔۔۔۔۔ جس معاشرے میں عورت کی کوئی ویلیو کوئی عزت  نا ہو۔۔۔ جہاں عورتوں کی کمیوں کو وہ سانس لینے کو رکی۔۔۔ جیسے سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی ہو۔۔۔
جہاں عورتوں کی کمیوں کو اچھالا جائے ۔۔۔۔۔
ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھ سے پھسلا۔۔
وہاں آپ ہر چیز کی توقع رکھ سکتے ہو۔۔۔۔
میرے بابا ہماری بہت کم عمری میں گزر گئے تھے۔۔۔ باپ کی محبت کیا ہوتی ہے میں نہیں جانتی۔۔ 
میرا کوئی بھائی نہیں ہے۔۔۔ میں نے ماں کی موجودگی میں بہت اچھی زندگی گزاری۔۔۔ وہ کیسے سہتی تھیں اکیلے سب۔۔  اس بے رحم معاشرے کی چھلنی کرتی باتیں انہوں نے کبھی ہمیں پتہ ہی نہیں لگنے دیا۔۔۔ اپنے چہرے کے تاثرات تک چھپا جاتی تھیں وہ۔۔۔ ہم نے تو انہیں محض مسکراتے ہی دیکھا تھا۔۔۔ زندگی کی تلخیاں کیا ہوتی ہیں پتہ ہی نا تھا۔۔۔ دنیا کس قدر ظالم ہے یہ تو اب جا کر اندازہ ہو رہا ہے نا۔۔۔
اب میں نے اپنی بہن کی ناآسودہ ازواجی زندگی دیکھی ہے امان۔۔۔  اسکے سسرال والوں کے رنگ دیکھے ہیں۔۔۔ انکی بے حسی دیکھی ہے۔۔۔
اور اب میں کڑی سے کڑی ملا کر سب سمجھ پا رہی ہوں۔۔۔ آئے دن کسی نا کسی رشتہ دار کا یہاں آنا۔۔۔ ساتھ اپنی بیٹیوں کو بنا سنوار کر لانا۔۔۔ کیا ہے یہ سب ۔۔
امان دنیا تو تیار کھڑی ہے۔۔  پلیٹ میں اپنی بیٹیاں سجائے آپکو پیش کرنے کی خاطر۔۔۔
آخر اب آپ وہ چھوٹے سے گھر میں رہنے والے امان تو رہے نہیں نا۔۔۔ برینڈ بن چکے ہیں۔۔۔
تو ایسے میں کھائی کے دہانے پر کھڑے ہو کر جہاں آپ صاف سب تہس نہس ہوتا دیکھ رہے ہو۔۔۔
جہاں آپکو آپکی خامیاں دکھا دکھا کر توڑا جا رہا ہو۔۔۔ آپکا اعتماد آپ سے نوچ نوچ کر چھینا جا ر ہا ہو۔۔۔
اس مقام پر اس دہانے پر کھڑا کر کے اگر آپ مجھے اخلاقیات اور صبر کا درس دینا چاہتے ہیں تو معذرت کیساتھ۔۔۔ میں اتنی صابر نہیں ہوں۔۔۔ اسنے آنسووں سے لبریز نگاہیں اٹھا کر نفی میں سر ہلاتے خود کو تکتے امان کی جانب دیکھا۔۔۔
میرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔
میں اس مقام پر آپ سے اخلاقیات نہیں سیکھ سکتی۔۔۔ اسنے کرب سے آنکھیں میچیں آنسو لڑیوں کی مانند بہتے چلے گئے۔۔۔
ایک لڑکی جب جانتی ہے اس میں ایک کمی ہے۔۔۔ وہ ماں نہیں بن سکتی۔۔۔ کیا آپ اندازہ بھی لگا سکتے ہو کہ اسکے شب و روز کس اذیت میں گزرتے ہیں۔۔۔
وہ بظاہر ہستی ہے کھلکھلاتی ہے خود کو مصروف ظاہر کرتی ہے۔۔۔ مختلف کاموں میں خود کو۔۔۔ خود کو غرق کر کے حالات سے فرار حاصل کرتی ہے۔۔۔ اسکے سجدے لمبے ہوتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ سجدے آنسووں سے تر ہوتے جاتے ہیں۔۔۔ اسکی روح تو پہلے ہی گھائل ہے۔۔۔ زخمی زخمی ہوئی پڑی ہے۔۔۔
اس پر مزید چھڑیاں چلا کر یہ معاشرہ توقع کرتا ہے کہ وہ صبر کرے۔۔۔ کہاں سے کرے صبر۔۔۔۔
نہیں ہوتا صبر۔۔۔ نہیں ہوتاااااااااا۔۔۔
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
کاش کے روح کے زخم دکھائے جاسکتے امان تو میں دکھاتی کہ کس قدر زخمی زخمی روح ہے میری۔۔۔
کہاں سے لاوں اتنا پہاڑوں سا حوصلہ۔۔۔ نہیں ہے مجھ میں اور ہمت۔۔۔
اسکی ہچکیاں بندھنے لگی تھی۔۔۔ امان نے اسے کرب سے دیکھتے شدت سے خود میں بھینچا۔۔۔
اسکی اپنی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں۔۔۔
ہاں ہونے لگی ہوں میں انسکیور۔۔ مجھے خوف محسوس ہورہا ہے آپکی کامیابیوں سے۔۔۔ آپ سے۔۔۔ 
ہے ہی کون میرے پاس سوائے آپکے۔۔۔
آپکو بھی کھو دیا تو۔۔۔
وہ بولتے بولتے نیم جان ہونے لگی تھی جیسے پھر سے حواس کھونے لگی ہو۔۔۔
ادھر دیکھو میری طرف عفرا۔۔۔ دیکھو میری طرف۔۔۔
امان نے جھنجھوڑ کر اسے ہوش میں لاتے اپنے سامنے کیا۔۔۔
عفرا کی حالت اسے سر تا پیر لرزا گئ تھی۔۔  کیا کچھ چھپا رکھا تھا اسنے اپنے اندر۔۔۔
میں تمہیں کوئی تسلی نہیں دوں گا۔۔۔ یہ ہرگز نہیں کہوں گا تمہیں کے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا ہمیشہ ساتھ رہوں گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔
کون ہوں میں۔۔  ہوتا کون ہوں میں تمہاری خوشیوں کا فیصلہ کرنے والا۔۔۔۔
میں کوئی نہیں ہوں۔۔۔ سنا تم نے نا ہی وہ لوگ کچھ اہمیت رکھتے ہیں جن کی باتوں کو تم سر پر سوار کر کے بیٹھی ہو۔۔۔
وہ سب اس لئے اہم ہو گئے کیونکہ تم نے اجازت دے دی ان سب کو اہم ہونے کی۔۔۔ 
کیوں ہیں اہم ان سب کی باتیں تمہارے لئے۔۔۔ کیوں کیا تم نے سوار ان سب کی باتوں کو خود پر۔۔۔ کیوں تم میں آیا یہ 0احساس کمتری۔۔۔ کیوں۔۔۔
کس چیز کی کمی ہے تم میں۔۔۔ کون ہوتا ہے امان کسی بھی عفرا کو چھوڑنے والا یا اپنانے والا۔۔۔
کون ہوتے ہیں یہ لوگ کسی بھی لڑکی کی خوشیوں یا غموں کو دیفائن کرنے والے۔۔۔
کیوں ہے آج کی لڑکیاں کمزور۔۔۔
عفرا ٹھٹھک کر اسے دکھ سے بولتا سن رہی تھی۔۔۔
کیوں ہم لوگوں کے سیٹ کردو اصولوں پر جیئں۔۔۔ انکے ڈیفائن کردہ معیار کے پیمانوں پر پورا اتریں
نہیں ہے اولاد ابھی ہماری ٹھیک ہے۔۔ لیکن ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں۔۔۔ جب ہم پرامید ہیں تو پھر لوگوں کی باتیں کیوں ہم ہر اپنا اثر چھوڑیں۔۔۔
عفرااااا۔۔۔ خدارا ختم کردو اس احساس کمتری کو۔۔۔ اور یہ میں تمہیں اخلاقیات کا درس نہیں دے رہا بتا رہا ہوں۔۔ اسنے عفرا کے بازو اپنی گرفت سے آزادکئے اور کچھ پیچھے ہوا۔۔۔
کہ اتنا مضبوط کر لو خود کو اتنا مکمل اتنا بہادر کے اتنا روشن کے ایک پل کو تو کوئی بھی امان کسی بھی عفرا کو چھوڑنے سے پہلے ایک بار تو ڈگمگا جائے کہ وہ کسے خود سے الگ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔۔۔
کہ کوئی بھی امان کسی بھی عفرا کی جگہ اپنی زندگی میں کسی اور کو دینے سے پہلے صرف یہ سوچ لے کے جس روشنی کے منبع کی جگہ کسی اور کو وہ دینے والا ہے کیا وہ اسکی زندگی میں موجود اندھیروں کو ویسی ہی روشنی سے دور کر پائے گی جیسے ایک عفرا نامی لڑکی کرتی تھی۔۔۔۔
ٹھیک ہے دکھ ہوتا ہے۔۔ تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ دل بھی پھٹتا ہے اور کسی اپنے سے وہ دکھ شیئر کر کے دل ہلکا بھی ہو جاتا ہے۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود حوصلہ اور عزم بھی کچھ ہوتا ہے اور یہ وہ ہوتا ہے جو چٹانوں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔۔۔
ڈر خوف احساس کمتری احساس برتری۔۔۔ سب انسان کے اندر ہے۔۔۔ صرف اسے باہر نکال کر مسلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ یہ چیزیں انسان کے قد سے بڑی نہیں ہو سکتیں اور نا ہی انسان کی عقل سے زیادہ۔۔۔ آگر ایسا ہو رہا ہے تو یہ آپکی حماقت ہے۔۔ کیونکہ آپ ان چیزوں کو ویلیو دے رہے ہیں۔۔۔ 
انسان اللہ کی ایک غظیم تخلیق ہے۔۔۔ جیسے اس نے عقل سے نوازا ہے۔۔۔ اور یقین مانو ایسا اسنے انسانوں کو اپنی خود ساختہ احساس کمتری یا احساس برتری کے احساس میں جھکڑ کر کڑھ کڑھ کر مرنے کے لئے نہیں کیا اسنے ایسا داستانیں رقم کرنے کو کیا ہے۔۔۔
یقین مانو میری بات کا عفرا جب اس دل میں محض اس رب کا خوف ہوتا ہے نا اور ہمارے سبھی اعمال اور کام اس خوف کو مدنظر رکھ کر کئے جانے لگیں تو پھر اسکے بندوں کا خود ساختہ خوف اس دل سے خودبخود نکلنے لگتا ہے۔۔۔
یہ دو متضاد چیزیں ہیں اور ایک دل میں دونوں چیزیں نہیں رہ سکتیں۔۔۔
ایک دل میں یا تو اللہ کا خوف رہ سکتا ہے یا اسکے بندوں کا۔۔۔۔فیصلہ تمہارا ہے کہ تم کس کا انتخاب کرتی ہو۔۔۔
وہ چہرے کا رخ موڑتا انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے سرخ پڑتی آنکھوں کے کنارے دبانے لگا۔۔۔۔
اور خالہ۔۔۔ انکا کیا۔۔۔ وہ تو میری اپنی ہیں نا۔۔
عفرا نے تھک کر واپس بیڈ کراون سے ٹیک لگائی۔۔
ماں نے تم سے تو کوئی بات نہیں کی نا عفرا۔۔ نا کچھ کہا۔۔۔
وہ اپنے بیٹے سے بات کر رہی تھیں۔
امان نے ہاتھ پیچھے کرتے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔
اور تمہیں کیوں نہیں لگتا کہ جب تمہارا شوہر تمہارا دوست ہو سکتا ہے جس سے تم اپنے دل کی ہر بات شیئر کر سکو تو اس ماں کا بیٹا انکا دوست نہیں ہو سکتا جن سے وہ اپنے دل کی بات شیئر کر سکیں۔۔۔
امان کی بات سن کر وہ کئ پلوں تک خاموش رہ گئ یک ٹک اسے دیکھتے۔۔۔
میری ماں کا بھی صرف ایک ہی بیٹا ہے عفرا جس سے انہوں نے اپنے دکھ بھی شیئر کرنے ہیں اور خوشیاں بھی۔۔۔ تو تمہارے خیال میں کیا میں تحمل سے اپنی ماں کی باتیں نہیں سن سکتا۔۔۔
یہ جان نہیں سکتا کہ انکے اندر کیا چل رہا ہے۔۔۔ 
تمہیں میں پھر کہوں گا کہ کچھ بھی ہوتا تمہیں ماں بیٹے کے درمیاں کودنا نہیں چاہیے تھا۔۔ 
کیا تمہیں واقع ایسا لگتا تھا کہ میں اپنی ماں کو قائل نہیں کر پاوں گا۔۔۔
وہ سراپا سوال بنا اس سے پے در پے سوالات کر رہا تھا۔۔۔ اسکے آنسو ٹھٹھرنے لگے۔۔۔
اگر واقعی تمہیں ایسا لگ رہا تھا عفرا تو پھر میں تم پر محض افسوس ہی کر سکتا ہوں۔۔۔
خیر تم آرام کرو میں ناشتہ لاتا ہوں۔۔
وہ بنا اسے کچھ کہنے کا موقع دیئے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ عفرا بس اسکی کہی باتوں کو ہی سوچتی رہ گئ۔۔۔
کاش امان میرا بھی آپکے جیسا بیٹا ہوتا جو آپکی طرح ہی اپنی ماں کے لئے سٹینڈ لیتا۔۔۔۔ دل میں پھر سے حسرت جاگی تھی۔۔۔ ۔
*****
امان بچے عفرا کو ہوش آگیا۔۔۔۔
وہ کچن میں عفرا کے لئے ناشتہ بنا رہا تھا جب ماں غالباً فجر کی ناز ادا کر کے وہاں آئیں۔۔۔
جی ماں۔۔۔ اسی کے لیے ناشتہ بنا رہا ہوں۔۔ اسنے چائے کو ابال آتا دیکھ چائے کپ میں چھانی۔۔۔
کیسی ہے وہ۔۔۔ ماں کے لہجے میں اداسی تھی۔۔۔
بہت اثر لیا ہے اسنے کل کی باتوں کا ماں۔۔۔ نہیں کرنی چاہیے تھی آپکو ایسی باتیں۔۔۔ 
وہ تو پہلے ہی بہت حساس ہے۔۔۔ اوپر سے آپ۔۔۔
اب تم ماں کے سامنے اسکی سائیڈ لو گئے۔۔۔ ماں نے اسے سرعت سے ٹوکا۔۔۔
ناشتہ ٹرے میں رکھتے اسکے ہاتھ ِ ٹھٹھکے۔۔ 
ظاہر سی بات ہے ماں۔۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے کچھ دیر پہلے اسکے سامنے آپکی سائیڈ لے کر آ رہا ہوں۔۔۔ 
ماں آپ اور وہ دونوں ہی میرے لئے لازم و ملزم ہو۔۔۔ دنوں میری زندگی کی ترجیحات میں سب سے اوپر ہو۔۔۔ آپ دونوں کے بنا میں ادھورا ہوں۔۔۔ اور آپ دونوں کو ہی یہ بات سمجھنا ہو گئ۔۔۔
میں آپ دونوں سے ہی ایک دوسرے کے خلاف کچھ نہیں سن سکتا۔۔۔ ہاں مجھ سے جو شکوے ہیں آپ دونوں کو وہ کہیں میں پوری کوشیش کروں گا انہیں دور کرنے کی۔۔۔
رہ گئ بات میری دوسری شادی کی۔۔۔
وہ سب وہیں چھوڑ ماں کے مقابل آیا۔۔۔ اور انکے ہاتھ تھام کر عاجزی سے گویا ہوا۔۔۔
وہ میں کبھی نہیں کروں گا ماں۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔
کیونکہ اسلام نے بلاشبہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی یے اور میں افورڈ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔ لیکن اسی اسلام نے ساتھ ایک شرط کو بھی نتھی کر دیا ہے کہ اگر اسے پورا کر سکو تو۔۔۔
اور وہ ہے انصاف کی شرط۔۔۔ اگر سب میں انصاف کر سکو تو۔۔۔
اور ماں بہت معذرت کے ساتھ میں اس معاملے میں انصاف کر ہی نہیں سکتا۔۔
تو کیوں آپ محض میری اولاد کے لئے اپنے بیٹے کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنتا دیکھنا چاہتی ہیں۔۔
اماننن۔۔ ماں دہل کر گویا ہوئی۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔
بکواس نہیں ہے ماں۔۔۔ حقیقت ہے۔۔۔ اور آپ بہتر جانتی ہیں اسے۔۔۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم اسلام کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔۔۔ سرے سے۔۔۔ جیسے یہ ہو ہی نا۔۔۔۔
میں اپنی زندگی میں وہ مقام کسی اور کو دے ہی نہیں سکتا جو آپکی بھانجی کو دے چکا ہوں۔۔۔ کیون کسی بیچاری کی زندگی خراب کروانا چاہتی ہیں آپ۔۔۔
ماں عفرا میری زندگی میں آپکی رضا مندی سے شامل ہوئی ہے۔۔۔ میں اس شادی کے حق میں نہیں تھا۔۔۔ ایسا ہی یے نا۔۔۔
لیکن اب وہ میرا سب کچھ ہے۔۔۔ اسکے بعد اب کسی کی گنجائش نہیں۔۔۔ اور وہ یہ ڈیزرو کرتی ہے۔۔۔
ماں کی آنکھیں چھلگ گئ تھیں۔۔۔
میں اسکی دشمن نہیں ہوں بچے۔۔۔ بیٹی ہے وہ میری۔۔۔ میں اسے بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔۔۔
انکی آواز میں دکھ تھا۔۔۔ 
یہ ہی تو بات ہے ماں۔۔۔ وہ بھی آپکو ماں ہی سمجھتی ہے تبھی تو آپکی بات پر اتنا شدید ردعمل دے گئ۔۔ ورنہ آپ جانتی ہیں کے وہ بہت کول مائنڈد ہے۔۔۔
اور ایک اور بات بتاوں جتنا میں نے اسے سمجھا ہے جانا ہے۔۔۔ جیسے ہی اسکے دماغ سے غصہ اترے گا نا سیدھا آپکے پاس ہی آئے گی۔۔۔
ماں نم آنکھوں سمیٹ مسکرا دی۔۔۔
سب باتیں ٹھیک ہیں امان ۔۔۔ میں اسکا دکھ بھی سمجھتی ہوں بچے۔۔۔ لیکن کیا میں کبھی اس آنگن میں بچوں کی کلکاریاں نہیں سن پاوں گی۔۔۔ وہ پھر سے آبدیدہ ہو آتھی تھیں۔۔
کیوں نہیں ماں۔۔۔ سنیں گی نا آپ انشااللہ۔۔۔ بس دعا کریں آپ میرے حق میں۔۔۔ کیونکہ اولاد تو مرد کے مقدر کی ہوتی ہے نا۔۔۔ اور ماں کی دعا اولاد کے حق میں بہت جلدی سنی جاتی ہے۔۔۔ انشااللہ وہ نوازے گا۔۔۔ ضرور نوازے گا۔۔۔ اسنے ماں کو بازو کے حلقے میں لیتے ساتھ لگایا۔۔۔
*****

No comments

Powered by Blogger.
4