khuab_e_janoon novel 37th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 37th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
سینتیسویں قسط۔۔۔۔
نن۔۔۔ نہیں ڈاکٹر ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ ماں کپکپاتے لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
ڈاکٹر نے تاسف سے انہیں دیکھا۔۔۔ آپ میرے کیبن میں آئیں۔۔۔
ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں کہتیں آگے بڑھ گئی۔۔
کچھ ہی دیر بعد عفرا ور ماں ڈاکٹر کے روبرو اسکے کیبن میں بیٹھیں تھیں۔۔۔ ماں خود بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔۔۔ لیکن اس وقت وہ اپنی ہر بیماری ہر دکھ ہر تکلیف کو پس پشت ڈالے ہمت مرداں سے کھڑی تھیں۔۔ اس وقت وہ صرف ماں تھیں جن کے لئے بیٹی سے بڑھ کر کچھ نا تھا۔۔۔ چٹانوں سے حوصلے کیساتھ وہ ڈاکٹر کے روبرو تھیں کہ بیٹی کو بچانے کی خاطر وہ ہر ممکنا حد تک کوشیش کریں گیں۔۔۔
آنسو ضبط کئے وہ بڑے حوصلے سے ڈاکٹر کی بات سننے بیٹھیں تھیں۔۔۔
دیکھیں ماں جی ہائی بلڈ پریشر ننانوے بیماریوں کی جڑ ہے۔۔۔ ہارٹ اٹیک کی مین وجہ یہ ہی بنتا ہے۔۔۔ جب یہ حد سے زیادہ شوٹ کر جاتا ہے تو اسی کے باعث فالج کے اٹیک بھی ہوتے ہیں جس سے جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔۔۔ ہائی بلڈ پریشر جسم کے کسی بھی حصے کو اپنی زد میں لے سکتا ہے۔۔۔
صلہ کے قصے میں اس ہائی بلڈ پریشر کی ضد میں اسکی آنکھیں آئی ہیں۔۔۔
اب دنیا اور سائنس بہت ترقی کر چکی ہے۔۔۔ اس نے ہر مرض کا علاج تلاش کر لیا ہے بشرطیکہ اللہ کو منظور ہو سہی۔۔۔۔
ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں بتا رہی تھی جب ماں تڑپ کر گویا ہوئیں۔۔۔
تو کیا اس کا علاج ممکن ہے۔۔۔ میری بچی پھر سے دیکھ سکتی ہے کیا۔۔۔ ڈاکٹر میں آپنی بیٹی کا ہر ممکنا علاج کرواوں گی۔۔۔
جی ماں جی اسکا علاج ہے۔۔ لیکن وہ بہت مہنگا علاج ہے اگر آپ افورڈ کر سکیں تو میں آپکو اس مرض کے سپیشلسٹ ڈاکٹر کو ریفر کر سکتی ہوں۔۔۔
جی جی ڈاکٹر صاحبہ ضرور۔۔۔ اللہ آپکا بھلا کرے۔۔۔ میں اپنی بیٹی کا علاج ضرور کرواوں گی۔۔۔
ٹھیک ہے پھر ماں جی۔۔۔ امریکہ کے بہتریں آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر کوشلے ہر تین ماہ بعد پاکستان کا وزٹ کرتے ہیں ۔۔۔ پرسوں وہ کراچی آنے والے ہیں میں آپکی ان سے اپائمنٹ لے دیتی ہوں ۔۔۔ آپ آج ہی کراچی کے لئے نکل جائیں۔۔۔
ایک دفعہ تو ڈاکٹر کی بات سن کر ماں کا اپنا دماغ بھی چکرا گیا تھا۔۔۔ پنجاب سے کراچی آنا جانا ان جیسے سفید پوش لوگوں کے لئے آسان کام نا تھا۔۔ غرض ایک امریکن ڈاکٹر کا حوالہ ہی انہیں یہ بتانے کو کافی تھا کہ علاج کس قدر مہنگا ہو گا۔۔
جی ٹھیک ہے آپ ان سے ہماری اپائمنٹ لے دیں۔۔۔
ماں تیزی سے اپنے دماغ میں جمع تفریق کر رہی تھیں۔۔۔
عفرا بچے امان کو بلواو۔۔۔ ڈاکٹر کے کیبن سے نکلتے ماں نے امان سے کہا۔۔۔
*******
صلہ ہسپتال کے بستر پر کندھوں تک لحاف اوڑھے سو رہی تھی۔۔۔ چہرے پر نقاہت اور ویرانی چھائی تھی۔۔۔ اسے ٹرینکولائز کے زیر اثر نیند میں رکھا جا رہا تھا کیونکہ وہ جب جب ہوش میں آتی پینک ہونے لگتی تھی۔۔۔ کمرے میں اتنے نفوس کی موجودگی کے باوجود خاموشی کا راج تھا۔۔۔
عفرا نے خاموش آنسو بہاتے بہن کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے اسکے ماتھے کا بوسہ لیا۔۔۔
آئی لو یو میری جان۔۔ جلدی سے ٹھیک ہو جاو یار ایک ہی تو بہن ہے میری۔۔۔
دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے امان نے اداسی سے یہ منظر دیکھا۔۔۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہاں خالہ کے بلانے پر آیا تھا۔۔۔
ماں اور خالہ دونوں خاموش سی وہاں موجود صوفے پر بیٹھیں تھیں۔۔۔ خالہ کے پاس ہی دائیں بائیں دونوں ننھی شہزادیاں سو رہی تھیں۔۔۔
ماں نے نم آنکھوں سے بیٹی کو دیکھتے گلے میں پہنی سونے کی چین اتاری اور گود میں رکھی پھر کانوں سے بالیاں اتارنے لگی اور آخر میں ہاتھوں میں پہنی دو انگوٹھیاں اتار کر انہوں نے سارے زیوارت کو نم آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ یہ وہ زیورات تھے جو وہ ہمہ وقت پہن کر رکھتی تھیں۔۔۔امان بچے انہیں بیچ کر مجھے پیسے لا دو۔۔۔
انہوں نے وہ زیورات امان کی جانب بڑھائے تو وہ چونک کر انہیں دیکھتا انکی جانب بڑھا۔۔۔
خالہ یہ۔۔۔ وہ حیرت سے گنگ ہوتا محض اتنا ہی کہہ پایا۔۔۔
ہاں بیٹا۔۔ میرے لئے میری بچی سے بڑھ کر کچھ نہیں دعا کرنا کہ اللہ میری بیٹی کے لئے آسانیاں پیدا کرے۔۔۔۔ اسے صحت و تندرستی اور ایمان والی لمبی زندگی عطا کرے۔۔۔ ماں کی آنکھیں چھلک پڑیں تھیں جنہیں انہوں نے کپکپاتے ہاتھوں سے صاف کیا۔۔۔
آپا آپ یہیں ہیں نا صلہ کے پاس۔۔۔ میں اور صلہ زرا گھر کا چکر لگا آئیں وہاں سے میں اپنا اور صلہ کا ضروری سامان اٹھا لاوں وہاں کراچی میں ناجانے کتنے دن لگیں ۔۔۔ ماں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھ کھڑی ہوتیں گلو گیر لہجے میں گویا ہوئیں۔۔۔
ہاں ہاں نزہت تم بے فکر ہو کر جاو میں یہیں ہوں۔۔۔۔
انکی بات سن کر ماں سر ہاں میں ہلاتیں عفرا کو ساتھ لئے کمرے سے باہر نکلیں۔۔۔
******
لاوئنج میں بالاج ماں کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔ گھر آتے ہی ماں نے سب سے پہلے اسے ہی بلوایا تھا۔۔۔ ماں کی زبانی صلہ کی حالت سن کر وہ کئ پلوں تک شاکڈ رہ گیا تھا۔۔۔۔
اب کیسی ہے وہ چچی جان۔۔۔ صلہ کی حالت کا سن اسکی آنکھیں نم ہو اٹھیں تھیں۔۔۔
میں شرمندہ ہوں ماں کی وجہ سے چچی۔۔۔ وہ ٹھیک نہیں ہے بالاج اور مجھے تمہاری شرمندگی نہیں چاہیے۔۔۔ اسے اس وقت تمہارے سہارے کی ضرورت ہے بچے۔۔۔ بھابھی کی باتوں کا اسنے اتنا اثر لیا ہے کہ اسکی بینائی چلی گئ۔۔۔ اسکی تو دنیا اندھیر ہو گئ نا بیٹا۔۔۔
بالاج ضبط سے لب بھینچے سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔۔
میں اسے کراچی علاج کے لئے لے جا رہی ہوں امریکہ سے پرسوں ڈاکٹر آ رہا ہے۔۔۔
ماں ابھی بات کر رہی تھیں جب وہ شرمندگی سے انکی بات کاٹ گیا۔۔۔
چچی جان میں یہ علاج افورڈ نہیں کر سکتا میرے حالات اس چیز کی اجازت نہیں دیتے۔۔۔ ہم یہیں پر صلہ کا علاج کروا لیتے ہیں۔۔۔۔
بیٹا ایسے موقعوں پر تو لوگ قرض تک لے لیتے ہیں اور۔۔۔
ماں تاسف زدہ سے گویا ہوئیں۔۔۔
چچی جان میں قرض بھی نہیں لے سکتا میرا بال بال پہلے ہی قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔۔۔ وہ شکستہ سا سر مزید جھکائے گویا ہوا۔۔۔
ایک آنسو ماں کی آنکھ سے ٹوٹا۔۔۔
میں تمہیں قرض لینے کو بول بھی نہیں رہی بچے۔۔۔ اس کے لئے ابھی اسکی ماں زندہ ہے اور اپنی بیٹی کے لئے میں اپنا آپ بھی داو پر لگا دوں گی۔۔۔
ماں نے تکلیف سے آنسو صاف کئے۔۔۔
ہمیں آج ہی کچھ دیر تک کراچی کے لئے نکلنا ہے۔۔۔ اور میں نے تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ تمہیں وہاں میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔
چچی کی بات سن کر بالاج خاموشی سے انکا چہرا دیکھنے لگا۔۔۔
چچی جان گھر کی حالات بہت خراب ہیں۔۔۔ امی بپھری ہوئیں ہیں کسی سے قابو میں نہیں آ رہیں ایسے میں اگر میں چلا گیا تو۔۔۔۔
ماں اسکی ٹوٹی بات کا پورا مفہوم سمجھ چکی تھیں ۔۔۔ وہ انکے ساتھ جانے سے بھی انکار کر رہا تھا۔۔۔ ایک پھانس سی انکے سینے میں اٹکی۔۔۔
ٹھیک ہے بچے تم جا سکتے ہو۔۔۔
مزید کچھ کہنے کو بچا ہی نا تھا تو وہ کیا بحث کرتیں۔۔۔ وہ بار بار پلیکیں جھپک جھپک کر آنکھوں کے سامنے چھانے والی دھند کو ہٹانے کی ناکام کوشیش کرتیں اپنی کپکپاتی ٹانگوں پر وزن ڈالتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
چچی جان آپ اسے لے جائیں لیکن میں کل یا پرسوں تک پیچھے وہاں آ جاوں گا۔۔۔ چچی کا خاموش اور بجھا سا انداز بالاج کو جھنجھوڑ گیا تھا تبھی بعجلت بالوں پر ہاتھ پھیرتا گویا ہوا۔۔۔
گھر میں ماں نے الگ ایک محاز کھول رکھا تھا اوپر سے ابا شہر سے باہر تھے جب تک وہ نا آ جاتے بالاج گھر سے جانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔۔
ماں بنا کوئی جواب دیئے آگے بڑھنے لگیں جب بالاج کی آواز پر غصے سے اسکی جانب گھومیں۔۔۔
چچی جان میں بچیوں کو اپنے ساتھ گھر لے آتا ہوں تا کہ آپ لوگ۔۔۔
کونسے گھر۔۔۔ اور کس کے پاس۔۔۔ ان بے قدرے لوگوں کے پاس جنہوں نے ان شہزادیوں کا چہرا تک دیکھنا گوارا نا کیا۔۔۔ ان کی پر تعیش آواز پر بالاج ایک مرتبہ پھر سے شرمندگی کے تحت لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔
وہ میری شہزادی کی شہزادیاں ہیں۔۔۔ اس گھر میں اپنی ماں کے ساتھ ہی جائیں گی ۔۔ جب تک صلہ ٹھیک ہو کر واپس گھر نہیں آ جاتی میں بچیوں کو اس گھر میں جانے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گی۔۔۔ تب تک وہ دونوں عفرا اور آپا کے پاس رہیں گیں۔۔۔ ماں کے بے لچک دو ٹوک انداز میں کہنے پر بالاج خاموش رہ گیا کہ جو بھی تھا چچی ٹھیک کہہ رہی تھیں ۔۔ بھلا اس گھر میں اسکی بیٹیوں سے کسے لگاو ہونا تھا۔۔
****
چچی آپ اکیلی جا رہی ہیں۔۔۔ بالاج نہیں جا رہا ساتھ۔۔۔
انکے یہاں سے نکلنے کی ساری تیاری مکمل تھی۔۔۔ باہر گاڑی کھڑی تھی جس میں انکا سامان رکھا جا رہا تھا ۔۔۔ خالہ عفرا اور امان انہیں وہاں سے روانہ کر کے خود گھر جانے والے تھے لیکن امان خالہ کو صلہ کیساتھ اکیلا گاڑی میں بیٹھتا دیکھ حیرت سے مستفسر ہوا۔۔۔ اور خالہ کی نم آنکھیں دیکھ کسی میں مزید کچھ پوچھنے کی ہمت ہی نا رہی۔۔۔ اب تو سب کچھ کھلی کتاب کی مانند تھا سب کے سامنے۔۔۔ کچھ دھکا چھپا تو رہا نا تھا۔۔۔
جس بھرم کو پچھلے ایک سال سے صلہ قائم رکھے ہوئے تھی اسی بھرم کو اسکی ساس ایک ہی جھٹکے میں بھرے چوڑاہے میں توڑ چکی تھی۔۔
امان نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا تھا۔ ٹھیک ہے خالہ میں آپکے ساتھ چل رہا ہوں۔۔ ہمیں گھر کے سامنے رک کر صرف میرا سفری بیگ اٹھانا ہے۔۔۔ وہ آگے کا پروگرام سیٹ کر کے ڈرائیور کیساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا۔۔۔ اسے اب کسی بھی وقت دوسرے شہروں میں سفر کرنا پڑتا تھا جسکے باعث اسکا سفری بیگ ہمہ وقت تیار ہی رہتا تھا۔۔۔
ماں نے تشکرانہ اسے دیکھا۔۔۔ جبکہ عفرا کو آج اپنے ہمسفر پر فخر محسوس ہوا تھا۔۔۔
****
سفر طویل تھا اور بائے روڈ گاڑی نے اس سفر کو طویل تر بنا دیا تھا۔۔۔ عفرا ہنوز گنودگی میں تھی بیچ میں اسے کچھ ہوش آتی تو ماں اسے کچھ ہلکا پھلکا سا کھلا کر فوراً سے دوائی دے دیتیں جسکے باعث وہ پھر سے غنودگی میں چلی جاتی۔۔۔
اللہ اللہ کر کے سفر تمام ہوا اور انہیں سامنے ہی ہسپتال کی عمارت نظر آئی۔۔۔
امان پل پل انکے ساتھ تھا۔۔۔ اسنے ہسپتال میں داخل ہوتے ہی انہیں ویٹینگ ایریا میں بیٹھایا اور خود ساری بھاگ ڈور کرنے لگا۔۔۔
ویٹنگ ایریا بھی ہسپتال کی مناسبت سے بہت آرام دہ تھآ۔۔۔۔۔ ماں کو امان کی بدولت بہت سہولت ہو گئ تھی ورنہ وہ کہاں بیمار بیٹی کیساتھ یہاں باقی کی بھاگ دوڑ دیکھتیں۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں پیشنٹ کی فائل اور ریفرینس لیٹر دیکھ کر انہیں کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔۔ کمرے کا کرایہ سن کر ہی ماں آگے کی جوڑ توڑ کر سکتی تھیں کمرے کے چوبیس گھنٹے کا کرایہ ہی سات ہزار تھا۔۔۔
ماں نے ایک گہرا سانس خارج کرتے آسمان کی جانب دیکھا ۔۔۔ اچھا اللہ تو ہی مدد گار ہے میرا۔۔۔ بہتریاں کرنا۔۔۔
اسکی فائل دیکھتے صلہ کا ٹریٹمنٹ شروع کر دیا گیا تھا۔۔۔
اگلے دن ڈاکٹر کوشلے سے اپائمنٹ کے وقت امان انکے ساتھ ہی تھا۔۔۔
ڈاکٹر کوشلے نے صلہ کا تفصیلی معائنہ کیا تھا اور اب ہاتھ میں اسکی ریپورٹس تھامے اپنی مخصوص کرسی پر آ کر بیٹھے جس کے سامنے ہی شیشے کی میز کے پار امان اور ماں بیٹھیں تھے۔۔۔
دیکھیں مسٹر امان اس کا حل سرجری ہے۔۔۔ لیزر سرجری ۔۔۔ لیکن اسکے لئے بھی پہلے پیشنٹ کا فزیکلی ہر ٹیسٹ کلیئر آنا ضروری ہے۔۔۔ اسکے بعد ہم جا کر یہ رسک لے سکتے ہیں۔۔۔ کیونکہ اس سرجری کے بعد یا تو پیشنٹ کی بنائی واپس آ جائے گئ یا وہ ہمشہ ہمشہ کے لئے بلائنڈ ہو جائیں گی۔۔۔
چانسر ففٹی ففٹی ہے۔۔۔ اور میرا ماننا یہ ہے کہ رسک نا لینے سے رسک لے لینا بہتر ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ پیشنٹ اس مقام پر ہے جہاں علاج ضروری ہے۔۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ انکا لک چل جائے۔۔۔
لیکن اس کے لئے بھی پہلے پیشنٹ کو دو ہفتے انڈر آبزرویشن رکھا جائے گا اسکے بعد ہمارے ڈاکٹرز کا پینل بیٹھے گا جو پیشنٹ کی مکمل ریپورٹ فائل دیکھے گا اور پھر فیصلہ ہو گا کہ پیشن کا آپریشن کیا جائے گا یا نہیں۔۔۔
ڈاکٹر نے انہیں مکمل بریف کیا تھا جسکے بعد ماں نے وہیں بیٹھے بیٹھے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اللہ پر توکل رکھتے صلہ کا علاج کروائیں گئ۔۔۔
اگلے روز بالاج وہاں آ گیا تھا اور بالاج کے وہاں پہنچتے ہی امان خالہ سے ملتا خاموشی سے وہاں سے نکل آیا تھا لیکن آتے آتے بھی وہ خالہ کو اپنے پاس موجود رقم دینا نہیں بولا تھا جسے دیکھتے ہی وہ شدت سے رو دی۔۔۔
پلیز خالہ ایسا نا کریں۔۔۔ بیٹا ہوں نا آپکا تو پھر یوں پرایا تو نا کریں۔۔۔ حوصلہ رکھیں انشااللہ صلہ جلد صحتیاب ہو جائے گی۔۔۔۔وہ خالہ کو ساتھ لگائے انہیں حوصلہ دیتا وہاں سے نکل آیا۔۔۔ خالہ اسے ڈھیروں دعائیں دیتیں واپس کمرے کی جانب بڑھیں جہاں بالاج ٹرینکولائز کے زیر اثر پڑی صلہ کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔
*****

No comments