Header Ads

Main Anmol novel epi 28 by Umme Hania complete pdf

  


 



Main Anmol  novel epi 28 by Umme Hania

Main Anmol is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Main Anmol is a motivational  and encourgious story of a strong girl who faced many

 difficulties of this society and the journy of that girl to become an Anmol girl.

Uniqe novels is a plate form where new writers can show their talent in front of the 

world and improve their abilities in that field.

Umme Hania is a famous writer she is also 

write many famous urdu novels

 like Mera dard na jane koi. Yakeen kamil. Hidayat e kamil. Khud shanasi ka safar and

  Bey dard piya their this piece of writing surely grab ur attention

Main Anmol novel by Umme Hania
          Complete download pdf

If u want to download it then click the link below

         Download link

         





            Online  Reading



ل "میں انمول"
مصنفہ "ام ہانیہ"
آٹھائسویں قسط

مسلسل دو دن تک بستر کی ہو کر رہ جانے کے بعد تیسرے دن وہ اس قابل ہوئی تھی کہ واپس اپنی نوکری پر جا سکتی گزشتہ دو دن اس پر بہت کچھ واضح کر چکے تھے سب سے پہلے وہ انمول پر اس کی صحت کی اہمیت کو اچھے سے اجاگر کر چکے تھے گزشتہ دو دنوں میں جن مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اس نے اپنے بچوں کو سنبھالا وہ انمول لفظوں  میں بیان نہیں کر سکتی تھی دکھتے سر اور بے جان ھوتے ہاتھ پاؤں کے ساتھ  بار بار بچوں کو فیڈ کروانا ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اس کے لئے ایک بہت مشکل چیلنج تھا ۔۔
آج وہ حسب معمول اٹھنے کے بعد تیار ہو کر اپنے بچوں کو بےبی کیئر سینٹر چھوڑ کر اپنی نوکری پر گئی تھی اور اپنی روٹین کے مطابق شام کو واپسی پر بچوں کو بے بی کیئر سینٹر سے گھر واپس لیتی ہوئی آئی تھی۔ لیکن حسب معمول آج اس نے اپنا آن لائن کام جہاں سے چھوڑا تھا وہاں سے آگے جاری رکھنے کی بجائے کچھ اور کرنے کا سوچا ۔۔۔۔
اسے صرف آن لائن کام کی معلومات حاصل کرنے کی بجائے اپنی ذہنی گروتھ کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت تھی ۔ وہ اس ماحول سے تعلق رکھتی تھی جہاں پر ان تمام چیزوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہوتیں اب اس نے اپنا راستہ الگ کیا تھا  تو اسے مکمل رہنمائی اور معلومات کے ساتھ آگے بڑھنا تھا ۔
آج اس کے موبائل پر اس کے سرچ کے الفاظ تبدیل ہو چکے تھے اور وہ اپنے کام سے ہٹ کر اپنی شخصیت میں نکھار کے لیے کچھ الگ سے سرچ کر رہی تھی ۔۔
سب سے پہلے اس نے یوٹیوب پر کامیاب لوگوں کی عادات کو سرچ کیا ۔۔
اس کی بنا پر  وہاں پر ظاہر ہونے والی ویڈیوز پر کافی دیر تک اپنی تمام توجہ اور وقت صرف کرنے کے بعد اس کے پاس جو چیدہ چیدہ نکات نکلے تھے وہ کچھ یوں تھے ۔
کامیاب لوگوں کی ایک بڑی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ صبح سورج کے اٹھنے سے پہلے اٹھتے ہیں ۔۔ صبح جلدی اٹھنا آپ کے چوبیس  گھنٹے کے دن کو اڑتالیس گھنٹوں کے دن میں تبدیل کر دیتا ہے ۔۔
کامیابی حاصل کرنے کے لیے صبح  جلدی اٹھنا اولین شرائط میں سے ایک شرط ہے ۔۔۔ 
کامیاب لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں اور آپنے ایک ایک منٹ کو بھی بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے لئے ٹائم مینجمنٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے دن کو کئی حصوں میں تقسیم کرکے اپنے زیادہ سے زیادہ کام کم سے کم وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کامیابی کی شرائط میں سے ایک بڑی شرط مستقل مزاجی ہے جیسے کہا جاتا ہے سست روی سے لیکن مسلسل کیا جانے والا کام آپ کو پار لگا ہی دیتا ہے ۔۔۔
کامیاب لوگوں کی ایک بہت بڑی عادت یہ ہے کہ وہ اپنا ہر کام پلاننگ کے مطابق کرتے ہیں اور اپنے ہر منصوبے کو کاغذ پر تحریر کرتے ہیں کیونکہ ایک سروے کے مطابق یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ کاغذ پر لکھی تحریر کو ہمارا دماغ زیادہ اچھے سے سمجھتا ہے اور اسے اپنے پروگرام میں فیڈ کر لیتا ہے بانسبت اس چیز کے جو کاغذ پر لکھے بغیر زبانی کلامی کی جائے ۔۔۔
اور سب سے اہم اور آخری نکتہ جو اس کی مسلسل کافی دیر کی محنت کا نتیجہ تھا وہ یہ تھا کہ نماز اور قرآن کے بنا کامیابی ادھوری ہے ۔۔۔
اس کی آج کی  محنت ان چند نقات کی صورت میں اس کے سامنے ایک کاغذ پر لکھی ہوئی پڑی تھی ۔۔۔
اب اس نے ایک ایک نقات کو غور سے دیکھنا اور سمجھنا شروع کیا   کہ ان میں سے کون سی عادات ایسی ہیں جو اس کے اندر پہلے سے موجود ہیں اور اسے کن عادات کو اپنے اندر اپنانے کی ضرورت تھی ۔۔
جلدی اٹھنے کی عادت کو وہ اپنا چکی تھی وہ صبح جلدی اٹھ جاتی تھی لیکن صبح جلدی اٹھنے کے لیے ایک ضروری چیز جو وہ سمجھ چکی  تھی کہ صبح جلدی اٹھنے کے لئے رات کو جلدی وقت پر سونا شرط ہے ۔۔۔۔
وہ اب اپنا ٹائم ٹیبل اور روٹین میں کچھ تبدیلیاں کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی جس کے مطابق رات زیادہ سے زیادہ دس سے گیارہ کے درمیان وہ سو جاتی تا کہ جو کام بھی وہ  رات دیر تک کرتی تھی وہ رات دیر تک کرنے کی بجائے صبح کے اوقات میں کچھ زیادہ جلدی اٹھ کر ان کاموں کو پورا کر سکتی ۔۔۔
نماز کی وہ پابندی کرتی تھی نوکری کے دوران بھی اور گھر آکر بھی نماز وقت پر ادا کرتی تھی۔
 نماز سے اس کا ناتا امریکہ آنے کے بعد سے تو اور بھی زیادہ مضبوط ہو چکا تھا لیکن قرآن کے ساتھ اس کی کوئی اتنی خاص نسبت نا تھی اب وہ سنجیدگی سے روزانہ کی بنیاد پر تھوڑا بہت قرآن پاک پڑھنے کو بھی اپنی عادات میں شامل کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔
اسے بھی اب اپنے وقت کی قدر کرتے تمام کام پلاننگ اور  ٹائم مینجمنٹ کے مطابق کرنا تھے۔ 
ان سب کے بعد اب وہ  ٹائم مینجمنٹ کے بارے میں انٹرنیٹ سے سرچ کر رہی تھی ۔
ٹائم مینجمنٹ کے بارے میں جو اسے پتہ چلا وہ یہ تھا کہ آپنے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کاموں کو مکمل کرنے کے لئے اور انہیں بہت اچھے طریقے سے نمٹانے کے لئے چند اہم کام کرنے ضروری ہیں۔
جن میں سب سے پہلا اور ضروری کام یہ تھا کہ سب سے پہلے آپنے کل کے دن میں کیے جانے والے تمام کاموں کی ایک لسٹ تیار کی جاتی اور پھر اس کے بعد ان میں سے تمام ضروری اور اہم کاموں کو ایک طرف کرکے   الگ سے لکھا جاتا اور پھر ان میں سے دیکھا جاتا کہ اس لسٹ میں سب سے پہلی ترجیح کون سا کام ہے ۔۔ کاموں کی حدبندی کر لینے کے بعد سب سے اہم اور سب سے بورنگ  کام کرنے کا سب سے بہترین وقت صبح کا وقت ہوتا ہے اس سب سے اہم کام کو صبح کے وقت میں سب سے پہلے کر لینے کے بعد  سارے دن ریلیکس رہا جا سکتا ہے۔۔۔ ان سب کے بعد اب وہ اپنے کل کے دن کو مینیج کرنے کے لئے اس کی ایک لسٹ تیار کر رہی تھی جس میں اس نے اپنے پورے دن کو تین حصوں میں تقسیم کیا تھا ۔
پہلے حصے کے مطابق اسے صبح چار بجے اٹھنا تھا اور اپنی نماز اور قرآن سے فارغ ہونے کے بعد نو بجے تک جب تک اس کے  کام پر جانے کا وقت نہ ہو جاتا اسے اپنا تمام آن لائن کام اسی اوقات میں مکمل کرنا تھا چاہے وہ جتنا بھی ہو پاتا  کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ  ایک دن میں اسے اتنا ہی کام کرنا تھا ۔۔۔ اس کے بعد دن کے دوسرے حصے میں اسے نو بجے سے پانچ بجے تک اپنے کام پر ہونا تھا 
اس کے دن کے تیسرے حصے میں اسے اپنے بچوں کو بے بی کیئر سنٹر سے واپس گھر لانے کے بعد کچھ دیر اپنے بچوں کے ساتھ گزارنا تھا اور اپنی باقی کے تمام ضروریات کا کام جیسے کھانا پکانا لانڈری بچوں کا خیال رکھنا اگلے دن کی تیاری کرنا  وغیرہ شامل تھا جو کہ سب کچھ اس سے رات دس یا گیارہ بجے سے پہلے پہلے مکمل کرکے رات  زیادہ سے زیادہ دس بجے تک  اسے سونے کے لئے لیٹ جانا تھا ۔۔۔
یہ سارا کام مکمل کر لینے کے بعد اب وہ قدر مطمئن تھی اسے اپنے سر سے ایک بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
*******
بیٹا تم کوشش کر کے عدیلہ کو بھی اپنے پاس بلا لو بچاری یہاں سارا سارا دن بولائی بولائی پھرتی ہے ۔۔۔ حمیدہ بیگم فون پر یارم سے بات کرتی اسے ہر صورت عدیلہ کو اپنے پاس بلا لینے کے لیے قائل کر لینا چاہتی تھی ۔۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ امی میں نے عدیلہ سے شادی آپ کے بہت زیادہ مجبور کرنے پر پاکستان میں آپ کے تنہائی کے خیال سے کی تھی میں اسے یہاں اپنے پاس کیسے بلا سکتا ہوں بھلا۔ حمیدہ بیگم سے میلوں فاصلے پر دیارغیر میں اپنے فلیٹ کے لاؤنج میں آرام دہ صوفے پر بیٹھا یارم سامنے موجود میز پر رکھے لیپ پر کام کرتا کان سے موبائل لگائے ماں کو جواب دے رہا تھا ۔۔۔
چہرے پر ہلکی داڑھی کا  اضافہ اس کی شخصیت کو مزید نکھار رہا تھا لیکن چہرے پر ایسی سنجیدگی چھائی تھی جو مقابل کو ایک حد میں رہ کر اس سے بات کرنے پر مجبور کر دیتی ۔۔۔۔
بیٹا وہ بیوی ہے تمہاری تم پر حق رکھتی ہے اور اب تو ماشاء اللہ سے ہمارے حالات بھی اس قابل ہیں کہ تم اسے وہاں اپنے پاس بلا کر رکھنا افورڈ کر سکو۔ حمیدہ بیگم رسانیت سے بولیں اب وہ بیٹے کو کیا بتاتیں کہ بہو کا رویہ انکے ساتھ کس قدر بدتمیزانہ  ہوتا جا رہا ہے وہ کہیں سے بھی پہلی عدیلہ نہ لگتی تھی جو ہر دم خالہ خالہ کرتی پیچھے پیچھے پھرتی تھی۔ اب تو وہ انہیں پانی کا گلاس تک پکڑا کر راضی نا تھی اسکی زبان وہ وہ جوہر دکھاتی کہ حمیدہ بیگم گم صم سی کمرا نشین ہو جاتیں کہ آخر کو بیٹے کو بھی شکایت نہیں کر سکتی تھیں کہ اگر بیٹے نے جذبات میں آ کر کوئی غلط فیصلہ لے لیا تو گھر انکی بیٹی کا بھی خراب ہونا تھا۔ وہ تو بری پھنسی تھیں۔ 
کیا ہوگیا ہے آپ کو امی پاکستان میں بہت سی عورتیں کے شوہر باہر ممالک میں کام کرنے کے لیے جاتے ہیں وہ سب کے سب تو اپنے شوہروں کے ساتھ وہاں پر نہیں جا سکتی نا بات حالات کی یا افورڈ کرنے کی نہیں ہے اس ملک کے حالات اور یہاں کا ماحول ایسا نہیں ہے کہ میں عدیلہ کو یہاں پر لا کر رکھ سکوں ۔ رہ گئی بات اس کے حقوق و فرائض کی تو وہ میں پوری کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں چند ایک دنوں تک کوشش کرتا ہوں کہ میرا پاکستان میں چکر لگ جائے لیکن میں اسے یہاں اپنے پاس نہیں بلوا سکتا  ۔ وہ دو ٹوک انداز میں بولا جو کہ آج کل اس کی شخصیت کا خاصہ تھا جس کے بعد حمیدہ بیگم  لب بھینچ کر رہ گئی اور اس کے بعد کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد یارم نے فون رکھ دیا اور سر تھام کر بیٹھ گیا ایک بار پھر سے وہ اچھا خاصا ڈسٹرب ہو چکا تھا ۔۔۔۔
کیا بات ہے یارم کس کا فون تھا تب ہی سامنے کمرے سے سندیپ باہر نکلا تو یارم نے تیزی سے لیپ ٹاپ کی سکرین پر موجود اپنی اور انمول کی نکاح کے روز کی تصویر کو بند کیا۔۔
جب تک سندیپ وہاں اس کے پاس آکر صوفے پر بیٹھا تب تک لیپ ٹاپ کی سکرین سے وہ تصویر غائب ہو چکی تھی بہت زیادہ چاہنے کے باوجود بھی یارم انمول کی ان گنی چنی یادوں کو اپنے پاس سے ختم کرنے کا حوصلہ خود میں نہیں پاتا تھا ۔۔۔ 
روزانہ کئی کئی لمحوں تک انہیں یادوں کے زیراثر رہنا اس کا معمول بن چکا تھا بعض اوقات وہ اپنی اس کیفیت سے بہت گھبرا جاتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ایک گناہ کا مرتکب سمجھنے لگتا تھا جو کہ شاید عدیلہ کو اپنے نکاح میں رکھ کر اس کے ساتھ بددیانتی اور ناانصافی کا مرتکب ہو رہا تھا ہر روز منوں کے حساب سے اس کے ضمیر پر بوجھ بڑھتا جارہا تھا لیکن وہ اس دل کا کیا کرتا ہے جو اسے کسی پار لگنے نہیں دے رہا تھا ۔
یارم نے سر صوفے کی پشت سے لگاتے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کو مسلا۔۔۔۔
ڈسٹرب لگ رہے ہو یارم کیا بات ہے سندیپ نے اسی شائستگی سے یارم سے پوچھا جو کہ اس کی شخصیت کا خاصہ تھا ۔
سندیپ سے یارم کی ملاقات امریکہ آنے کے کچھ عرصہ بعد ہوئی تھی یارم بہت محنتی تھا اور سندیپ کو اپنی کمپنی کے لئے محنتی لوگوں کی ہی ضرورت تھی ۔ یوں یارم نے سندیپ کی کمپنی میں کام کرتے شب و روز کا فرق مٹا کر اتنی محنت کی کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکے عہدے میں بھی  تبدیلیاں آتی گئ اور جہاں اس نے کام میں اتنی ترقی کی وہیں پر سندیپ اور یارم کی دوستی بھی دن بدن پڑوان چڑھتی گئ ۔
یہ ہی وجہ تھی کہ وہ یارم کے ماضی کے بارے میں ایک ایک بات سے آگاہ تھا اور بروقت اسے اچھے بڑے کا فرق باور کرواتا اپنے رشتے کو اچھے سے نبھانے کی ترغیب دلاتا رہتا تھا۔
اب یارم سندیپ کے ساتھ پارٹنر شپ پر کام کرتا تھا ۔ جہاں اسے اتنی کامیابیاں ملیں تھیں وہیں اسے اپنے دل کا ایک کونا ویران لگتا بنجر جس پر جیسے پھر کبھی کوئی پھول نا کھلنا ہو۔ اسکی راتیں مضطرب اور بے چین گزرتی تھیں۔ 
کئ بار تو ماضی کی یادیں اتنی زور آور ہوتیں کہ وہ کئ کئ گھنٹوں تک کوئی اور کام کرنے کے قابل نا رہتا۔۔ 
تم ابھی تک اپنے ماضی کو نہیں بھول سکے نا۔ سندیپ نے اسکے چہرے کے اتار چڑھاو کو غور سے دیکھتے  دریافت کیا۔
ایسی بات نہیں ہے سندیپ۔۔۔ یارم لبوں پر زبان پھیرتا بے چینی سے سیدھا ہو کر بیٹھا۔
میرے خیال سے اسے حالات سے فرار کہتے ہیں یارم۔۔۔
بس کر دے سندیپ یار۔۔۔۔۔  بار بار سیمینار میں جا جا کر اب تم جہاں بیٹھتے ہو لیکچر شروع کر دیتے ہو میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ یارم عاجز آ کر بیزاری سے کھڑا ہوتا سامنے ہی اوپن کچن میں جا کر پٹخ پٹخ کر چیزیں رکھتا کافی پھینٹنے لگا۔۔ ماتھے پر موجود بل اور تیزی سے چلتے ہاتھ اسکے ذہنی خلفشار کی علامت تھے۔
میرے خیال سے تمہیں کچھ دنوں کی چھٹی لے کر پاکستان چکر لگا آنا چاہیے۔ اگر کوئی رشتہ مجبوراً ہی سہی جوڑ لیا جائے تو اسے نبھانا ضروری ہوتا ہے۔ میں تمہاری کل کی ٹکٹ بک کروا دیتا ہوں سندیپ سنجیدگی سے اسے دیکھ کر کہتا  لاوئنج عبور کرتا فلیٹ سے نکل گیا۔۔۔
اسی ٹاپک سے وہ فرار حاصل کر رہا تھا اسنے غصے کی شدت سے ہاتھ میں پکڑا مگ پوری قوت سے سنک میں پھِنکا اور خود لاوئنج میں آکر سر دونوں ہاتھوں میں تھامتا صوفے پر بیٹھ گیا ناجانے اسے اتنا غصہ کس بات پر آ رہا تھا۔
"***********

For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


     

No comments

Powered by Blogger.
4