Header Ads

Main Anmol novel 29 epi by Umme Hania complete pdf

   


 



Main Anmol  novel 29 epi by Umme Hania

Main Anmol is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe  novels

Main Anmol is a motivational  and encourgious story of a strong girl who faced many

 difficulties of this society and the journy of that girl to become an Anmol girl.

Uniqe novels is a plate form where new writers can show their talent in front of the 

world and improve their abilities in that field.

Umme Hania is a famous writer she is also 

write many famous urdu novels

 like Mera dard na jane koi. Yakeen kamil. Hidayat e kamil. Khud shanasi ka safar and

  Bey dard piya their this piece of writing surely grab ur attention

Main Anmol novel by Umme Hania
          Complete download pdf

If u want to download it then click the link below

         Download link


       For Online Reading


ناول "میں انمول"
مصنفہ "ام ہانیہ"
Official pg”: Umme Hania Official
ؑانتیسویں قسط۔۔
آج انمول بہت خوش تھی کیونکہ پچھلے تین دن کی محنت سے وہ آج ایک ایسا آرٹیکل لکھنے  میں کامیاب ہو چکی تھی جس کے بارے میں وہ یقین سے کہہ سکتی تھی کہ اس نے اپنی برپور محنت سے  بہتر سے بہتریں آرٹیکل لکھنے کی بھرہور کوشیش کی ہے۔۔
بہت زیادہ ریسرچ اور اس کے بارے میں بہت سے آرٹیکل پڑھ لینے کے بعد اس نے خود سے آرٹیکل لکھا تھا جسے وہ مسلسل تین بار پڑھ چکی تھی اور اب وہ مطمئن تھی اس کے بعد اس نے اپنا بلاگ بنایا اور سب سے پہلا آرٹیکل پوسٹ کیا ۔۔۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے تمام سوشل نیٹ ورکس پر اپنے آفیشل پیج بنا چکی تھی جس کو اس نے نیہا اور جینی کی مدد سے پروموٹ کروایا تھا اور اب تقریبا اس کے ہر ایک آفیشل پیج پر پانچ سو سے زیادہ فالوورز تھے جو کہ تقریباً سبھی جینی اور نیہا کے یونیورسٹی فیلوز تھے۔ اور ابتدائی قدم اٹھاتے ہوئے اس کے لیے  اتنے فولوورز ہی کافی تھے یہ ہی اسکے لئے  کافی بڑی اچیومنٹ تھی۔۔۔
پھر اس نے اپنےآرٹیکل کو بلاگ پر پوسٹ کرنے کے بعد  اپنے سبھی آفیشل پیجز پر بھی پوسٹ کیا اور مطمئن ہوکر اپنے اگلے آرٹیکل کو لکھنے کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔ اب پورے دن میں اس کے پاس اپنے آن لائن کام کے لیے تین سے چار گھنٹے ہوتے اسی تین سے چار گھنٹوں میں اسے اپنا آرٹیکل پوسٹ کرنا ہوتا اور اگلا آرٹیکل لکھنے کے ساتھ ساتھ مزید اپنے بلاگ کے کام میں بہتری لانے کے لئے چیزیں سیکھنا بھی ہوتی تھیں۔۔۔
اس وقت کو بھی اچھے سے استعمال کرنے کے لئے اسنے اسکی درجہ بندی کر رکھی تھی۔
 باقی زندگی کی وہی مصروفیات تھیں سارا دن گزارنے کے بعد اگلے دن پھر سے اسی وقت پر اسنے اپنا کام وہیں سے شروع کیا اور اپنا دوسرا آرٹیکل پوسٹ کیا۔ وہ بہت پرجوش تھی کیونکہ اس نے اپنا دوسرا آرٹیکل بھی پچھلے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے بہت اچھا لکھا تھا پہلے اس نے اپنا دوسرا آرٹیکل بلاگ پر پوسٹ کیا اور جب اس نے اپنے تمام سوشل پیجز  اپنا دوسرا آڑٹیکل پوسٹ کرنے کے لئے چیک کیے تو اسکے صدمے  کی انتہا نہ رہی کہ اس کے اتنے اچھے  آرٹیکل پر کسی نے  ایک بھی کمنٹ تو دور اسے لائک تک کرنے کی زحمت نا کی تھی ۔۔۔
دل یک دم ہی گہری اداسیوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر ابھرا تھا صدمہ شدید تھا اتنے اچھے آرٹیکل پر ایک بھی لائک نہیں ملا تھا۔ اس کی اتنی محنت کسی کام کی نہیں تھی ۔۔ اسکا دل چاہا کہ اپنے سبھی فولوورز کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر  پوچھے  کہ کسی کی حوصلہ آفزائی کرتے ایک لائک کا بٹن دباتے تم لوگوں کا بھلا کیا جاتا تھا۔
ٹپ ٹپ آنکھوں سے آنسو بےساختہ گرنے لگے تھے کیا ان حالات کے ساتھ وہ آگے بڑھ سکتی تھی کیا وہ کبھی اس بے رحم دنیا میں اپنا مقام بنا سکتی تھی  مثبت سوچ پر منفی خیالات حملہ آور ہو چکے تھے اور وہ ایک بار پھر سے کشمکش اور شش و پنج میں مبتلا ہو گئی تھی ۔۔۔
وہ اتنی دل برداشتہ ہوئی تھی کہ دل چاہا سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دے۔
 کیا فائدہ ہوا بھلا اسے اتنے دنوں کی محنت کا کیا فرق رہ گیا اس میں اور جینی اور نیہا میں جو ہر وقت گھومتی تھیں موج مستی کرتی تھیں اس نے ایک ایک لمحے کو اچھے سے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی اور آخر میں اس کے ہاتھ کیا آیا تھا صفر ۔۔۔
ساری خوشی ماند پڑ گئی تھی دوسرا آرٹیکل جو اس نے بلاگ پر پوسٹ کیا تھا اس کا دل ہی نہیں چاہا کہ اس آرٹیکل کو اپنے سوشل پیجز پر اپلوڈ کرے کیونکہ پہلے آرٹیکل کا جو حشر ہوا تھا اس کے بعد سے اسکی  سبھی امیدیں  ٹوٹنے لگی تھیں۔۔۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے   آگے اس کام کو جاری رکھنا چاہیے یا  یہیں پر اس کام کو خیر آباد کر دینا چاہیے ۔۔۔
آن لائن ارننگ اگر اتنی ہی آسان ہوتی تو کیا دنیا کا ہر انسان آن لائن کام کر کے کما نہیں رہا ہوتا انمول زور سے موبائل کو بیڈ پر پٹخ کر دکھتے ہوئے سر  کو ہاتھوں میں تھام کر رہ گئ ۔میں ہی پاگل ہوں جو اس راستے پر تنہا چلنے نکل پڑی میرے جیسوں کا یہ ہی حال ہوتا ہے ۔۔۔وہ ناامیدی اور مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں تھی ۔۔۔۔
چند لمحوں تک سر ہاتھوں میں تھامے رہنے اور اچھے سے رو کر دل کا غبار  ہلکا  کر لینے کے بعد وہ ایک بار پھر سے کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی تھی ۔۔۔
سارے حالات اس کے سامنے تھے ۔
یا تو کچھ کرنا تھا یا مرنا تھا ۔ مر وہ سکتی نہیں تھی کہ دو اور معصوم زندگیاں اس سے وابستہ تھیں تو اسکے پاس واحد آپشن یہی تھا کہ جیسے بھی کچھ  کرنا ہی کرنا ہے اور ہر حالت میں کرنا ہے چاہے جتنی بھی پریشانیاں آئیں وہ اسے نہیں روک سکتی ۔ 
میں نے کرنا ہے اور بس کرنا ہے اپنے لئے نہیں تو اپنے بچوں کے لئے ہی سہی ۔۔ ایک بار پھر سے منفی جذبات پر مثبت جذبات غالب آنے لگے تھے اسکے سامنے دو معصوم چہرے ایسے تھے جو اسے ٹک کر بیٹھنے نہیں دے سکتے تھے ۔۔۔
اس کا سب کچھ اسکا موبائل ہی تھا یہیں سے وہ رہنمائی لیتی تھی یہیں پر وہ کام کرتی تھی اور دنیا سے اس کی کوئی امید وابستہ نہیں تھی اس لئے وہ ایک بار پھر سے موبائل اٹھا کر اپنے مطلب کی چیز کو یوٹیوب سے سرچ کرنے لگی ۔۔۔
کامیاب ہونے کے لئے چند اہم باتیں۔۔۔۔
 آج اس کی سرچ کا ٹاپک یہ تھا ۔۔۔
کچھ وقت کے لئے اس سرچ پر سر کھپائی کرنے کے بعد جو بنیادی چیزیں اس کے پاس آئی تھیں وہ کچھ یوں تھیں جسے پڑھ کر اس کو کچھ حوصلہ ہوا تھا ۔۔
اگر آپ واقعی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی محنت کے بدلے میں حاصل ہونے والے نتائج کو دیکھنا چھوڑ دیں کیونکہ اتنی جلدی آپ کے سامنے آپ کی محنت کے نتائج ظاہر نہیں ہوں گئے نتائج دیکھنے کی بجائے آپ کو اس چیز پر فوکس کرنا چاہیے کہ آپ کا آج کا کام آپ کے کل کے کام سے کس قدر بہتر ہے نتائج کی فکر چھوڑ کر ساری محنت اپنے کام یعنی کے اپنے ایکشن پر مرکوز کریں ۔۔۔ صرف ایکشن پر توجہ مرکوز کرنے سے اور نتائج پر سے توجہ بلکل ہٹا دینے کے نتائج آپ کے سامنے بالکل غیر یقینی طور پر ظاہر ہونگے ۔۔۔ جس طرح سے پھولوں کی خوشبو سونگھ کر  لوگ پھولوں کو ڈھونڈ لیتے ہیں اسی طرح سے اگر آپ کا کام اچھا ہے اور لگاتار یکسوئی سے بغیر رکے ہوگا تو لوگ آپ کے کام کی خوشبو کو سونگھتے ہوئے آپ تک خود چل کر آئیں گے ہاں یہ کام تھوڑا صبر آمیز ہے لیکن یقین رکھئے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی محنت کا پھل ہمیشہ ملتا ہے ہاں اس کا وقت آگے پیچھے ہو سکتا ہے ۔۔۔ آپکو اپنی محنت کا پھل اتنا ملے گا جتنا آپ سوچ بھی نہیں سکتے مگر پہلے کھلاڑی تو بنیں اپنے فیلڈ کے پکے کھلاڑی۔
ان مثبت باتوں کو سننا تھا کہ جس کے بعد وہ خود کو ایک بار پھر سے تازہ دم محسوس کر رہی تھی ساری منفی سوچیں ایک بار پھر سے دماغ سے آرنچھو ہو چکی تھیں اور اس کے اندر دوبارہ سے ایک نئی طاقت پیدا ہو چکی تھی اور اب وہ نتائج پر نظر  رکھے بغیر اپنا سارا فوکس اپنے کام پر ڈالنے اور مکمل یکسوئی سے اپنا کام کرتے ہوئے اس بے رحم دنیا سے اپنا آپ منوا کر رہے گی آج وہ اچھے سے اس بات کو تھان چکی تھی ۔۔۔۔
********
اپنے کہے کے مطابق اگلے چند دنوں میں یارم پاکستان پہنچ چکا تھا وہ اپنے آپ میں پشیمان تھا کہ وہ شاید اس رشتے کے ساتھ ناانصافی کا مرتکب ہو رہا ہے ۔۔ اس لیے اب وہ مخلص طریقے سے اپنے اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا یارم  کی  پاکستان آمد کی وجہ سے عدیلہ ہردم  تتلی بنی ادھر سے ادھر گھومتی پھرتی تھی حمیدہ بیگم کے ساتھ بھی اس کا رویہ بہت بدل چکا تھا ۔ 
حمیدہ بیگم عدیلہ کا بدلہ ہوا رویہ دیکھ کر خوش تھیں کہ شاید یہ سب یارم سے دوری اور سارا دن یہاں پر تنہا رہنے کا نتیجہ تھا جو وہ اس قدر چڑچڑی اور بد تمیز ہو رہی تھی ۔۔
یارم اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ وہ اس رشتے کو اچھے سے لے کر چل سکے ۔۔
کیا کر رہی ہو اس روز بھی یارم دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد کمرے میں آیا تو سجی سنوری سی عدیلہ کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی پایا ۔۔
کچھ نہیں بس آپ کا انتظار کر رہی تھی وہ مسکراتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھی اور جھکی پلکوں سے مسکراتی ہوئی قدم قدم یارم کی طرف بڑھنے لگی ۔۔ من پسند ساتھی کی قربت میں اسکے چہرے پر شفق کے رنگ پھوٹے جا رہے تھے۔ وہ اس وقت خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کر رہی تھی۔ 
چلو ٹھیک ہے پھر شاپنگ کرنے چلتے ہیں اور پھر اس کے بعد ڈنر کرکے ہی گھر لوٹیں گے اس نے عدیلہ کی چہرے پر بکھرے  بالوں کو انگلی کی پوروں سے اس کے کان کے پیچھے اڑستے مسکرا کر کہا اور عدیلہ وہ تو اتنے میں ہی کھل اٹھی تھی کہاں دیکھی تھی اس نے یارم کی اتنی توجہ اور محبت ۔
وہ جھٹ سے تیار ہو اٹھی ۔۔۔
ٹھیک ہے تم باہر آجاؤ میں امی سے بھی پوچھ لوں کہ وہ ساتھ چل رہی ہیں یا نہیں یارم  اسے کہتا ہوا باہر نکلا تو عدیلہ خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی تو بالآخر میں نے تمہیں پا ہی لیا یارم ۔
 تم میرے ہی تھے اور تمہیں میرے تک آنا ہی تھا وہ خوشی سے پاگل ہونے کے قریب تھی ۔۔۔
ادھر یارم سر توڑ کوشش کر رہا تھا کہ اس رشتے کو ایمانداری سے نبھا سکے لیکن دل ہر وقت ہر لمحہ اس سے بے ایمانی کروانے پر تلا ہوا تھا ۔۔۔
*********
زندگی اپنی رفتار کے ساتھ چلنے لگی تھی انمول بھی صرف اپنے کاموں کی ہو کر رہ گئی تھی بہت توجہ اور محنت کے ساتھ وہ ایک ایک قدم آگے بڑھ رہی تھی اب اس نے نتائج کی پرواہ کرنا بالکل ہی چھوڑ دی تھی وہ صرف اور صرف اپنے کام پر فوکس کیے ہوئے تھے ۔۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگ اس کے آرٹیکلز کو پسند کرتے ہیں ان پر  رسپانس دیتے ہیں یا نہیں اسے فرق صرف اس چیز سے پڑتا تھا کہ اسے ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے کام میں بہتری سے مزید بہتری لانی تھی اور آخر کار اسے اس مقام تک پہنچنا تھا جہاں پہنچ کر لوگ اس کو ماننے پر مجبور ہو جاتے ۔۔۔
یہ اس کے مسلسل ایک مہینے کی لگاتار محنت کا نتیجہ تھا کہ جب وہ ہر طرف سے امیدیں ختم کر چکی تھی تو اس کے آرٹیکلز پر اسے ریڈرز کا رسپانس ملنا شروع ہو گیا تھا۔
روزانہ کی بنیاد پر چند لائکس اور کمنٹس اس کا سیروں خون بڑھا دیتے ۔۔اس سب سے یہ ہوا تھا کہ اسے مزید بہتر کام کرنے کی ایک انرجی مل جاتی تھی نیز وہ خوش تھی کہ اس کا کام پڑھا جارہا ہے اور لوگ اسے رپلائی کر رہے ہیں ۔۔
 بلاگر پر تیس پوسٹیں مکمل ہونے کے بعد اس نے آفیشلی اس میدان میں اچھے سے قدم رکھنا چاہا اور گوگل ایڈسنس کے لیے اپلائی کیا تھا کہ اب اسے ایڈز مل سکتیں اور وہ اپنے کمانے کا یہ عمل باقاعدہ طور پر شروع کر سکتی ۔
جس روز اس نے گوگل  ایڈسنس کے لئے اپلائی کیا اس روز وہ بہت خوش تھی اب گوگل ایڈسنس کی پالیسی کے مطابق اسے ایک سے دو ہفتے کے دوران مطلع کیا جانا تھا  کہ وہ اس کی اپلیکیشن قبول کریں گے یا نہیں ۔۔
یہ وقت اس پر بہت بھاری تھا دل میں ہر وقت کوئی نہ کوئی  خیال چلتا رہتا کہ پتہ نہیں کہ اس کی یہ درخواست قبول ہوگی بھی یا نہیں اور بلآخر وہ دن آھی گیا جس روز اسے گوگل ایڈسینس کی  ای میل موصول ہوئی لیکن اس میل کے موصول ہونے کے بعد اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے کہ اتنا بہترین کام ہونے کے باوجود اور ہر لحاظ سے سب کچھ مکمل ہونے  کے باوجود بھی اسکا بلاگ  گوگل ایڈسینس کی طرف سے ریجیکٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔
کچھ پالیسی وائلیشن کی بنیاد پر اس کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی اب اس کے بلاک میں پالیسی وائلنس کیا تھے یہ وہ نہیں جانتی تھی ۔۔ اس پالیسی وائلیشن کو فکس کیسے کرنا وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی۔
وہ دن اس پر بہت بھاری تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے کہ اب اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے ۔۔ 
ہاں لیکن وہ اب اس چیز پر پختہ یقین رکھتی تھی کہ اس دنیا میں جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہوتا ہے اور جب اسکا رب اس پر اس کی ماں سے ستر گنا زیادہ مہربان ہے تو وہ اس کے ساتھ کچھ برا ہونے نہیں دے سکتا ۔۔۔
****†* **
ارے آج  سورج کہاں سے طلوع ہوا تھا آج تم راستہ بھول کر یہاں پہ کیسے آگئی۔
 آج کافی دنوں کے بعد انمول کا کام کچھ جلدی ختم ہو گیا تھا اور بچے بھی وقت پر سو گئے تھے تو وہ نیہا اور جینی کے پاس ان کے کمرے میں آ گئی ۔۔۔جب سے انمول اپنے کام میں بری طرح سے مشغول ہوئی تھی تو اس کا سب کے ساتھ ہی تعلق بہت لیا دیا سا ہو گیا تھا وہ جینی اور نیہا کی طرف اتنا زیادہ نہیں بڑھی تھی تو ایک دو بار کی کوشش کے بعد وہ دونوں  بھی پیچھے ہٹ گئیں تھیں۔۔
وہ دونوں اس وقت بیڈ پر بیٹھی پیزا کھا رہی تھیں انمول کو کمرے میں آتے دیکھ خوشگوار حیرت سے گویا ہوئی ۔۔۔
ہاں بس بچے جلدی سو گئے تھے تو میں نے سوچا تم دونوں کے پاس آ جاؤ انمول بھی بے تکلفی سے ان کے پاس بیٹھتی سامنے پڑے پزے کا پیس  اٹھا کر کھانے لگی ۔۔ 
انمول مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی ۔ میں تمہارے پاس آنے  کے بارے میں سوچ رہی تھی اچھا کیا کہ تم خود ہی یہاں پر آ گئ۔
جینی نے کچھ سوچتے ہوئے انمول کی طرف دیکھ کر بات کا آغاز کیا ۔۔۔
ہاں بولو کیا بات ہے  منہ کی  طرف لے جاتا انمول کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا  وہ سنجیدگی سے جینی کی طرف دیکھتی گویا ہوئی کہ نہ جانے کیا بات ہو گئی ہے ۔۔
ارے اتنا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے پلیز تم ریلیکس ہو جاؤ جینی اس کی بدلتی ہوئی کیفیت  دیکھ کر جلدی سے گویا ہوئی ۔
نہیں تم بولو میں ٹھیک ہوں انمول ویسے ہی گویا ہوئی ۔
تم نے آگے اپنی زندگی کے بارے میں کیا سوچا ہے جینی بھی سنجیدہ ہوتی گویا ہوئی ۔۔
کیا مطلب کیا سوچا ہے میں کچھ سمجھی نہیں ۔۔نیہا خاموش تماشائی بنی کبھی انمول تو کبھی جینی کو دیکھ رہی تھی میرا مطلب کے کب تک تم ایک چھوٹی سی نوکری کرتی ہوئی اپنے بچوں کو پالو گی اس ایک چھوٹی سی نوکری سے تمہارا گزارا کیسے ہو جاتا ہے کیا تمہیں نہیں لگتا کہ تمہیں اپنے بچوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے انہیں اچھا مستقبل دینے کے لیے ایک اچھی زندگی دینے کے لیے جینی بہت سوچ سوچ کر بول رہی تھی کہ اس کی کوئی بات انمول کو بری نہ لگ جائے ۔۔۔
میں تمہاری بات کو سمجھی نہیں جینی تم کھل کے کہو تم جو بھی کہنا چاہتی ہو انمول ناسمجھی سے گویا ہوئی ہیں کیونکہ وہ جینی کی اس تمہید کے پیچھے چھپے مفہوم کو سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔
پرسوں رات میرا باس مجھے یہاں تک ڈراپ کرنے آیا تھا تو اس نے تمہیں دیکھا ہے وہ تم میں انٹرسٹڈ ہے پرسوں سے اب تک وہ کئی بار مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھ چکا ہے تو اگر تم اپنے تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ عرصے کے لیے اس کے ساتھ ریلیشن میں رہ لو تو تمہاری ساری مشکلات حل ہو سکتی ہیں تم اپنے بچوں کو ایک اچھا مستقبل دے سکتی ہو ۔مائیں تو اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے کیا کچھ نہیں کر گزرتی تو کیا تم اپنے بچوں کے لئے یہ نہیں کر سکتی ۔۔۔
جازف کا چند دنوں کا ساتھ ہی تمہیں اس قابل بنا دے گا کہ تم اچھے سے اپنے بچوں کی پرورش کر سکتی ہو بغیر کسی فکر کے ان کا مستقبل محفوظ کر سکتی ہو ۔۔۔
انمول پتھر کے بت کی مانند بیٹھی جینی کو سن رہی تھی جو بنا اس کی حالت کو نوٹ کیے مسلسل اس کے کانوں میں زہر انڈیلنے کا کام کر رہی تھی انمول کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے ۔۔۔
اس قدر سنبھل کر اور لگی بندھی زندگی گزارنے کے باوجود بھی اس کھلے معاشرے میں کئ ہاتھ اس کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔
کیا کرتی وہ ۔۔۔کب تک وہ سنبھل سنبھل کر چل سکتی تھی ۔۔۔اسے فکر صرف  اسی بات کی تھی کہ کہیں پر حالات کے پرزور ڈھارے میں بہہ کر اس کے قدم لڑکھڑا نہ جائیں اور وہ کہیں پوری زندگی کا پچھتاوا اپنے پلو سے باندھ نہ لے ۔۔۔
جینی اور بھی نا جانے کیا کیا کچھ بول رہی تھی لیکن وہ اس کے الفاظ کو سمجھنے سے قاصر تھی اس کا دماغ کہیں اور پہنچا ہوا تھا وہ صرف جینی کے ہلتے ہوئے ہونٹوں کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جینی ابھی بھی کچھ بول رہی تھی لیکن وہ اپنے بے جان ھوتے جسم کو بھرپور کوشش سے اٹھانے میں کامیاب ہوتی بیڈ سے اٹھ کر سست روی سے کمرے کے دروازے کی جانب چلنے لگی پیچھے سے نیہا اور جینی اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھیں اسے واپس بلا رہی تھیں لیکن وہ بنا انکی جانب پلٹے  اپنے جان ہوتے جسم کو گھسیٹتے کمرے سے باہر نکلی اور اپنے کمرے میں پہنچتی ہی بیڈ پر  بیٹھتی  پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
مائیں تو اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے کیا کچھ نہیں کر گزرتیں تو کیا تم اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لئے اتنا نہیں کرسکتی۔۔۔  جینی کی آوازیں اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھی وہ کانوں پر ہاتھ رکھتی زور زور سے دائیں بائیں نفی میں سر  ہلاتی اور تیزی سے رونے لگی ۔۔۔
سب اسے چھوڑ گئے تھے اس کے بابا اس کی امی یہاں تک کہ اس کے بچوں کا باپ بھی اس کے اپنے سگے بھائیوں نے اس کے ساتھ لاوارثوں جیسا سلوک کرتے اسے اپنی زندگی سے بے دخل کر دیا تھا کسی کو اس کی پرواہ نہیں تھی کسی کو اس کے بچوں کی پرواہ نہیں تھی تو پھر اسے کیا کرنا چاہیے تھا ۔۔۔
وہ الجھ چکی تھی کشمکش کا شکار ہو چکی تھی ۔۔۔ خار دار جھاڑیوں پر برہنہ پاؤں چلتے چلتے تھکنے لگی تھی  کوئی سہارا نہیں تھا اس کے پاس تو کیا ایسے میں اس کے پاس اگر ایک آسان راستہ آ رہا تھا تو کیا اسے اس راستے کو تھام لینا چاہیے تھا کیا اسے اس راستے کی جانب قدم پرھانے چاہیے تھے کہ اس سے بھی ایک ماں کی طرح خود غرض  ہوتے ہوئے صرف اور صرف اپنے بچوں کے بارے میں سوچنا چاہیے تھا دماغ بری طرح سے الجھ چکا تھا ۔۔۔
اسے صرف جینی کے الفاظ بار بار یاد آرہے تھے جو کہ اسے مزید کشمکش میں مبتلا کرتے جارہے تھے۔
 مائیں  تو اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے کیا کچھ نہیں کر گزرتی تو کیا تم اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے یہ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔
کیا وہ یہ کر سکتی تھی کیا اسے یہ کرنا چاہیے تھا۔سوالوں کا ایک حجمِ غفیر تھا جو اس کے دماغ میں جھکڑ چلا رہا تھا وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو پکڑتی وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی دونوں بچوں کے معصوم سے چہرےاسکے سامنے تھے تو کیا انہیں اس کے اچھے مستقبل کے لیے  یہ رسک لے لینا چاہیے تھا وہ مسلسل اسی بات پر سوچ رہی تھی 
۔
 For more intetested and uniqe urdu novels click here👇

For writers contact click below👇



For best type of uniqe urdu meterial and such motivational and lesson able novels join us at facebook


          Face book pg link


     

No comments

Powered by Blogger.
4