Rah_e_haq novel 9th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq novel 9th Episode by Umme Hania represented by Uniqe Novels
Rah_e_haq is very famous romantic uniqe urdu novel published by uniqe novels
Uniqe Novels is a plate form where new writers can show their talent in front
of the world and improve their abilities in that field.
Rah_e_haq Novel by Umme Hania | Rah_e_haq novel | Uniqe novels | Umme Hania novels | Umme Hania Archives by Uniqe novels | Rah_e_haq novel by Umme Hania Complete PDF download
Online Reading
ناول "راہِ حق"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
نویں قسط۔۔۔۔
زوہان چائے۔۔۔۔
اللہ اللہ۔۔۔ یہ سب کیا ہے زونی۔۔۔ کنزل سبحان کے میٹھائی اور کیک لاتے ہی چائے باہر سرو کر کے اندر زوہان کو لینے آئی تھی جبکہ کمرے میں پہلا قدم رکھتے ہی وہ غش کھا کر رہ گئ۔۔۔ اسکے کئ ڈریسز بیڈ پر بکھرے پڑے تھے وارڈروب کے دونوں پٹ وا تھے۔۔۔۔جبکہ زوہان دو ہینگ کئے ڈریسز تھامے انہیں تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
آج رات کے لئے دونوں ڈریسز میں سے کونسا پرفیکٹ رہے گا مام۔۔۔ وہ جانچتی نگاہوں سے ایک نگاہ ان ملبوسات کو جبکہ دوسری نگاہ اپنی نازک سے ماں کو دیکھتا مستفسر ہوا۔۔۔
آئی تھنک یہ ریڈ کلر والا۔۔۔ ریڈ کلر آپ پر سوٹ بھی بہت کرتا ہے۔۔۔ وہ ایک ڈریس واپس بستر پھر پھینکتا ریڈ لانگ فراک جس پر گولڈن ورک ہوا تھا لئے ماں تک آیا۔۔۔۔
جو صدمے کی سی کیفیت میں کبھی اپنے کمرے کو تو کبھی اپنے ہونہار سپوت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
مام آپ جلدی سے چینج کر کے آئیں۔۔۔
زونی۔۔۔ وہ روہانسی ہو اٹھی۔۔۔ یہ سب سمیٹے گا کون۔۔۔
افکورس نورین مام۔۔۔ آپ جلدی سے ریڈی ہوں بس۔۔۔۔ اسنے شانوں سے پکڑ کر ماں کا رخ واش روم کی جانب کیا۔۔۔
بیٹا میں کسی شادی پر نہیں جا رہی جو میرے لئے یہ کپڑے نکال رہے ہو۔۔۔ اسکی اولاد اسے کبھی کبھار یونہی عاجز کرتی تھی۔۔۔
کیا مطلب شادی مام۔۔۔ آپکو میری اتنی بڑی اچیومنٹ کی خوشی نہیں ہوئی۔۔۔ وہ حیرت سے ماں کو دیکھا چند قدم دور ہوا۔۔۔بس موڈ بگھرنے کو تھا۔۔۔
وہ سر پھرا تھا کنزل باخوبی جانتی تھی۔۔۔ لمحوں میں وہاں طوفان بھرپا کر دیتا۔۔۔
بہت خوشی ہے زونی۔۔۔ لاو چینج کر کے آوں۔۔ تبھی بات سمیٹنے کو اسکے ہاتھ سے لباس لیتی واش روم میں گھس گئ۔۔۔
اور پھر اسکے جگر گوشے نے محض وہیں اکتفا نہیں کیا تھا۔۔۔ بلکہ میچنگ جوتی۔۔۔
نہیں مام۔۔۔ میچنگ نہیں۔۔۔ یہاں کلر بریک کرتے ہیں۔۔ آپ اسکے ساتھ بلیک سینڈل پہنیں۔۔۔ اور سبز سٹون والا نیکلس اور ائیر رنگز۔۔۔ ایک ایک چیز وہ خود اسکے لئے منتخب کر رہا تھا۔۔۔ وہ تو کئ دفعہخود دھنگ رہ جاتی۔۔۔ سٹائیلنگ کی اتنی سینس اسے نا تھی جتنی اسکے صاحبزادے کو تھی۔۔۔
نو نو نو۔۔۔ بال کھلے رہنے دیں۔۔۔۔ وہ اسے بال سمیٹتا دیکھ سرعت سے بول اٹھا۔۔۔ وہ بیٹے کو بے بس نگاہوں سے دیکھتی چھوٹا سا میٹل کا کیچر بالوں کے وسط میں لگاتی اگلے چند بالوں کو سمیٹ گئ۔۔۔
اب میک آپ کریں مام۔۔۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائے کھڑا سینے پر بازو باندھے ہنوز ماں کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ کنزل نے گہرا سانس خارج کرتے فاونڈیشن اٹھائی۔۔۔ ہلکی سی فاوئنڈیشن لگانے کے بعد اسنے مسکارا لگایا اور لائٹ سے شیڈ کی لپ اسٹک۔۔۔ اسکی تیاری مکمل تھی۔۔۔
وہ اتنے میں ہی کھلتا ہوا گلاب لگنے لگی تھی۔۔۔
اب لگ رہی ہیں نا میری مام۔۔۔ چلیں آئیں ایک سیلفی لیں۔۔۔ وہ چہک کر کہتا جیب سے موبائل نکالنے لگا۔۔۔ کنزل بھی بیٹے کی خوشی دیکھ مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔وہ ماں بیٹا کم۔۔۔ دوست زیادہ تھے۔۔۔
چلیں جی۔۔۔ یہاں یہ سب ہو رہا ہے اور باہر چائے پڑی پڑی ٹھنڈی ہوگئ۔۔۔ دفعتاً سبحان کمرے میں آتا انہیں دیکھ کر تاسف سے بولا۔۔۔
چائے پھر سے بن جائے گی۔۔۔ آپ آو۔۔ مام کے ساتھ سیلفی لیں۔۔۔ زوہان کے بلانے پر سبحان بھی مسکراتا ہوا اسکی جانب بڑھا۔۔۔ دونوں ماں کے دائیں بائیں کھڑے تھے ۔۔۔ کنزل کا کل اثاثہ۔۔۔
اور کیمرے کی آنکھ نے اس خوبصورت منظر کو ہمیشہ کے لئے خود میں مقید کر لیا۔۔۔
******
آپ مجھے چھوڑ رہے ہیں خان۔۔۔ ایمان کی ذات زلزلوں کی زد پر تھی۔۔ خان کے سامنے کھڑی اس گلابی گڑیا کی آنکھیں سرعت سے بھیگنے لگی تھیں۔۔۔ ہونٹ کپکپا اٹھے تھے۔۔۔ جبکہ سینے میں مقید دل لرز اٹھا تھا۔۔
اتنی جلدی بھر گیا تھا خان کا دل اس سے۔۔۔
یار ۔۔۔۔مطلب ۔۔۔۔۔۔سویٹ ہارٹ۔۔۔ یہ آنسو کیوں۔۔۔ کیا تمہیں واپس نہیں جانا۔۔۔ اسکی حالت دیکھ خان پریشان ہو اٹھا۔۔۔ ایک تو وہ تھی اتنی کم عمر اور چھوئی موئی سی کے خان اس سے سختی یا سخت لہجے میں بات تک کرنا بھول جاتا۔۔۔ اسکی خوفزدہ ہرنی کی مانند آنکھیں خان کو سخت لب و لہجہ اختیار کرنے ہی نا دیتیں۔۔۔
یہ ہی ڈیل ہوئی تھی نا ہماری۔۔۔ کے میں جب تمہیں چھوڑنا چاہوں چھوڑ دوں۔۔۔ وہ بہت نرمی سے اسے اسی کی کہی گئ پرانی باتوں کا حوالہ دے رہا تھا۔۔۔ جبکہ ایمان بے بس بھرائی التجائیہ نگاہوں سے لب بھینچے محض اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
اچھا یار یوں تو مت دیکھو جیسے میں تم پر بہت ظلم ڈھا رہا ہوں۔۔۔
یہاں آو۔۔۔ ادھر بیٹھو۔۔۔ خان نے اسے بازو سے تھامتے صوفے پر لا کر بیٹھایا۔۔۔ وہ بھی کسی بے جان گڑیا کی مانند آ کر صوفے پر ڈھ سی گئ۔۔۔
دیکھو ہم بہت دوستانہ انداز میں الگ ہوں گے۔۔۔ تمہیں جو چاہیے وہ ملے گا۔۔۔ میں تمہیں دے ہی اتنا کچھ دوں گا کے تمہیں اپنی زندگی کے ان تین دنوں کا قلق جاتا رہے گا۔۔۔ اوکے بولو تمہیں کیا چاہیے۔۔۔ وہ اسکے مقابل بیٹھا بہت محبت سے اس سے ایک مرتبہ پھر سے ڈیل کر رہا تھا۔۔۔ و
اور وہ بس ناسمجھی بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔کیا زندگی کوئی مذاق تھی۔۔۔ یا حالات اسکے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔۔۔
دیکھو ایمان۔۔۔ تم نے مجھے ان تین دنوں میں اتنا خوش رکھا ہے کے میں تمہیں یوں اداس اور روتے ہوئے تو خود سے دور جانے نہیں دے سکتا۔۔۔ اس لئے بتاو۔۔۔ کیا چیز ہے جو تمہیں خوش کر سکتی ہے۔۔۔ تمہاری ہر خواہش مقدم جانی جائے گی۔۔۔
حالات و واقعات نے ایمان کو اسکی عمر سے بہت بڑا بنا ڈالا تھا۔۔۔ اسکا دماغ اس وقت بہت تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔
وعدہ۔۔۔ وہ جیسے اس سے کوئی یقین دہانی چاہ رہی تھی۔۔۔
وعدہ۔۔۔ خان اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا باخوبی جانتا ہے۔۔۔ خان نے اپنے ہاتھ اسکے کومل ہاتھ میں رکھتے گویا اسکی ڈھارس بندھائی۔۔۔
مجھے اسی شہر کے ۔۔۔ جھکے سر سمیٹ بات کرتے وہ زرا ہچکچائی۔۔۔
ہاں۔۔ ہاں بولو۔۔۔
مجھے اسی شہر کے بہتریں ایریا میں ایک فرنشڈ فلیٹ چاہیے۔۔۔ تھوک نگلتے وہ بات مکمل کر گئ۔۔۔ ساتھ ہی خان کا قہقہ پورے کمرے میں گھونج اٹھا۔۔۔
بس یا کچھ اور بھی۔۔۔۔
ایمان سے سر اٹھا پانا محال ہوا۔۔۔ ساتھ میں۔۔۔۔ وہ بولتے بولتے اٹکی۔۔۔
اچھا ابھی کچھ اور بھی ہے۔۔۔ وہ مخظوظ ہوتا تھوری تلے ہاتھ رکھتا اسے دلچسپ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔
جی۔۔۔
اوکے مانگوں جو چاہیے۔۔۔ خان نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔۔۔
ایمان کا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ ناجانے وہ جو کر رہی تھی وہ درست بھی تھا یا نہیں۔۔۔ اسے تو اپنی عقل و فہم کےمطابق جو درست لگا وہ کر رہی تھی۔۔۔
ساتھ میں پچاس لاکھ روپے بینک میں سیونگ اکاوئنٹ میں ڈیپوزٹ کروانے ہیں جسکا پرافٹ ہر ماہ مجھے ملے۔۔۔
اوہہہہ۔۔۔ خان نے ستائشی ائبرو اچکائی۔۔۔ خاصی دور تک کی سوچ ہے یار۔۔ ایم ایمپریسڈ۔۔۔ خان نے داد دینے والے انداز میں تالی بجائی۔۔۔
اب وہ اس سے امپریسڈ تھا یا اسے بھی باقی لڑکیوں کی طرح دولت کے پیچھے پاگل سمجھ کر مذاق اڑا رہا تھا وہ سمجھ نا پائی ۔۔ لیکن اس سے تو سر تک اٹھانا محال ہو رہا تھا۔۔۔ حلق میں آنسووں کا گولہ سا اٹک گیا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے میں امجد سے کہہ دیتا ہوں کچھ دیر تک تمہاری دونوں خواہشیں پوری ہو جائیں گی۔۔۔ پھر تم یہاں سے جا۔۔۔۔
میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی خان۔۔۔
خان گہری سانس خارج کر کے سنجیدہ سے انداز میں کہتا اپنا کوٹ جھاڑ کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا جب ایمان کے بعجلت کہنے پر وہ آگے بڑھتا بڑھتا رکا اور حیرت سے اسکی جانب پلٹا۔۔۔
ابھی بھی کچھ رہتا ہے۔۔۔
جی۔۔ اسنے سانس تک روکتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
آپ ہی نے کہا تھا کے مجھے جو چاہیے مانگ سکتی ہوں۔۔۔ آپ دیں گے۔۔۔ اسنے سرعت سے اسے اسی کی کہی بات کا حوالہ دیتے قائل کرنا چاہا کے مبادا وہ اپنی بات دے مکر ہی نا جائے۔۔۔ اور اگر وہ مکر بھی جاتا تو کیا ہی کر لیتی وہ۔۔۔
بولیں محترمہ مزید کیا چاہیے۔۔۔ وہ اکھڑے سے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ جیسے اس لڑکی کے منہ پھاڑ کر یہ سب کچھ مانگنے پر وہ دل سے اتر گئ ہو۔۔۔ اور اب وہ سر سے بلا اتارنا چاہتا ہو۔۔۔۔
یہ بھی تو وہی عام سی لڑکی نکلی جو دولت کے پیچھے پاگل ہوتی ہیں۔۔۔۔
آپ دیں گے نا جو آپ سے مانگوں گی۔۔۔ وہ اسکے قریب کھسکتی لجاہت سے اسکا مضبوط مردانہ ہاتھ اپنے کپکپاتے ہاتھ میں تھامتی گویا ہوئی۔۔۔
جب کہہ دیا کے خان اپنی زبان کی پاسداری کرنا جانتا ہے تو کہہ دیا۔۔۔ آگے بولو۔۔۔ ابکی بار لہجے میں زرا رعونت اور طیش تھا۔۔۔
ایمان کی ہمت ٹوٹنے لگی۔۔۔
اس لہجے میں تو بات نا کریں خان۔۔۔ ایسے میں میں اپنی بات کیسے مکمل کروں گی۔۔۔ سرعت سے ایمان کا لہجہ بھیگا۔۔۔۔
اوکے فائن ۔۔۔ بولو مزید کیا چاہیے۔۔۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ چلا کر خود کو کمپوز کرتا گویا ہوا۔۔۔
اور پھر جو ایمان نے کہا وہ سن کر لمحے کی تاخیر کئے بنا خان کا دماغ گھوم گیا۔۔۔
تم ہوش میں تو ہو۔۔۔۔
******
خوبصورت سی گول گلاس میز کے اوپر آلمنڈ کریم کیک پڑا تھا جسکے پیچھے جینز پر ٹی شرٹ پہنے اور اوپر جینز کے ہم رنگ کوٹ جسکی بازو کہنوں تک پیچھے ہٹائی گی تھیں زیب تن کئے۔۔۔ کوٹ کے دونوں کنارے تھامے کھڑا زوہان مسکرا کر ماں کو دیکھ رہا تھا جو موبائل کا کیمرا آن کئے اسکی فرمائش پر اسکی تصویریں بنا رہی تھی۔۔۔
جبکہ سبحان بظاہر ارد گرد کے چھوٹے موٹے کام نبٹا رہا تھا لیکن اسکی منتظر نگاہیں موبائل کی سکریں اور کان باہر گیٹ کی جانب ہی لگے تھے۔۔۔
ون مور مام۔۔۔ زوہان نے پوز بدلتے اگلی فرمائش کی جبکہ سبحان موبائل کی بپ بجتے ہی آہستگی سے لاوئنج کا دروازہ وا کرتا باہر نکل گیا۔۔۔
اسلام علیکم۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں بھاری پرجوش مردانہ آواز میں کئے جانے والے سلام پر جہاں زوہان سب چھوڑ چھاڑ خوشدلی سے باپ کی جانب بڑھا وہیں کنزل گویا اپنی جگہ ساکت رہ گئ۔۔۔ یہ غیر متوقع تھا۔۔۔ تبھی اسکا منہ کھلا رہ گیا جبکہ ہاتھ میں تھاما موبائل تک فضا میں معلق رہ گیا۔۔۔ وہ جھٹکے سے اس جانب پلٹی جہاں زوہان باپ سے مل رہا تھا۔۔۔
میرا شہزادہ۔۔۔
What a pleasant surprise dad...
How r you dear WiFiiiii...
بیٹوں سے ملنے کے بعد وہ دونوں باہیں وا کئے اسی پرجوش انداز میں حیرت زدہ سی کھڑی کنزل کی جانب بڑھا۔۔۔
شوہر کی اس گرم جوشی پر اسنے گھبرا کر بیٹوں کی جانب دیکھنا چاہا۔۔۔ زوہاں مسکراتے ہوئے کیک کی جانب متوجہ تھا جبکہ سبحان باہر گیراج میں باپ کی کار پارک کر رہا تھا۔۔۔
کنزل بعجلت اسکے حصار سے نکلتی کچن کی جانب بڑھی۔۔۔ جبکہ اسکا گریز محسوس کر وہ مسکرا کر زوہان کی جانب متوجہ ہوا۔۔ بیٹوں کے سامنے اسکے بے باک انداز پر وہ یونہی خجل ہو جایا کرتی تھی۔۔۔
میرے شہزادے نے میرا سینہ فخر سے چوڑا کر دیا۔۔۔ اب بتاو میرے شہزادے کو ڈیڈ سے کیا گفٹ چاپیے۔۔۔
وہ آ کر صوفے پر بیٹھا تو زوہان بھی دھپ سے باپ کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔۔
ڈیڈڈددد۔۔۔ راز کی باتیں سب کے سامنے نہیں پوچھتے۔۔۔ وہ کچن سے شیک کا جگ اور گلاس لاتی ماں کو دیکھ کر باپ کے کان میں گھستا گویا ہوا البتہ آواز اتنی اونچی ضرور تھی کے کنزل باآسانی اس سے مستفید ہو سکتی۔۔۔۔
کنزل نے ٹرے میز پر رکھتے اسے گھورا تو وہ مسکراہٹ دابتا چہرا جھکا گیا۔۔۔
ڈیڈ کیچ۔۔
دفعتاً سبحان نے لاوئنج میں داخل ہوتے گاڑی کی چابی باپ کی جانب اچھالی جسے اسنے اچک کر کیچ کیا۔۔۔
کنزل نے شیک جگ سے گلاس میں انڈیلتے گلاس شوہر کی جانب بڑھایا۔۔۔
اسنے پرشوق نگاہوں سے اسکا سجا سنورا سراپا نگاہوں میں بساتے گلاس تھاما۔۔
ویسے حان۔۔ زونی۔۔۔ کہیں خوبصورت لوگ آج راستہ بھٹک کر تو یہاں نہیں آگے۔۔۔ اسکی وارفتہ نگاہیں کنزل پر ہی جمی تھیں جبکہ مخاطب دونوں بیٹے تھے۔۔۔
نو ڈیڈ۔۔ خوبصورت لوگ تو ہمیشہ سے یہیں کے باسی ہیں۔۔۔ بس آج آپکی نظروں کا کمال ہے۔۔ سبحان بھی مسکراہٹ دابتا باپ کے ساتھ بیٹھا اور دوسرے گلاس میں شیک انڈیلتا پینے لگا۔۔۔
ویسے آج کے خوبصورت لوگوں کی ایکسٹرا خوبصورتی کا کریڈٹ جاتا ہے دا گریٹ زوہان کو۔۔۔۔
زوہان نے کالر اچکایا۔۔۔
کنزل صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ٹانگ پر ٹانگ جمائے گھٹنے پر کہنی رکھے ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنی تھوڑی رکھے باری باری ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ تینوں باپ بیٹے جب ملتے تھے تو گفتگو کا محور زیادہ تر وہی ہوتی۔۔۔ اور اسے بولنے کا موقع کم کم ہی ملتا۔۔۔ کئ دفعہ تو وہ تینوں مل کر ایسی ایسی باتیں کرتے کے وہ انہیں گھور کر منظر سے ہی غائب ہو جانا بہتر سمجھتی۔۔۔
مطلب آج آپکے آنے کا سرپرائز محض میرے لئے ہی تھا۔۔۔ اور اسی لئے یہ محترم میری اتنی تیاری کروا رہے تھے۔۔۔ کنزل نے ایک نظر شوہر اور دوسری نظر بیٹے کو دیکھا جسکی خوشی آج دیدنی تھی۔۔۔
سرپرائز تو ہم دونوں کے لئے تھا مام۔۔۔ لیکن آپ نے حان بھائی کی بات پکڑی ہی نہیں کے آج شام ہماری پوری فیملی ڈنر کے لئے باہر جا رہی ہے۔۔۔ اب افکورس فیملی تو ہماری ڈیڈ سے ہی مکمل ہوتی ہے نا۔۔۔
میرے خیال سے ڈیڈ ہمیں اب نکلنا چاہیے۔۔۔ پہلے اچھی سی شاپنگ کریں گے پھر ڈنڑ۔۔۔ اور اسکے بعد پھر آپ سے مجھے میری اچیومنٹ کا گفٹ بھی تو چاہیے نا۔۔۔
ماں سے بات کرتے کرتے یکدم وہ باپ سے مخاطب ہوا۔۔۔
مطلب کے شاپنگ گفٹ نہیں ہے۔۔۔ گفٹ اسکے علاوہ ہے۔۔۔ وہ حیرت زدہ سا مستفسر ہوا
افکورس ڈیڈ۔۔ آپکو کیا لگتا ہے آپکو میں اتنے سستے میں چھوڑ دوں گا۔۔۔ زوہان نے چہکتے ہوئے آنکھ اچکائی۔۔۔۔
کنزل انہیں باتیں کرتا چھوڑ اندر سے اپنا ہینڈ بیگ اور چادر لینے چلے گئ۔۔۔
اور گفٹ کیا ہے۔۔۔ باپ نے دلچسپی سے پوچھا۔۔۔
وہ یہ آپکو مام کے سامنے نہیں بتا سکتا۔۔۔ورنہ اسے جوتے پڑنے کا خدشہ لاحق ہے۔۔۔ سبحان نے اٹھتے ہوئے ٹکرا لگایا۔۔۔
مطلب میری سہی واٹ لگنے والی۔۔
آپکی سوچ سے زیادہ ڈیڈ۔۔۔بس تیار رہیے۔۔۔
اوکے۔۔۔ گفٹ سے پہلے تمہیں ماں سے جوتے لگنے کا خدشہ ہے۔۔۔ اور بعد میں جب وہ دیکھے گی تو۔۔۔
وہ تینوں بات کرتے کار پورچ تک آگئے تھے۔۔۔
تو آپ کس مرض کی دعا ہیں ڈیڈ۔۔۔ آپ کہیں گے نا کے زوہاں کہاں لے رہا تھا۔۔۔ وہ تو میں نے اسے زبردستی لے کر دیا ہے اسکی اچیومنٹ کی خوشی میں۔۔۔ بائے دا وے میرے شہزادے کی اچیومنٹ بھی تو چھوٹی نہیں۔۔۔
مائے گاڈ۔۔۔ لڑکے یہ اتنی چالاکیاں اور چالبازیاں کہاں سے سیکھ رہے ہو۔۔۔۔ ماں تو تمہاری بہت سادہ ور معصوم ہے۔۔۔۔
وہ تاسف سے کہتا ڈرائیونگ ڈور کھول کر اندر بیٹھا۔۔۔
ماں تو بہت معصوم ہے پر دراصل میں باپ پر چلا گیا۔۔۔ جہاں اسکی بات پر باپ نے اسے تاسف سے گھورا وہیں سبحان کا قہقہ پھوٹ پڑا۔۔۔۔
ہاں تمہارے باپ کے ہی پرچوں میں نام ہیں نا۔۔۔
کنزل کو لاوئنج کا دروازہ بند کرتا دیکھ اسنے گاڑی سٹارٹ کی۔۔
اس بات کا جواب اگر میں نے آپکو دیا تو آپکی مسز کو برا لگ جانا ہے۔۔۔ اسنے شان بے نیازی سے شانے اچکائے۔۔۔۔
بابا آپ باتوں میں اس سے نہیں جیت سکتے۔۔۔ اسے خاموش بھی بس آپکی مسز ہی کروا سکتی ہے۔۔۔
دفعتا کنزل کے آ کر بیٹھنے پر سبحان کی بات سچ ثابت ہوئی۔۔۔
تمہیں پتہ ہے کنزل ابھی زوہان مجھے کیا کہہ رہا تھا۔۔۔
کنزل کے بیٹھتے ہی گاڑی گیٹ سے باہر نکالتے زوہان کو خاموش دیکھ اسے زرا شرارت سوجھی۔۔۔
کیا۔۔۔ کنزل چونکی۔۔۔
کچھ نہیں مام۔۔۔ آپکے ہزبینڈ آج آپکی بہت تعریف کر رہے تھے۔۔۔ کہہ رہے تھے میری وائفی آج بہت حسین لگ رہی ہے اور تم دونوں ہوکے ہمیں پرائیویسی تک نہیں دے رہے۔۔۔ تو میں نے کہہ دیا کے ہم دونوں بھائی اپنی شاپنگ خود کر لیں کے۔۔۔ آپکی پرائیویسی میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔۔۔ آپ جانیں اور آپکی وائفی۔۔۔ آپ بس اپنا کریڈٹ کارڈ ہمیں دے دینا۔۔۔
جہاں زوہان کے چالاکی پر باپ نے اسے گھورا وہیں سبحان قہقہ لگاتا ہس دیا۔۔۔
جبکہ کنزل اسے گھورنے کے بعد شوہر کو پرتاسف ملتجی نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔۔۔
خیر اس میں تو کوئی شک نہیں۔۔۔ مام تو تمہاری آج واقعی۔۔۔
انف۔۔۔ اگر آپ سب نے مل کر مجھے تنگ کرنے کا سوچا بھی تو میں یہیں سے واپس چلی جاوں گی۔۔۔ کنزل کے تنبیہی انداز میں وارنینگ دینے پر وہ تینوں سیز فائر کر گئے۔۔۔
******
Ups and downs is the part of our life...
ایسی ہی کچھ بہت زیادہ مصروفیات کی وجہ سے قسط بہت تاخیز کا شکار ہوگئ۔۔۔ پہلے رمضان کا آخری عشرہ ۔۔۔ پھر عید اور پھر واپس نارمل روٹین پر آنا۔۔۔ خیر اس بارے میں میں پہلے ہی مطلع کر چکی تھی۔۔۔
ویل دعا گو ہوں اور پوری کوشیش کروں گی کے آئندہ قسط وقت پر اپلوڈ ہو۔۔۔
Remember me in your prayers & don't forget to share your review's about novel...

No comments