khuab_e_janoon novel 58th episode by Umme Hania۔
khuab_e_janoon novel 58th episode by Umme Hania۔
Online Reading
ناول "خوابِ جنون"۔
مصنفہ "ام ہانیہ"۔
Official pg : Umme Hania official
58th eoisode
کافی دنوں بعد عفرا آج کچھ بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔۔ فریش ہو کر وہ کافی دیر تک اپنے نوٹس کے ساتھ سر کھپاتی رہی پھر ایک کتاب اٹھا کر باہر لان میں آگئ۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اسے کافی بھلی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ منہمک سی کتاب پڑھ رہی تھی جب ڈرائیوے پر امان کی گاڑی آ کر رکی۔۔۔
وہ عفرا کو لان میں بیٹھا دیکھ چکا تھا اس لئے گاڑی سے اتر کر سیدھا اسی کی طرف آیا۔۔۔
عفرا بھی اسے اپنی جانب آتا دیکھ کتاب بند کر کے سامنے پڑے میز پر رکھتی مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
وہ جینز اور ڈریس شرٹ پر ویسکوٹ پہنے کافی فارمل ڈریسنگ میں موجود تھا۔۔۔ غالبا کسی فنگشن سے واپس آ رہا تھا۔۔۔
آج وہ کافی دنوں بعد وقت پر گھر آیا تھا۔۔۔ ورنہ ویک اینڈ کے سوا اکثر ہی وہ لیٹ ہو جاتا تھا۔۔۔۔
فریش فریش سی عفرا کو دیکھ کر اسے کافی بھلا محسوس ہوا۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ پرانی عفرا میں بدل رہی تھی اور یہ امان کے لئے کافی خوشگوار احساس تھا کے وہ اس خود ساختہ احساس کمتری کے احساس سے نکل رہی تھی۔۔۔۔
آج تو کوئی بہت نکھرا نکھرا سا لگ رہا ہے۔۔۔ وہ اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے ہی شریر انداز میں گویا ہوتا پرسکون انداز میں کرسی گھسیٹ کر بیٹھا۔۔۔ جبکہ عفرا کھلکھلا کر ہس دی۔۔۔
اسکی ہسی صحیح معنوں میں امان کے اندر سکون کی لہریں اتارتی چلی گئ۔۔۔۔
میرا چھوڑیں آپ بتائیں کہاں سے آ رہے ہیں۔۔۔ اور ہم غریبوں کی اتنی قسمت کہاں کہ محترم سی اے چائے والا صاحب سے دن کی روشنی میں شرف ملاقات حاصل ہو ۔۔۔ یہ آج قسمت کو ہم پر ترس کیسے آ گیا۔۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں مسکراہٹ روکتی شرارت سے گویا ہوئی۔۔۔
آج ایک یونیورسٹی میں سیمینار تھا جہاں مجھے ایز آ گیسٹ انوائٹ کیا گیا تھا وہاں سے جلدی فری ہو گیا تو گھر آگیا۔۔۔ وہ اسکی بات پر کھل کر مسکراتا گویا ہوا۔۔۔
جب سے امان کی ٹی پلیس کا افتتاح ہوا تھا اور اسکا چینل گرو کیا تھا اسے کئ کالجز اور یونیورسٹز میں سٹوڈینٹس کو موٹیویٹ کرنے کے لئے مختلف سیمینارز میں ایز آ موٹیویشنل سپیکر انوائٹ کیا جانے لگا تھا۔۔ اور اسکی شخصیت اسقدر مقناطیسی تھی اور وہ سٹودینٹس کا اسقدر دلعزیز تھا کہ جس سیمینار میں جاتا وہاں چار چاند لگا دیتا۔۔۔
سوشل میڈیا اور اسکے اونلائن پلیٹ فارمز بالخصوص اسکے یوٹیوب چینل کے ذریعے سے کئ میگزینز میں اسکی کامیابی کی کہانی چھپی تھی۔۔۔ مختلف شوز میں اسے انوائٹ کیا جا رہا تھا۔۔۔ اب اسکا بیشتر وقت سفر میں ہی گزر رہا تھا۔۔۔
چلیں شکر ہے اسی بہانے صحیح آپ ہمیں میسر تو ہوئے۔۔۔۔
وہ ریلیکس سا کرسی پر نیم دراز مسکراتے ہوئے عفرا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔ کیا کبھی آپ نے خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی۔۔۔ وہ اسکی محویت نوٹ کرتی آنکھ اچکا کر گویا ہوئی۔۔۔
دیکھی ہیں۔۔۔۔ بہت دیکھی ہیں۔۔۔ لیکن اس لڑکی جیسی کوئی نہیں دیکھی۔۔۔ وہ آنکھ سے عفرا کی جانب اشارہ کرتا مخمور لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
اسکے اس انداز پر عفرا نے جھینپ کر نظریں پھیریں۔۔۔
اچھا لگ رہا ہے تمہیں یوں دیکھ کر۔۔۔۔
ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔ وہ میز سے کتاب اٹھا کر اسکے سر ورق پر انگلی پھیرتی گویا ہوئی۔۔ ۔
ہمم پوچھو۔۔۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
How to be fearless....
خوف سے آزاد کیسے ہوا جائے۔۔۔ سیلف ڈاوٹ کو کیسے ختم کیا جائے امان۔۔۔ ایک نیوٹرل شخصیت کیسے بنا جائے جو فیئرلیس ہو کر اپنا کام کرے جسے دوسروں کی باتیں ایفیکٹ نا کریں۔۔۔۔ جو دوسروں کی باتوں پر ڈس ہارٹ ہو کر اپنی توجہ منتشر نا ہونے دے۔۔۔
وہ کتاب کے سرورق پر ہاتھ پھیرتی آہستہ آہستہ بول رہی تھی جبکہ امان شدت سے اسکی بات کا مفہوم سمجھ پا رہا تھا۔۔
ٹاپک بہت لمبا ہے یہ عفرا اتنے کم وقت میں یہ کور نہیں ہو سکتا۔۔۔۔
لیکن مختصراً تمہاری بات کا جواب یہ ہی ہے کہ بے خوف ہوا جاتا ہے اپنے کام کے ساتھ خطرناک حد تک ایماندار ہونے سے۔۔۔ اپنا سو فیصد دینے سے۔۔۔ اور نتائج کی پرواہ نا کرتے اپنے کام کیساتھ مخلص رہنے سے۔۔۔
ہم خوف زدہ کب ہوتے ہیں جب ہمیں ڈاوٹ ہوتا ہے کہ پتہ نہیں جو ہم نے کیا وہ ٹھیک ہے یا نہیں لوگوں کو پسند آئے گا یا نہیں۔۔۔ لیکن جب ہم اس چیز پر مکمل ریسرچ کر لیتے ہیں اسکے بارے میں نالج حاصل کرتے ہیں پھر جتنا ہم اس چیز کے متعلق جانتے جاتے ہیں ہمارا سیلف ڈاوٹ ختم ہوتا جاتا ہے۔۔۔
پھر ہم اپنا سو فیصد دیتے ہیں اپنا کام کرنے میں اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو سو میں سے دو فیصد لوگ ضرور ایسے ہوتے ہیں جو آپکو سیلف ڈاوٹ میں ڈالنے آئیں گے۔۔۔ انہیں ٹاکسک لوگ کہا جاتا ہے جو اپنے اندر کی کھولن کسی بھی صورت اتارنا چاہتے ہیں۔۔۔ اور ایسا ہر جگہ ہوتا ہے۔۔۔
میں نے ویڈیوز بنانی شروع کی تھی تو مجھے بہت سے میسجز موصول ہوتے تھے کیا فضول کام شروع کیا ہے تم نے۔۔۔
پہلے خود تو کچھ بن لو پھر دوسروں کو موٹیویٹ کر لینا۔۔۔ تمہاری بکواس کی کوئی ضرورت نہیں انٹرنیٹ بھرا پڑا ہے ان چیزوں سے۔۔۔
لیکن اپنے کام کے ساتھ مخلص انسان ان باتوں پر محض سر جھٹکتا ہے۔۔۔ تب میرا مائنڈ سیٹ پتہ ہے کیا ہوتا تھا۔۔۔ میں اپنا سو فیصد دے رہا ہوں میں اپنے کام سے سیٹیسفائڈ ہوں۔۔ جسے اس چیز کی میرے کانٹینٹ کی طلب ہے وہ آئے گا میرا سارا کانٹینٹ فری آف کاسٹ ہے۔۔۔ جسے ضرورت نہیں وہ مت میرا کانٹینٹ دیکھے۔۔۔ اسکے مزاج کے مطابق بھی بہت سارا کانٹینٹ اسے مل جائے گا پھر وہ شخص یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔
جب صلے کی توقع کئے بنا محنت کی جاتی ہے نا تو وہ آپکو بے خوف بنا دیتی ہے۔۔۔
یہ ہی صورت حال دوسری صورت میں بھی پیش آتی ہے۔۔۔ کسی کو طلاق ہوگئ کسی کی اولاد نہیں یا کسی کی شادی نہیں ہو رہی تو وہ بندی تو اپنے حالات سے سیٹسفائڈ ہو جاتی ہے اپنا آپ اپنے اللہ کے حوالے کر دیتی ہے تو ایسے میں پھر سیلف ڈاوٹ کیسے پیدا ہوتا ہے۔۔۔
یہ لوگ ہوتے ہیں جو ہم میں سیلف ڈاوٹ پیدا کرتے ہیں۔۔۔
کبھی کہیں کوئی ترس یا ہمدردی کی چادر میں لپٹا تیز جو دل کو چھلنی کر جاتا ہے۔۔۔ ہاہ۔۔۔ تمہاری ابھی تک شادی نہیں ہوئی۔۔۔
اوہ ہو۔۔۔ شادی کو اتنا عرصہ ہوگیا مگر ابھی تک ولاد نہیں ہوئی۔۔۔
بہت افسوس ہوا کہ تمہارا گھر ٹوٹ گیا۔۔۔ مسلسل یہ فقرے انسان کو بیچارا بیچارا سا محسوس کرواتے ہیں۔۔۔
سیلف ڈواٹ پیدا کرتے ہیں پھر معاملہ چاہیے آفیشل کام کا ہو یا پرسنل زندگی گا۔۔۔۔
حل صرف ایک ہی ہے بنا نتائج کی پرواہ کئے اپنا سو فیصد دینا سب کچھ اللہ پر توکل رکھتے اس پر چھوڑنا اور لوگوں کو انکی ٹاکسک باتوں کو اگنور کرنا۔۔۔
یقین انسان نے خود پر کرنا ہوتا ہے یار۔۔۔ لوگ تو آپ پر مرتے دم تک یقین نہیں کریں گے۔۔۔ آپ کا خود پر یقین ہی آپکو پار لگواتا ہے ورنہ لوگ تو کھڑے ہیں آپکی کشتی کو دبونے کے لئے۔۔۔۔
صرف یہ چیز انسان کو بے خوف بناتی ہے۔۔۔ اس چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ نالج۔۔۔ اپنے کام سے مخلص ہونا اور نتائج کی پرواہ کئے بنا اپنے کام کے لئے اپنا سو فیصد دینا۔۔۔ پھر انسان کے دل میں کوئی خوف نہیں رہتا۔۔۔ پھر اگر وہ خود اپنے کام سے مطمیئں ہے نا تو لوگوں کے اپروولز کی ضرورت نہیں رہتی۔۔۔
دوسروں کے اپروول کی ضرورت ان لوگوں کو پڑتی ہے جو سیلف ڈاوٹ کا شکار ہوتے ہیں ایسے لوگ پھر دوسروں کے اشاروں پر ہی چلتے رہتے ہیں پوری زندگی۔۔۔ جنکی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی۔۔۔ اس لئے ہر انسان کو اپنے گرد موجود سیلف ڈاوٹ کے اس خول کو توڑ کر اس سے باہر نکلنا چاہیے۔۔۔۔
وہ اردگرد درختوں پر پھدکتی چڑیا کو دیکھ رہا تھا جبکہ عفرا توجہ سے اسے دیکھتی سن رہی تھی۔۔۔
شاید اتنے دنوں میں اسکی غیر موجودگی سے وہ اسی ایک چیز کو مس کر رہی تھی۔۔۔ ایسے ہی لفظوں کے مرہم جو ہمیشہ وہ اسکے ان دیکھے زخموں پر رکھتا تھا۔۔۔ یہ حوصلہ اور امید افزا باتیں۔۔۔۔ ہوتے ہیں نا زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی جنکی محض باتیں ہی آپکے لئے انرجی کا کام کرتی ہیں ایسا ہی ایک مقام امان بھی عفرا کی زندگی میں رکھتا تھا۔۔۔۔
اسنے ایک گہرا سانس فضا کے سپرد کیا اب وہ خود کو قدرے بہتر محسوس کر رہی تھی۔۔۔
میں آپکو اجازت دیتی ہوں امان آپ دوسری شادی کر لیں۔۔۔ وہ مسکرا کر امان کی جانب دیکِھتی گویا ہوئی۔۔
ارررےےےے۔۔ امان چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوتا قہقہ لگاتا گویا ہوا۔۔۔
اتنی زرہ نوازش۔۔۔
میں سنجیدہ ہوں امان۔۔۔ وہ امان کو یوں اپنا مذاق اڑاتے دیکھ برا منا کر گویا ہوئی۔۔۔
تو یار میں بھی سنجیدہ ہوں۔۔۔ درحقیقت اس اجازت نامہ کے ملنے کی خوشی مجھ سے سمبھالی نہیں جا رہی یاررر۔۔۔ کیا اب میں تمہارے سامنے اپنی خوشی بھی نہیں منا سکتا۔۔۔ وہ ہنوز ہستا ہستا دہرا ہو رہا تھا۔۔۔۔
امان خالہ بہت اداس رہنے لگی ہیں تو میرے خیال سے۔۔۔
عفی پرنسس تم اپنے خیالات اپنے پاس رکھو۔۔۔ اپنی ماں کی اداسی دور کرنے کو ابھی انکا بیٹا ہے۔۔۔ وہ میز پر جھک کر اسکی گال سہلاتا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔ رہ گئ بات شادی کی اجازت کی ۔۔ تو کبھی فرصت میں بیٹھ کر اس معاملے پر بھی سوچیں گے۔۔۔
ابھی فلحال کے لئے تو تمہارا شوہر تھکا ہارا گھر آیا ہے اس لئے اچھی بیویوں کی طرح چائے بناو اور امی کے کمرے میں ہی لے آنا میں فریش ہو کر وہیں آتا ہوں۔۔۔
وہ اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتا اسکی گال تھپتھپا کر اٹھ کھڑا ہوا جبکہ عفرا بھی اداسی سے مسکراتی اسے اندر جاتا دیکھتی رہی۔۔۔۔
آج اسکا دل ایک خوف سے آزاد ہو گیا تھا۔۔۔
شراکت کا خوف۔۔۔
وہ اس خوف سے آزاد ہو گئ تھی۔۔۔ اسنے اپنے شوہر کو اپنے خود ساختہ شکوک و شبہات سے آزاد کر دیا تھا۔۔۔ اب یہ امان کی مرضی تھی چاہتا تو شادی کر لیتا۔۔ ناچاہتا تو نا کرتا۔۔۔۔
اب وہ بھی زرا بے خوف ہو کر زندگی گزارنا چاہتی تھی۔۔۔
اسنے اس معاملے میں سوچا تھا۔۔۔ اور بہت سوچا تھا۔۔۔ آخر میں وہ اسی نتیجے پر پہنچی تھی کہ اس دنیا میں کوئی ایک پتہ بھی اس کے رب کے حکم کے سوا نہیں ہل سکتا تھا۔۔ یہ صرف انسان کا گمان ہی ہوتا ہے کہ وہ یہ کر لے گا وہ کر لے گا۔۔۔ آخر میں ہوتا وہی ہے جو اسکا رب چاہتا ہے۔۔۔ اور اسکا رب اپنے بندوں کے لئے ہمیشہ بہتر سے بہترین چنتا ہے۔۔۔
تو اسنے خود کو اپنے رب کی رضا کے تابع کر دیا تھا۔۔۔
اگر امان دوسری شادی کر لیتا تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا۔۔۔ اسنے آخری حد ناپنی چاہی۔۔۔
اسکی ایک اور بیوی ہو جاتی بچے ہو جاتے۔۔۔۔ لیکن کیا اسکا شوہر دوسری بیوی یا بچوں کی موجودگی میں اسے فراموش کر دیتا۔۔۔
نہیں کبھی نہیں۔۔۔ اندر سے آواز ابھری تھی۔۔۔ وہ شخص رشتوں میں توازن رکھنا جانتا تھا اور یہ اسکی سوچ کی آخری حد تھی وہ بھی اگر اللہ چاہتا تو۔۔۔۔
ورنہ وہ اب پرامید تھی کہ یقیناً اللہ اسکے حق میں بہترین فیصلہ ہی لے گا۔۔۔
وہ خود کو اللہ کے فیصلوں کے تابع کر چکی تھی۔۔۔ محض ایک اولاد نا ہونے کے غم کی نظر وہ اپنی پوری زندگی نہیں ہونے دے سکتی تھی۔۔۔ صرف اس ایک نعمت کے نا ہونے پر وہ اپنے رب کی عطا کردہ باقی سبھی نعمتوں سے منہ نہیں پھیر سکتی تھی۔۔۔۔
ان چند دنوں میں اسنے اپنی ذات کے بارے میں بہت کچھ ایکسپلور کیا تھا۔۔۔
اسے اس خود ساختہ احساس کمتری کے احساس سے نکلنا تھا۔۔۔ وہ ان سٹوپ ایبل تھی۔۔۔ اسے ان سٹوپ ایبل بن کر ابھرنا تھا۔۔۔
اپنے اس دنیا میں آنے کے پیچھے چھپے مقصد کا حق ادا کرنا تھا۔۔۔ ایک محرومی کے پیچھے وہ سسک سسک کر مر نہیں سکتی تھی۔۔۔ اسے ابھی بہت کچھ کرنا تھا اور امان کی ہمراہی میں وہ یقیناً بہت آگے تک جاتی اس لئے آج اسنے امان کو اپنے خود ساختہ واہمات سے آزاد کر دیا تھا کہ کہیں یہ چیز انکی دوسری جیسے رشتے کو نگل نا جائے۔۔۔
ایک نئے عزم کے ساتھ وہ وہاں سے اٹھی تھی۔۔۔
دل کے ایک کونے سے جیسے اسکے اس فیصلہ پر تکلیف اٹھی تھی جسے وہ کمال مہارت سے نظر انداز کر گئ کہ میرا رب مجھ سے بہتر میری تکلیفوں کو جاننے والا ہے۔۔۔ جب یہ تکلیف میں محسوس کر سکتی ہوں تو وہ مجھ سے بہتر طریقے سے محسوس کر سکتا ہے اور انشااللہ وہ جلد اور بہت بہتر انداز میں اس تکلیف کا کوئی حل نکال دے گا۔۔۔۔
سمندر کے اندر کھڑے ہو کر جب خود کو اس خدا کے حوالے کر ہی دیا تو پھر کیا فرق پڑتا ہے وہ اسی سمندر میں دبو دے یا باہر نکال دے۔۔۔ اور یقین مانو اگر اس نے دبو بھی دیا نا تو وہی بہتر ہوگا تمہارے حق میں جو انسان کی عقل و بصارت کی آنکھ سے پڑے ہوتا ہے۔۔۔۔
مگر وہ اللہ ہے جو سب جانتا ہے۔۔۔ وہ بھی جو تمہیں چاہیے۔۔۔ اور وہ بھی جو تمہارے لئے بہتر ہے۔۔۔ اور تمہاری چاہت کے پیچھے وہ تمہارے لئے اپنی بہتری کے فیصلے نہیں بدلتا لیکن ہاں تمہارا دل اپنے فیصلوں کے تابع کر کے اسے سکون سے ضرور نواز دیتا ہے بلاشبہ اس دنیا میں سب سے زیادہ اہم دل کا سکون ہی ہے اور وہ سکون صرف اسی ذات کے پاس ہے جو اسی سے دل لگا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔۔ اور اب عفرا کو بھی محض وہی سکون چاہیے تھا۔۔ اسی لئے وہ خود کو اسکی رضا کے تابع کر کے ہر طرح کے نتائج سے بے خوف ہو گئ تھی۔۔۔
*****

No comments