Q and A session with Umme Hania..
Q and A session with Umme Hania...
1.ام ہانیہ کے ناولز میں حقیقت کہاں تک ہوتی ہے یا پھر وہ محض خیالی پلاؤ ہوتے ہیں ۔
جواب۔۔ بہت انٹرسٹنگ سوال ہے یہ کہ میرے ناولز میں حقیقت کہاں تک ہوتی ہے ۔ میرے اب تک کے سبھی ناولز میں سے کوئی ایک ناول بھی بذات خود حقیقی کہانی نہیں ہے لیکن وہ سب کہانیاں حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ جب نام لکھنے کی باری آتی ہے تو سب سے پہلے اس کے لئے ٹاپک منتخب کرنا ہوتا ہے اور وہ ٹاپک میں اپنے اردگرد دیکھ کر وہاں سے منتخب کرتی ہوں اور پھر اس منتخب شدہ ٹاپک پر اردگرد نظر ثانی کرنے کے بعد مشاہدہ کرتی ہوں کہ اس ٹاپک سے ریلیٹڈ ہمارے معاشرے میں کیا خوبیاں پائی جاتی ہیں اور کیا خامیاں پائی جاتی ہیں ۔
پھر ان خوبیوں اور خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو کہانی کا پلاٹ اس کے ڈائیلاگز اس کے کردار اور اس کے سینز تخلیق کیے جاتے ہیں وہ سب فرضی ہوتے ہیں ۔۔۔
جیسا کہ میرا گزشتہ ناول بے درد پیا صبر اور برداشت پر تھا اور آپ خود اپنے اردگرد کا مشاہدہ کر کے دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے جو موجودہ حالات ہیں ان میں صبر اور برداشت کی کس قدر کمی ہے ۔ اگر کوئی ہمیں اینٹ سے مارتا ہے تو ہم اس کا جواب پتھر سے دیتے ہیں اور حضرت علی کا قول ہے کہ کبھی بھی اندھیرے سے اندھیرے کو ختم نہیں کیا جاسکتا اندھیرے کو ہمیشہ روشنی ہی ختم کر سکتی ہے تو یہ میری ایک ادنیٰ سی کاوش ہوتی ہے کہ معاشرے میں موجود کسی بھی ایک ٹاپک پر نظر ثانی کر سکوں ۔۔
2 .ام ہانیہ کے ناولز اس قدر دکھی کیوں ہوتے ہیں
جواب ۔ ہماری بہت ساری رائٹرز ہیں جو فکشن لکھتی ہیں بہت سے رائٹرز ایسی ہیں جو فینٹسی لکھتی ہیں کچھ فنی ناولز لکھتی ہیں اور کچھ رومانس پر لکھتی ہیں ہر کسی کا اپنا ایک لکھنے کا ایک انداز ہوتا ہے ایک طریقہ ہوتا ہے جس کے تحت وہ سب لکھتے ہیں اسی طرح میرا بھی ناول لکھنے کا ایک طریقہ ہے بہت ساری رائٹرز کہتی ہیں کہ وہ فنٹسی اس لئے لکھتی ہیں کیونکہ ہماری زندگیاں اس قدر تلخ ہوتی ہیں اور سختیوں اور مشکلات سے بھری ہوئی ہوتی ہیں کہ اس مشکلات بھری زندگی میں کچھ پل پر سکون ہونے کے لیے جب ریڈرز ناول پڑھیں تو وہ اپنی پریشانیوں اور مشکلات سے باہر نکل کر ایک اور دنیا میں پہنچ جائے ۔ کسی حد تک ان رائٹرز کا یہ نقطہ نظر بہت بہتر ہے اچھا ہے لیکن میرا نقطہ نظر اس سے تھوڑا سا الگ ہے ۔
میرے خیال سے اور یہ صرف میرا خیال ہے آپ لوگوں کا اس خیال سے متفق ہونا ضروری نہیں میرے خیال سے یہ حالات سے فرار حاصل کرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہوتی ہے ۔۔ اس لئے میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ کس طرح سے اپنی زندگی کی مشکلات کو فیس کیا جائے کیونکہ زندگی پھولوں کی سیج تو کبھی نہیں ہوتی اس دنیا میں کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں ہے جس کی زندگی میں پریشانیاں نہ ہوں اس لئے ان حالات میں پریشانیوں سے منہ موڑ کر ان حالات سے فرار حاصل کرنے کی بجائے ان پریشانیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں فیس کرنا چاہیے اور یہی نقطہ نظر ناولز کے ذریعے آگے تک پھیلانا چاہتی ہو کہ ان مشکلوں سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ لڑنا ہے ۔
ناول میں انمول کو لکھنے کے پیچھے بھی کچھ ایسا ہی جذبہ کار فرما ہے کیونکہ جب اس ناول کو لکھنے کی باری آئی تو یہ وہ پہلا ناول تھا جس کو شروع کرنے سے پہلے مجھے بہت زیادہ سوچنا نہیں پڑا کیونکہ اس ایک چیز نے مجھے بہت شدت سے اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔۔۔ جب میں نے ذرا گہرائی سے اپنے اردگرد دیکھا اس چیز کا مشاہدہ کیا تو یقینی بات ہے یہ سب باتیں ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ ہم لوگ وقت کا ضیاع بہت زیادہ کرتے ہیں ہمارا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا کے سبھی پلیٹ فارمز پر صرف ہو جاتا ہے ۔ واٹس ایپ سے فیس بک فیس بک سے ٹویٹر ٹویٹر سے انسٹا اور آخر میں یوٹیوب ہمارا سارا وقت کھا جاتے ہیں یہ نہ صرف ہمارا وقت کھا رہے ہیں بلکہ ہماری نوجوان نسل کے ٹیلنٹ کو بھی کھا رہے ہیں ہم لوگ ان سب چیزوں سے باہر نکل کر کچھ سوچ ہی نہیں رہے اور یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے ۔
آج کل ہماری رات بارہ ایک بجے سے پہلے نہیں ہوتی اور ہماری صبح بالخصوص لاک ڈاون کے دنوں میں دوپہر گیارہ بارہ بجے سے پہلے نہیں ہوتی ہم ایہ ایک بالکل الٹا چکر چلا چکے ہیں اس چیز کے برعکس جو ہمیں ہمارے اسلام نے سیکھائی۔۔
ایسے میں ایک ایسا سخص جس کی صبح دوپہر گیارہ بجے سے پہلے نہیں ہوتی اور ایک ایسا شخص جس کی صبح فجر کی پہلی اذان کے ساتھ ہو جاتی ہے ہم ان دونوں کا موازنہ کر کے دیکھ سکتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کون سا شخص مستقبل میں کامیاب ہو سکتا ہے ۔ جب اس چیز کی ہسٹری پر ریسرچ کی میں نے تو بہت حیرت انگیز انکشافات میرے سامنے آئے جن کے مطابق سینکڑوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے لاک ڈاؤن کے دنوں میں اس وقت کو اچھے سے استعمال کرتے ہوئے اونلائن فیلڈ میں بہت نام کمایا اور وہ فنانشلی طور پر بہت مضبوط ہوئے لیکن ان کی تعداد کچھ تھی وہ محض کچھ گنے چنے لوگ تھے میچورٹی نے اپنا وقت ضائع کیا برباد کیا اس ایک چیز نے مجھے ناول انمول پر قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ۔۔۔ کہ جب کچھ گنے چنے لوگ اس فیلڈ میں اپنا نام بنا سکتے ہیں تو پھر سبھی کیوں نہیں۔۔۔
آپ کا لکھا ایک ایک لفظ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن جاتا ہے ایک اچھی بات ایک اچھی چیز جو کسی دوسرے کے دل میں امید کی ایک کرن جگا سکے اس سے بہتر کوئی اور کام دنیا میں نہیں ہو سکتا اور پھر ایک اور بات جو میں نے سیکھی وہ یہ تھی کہ اگر کوئی کام کرنا ہی ہے تو بامقصد کرو صرف اپنے لئے ہی نہیں دوسروں کے لیے بھی ۔
اگر آپ کی بدولت کسی دوسرے کے لئے کوئی آسانی پیدا ہو سکے تو یقین مانیں اللہ خود بخود آپ کے راستوں میں آسانیاں پیدا کرتا جاتا ہے میں نے ایک بات سنی تھی کہ کوئی بھی اچھی چیز ہو وہ آگے پھیلانا صدقہ جاریہ ہے تو جو کچھ میں نے سیکھا سمجھا اپنے تجربات اور مشاہدات کو آپ سب سے شیئر کرنے کی کوشیش کرتی ہوں۔۔ شاید اسی لئے میرے ناولز سب کو دکھی لگتے ہیں۔ کیونکہ زندگی خود دکھوں کا گھر ہے اس میں سے ہمیں خود خوشیوں کو کشید کرنے کی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
3. ناول میں انمول مکمل کب ہوگا یا اس کی کتنی اقساط باقی ہیں ۔۔۔
دراصل میرا شمار لوگوں کی اس قسم میں ہوتا ہے جو اپنے کام کو ٹالنے کے عادی ہوتے ہیں اور ایسے ہی آخری وقت آ پہنچتا ہے جب وہ لوگ پھر افتاد و خیزاں اس کام کو مکمل کرتے ہیں ۔
میرا گزشتہ ناول بے درد پیا 2019 کے آخری مہینے دسمبر میں مکمل ہوا تھا اس کے بعد میں نے
2020
کا پورا سال ناول میرا محرم لکھنے پر لگا دیا
کیونکہ اس دوران میں نے بہت پرسکون رہ کر کام کیا کیوں کہ وقت کی کوئی قید نہیں تھی۔جب بھی مکمل ہو جاتا ٹھیک تھا اس لیے کچھ دن کام کیا بیچ میں کچھ دن آرام کیا پھر سے جب یاد آیا تو دوبارہ سے اس کے اوپر کام کیا اس لیے مجھے پورا ایک سال لگا ناول میرا محرم کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے لیکن اس ناول کو مکمل کرنے کے بعد میں سوچ میں پڑ گئی کہ میرا یہ طرز عمل ٹھیک نہیں ہے یہ طریقہ کار میرا بہت سارا اضافی وقت کھا جاتا ہے اس لیے اب مجھے خود کو ڈیڈ لائنز دے کر کام کرنے کی ضرورت تھی ۔۔۔
اس لئے میں انمول ناول میرے پاس مکمل طور پر لکھا ہوا نہیں ہے اس کی روزانہ کی ایک قسط میں لکھتی ہوں پھر اسے ایڈیٹ کرتی ہوں اور پھر اسے اگلے دن پوسٹ کر دیتی ہوں یہ طریقہ کار مجھے زیادہ بہتر لگا کیونکہ اس میں ڈیڈلائن کے اندر رہتے ہوئے مجھے ایک دن کے اندر اندر ایک قسط کو مکمل کرنا ہوتا ہے اور اگلے دن اسے پوسٹ کرنا ہوتا ہے اور اس طرح سے وقت پر میرا کام مکمل ہو جاتا ہے اس لیے میں ناول میں انمول کے بارے میں یہ تو بتا سکتی ہو کہ یہ ناول اپنے اختتامی مراحل میں ہے بہت جلد اس کا اختتام ہو جائے گا لیکن اس کی کتنی اقساط باقی ہیں اس کے بارے میں میں ابھی خود نہیں جانتی ۔۔۔ کیونکہ باقی کے تمام حالات و واقعات کا اسکیچ میرے دماغ میں ہے لیکن وہ کتنی اقساط میں سمٹے گا اس کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتی کوئی امید ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک یا اگلے ہفتے کے شروع میں اس ناول کا اختتام ہو جائے ۔۔۔
سوال۔۔۔ عدیلہ کا سچ کب سامنے آئے گا ۔۔
جواب۔ ۔۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آپ پورا ناول پڑھنا پڑے گا کیونکہ اس بارے میں کوئی بھی جواب دے کر میں ناول کا سسپینس خراب نہیں کر سکتی تو معذرت ۔۔۔
سوال۔ ۔۔۔ عدیلہ اور یارم کو ان کے کئے کی سزا کب ملے گی یا ملے گی یا نہیں ۔۔
جواب۔ ۔۔ ظاہر سی بات ہے غلط کرنے والے کے ساتھ ہمیشہ غلط ہی ہوتا ہے جو بو گے وہی کاٹو گے یہ ہی مکافات عمل کہلاتا ہے لیکن ان کو سزا کب ملے گی یا کس طریقے سے ملے گی اس کے لیے آپ کو ناول پڑھنا پڑے گا ۔۔۔
س۔ ۔ ناول میرا محرم مکمل ہو گیا ہے یا نہیں اور یہ کب تک آئے گا ۔
جواب۔ جی بالکل ناول میرا محرم مکمل ہوچکا ہے ۔ یہ تحریر میرے دل کے بہت قریب ہے اور یقینا جب آپ لوگ اسے پڑھیں گے تو میرا یہ ناول آپ کے دلوں میں بھی گھر کر لے گا کیونکہ اس کا ایک ایک ڈائیلاگ اس کا ایک ایک سین اس کا ایک ایک کردار میں نے بہت محبت سے تخلیق کیا ہے لیکن ابھی اس ناول کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے جلد ہی آپ کو میں اس ناول کے بارے میں بھی مطلع کروں گی لیکن ابھی کے لئے میں اس سے زیادہ آپ کو ناول میرا محرم کے بارے میں کچھ بتا نہیں سکتی ۔
ہاں لیکن یہ ضرور بتا سکتے ہو کہ اس سال میں آپ میری بیک ٹو بیک تحریریں پڑہیں گے کیونکہ نئے سال کے ریزولوشن میں لیے جانے والے ریزولوشنز سے ایک ریزولوشن میرا یہ بھی تھا کہ اس سال میں بیک ٹو بیک پانچ تحریریں اپنے ریڈرز کو دونگی ۔۔۔
اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اگر میں پانچ تحریریں کہہ رہی ہوں تو وہ پانچ ناول ہی ہوں گے۔کوئی ناول لمبا بھی ہوسکتا ہے اور بہت زیادہ ٹائم بھی لے سکتا ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پورے سال میں مجھے متحرک رہتے ہوئے اپنا قلم نہیں روکنا بلکہ مجھے بیک ٹو بیک ناولز لکھنے ہیں اور انشاء اللہ میں انمول کے اختتام کے بعد جلد ہی آپ میری اگلی تحریر بھی پڑھیں گے ۔
اگلے ناول کی اور باقی آنے والے تمام ناولز کی اقساط کے پوسٹنگ کی ٹائمنگ یہی ہوگی پیر سے جمعہ کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ میں کبھی چاہ کر بھی ہفتہ اور اتوار کو قسط نہیں دے پاؤں گی کیونکہ یہ دو دن میرے بہت مصروفیت بھرے ہوتے ہیں ۔۔ جن میں سے ہفتے کو میں نے اپنے پورے ہفتے کے پینڈنگ کاموں کو مکمل کرنا ہوتا ہے جبکہ اتوار کا دن فیملی ٹائم ہوتا ہے جس میں سب فیملی ممبرز اکٹھے ہوتے ہیں تو اس روز تو موبائل کو ہاتھ لگانے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔
ہر دفا میں رمضان کے مہینے کے دوران ناول کی اقساط کی پوسٹنگ روک دیتی ہوں کیونکہ یہ ایک بہت ہی بابرکت مہینہ ہوتا ہے جس کا ایک ایک لمحہ ہمیں اچھے سے استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئے لیکن اس بار میں سوچ رہی ہوں کہ ناول کو رمضان کے مہینے میں سٹاپ کر دینے کی بجائے اسے جاری رکھ سکوں۔ دعاؤں کی اپیل ہے کہ میں وقت کو اچھے سے مینیج کر سکوں ۔۔۔
اس کے ساتھ ہی ام ہانیہ کو دیں اجازت دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھئے اور اگر کسی کا کوئی سوال رہ گیا ہو تو وہ اس پوسٹ کے نیچے کمنٹ سیکشن میں بتا سکتا ہے انشاءاللہ جلد ہی ان سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی جائے گی بہت شکریہ
#ام_ہانیہ

No comments